ایک ماں کا خط اپنی بیٹی کے نام

(Sadiq Raza Misbahi, India)

میری پیاری بیٹی! میرے دل کا ٹکڑا…. ڈھیر ساری دعائیں…
تمہارا خط موصول ہوا پڑھ کر بہت تکلیف ہوئی اور بہت بے چین رہی… اور اس بے چینی کی کیفیت میں دو تین دن گزر گیے.. آج سوچا کہ تمہارے خط کا جواب دے دوں تاکہ تمہیں کچھ تسکین مل سکے… لیکن بیٹی میری سمجھ میں خود نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کرسکتی ہوں؟ کیونکہ تم جس الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہو اس کو تم خود ہی دور کرسکتی ہو بس اس کے لیے ضروری ہے کہ تم صبر و تحمل سے، حکمت سے اور دانشمندی سے کام لو ویسے ایک ماں ہونے کے ناطے میرا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ میں تمہیں اس کا حل اور علاج بتاؤں….

پیاری بیٹی…. ابھی تم سسرال میں نئی ہو اور وہ گھر تمہارے لیے بالکل نیا، گھر کے افراد بالکل اجنبی اس لیے ہوسکتا ہے کہ تمہارا مزاج ان لوگوں کے مزاج سے بالکل الگ ہو، تمہارے سوچنے کا طریقہ کچھ اور ہو اور ان سب گھر والوں کا کچھ اور ہو… اور اس طرح جب مختلف خیالات کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ بھیانک ہوجاتا ہے اور اس سے برے نتائج ہی سامنے آتے ہیں گھبراہٹ سی ہونے لگتی ہے اور رہ رہ کر تمہیں اپنے امی ابو یاد آتے ہیں اپنے بہن بھائیوں کی صورتیں آنکھوں میں گھومتی ہیں… لیکن میری پیاری بیٹی.. تمہارا اصل گھر تو اب وہی ہے جہاں تم اب ہو… تمہارے امی ابو کا گھر اب تمہارا اپنا گھر نہیں رہا اب جب بھی تم اپنے ماں باپ کے گھر آؤ گی تو بس ایک مہمان کی حیثیت سے آؤ گی اور اگر تم نے اس حقیقت کو فراموش کردیا اور وہاں اپنے آپ کو اجنبی ہی محسوس کرتی رہیں تو یقیناً زندگی بہت تلخ محسوس ہوگی اور تمہیں وحشت ہوگی.. اب ان تمام الجھنوں کا بس ایک ہی حل ہے کہ اس حقیقت کو کبھی مت بھولنا تب ہی تمہاری ساس تمہیں تمہاری ماں نظر آئے گی تمہاری نندیں تمہاری بہنیں نظر آئیں گی.. اور جب ایسا ہوجائے گا تو پھر کبھی یہ سوچو گی بھی نہیں کہ مجھے اس گھر میں نہیں رہنا اور ماں باپ کے گھر جانا ہے….

بیٹی! تمہاری شکایت بالکل بجا ہے کہ تمہاری ساس تیز و تلخ مزاج کی خاتون ہیں بات بات پر تمہیں ٹوکا کرتی ہیں اپنی طنزیہ باتوں سے تمہارے دل کو بہت تکلیف پہنچاتی ہیں.. لیکن بیٹی ذرا دیکھو ان کی عمر کیا ہے اس ضعیف العمری میں چڑچڑا پن نہ آئے تو پھر کب آئے گا؟ تو اپنی عمر سے مقابلہ تو کرو اور پھر اپنی حالت پر غور کرو کہ تمہیں بھی کیسے کیسے غصہ آجاتا ہے ذرا سی ناگوار بات گزرے تو کیسے تیز ہوجاتی ہو تمہیں یاد نہیں وہ دن جب کہ تمہاری چھوٹی بہن نے تمہاری کتاب کا ایک ورق پھاڑ دیا تھا تو کس زور سے تم نے اسے طمانچہ مار دیا تھا… یاد نہیں وہ دن جب درزی نے تمہاری ایک قمیض کچھ غلط کاٹ دی تھی تو کیسے غصہ میں آکر تم نے اسے اٹھا کر پھینک دیا تھا اور کیا کیا واقعات تمہیں یاد دلاؤں اب تو خود ماضی کی تصویریں ایک ایک کرکے سامنے آرہی ہونگی تو پھر تم ہی بتاؤ کہ تم ان معمولی باتوں پر اتنا برہم ہو جایا کرتی تھیں تو اگر تمہاری ساس کبھی بگڑ جائیں تو تم پریشان ہو،؟ تم اپنی زندگی تلخ محسوس کرو..؟ ….. کیسی بیٹی ہو تم بھی؟ تمہاری یہ ماں بھی کبھی تمہیں کچھ برا کہہ دے تو کیا تب بھی تم اس طرح کرو گی؟؟….. جب اس کا جواب انکار میں ہوگا تو ساس اور ماں میں کیوں فرق کرتی ہو میری بچی؟ وہ بھی تو ماں کا درجہ رکھتی ہیں تمہاری مجازی خدا تمہارے شوہر کی ماں کیا تمہاری ماں نہیں؟؟….. عمر کا تقاضا ہے اگر کچھ خلاف مرضی کہہ بھی جائیں، یا تم پر کوئی جھوٹا الزام تھوپ بھی دیں تو تمہارا یہ فرض بنتا ہے کہ ایک سعادت مند بیٹی کی طرح بخوشی برداشت کرلو.. صبر و تحمل سے کام لو اور اگر اپنے الزام کی صفائی میں کچھ کہنا بھی چاہتی ہو تو نہایت ہی ادب و احترام اور انکساری کے ساتھ کہو…. پھر یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ تمہارے اس رویے سے متاثر نہ ہوں ان کے دل میں تمہارے لیے محبت و احترام کا جذبہ نہ پیدا ہو…. دیکھو بیٹی برداشت اور صبر سے بہت سی مشکل سے مشکل گرہیں کھل جاتی ہیں اس طرح زبان درازی کرکے اور مسائل بگڑ جاتے ہیں الجھنے سے یہ سلھجتے نہیں بلکہ مزید بگڑ جاتے ہیں اگر تم بھی ان جاہل بہوؤں کی طرح کرنے لگو تو چند لمحے بھی گزرا دشوار ہوجایے گا اور تمہاری دنیا و آخرت سب تباہ ہوجائے گی……….

میری بیٹی ہر ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے کی شادی ہو تو ایک اچھی بہو گھر آئے اور یہ دونوں اس کی ہر بات پر تسلیم و رضا کا اظہار کریں اس طرح کی خواہش کرنا فطری ہے… ذرا اندازہ تو کرو کہ ایک ماں کتنے ہی مصائب جھیل کر، کتنے ہی دکھ درد اٹھا کر نو مہنے تک اس کو اپنے پیٹ میں پالتی ہے، اپنے خون سے اس کی پرورش کرتی ہے اور جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو ماں زندگی اور موت کی کشمکش میں اتر جاتی ہے اور اس کے بعد یہی ماں اپنے جسم کا ایک ایک قطرہ خون دودھ بنا کر اس کو پلاتی ہے اپنے دن کا چین، رات کی نیند حرام کرتی ہے کل جب تم خود ماں بنو گی تو ان تمام باتوں کا احساس تمہیں ہوگا….. باپ کا ایثار، ماں کی محبتیں مل کر اس بچے کو پروان چڑھاتی ہیں خود کم کھاتے ہیں تاکہ اپنے بچے کو کھلائیں خود تکلیف اٹھاتے ہیں تاکہ اپنے بچے کو سکون دے سکیں اور اس طرح بچہ جوانی کی حد کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے پیروں پر آپ کھڑے ہونے کے قابل بن جاتا ہے اور ماں اپنے اس بچے کو اس موڑ پر چھوڑ کر بس ایک چھوٹی سی حقیر سی تمنا کرتی ہے کہ میرا بچہ میرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو میرے گھر ایسی بہو آئے جو میری عزت کرے فرماں بردار اور سعادت مند ہو اور اگر اس ماں کی اس حقیر سی تمنا کو بھی اس کا بیٹا اور بہو دونوں مل کر ٹھکرا دیں تو اس کو اس کی بد قسمتی اور کمینگی سے تعبیر نہ کریں تو کیا کریں؟… کیا اس شفقتیں اور محبتیں اسی دن کے لیے تھیں کہ بیٹا نالائق اور گستاخ ٹھہرے؟ اور بہو بدزبانی کرے……., ؟

میری بیٹی! ہر ماں کی زندگی میں یہی ایک آخری و حقیر تمنا ہوتی ہے اور تم دونوں پر یہ فرض بنتا ہے اپنی اچھی ماں، اچھی ساس کی اس تمنا کو پورا کرو اور اس کے اس خواب کو شرمندہ نہ کرو تب ہی تمہاری دین اور دنیا کامیاب ہوگی اور تب ہی تمہیں ایک حقیقی مسرت حاصل ہوگی جس کے لیے وقت گزر جانے کے بعد تڑپ بھی جاؤ در، در ٹھوکریں بھی مارو کہیں میسر نہ ہو…. ذرا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور تو کرو کہا ہے کہ…. ‘‘جس نے ماں باپ کی حق تلفی کی اس کی کوئی نیکی کام نہ آئے گی ‘ اس لیے ایک بار پھر سے تمہیں نصیحت کرتی ہوں کہ کبھی بھی اپنی ساس سے بد گمان نہ رہنا.. اور نہ کوئی شکایت آنے پائے ہر لمحہ ان کی خوشی اور خواہشات کا خیال کرنا کبھی ان سے مقابلہ نہیں کرنا…

خط کافی طویل ہوگیا ہے یہ خط تمہیں توقع کے خلاف محسوس ہوگا میری کچھ باتیں تمہیں تلخ بھی محسوس ہونگی تو میں اس کو لکھنے کے لیے مجبور تھی کیونکہ آج کل جو ساس بہو کے جھگڑے دیکھنے میں آتے ہیں اس سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے میں یہ ہرگز نہیں چاہتی کہ میری اپنی بیٹی بھی اس طرح کے کردار اور سیرت کا مظاہرہ کرے.. بیٹی تمہاری وہاں کی عزت دراصل میری عزت ہے دیکھنے والے تم پر انگلی نہیں اٹھائیں گے بلکہ مجھ پر الزام لگایا جایا گا کہ کیسی تربیت کی ہے اس کی ماں نے…. کیا تم کبھی یہ چاہو گی کہ تمہاری ماں کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟؟

خیر میری دعائیں ہر وقت تمہارے ساتھ ہیں اللہ پاک تمہاری پریشانی کو دور کرے اور تمہیں سکون اور اطمینان کی زندگی میسر ہو۔
سب کو سلام کہنا۔
تمہاری ماں
دعاؤں کی طالب سعدیہ سلیم شمسی
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 97 Print Article Print
About the Author: sadique raza

Read More Articles by sadique raza : 132 Articles with 61324 views »
hounory editor sunni dawat e islami (monthly)mumbai india
managing editor payam e haram (monthly) basti u.p. india
.. View More

Reviews & Comments

Language: