نیا قمری کیلینڈر: کیا فواد چوہدری پاکستان کو ایک عید دے سکیں گے؟

پاکستان میں رمضان اور عید کے چاند پراختلافات ہر سال سامنے آتے ہیں۔ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر پورے ملک میں عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سائنس کی مدد سے پانچ سال کا قمری کیلینڈر جاری کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب نے فواد چوہدری کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا۔
 


اور دونوں کے درمیان میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس معاملے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے باقاعدہ ایک قمری کیلنڈر کے اجرا کے ساتھ چاند کی تاریخوں کے بارے میں ایک ویب سائٹ بھی متعارف کرا دی ہے۔ اس ویب سائٹ کے مطابق عیدالفطر پانچ جون کو ہوگی۔

ویب سائٹ پر ماہانہ رپورٹس، ہجری کیلینڈر، اسلامی تہوار اور نقشے موجود ہیں۔

وزارت سائنس کی طرف سے عید کے اعلان کے باوجود مفتی منیب نے عید کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس بلا رکھا ہے۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے جاری کردہ کیلینڈر اور ویب سائٹ کی ضرورت اور رویت ہلال کمیٹی کا موقف جاننے کے لیے بی بی سی نے متعلقہ حکام اورعلماء سے بات کی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارت مذہبی امورنے نئے تیار کردہ قمری کیلینڈر کی شرعی حثیت جاننے سے متعلق کونسل سے رائے طلب کی ہے تاہم کونسل نے اس متعلق حتمی رائے دینے کے لیے مہلت مانگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے وزارت سائنس کو جوابی خط لکھ کر یہ تجویز دی ہے کہ ہمیں موقع دیا جائے، ہم مختلف امور کے ماہرین کا عید کے بعد اجلاس بلائیں گے اور پھران کی آراء کی روشنی میں رائے دیں گے۔`

سید مشاہد حسین خالد، ڈائریکٹر جنرل وزارت مذہبی امور نے بی بی سی کو بتایا کہ بحیثیت رکن رویت ہلال کمیٹی وہ سمجھتے ہیں کہ وزارت سائنس کا جاری کردہ قمری کیلینڈر رویت ہلال کے لیے اچھا ہے۔ ’یہ بہت اچھا ہو گیا کہ عام عوام کی آگاہی کے لیے یہ کیلینڈر آگیا ہے۔ عام لوگ چاند سے متعلق جن شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں اب ان کو سائنسی طور پر مطمئن کیا جاسکے گا۔ یہ کیلینڈر ہمارے (رویت ہلال کمیٹی) اعلان پر عملدرآمد میں آسانی پیدا کرے گا۔‘

رویت ہلال کمیٹی کیسے کام کرتی ہے؟
رویت ہلال کمیٹی کے رکن سید مشاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کل 24 اراکین ہیں۔ اس کمیٹی کو سپارکو، محکمہ موسمیات، فلکیات، پاکستانی فضائیہ اور بحریہ کی خدمات بھی حاصل رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’کمیٹی پہلے سے ہی رویت چاند کے لیے جدید سائنسی آلات کا استعال کررہی ہے۔ چاند سے متعلق پاکستانی نیوی کا اندازہ زیادہ درست ہوتا ہے۔ دیگرمحکموں کی طرح نیوی بھی 15 روز قبل چاند سے متعلق اندازہ رپورٹ رویت ہلال کمیٹی کو بھیج دیتی ہے۔ اس کے بعد آخری دن تک یہ اپ ڈیٹس مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔‘
 


البتہ شہادتیں اکھٹی کرنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کواسلام آباد، پشاور، لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی زونل کمیٹیوں کی معاونت حاصل رہتی ہے۔ ان شہادتوں کو ماہرین جدید سائنسی علوم کی روشنی میں پرکھتے ہیں۔ ’لوگ شہادت لے کرآتے ہیں لیکن اگر وہ ماہرین کے سوالات کا درست جواب نہ دے سکیں تو پھرچاند دیکھنے سے متعلق ایسی شہادتیں مسترد کردی جاتی ہیں۔'

رمضان اورعید کا چاند ہی پر تنازع کیوں؟
قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ رمضان اورعیدین ایسے تہوار ہیں کہ ان پر سب کی نگاہیں ہوتی ہیں جس وجہ سے ان مخصوص مہینوں میں عام عوام کی غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہمارا موقف یہی تھا کہ اس معاملے میں جلدی نہ کی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ رویت ضروری ہے لیکن جدید آلات مفید اور معاون ہیں۔ `رویت اور سائنس دونوں کو ملا کر دیکھنا چاہیے۔ صرف کیلینڈر پرانحصار نہیں کرنا چاہیے۔`
 


سید مشاہد حسین خالد کا کہنا ہے کہ چونکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے صرف سال میں چار دفعہ اجلاس ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔ کمیٹی کے یہ اجلاس رمضان، شوال، ذوالحج اورمحرم کے سلسلے میں ہوتے ہیں۔ سال کے دیگر ماہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوتے ہیں۔ ہرزونل کمیٹی میں چھ اراکین ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کوقمری کیلینڈر یا سائنسی طریقہ کار پر کوئی اختلاف نہیں ہے، ان کو گلہ دائیں بائیں کی باتوں (رویت ہلال کمیٹی پر تنقید) سے ہوتا ہے‘۔

دیگر دنیا میں چاند کیسے دیکھا جاتا ہے؟
سید مشاہد حسین خالد کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پہلے سے ایک قمری کیلینڈربنا ہوا ہے لیکن وہ انتظامی امور سے متعلق ہے جیسے دفاتر اور بنکوں کے کام کے ایام یا تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق معاملات۔ ہم نے اس کیلینڈر کو ہی فالو کیا ہے۔ سعودی عرب میں بھی عیدین اور حج کا چاند آل شیخ کی 11 رکنی کمیٹی دیکھتی ہے۔
 


’سعودی عرب میں انتظامی امور آل سعود کمیٹی کے سپرد ہیں جبکہ آل شیخ کمیٹی مذہبی امور کی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا میں صرف شافعی مسلک کے مطابق سرکاری رویت ہلال کمیٹی عید کا اعلان کرتی ہے اور ایک دن ہی عید ہوتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں مذہبی کمیٹی ہے جورمضان اور عید کی چاند کا اعلان کرتی ہے، جس پر پورے بھارت میں عمل کیا جاتا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے کیا ہے؟
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی طرف سے نئی ویب سائٹ کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا گیا۔ جس پر انہیں بہت پذیرائی ملی اور بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کے اس فیصلے کی تائید کی اور اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ مگر تنقید کرنے والوں نے بھی ان پر مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا۔
 


نوکشس نمیرہ نے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے اس فیصلے کو سراہا اور چاند کی ایک ایسی فوٹو پوسٹ کی جس کے اندر سے فواد چوہدری خوشی سے ہنستے دکھائی دے رہے ہیں۔
 


صحافی فرح ناز نے اس فیصلے پر ٹویٹ کی کہ ’دونوں مختلف باتیں ہیں۔ مسٹر چوہدری رویت ہلال کی سنت کی ہی پیروی کر رہے ہوں گے؟ مگر سائنس کی مدد سے کیا وہ درست پیشینگوئی کر سکیں گے؟ درست؟ تو یہ ایک معین کیلینڈر تو نہ ہوا۔‘
 


بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر جب ہم نے اپنے قارئین سے اس بارے میں پوچھا تو ان کی رائے کچھ یوں تھی۔

ایک صارف لیاقت علی ہزارہ نے لکھا ہے کہ ’سائنسی طریقہ بالکل ٹھیک ہے‘۔

ممتاز حسین نے تبصرہ کیا کہ ’ہم اس دور میں ہیں جہاں سب کچھ گوگل کے مرہون منت ہے۔ راہ بھول جانے پر گوگل، ریسٹورانٹ کا ایڈریس گوگل۔۔ موسم کا حال گوگل اورچاند دیکھنے کے لیے مولوی۔۔۔! دنیا بہت دور نکل گئی ہے اب یہ روایتی انداز بدلو‘۔

جہان زیب نے لکھا ہے کہ ’رویت ہلال کمیٹی نے ہمیشہ چاند کے متعلق درست فیصلہ کیا۔ رویت ہلال شریعت کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔ بلوچستان میں رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر عید ہوگی‘۔

زہری نام کے ایک صارف نے تبصرہ کیا ہے کہ ’جی چاند دیکھنے کا مذہب یا مولویوں سے کوئی تعلق نہیں اگر صحیح طور پر سائنسی طریقے سے دیکھا جائے تو کوئی حرج نہیں اس میں، جیسے لوگ گھڑی کا ٹائم دیکھ کر نماز وقت پر پڑھتے ہیں سورج نہیں دیکھتے اسی طرح چاند کی پیدائش کا تعین بھی سائنس سے کیا جا سکتا ہے‘۔

اور چونکہ سوشل میڈیا ہے تو بات رویت ہلال تک ہی محدود نہ رہی اور کچھ صارفین نے فواد چوہدری کی ذات پر بھی تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

ایک صارف زبیر نواز نے لکھا ہے کہ ’فواد چوہدری کا کیلینڈر اگلے پانچ سال کی عید تو بتا سکتا ہے لیکن یہ ہرگز نہیں بتا سکتا کہ پانچ سال بعد وہ کس سیاسی جماعت میں ہونگے‘۔


Partner Content: BBC

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
25 May, 2019 Views: 2147

Comments

آپ کی رائے
Scientific research is so advance that you can make a calendar of next 1000 years with so much accuracy that there is no doubt but problem is that we are Muslims and we got habit from our ancestors to refuse any thing new, like printing press, like speakers, like TVs etc list is unending and if you now look these same FATWA factories "MULLAHS" are participating in all TV programs,not only participating but use to wore so decorative cloths like they are attending their own marriages. No shame sitting with GHARE MEHRUM ladies, Anchors. They are still living in stone-age. Dunya reached to moon 4 decades before and searching MARS but our Mullahs are going underground. They are Fitna and Fasad,nothing more than that.
Please develop Calendar for next 100 years minimum and dont worry about these DUMB Mullahs, they will accept it with time passing.
By: Sheikh Saeed Ahmed, Calgary-Canada on May, 28 2019
Reply Reply
0 Like
Federal Minister for Science and Technology Fawad Chaudhry on Sunday launched what he termed as Pakistan's "first official" moonsighting website and a calendar showing main Islamic dates and months for the next five years based on scientific evidence.