اپنی یاداشت کو کیسے بہتر بنائیں؟

(Tanveer Ahmed, )

اکثر لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ بہت سی ضروری باتیں بھول جاتے ہیں۔ہم لوگ بہت سی چیزیں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔اپنی اہم میٹنگزاوردوسروں کے ساتھ طے شدہ معاملات کو بروقت کرنا بھی بہت سے لوگوں کے لیئے ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ہم اپنے تمام کاموں کو بروقت کرنا شروع کردیں تو اس کے بہت اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔اسی سلسلے میں ایک اہم سیمینا ر کا اہتمام زکریا کالج اینڈ سکولز اوکاڑہ کی طرف سے کیا گیا۔ اس سیمینا رمیں ساہیوال سے آئے ہوئے مہمان ٹرینر ڈاکٹر نعیم احمد آذاد نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یادداشت کی سب سے بڑی مثال حفظ قرآن مجید ہے۔یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو لاتعداد مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی مکمل توجہ اس طرف ہوتی ہے ۔ پھر وہ اپنے سبق کو باربار دہراتے ہیں۔الفاط کی پہچان اور اس کی ادائیگی کا طریقہ اس میں بہت اہم ہے۔ یادکرنے کے بعد اس کو بار بار اونچی آواز میں پڑھنا اور استا د اور دوستوں کو باربار سنانا حفظ قرآن میں بہت لازمی ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ حفاظ کرام کی یاداشت باقی دنیاوی معاملات میں بھی بہت تیز ہوتی ہے۔ اگر یہ بچے حفظ قرآن کے بعد رائج نظام تعلیم میں آتے ہیں تو اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں اور نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے ہیں۔ہم لوگ اپنی یادادشت بڑھانے کے لیئے بھی ان تما م باتوں پر عمل کر سکتے ہیں اور اس طریقہ سے اپنی یادداشت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک اہم طریقہ کار جس کو ایس کیو تھری آر کہا جاتا ہے بھی ڈسکس کیا۔ ایک لڑکی جو امتحان میں فیل ہو چکی تھی اس کو اس کے باپ نے یہ طریقہ بتا یا اور اس پر عمل کرکے اس نے آئندہ آنے والے امتحان میں بہت سے میڈلز حاصل کیئے۔ اس طریقہ کار میں کوئی بھی کتا ب پڑھنے سے پہلے اس کا سروے کرنا چاہیے ۔ اس میں آپ اس کتا ب کی ورق گردانی کر سکتے ہیں ۔ اس کے contentsدیکھ سکتے ہیں۔اس کتاب کا خلاصہ اپنے ذہن میں بٹھا سکتے ہیں۔ دوسر ے سٹیپ میں اس کتاب میں موجود تما م سوالات کے بارے میں جاننا ہے۔ جب تک آپ سوالات کے بارے میں نہیں جانیں گے آپ ان کے جوابات پر کام نہیں کرسکتے ہیں ۔ اس کتا ب میں کس طرح کے سوالات پوچھے گئے ہیں ۔ان سوالات کا طریقہ کار کیا ہے؟۔ان کے جوابات آپ کو کتا ب کے اندر سے ہی مل سکتے ہیں یا آپ کو کوئی اور کتاب اور مواد بھی تلاش کرنا پڑے گا۔ جب تک آپ سوالات پر نہیں سوچیں گے آپ جوابات تک نہیں پہنچ سکتے ۔تیسر ے سٹیپ میں آپ اس ساری کتا ب کی ریڈنگ کریں گے۔ جب آپ کتاب کو پڑھنا شروع کریں گے تو آپ کو اپنے ذہن میں موجود سوالوں کے جواب ملنا شروع ہوجائیں گے۔ کچھ لوگوں کی پڑھنے کی سپیڈ بہت تیز ہوتی ہے۔ کچھ لوگ بہت ہی آرام سے پڑھتے ہیں۔ لیکن ان سب میں سے ضروری بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی آپ نے پڑھا اس میں کتنے فیصد آپ کے دماغ میں محفوظ ہوگیا۔ اگرچہ آپ نے صرف ایک صفحہ ہی پڑھا لیکن وہ آپ کے ذہن میں محفوظ ہوگیا تو یہ اس سے بہتر کہ آپ سو صفحات تو پڑھ لیں لیکن آپ کو ان میں سے ایک لفظ بھی یاد نہ ہوا ہو۔ چوتھے سٹیپ میں آپ نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کو اپنے ذہن میں دہرانا ہے۔ یہ کا م آپ بذات خود بھی کر سکتے ہیں یا آپ کسی اور کو بھی سنا سکتے ہیں۔پڑھنے کے بعد ان تما م چیزوں کا اعادہ آپ کے لیئے بے حد ضروری ہے۔ اس طرح یہ باتیں آپ بھول نہیں سکتے ۔سب سے آخر سٹیپ ان تما م عوامل کا جائزہ لینا ہے۔ اگر کوئی پوائینٹ آپ سے رہ گیا ہے تو وہ آخری سٹیپ میں مکمل ہوجائے گا۔ یہ فارمولا دنیا میں بہت ذیادہ استعمال کیا جاتاہے۔ دنیا کے ذہین ترین لوگ اپنے دماغ کا صرف تین سے چار فیصد استعمال کرتے ہیں اور ایک عام آدمی اپنے دماغ کا ایک فیصد بھی استعمال نہیں کرتا۔اﷲ تعالی نے ہمارے دماغ میں بہت کچھ رکھا ہوا ہے صرف ہمیں اس کا درست طریقے سے استعمال کرنا ہے۔

ڈاکٹر نعیم احمد آذاد جو کہ پیشے کے اعتبارسے ایک ریڈیالوجسٹ ہیں۔لیکن اس طرح کے موضوعات پر سیمینا ر کروانا ان کا شوق ہے۔وہ باقاعدگی سے ای لائبریری ساہیوال میں ہر مہینے کے پہلے Saturdayکو ایک سیمینار کرواتے ہیں ۔سیمینا ر کے آخر میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی یاداشت کو بڑھانے کے لیئے کچھ معلومات اور طریقے بھی بتائے۔

طالب علموں کو امتحان میں جانے سے پہلے کم از کم بیس منٹ پیدل چلنا چاہیے تاکہ جو کچھ انہوں نے یاد کیا ہو ا ہے وہ ان کو یاد رہ سکے۔ جو بھی یاد کرنا ہو اس کو اونچی آواز میں پڑھنا ضروری ہے۔ جب بھی آپ کو خاص مقصد پورا کر لیں تو آپ کو اپنے آپ کو کوئی نہ کوئی Rewardضرور دینا چاہیے۔ جو بھی علم آپ کے پاس ہے وہ دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔ سبق کو یاد کرنے کے لیئے تصویریں بنائیں اس طرح وہ چیز آپ کو کبھی بھی نہیں بھولے گی۔ انگلش میں لکھنے کے لیئے Times New Roman فونٹ کا استعمال کریں کیونکہ اس کو پڑھنا سب سے آسا ن ہے ۔ کام کے دوران اگر آپ کو کچھ ویب سائیٹس ڈسڑب کر رہی ہیں تو ان کو بلاک کریں۔جس موضوع پر آپ پڑھ رہے ہیں اس کے بارے میں کوئی ڈاکیومنٹری دیکھیں ۔ سرچ انجن کا استعما ل کریں۔ جس کی مدد سے آپ بہت سی معلوما ت بہت کم وقت میں لے سکتے ہیں۔اپنی آسانی کے لیئے کسی بھی مضمون کے فلیش کارڈز کا استعمال کریں۔ پڑھنے کے دوران ہر بیس منٹ یا آدھے گھنٹے کے بعد وقفہ ضرور کریں ۔ اس وقفے میں پیدل چلیں یا گھر سے باہر نکل جایئں ۔ اس سے آپ کی انرجی میں اضافہ ہوگا۔ اپنی پسند کا میوزک سنیں ۔ اس سے بھی آپ کے پڑھنے کی رفتا ر میں اضافہ ہوگا۔ اپنی پڑھائی کی جگہ کو وقتا فوقتا تبدیل کرتے رہیں۔ایک اچھا طالب علم وہی ہے جو بار بار Practiceکرے۔ فارسی کا ایک شعر ہے۔
گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
می نویس ومی تویس و می نویس

اگر تو چاہتا کہ اچھا لکھنے والا بن جائے تو لکھتا رہ لکھتا رہ لکھتا رہ۔ امتحان کی رات کو کبھی بھی ساری رات مت جاگیں بلکہ بھرپور طریقے سے آرام کریں۔اگر آپ کامیاب ہونا چاہبے ہیں تو پڑھنے کے نئے نئے طریقے تلاش کریں ۔ اپنی پسند کا پرفیوم استعمال کریں۔اگر آپ گروپ میں بیٹھ کر پڑھیں گے تو اس سے بھی آپ کی معلومات میں اضافہ ہو گا۔ مراقبہ کریں۔ اچھا کھائیں۔ ورزش کریں اور اچھی نیند لیں۔سب سے آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ کبھی بھی Theory کو مت پڑھیں بلکہ اس کو عملی زندگی میں لا کر دیکھیں۔ جب تک آپ اپنے علم کو عمل میں نہیں لائیں گے آپ کامیاب نہیں ہوسکتے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanveer Ahmed

Read More Articles by Tanveer Ahmed: 69 Articles with 42327 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2019 Views: 562

Comments

آپ کی رائے