دل کا فٹ بال

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)

فٹ بال کے شائقین اس کھیل کے اصولوں سے بخوبی واقف ہوں گے. ایک کک آف (kick off) سے شروع ہونے والا بے چارے فٹ بال کا تماشہ تھرو ان (throw in), ان ڈائریکٹ فری کک (indirect free kick), ڈائریکٹ فری کک (direct free kick), گول کک (goal kick), پینلٹی کک (penalty kick), کارنر کک (corner kick) کی منازل طے کرتا ہوا اور اپنی پٹائ کرواتا ہوا اختتام پزیر ہوتا ہے. اگر فٹ بال کو زبان ملے تو وہ اپنی عزت نفس کی پامالی کی داستان رو رو کر سناۓ. یہ جملہ پڑھنے میں بہت عجیب محسوس ہوا ہو گا. آپ نے سوچا ہو گا کہ فٹ بال کا عزت نفس سے کیا تعلق? یہ جملہ نہ جانے کیوں لکھ ڈالا. شاید فٹ بال کا حال دیکھ کر مجھے کچھ لوگوں کا دل یاد آ جاتا ہے جو مانند فٹ بال ادھر سے ادھر گول (goal) ہونے کی آس میں گھومتا رہتا ہے. بس ذرا سی کسی نے دل لبھانے کے لیے بات کی یا محبت کی (چاہے جھوٹی ہی سہی) اک نگاہ کی اور لگ گئ دل کو کک (kick). بس چل پڑا اسی جانب بغیر پرواہ کیے اپنے وقار کی. پھر حریف گول (goal) ہونے سے پہلے ہی ایک اور کک (kick) کے ساتھ سمت بدل ڈالتا ہے. ٹھوکر کھا کر اکثر یہ دل کا فٹ بال ٹھپے کھاتا دکھائ دیتا ہے یا اتنی زور کا بلو (blow) اس لاچار کو مارا جاتا ہے کہ فیلڈ (field) سے باہر (kicked off). یہ کام صرف حریف کا نہیں ہوتا زیادہ تر محبوب کی بے وفائ ہی اس کو سر انجام دیتی ہے. سمجھ لیکن پھر بھی نہیں آتی اور یہ " عقل کا کچا دل کا بچہ" پھر میدان میں اتر آتا ہے ایسی محبت کی تلاش میں جو اس نے اپنے تخیل میں بسا رکھی ہے. ہزاروں ٹھوکریں کھا کر, ان گنت نظریں بدلتی دیکھ کر وہ پھر بھی عشق, محبت, جنون کے میدان میں گھومتا رہتا ہے. اگر گول (goal) ہو بھی جاتا ہے تو خود کو اگلے گول (goal) کے لیے تیار کر لیتا ہے یعنی فورا// ہی گول ( goal) سے باہر کیونکہ جو پا لیا وہ تخیلاتی محبت سے مشابہ نہیں اور قدر کرنا اس "دل کے بچے عقل کے کچے" میں کہاں ہے. اس دل کے فٹ بال کا حتمی فیصلہ عموما// دو ریفری (referee) اماں اور ابا کرتے ہیں اور ان کے فیصلے کے آگے اس فٹ بال کی ایک نہیں چلتی. لیکن شادی کی فیلڈ (field) میں آنے کے کچھ سالوں بعد ہی یہ فٹ بال پھر سے حرکت میں آ جاتا ہے لیکن اب کے اس میں وہ ہوا نہیں ہوتی کیونکہ ڈر ہوتا ہے پکڑے جانے کا. یہ میدان میں حرکات و سکنات ڈرتا ڈرتا بہت آہستگی کے ساتھ کرتا رہتا ہے. یہ بے چارہ دل کا فٹ بال. سکون اسے ایک پل نہیں!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 247 Print Article Print
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 9 Articles with 3138 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: