آسمان_ہدایت کے روشن ستارے

(Mrs.Ismat Usama, Lahore)

ارشاد_الہی ہے :
"محمد ,اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں (یعنی صحابہ کرام ),وہ کا فروں کے مقابلے میں سخت ہیں اور آپس میں رحیم ہیں ,آپ انکو دیکھئیے کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں ,کبھی سجدہ,اللہ تعالی ' کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں ,انکے آثار بوجہ نشان سجدہ کے ,انکے چہروں پر نمایاں ہیں....."(سورہ فتح ,آیت 29 )
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائ :
"میرے بعد ابی بکر و عمر کی پیروی کرنا اور فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ,جس کی پیروی کروگے ,ہدایت پاؤ گے !"(حدیث حسن )
ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ستارے آسمان کے بچاؤ (محافظ )ہیں ,جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کاوعدہ ہے وہ آجاۓ گی (یعنی قیامت )اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں ,جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آجاۓ گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ ,فساد اور لڑائیاں )اور میرے اصحاب ,میری امت کا بچاؤ ہیں ,جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آجاۓ گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف اور انتشار کا )"(صحیح مسلم )
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جسے دین کی راہ اختیار کرنی ہے تو انکی راہ اختیار کرے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو اس امت کا افضل ترین طبقہ ہے -(مشکوہ )
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک ہستیاں تھیں جو آیت "ہم نے سنا اور اطاعت کی " کا مظہر تھے ,وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مشن کے ساتھی تھے,انہوں نے جو تعلیم و تربیت حاصل کی ,اس پر عمل کرکےدکھادیا ,دین کو آگے پہنچادیا ,دین کی سربلندی کے لئے متاع _جاں لٹادی ,اسی لئے تو بارگاہ _الہی سے انہیں یہ اعزاز ملا ,
"اللہ ان سے راضی ,وہ اللہ سے راضی !"
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "ہم نے حضور علیہ الصلوہ "والسلام کے چہرہ مبارک سے زیادہ حسین منظر نہیں دیکھا "-صحابہ کرام کو اپنی آنکھیں اسلئے عزیز تھیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی تھی _
ایک بار یہودیوں کے ایک عالم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے ,قرآن پاک کی ایک آیت کا مذاق اڑایا (من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا )تو حضرت ابوبکر نے غیرت ایمانی سے اسکے منہ پہ تھپڑ دے مارا -وہ یہودی ,رسول اللہ ص کے دربار میں آیا اور حضرت ابوبکر کی شکایت کی _حضرت ابو بکر نے جھگڑےکی وجہ بتائ تو وہ اپنے قصور سے صاف مکر گیا (کہ اس نے آیت کا مذاق نہیں اڑایا )-اب حضرت ابو بکر کے پاس اپنی سچائ کی گواہی دینے والا کوئ بھی نہ تھا کہ اتنے میں خود اللہ رب العزت نے اپنے حبیب ص کے ساتھی کی صداقت کا اعلان کرتے ہوۓ یہ آیت نازل فرمادی ,
"اللہ نے سن لی ان لوگوں کی بات جنھوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں "(سیرت ابو بکر صدیق ,بحوالہ تفسیر روح البیان )ایسی سچی شخصیات تھیں جن کی گواہیاں آسمانوں سے اترتی تھیں !-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو شام کا گورنر بنایا گیا تھا -ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ دورہ شام پہ آۓ تو انکا گھر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا (وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ حکمران بننے کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے اپنا رہہن سہن تو نہیں بدل لیا ),چنانچہ حضرت ابوعبیدہ ,حضرت عمر کو لے کرشہر کے اندر سے گزرتے گئے ,جب آبادی گزر گئ ,پورا دمشق شہر جو دنیا کے مال و اسباب سے جگمگا رہا تھا ,گزر گیا تو آخر میں لے جا کے انھوں نے کھجور کے پتوں سے بنا ہوا اپنا جھونپڑا دکھایا ,جہاں سواۓ ایک مصلی ' کے کوئ چیز نظر نہ آئ تو حضرت عمر نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے رہتے ہیں ؟-فرمایا :امیر المؤمنین ,الحمد للہ ,میری ضرورت کے سارے سامان میسر ہیں -یہ مصلی ' ہے ,اس پر نماز پڑھتا ہوں اور رات کو اس پر سو جاتا ہوں اور پھر اپنا ہاتھ اوپر اٹھایااور چھت سے ایک پیالہ نکالا جس میں پانی تھا اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بھیگے ہوۓ تھے -حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حالت دیکھی تو انکی آنکھوں میں آنسو آگئے ....."(حیاتہ الصحابہ )ایسے تھے وہ عظیم حکمران جو عوام کے پیسے کو عوام کی خوشحالی پہ لگاتے تھے !
دین_اسلام ,آج ہم تک پہنچا ہے تو اسکے پیچھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور انکے ساتھیوں کی بے حد قربانیاں اور درد و صبر کی داستانیں ہیں _حضرت ابو بکر صدیق نے ایک ایسے کٹھن دن ,کافروں کو نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی تو انھوں نے آپکو بہت مارا پیٹا ,آپکے قبیلے کو خبر ہوئ تو وہ اپنا رشتہ دار چھڑوانے کے لئے دوڑتے ہوۓ آۓ ,اور مشرکین سے انھیں چھڑوا کر ,انکے گھر تک پہنچایا -حضرت ابو بکر بے ہوش تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ جانبر نہ ہوسکیں گے -وہ دن بھر بے ہوش رہنے کے بعد شام کو ہوش میں آۓ تو آپکے والد ابو قحافہ اور قبیلے کے لوگ آپکے پاس کھڑے تھے ,ہوش میں آنے کے بعد انھوں نے پہلی بات یہ کہی کہ رسول اللہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں ؟انکےقبیلے کے لوگ سخت برہم ہوۓ کہ جس کی وجہ سے اتنی مار پیٹ برداشت کرنی پڑی ,پھر اسی کا حال پوچھتے ہو ؟آخر حضرت ابو بکر سے رہا نہ گیا ,زخموں سے چور حالت میں اپنی والدہ کے سہارے سے چلتے ہوۓ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوۓ _اپنے دوست کو اس حال میں دیکھ کر حضور علیہ الصلو'ہ والسلام ,ان پر جھک پڑے اور انھیں بوسہ دیا ,اس وقت حضور علیہ الصلو'ہ والسلام پر سخت گریہ طاری تھا !!
(از ,صحابہ کرام کے درخشاں پہلو )ایسےتھے خاتم النبیین کا دفاع کرنے والے !
غزوہ احد میں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی جانیں لڑائ ہوئ تھیں ,رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک جاں نثار حضرت ابو دجانہ ,کفار کی صفوں کو چیرتے ہوۓ جا رہے تھے ,اسی دوران انکے سامنے ابو سفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوۓ تھے )کی بیوی آگئ تو ابو دجانہ نے اس پر تلوار کو روک لیا ,پوچھنے پر بتایا کہ " مجھے اچھا نہیں لگا کہ ایک بے پناہ اور بے سہارا عورت پر تلوار چلا دوں !" (ابن کثیر ,جلد 4 )اتنے مہذب اور خواتین کا لحاظ کرنے والے تھے !
یہ بھی غزوہ احد کا واقعہ ہے کہ حضرت عمارہ بن زیاد شدید زخمی جان کنی کی حالت میں تھے کہ خود حضور انکے پاس پہنچ گئے -فرمایا :عمارہ ,کوئ آرزو ہو تو کہو !
عمارہ نے اپنا زخمی زخمی جسم گھسیٹ کر آپ کے قدموں کے قریب کردیا اور درد بھری آواز میں بولے "میری یہ آرزو ہے کہ جان نکلتے وقت آپ کے چہرہ مبارک پر میری نظریں جمی ہوں اور میری نظروں میں آپ کے سوا کچھ نہ ہو !" (صحابہ کے درخشاں پہلو )سبحان اللہ ,ایسے تھے سرکار _مدینہ کے جاں نثار !
بقول مولانا حالی :
~ جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت
ادا کر چکی فرض اپنا رسالت
رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی صحبت
نبی نے کیا خلق سے قصد _رحلت
تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی
کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی
سب اسلام کے حکم بردار بندے
سب اسلامیوں کے مددگار بندے
خدا اور نبی کے وفادار بندے
یتیموں کے ,رانڈوں کےغمخوار بندے
رہ _کفر و باطل سے بیزار بندے
نشہ میں مئے حق کے ,سرشار بندے
جہالت کی رسمیں مٹادینے والے
کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے
سر ,احکام _دین پر جھکا دینے والے
خدا کے لئے گھر لٹا دینے والے
ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے
فقط ایک اللہ سے ڈرنے والے !!!
*اللھم صل علی ' محمد وعلی 'آلہ و اصحابہ اجمعین .
*نوٹ:ان پاکیزہ نفوس کے بارے میں یہ چند الفاظ ,قلم سے نہیں بلکہ قلب سے لکھے ہیں ,دعا ہے اللہ قبول فرمالے ,آمین(جبکہ ابھی لکھنے کو بہت کچھ باقی ہے .....!)
#فکرونظر
#شان_صحابہ_رضوان_اللہ_علیہم_اجمعین
#سیرت_ستاروں_کی

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 135 Print Article Print

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ