اقبال، فیض ایک تقابلی جائزہ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان

(Afzal Rizvi, Australia)

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’اقبال، فیض اور ہم‘‘ ، کا مطالعہ کرنے کے بعدیہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس موضوع پر لکھی جانے والی اپنی نوعیت کی یہ نئی کتاب ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غالباً آج تک ماہرینِ ادبیات و شخصیات نے علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیضؔ کو کبھی اس زاویے سے دیکھنے کی یاتو قصداً کوشش نہیں کی یا پھر صرفِ نظر کرتے رہے۔ کتاب کے عنوان سے ہی علم ہو جاتا ہے کہ اس کا مضمون تین حصوں پر مشمل ہے یعنی اس کتاب میں اولاً علامہ اقبالؒ کے فن و شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ثانیاً فیض احمد فیضؔ کے شاعرانہ کمال اور جدت وندرت کے ساتھ ساتھ ان کے سوشلزم کی طرف جھکاؤ کو موضوع بناتے ہوئے ، علامہؒ اور فیضؔ کی شخصیت میں مماثلتیں زیر ِ بحث لائی گئی ہیں۔ ثالثاً ہم کا صیغہ اگرچہ مصنف نے اپنے لیے استعمال کیا اور اس کی کسی قدر وضاحت بھی کر دی گئی ہے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے، اس کے باوجود یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسے بالعموم آج کے دور کے ہر اقبالؒ اور فیضؔ شناس کے لیے ریاعتاً لیا جاسکتا ہے جس سے کتاب کی ہمہ گیریت بڑھ جاتی ہے۔اگرچہ کتاب کے ٹائٹل میں موجود ـ’’ہم‘‘ یعنی جمع کا صیغہ مصنف کی شخصیت کا عکاس ہے۔

محترم ڈاکٹر محمد رفیق خان صاحب سے میرا تعلق زمانہ طالب علمی سے ہے، وہ میرے اساتذہ میں سے ہیں جن سے میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں اکتسابِ فیض کیا؛ لیکن پروفیشنل لائف اور بیرونِ ملک سکونت کے باعث ایک طویل عرصے ان سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا؛ تاہم دسمبر 2017؁ء کے آخری عشرے میں جب میں علامہ اقبالؒ پراپنے تحقیقی کام ’’دربرگِ لالہ وگل‘‘ جلد اول کی تقاریب رونمائی کے لیے پاکستان گیا تو لاہور میں منعقد ہونے والی تقریبِ پذیرائی میں اچانک ان سے ملاقات ہو گئی جس نے ماضی کی یادیں تازہ کر دیں ۔ تقریب کا آغاز ہوا تو ممتاز راشد اور اسلم کمال کے علاوہ انہوں نے بھی کتاب پر اظہارِ خیال فرمایا ۔بس یہی نہیں اس کے بعد ’’دربرگِ لالہ و گل‘‘ جلد اول پر ایک تفصیلی ریویو بھی لکھا جو مختلف اخبارات و جرائد ورسائل کی زینت بنا۔

جن دنوں میں گورنمنٹ کالج لاہور کا طالبعلم تھا ان دنوں طلبہ یونین پر پابندی تھی چنانچہ طلبہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے پرنسپل ڈاکٹر عبدالمجید اعوان نے ڈاکٹر محمد رفیق خان کو مشیر امور ِ طلبہ اور ڈبیٹنگ کلب کا انچارج بنا دیاتھا۔ایک بات جس کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ راقم الحروف کو فیض سوسائٹی گورنمنٹ کالج لاہورکے بانیان میں ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مجھے یاد ہے جب /20نومبر 1984؁ء کوفیضؔ کا انتقال ہوا تو بہت سے اخبارات نے فیض کی ایک سوچوں میں گم تصویر کے ساتھ درج ذیل مصرع لکھا تھا۔
ع وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

محترم ڈاکٹرمحمد رفیق خان صاحب فطرتاً نرم مزاج اور نرم خو ہیں لیکن میدانِ تحریر و تقریر کے شہسوار ہیں ۔ان کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے ہیں لیکن انہوں قلم اور کتاب کے رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا ۔ ان کے سفر نامے ان کی سوچ اور اندازِ تحریر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔’’کھول آنکھ زمیں دیکھ‘‘، ’’انڈیا بہ چشمِ بینا‘‘اور’’ امریکہ بار بار‘‘اردو ادب میں گراں بہا اضافہ ہیں۔کیمیا گری سے لے کر میدان شاعری اور سفر ناموں سے آگے نکل کر علامہ اقبال ؒ کے کلام کو سمجھ کر اس پر قلم اٹھاناگویا انہی کا خاصہ ہے۔ پھر انہیں کچھ وقت فیض احمد فیضؔ کے ساتھ گزارنے کا موقع بھی میسر آیا جس کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فیضؔ صاحب کے بارے ان کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ قاری کے لیے انمول موتی ہیں۔اس تصنیف کی ایک بڑی خوبی ہر عنوان کے بعد مہیا کیے گئے حوالہ جات ہیں جن سے یہ تصنیف اور بھی مستند ہوگئی ہے۔ راقم الحروف کی نظر سے بے شمار کتب گزری ہیں لیکن اکثر کتب میں حوالاجاتی ضعف دیکھا گیا ہے ۔

’’اقبال ، فیض اور ہم ‘‘ کا سرورق سجاد خالدنے بنایاہے اور مرزا محمد الیاس نے اس کا اہتمام کرکے اسے یو ایم ٹی پریس سے شائع کرایا ہے۔کتاب کا سرورق کتاب کے موضوع کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔ ’’اقبال، فیض اور ہم ـ‘‘ جو اس علمی کام کا ٹائٹل ہے ۔ ٹائٹل اور مصنف کے نام کے درمیان میں صفحے کے بائیں جانب سے شروع اور دائیں جانب نسبتاً نیچے کی طرف جاتے ہوئے تین تصویری خاکے بنائے گئے ہیں جسے دیکھ کر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سرورق میں تینوں شخصیات کے زمانی دور کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

کتاب کے ابتدائیے میں محترم ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے موضوع اور اس کے ٹائٹل کی وضاحت کی ہے اور اپنے قاری کو علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیض ؔکے ساتھ اپنے گہرے تعلق سے متعارف کرایا ہے۔مزید برآں انہوں نے اپنی شخصیت کے خد وخال پر روشنی ڈالی ہے اور ایسا کرتے ہوئے ان کی تحریر کسی حد تک خود نوشت کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ کتاب کے اس حصے میں انہوں نے اپنے کچھ اساتذہ اور شاگردوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ محترم ومکرم ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ اپنے اساتذہ، رفقاء اور شاگردوں کا ذکر کرتے ہوئے حفظِ مراتب کا خیال رکھتے ہیں ۔

اقبال، فیض، رفیق اور گورنمنٹ کالج لاہور، زیرِ نظر کتاب پر لکھی گئی ، ڈاکٹر شفیق عجمی کی مختصر سی تحریر ہے جس میں انہوں نے علامہ اقبالؒ کے نظریہ حریت(اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنے مقالے’’ اقبال کے نزدیک حریت کیا ہے؟‘‘، میں تفصیلی بحث کی ہے)کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیض احمد فیضؔ کی مطلق العنانیت اورتنگ نظری کے خلاف اعلانِ جنگ کو موضوع بنایا ہے۔مزید برآں انہوں نے لکھا ہے کہ جس طرح علامہؒ نے غالب ؔکی عظمت کو تسلیم کیا اسی طرح فیض ؔنے بھی ’’اقبال‘‘ نامی نظم لکھ کر اسی تاریخی امر کو دہرایا۔ اس کے بعد محترم ڈاکٹر صاحب نے ’’تصنیف کے مندرجات کاخلاصہ‘‘ رقم کیا ہے۔مثلاً: وہ لکھتے ہیں،’’ہم اپنی تصنیف بعنوان’’اقبال، فیض اور ہم‘‘ قلمبند کرنے کا تعارف جزوی طور پر ابتدائیہ میں کروا چکے ہیں لیکن ابھی یہ تشنہ تکمیل ہے۔ ہم چاہیں گے کہ ہم کتاب لکھنے کے جو محرکات بیان کر چکے ہیں ، کچھ اس کے علاوہ بھی رقم کریں۔‘‘چنانچہ انہوں نے اس ضمن اپنے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال کر نے کی وضاحت کی ہے نیز تصنیف کے مندرجات کی کسی قدر سمری پیش کردی ہے۔

’’اقبالؒ اور فیض کا خاندانی پسِ منظر‘‘زیرِ نظر تصنیف کا بابِ او ل ہے، جس میں صاحبِ تصنیف نے پہلے تو علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیضؔ کی پیدائش اور ان کے مراحلِ تعلیم کو اختصار لیکن عمدگی سے بیان کیا ہے ۔مزید ان کی مماثلتیں بیان کرنے کے بعد ان کے خاندانی پس منظر اور ابتدائی تعلیمی ماحول کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے سکول کے زمانے کا - جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے - ایک دلچسپ واقعہ بھی رقم کیا ہے۔اس باب کا ماحصل ان کے نزدیک یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ اور فیضؔ کی ابتدائی تعلیم اسلامی ماحول میں ہوئی ،اس لیے دونوں کے دل و دماغ پر مولوی میر حسن کی تعلیم وتربیت کا عمر بھر اثر رہا کیونکہ دونوں کو ان کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

باب دوم کا عنوان خاصا پر کشش ہے ۔’’علامہ اقبالؒ اور فیض احمدفیضؔ-نئے راستے نئی منزلیں‘‘۔ اس باب میں مصنف نے فیضؔ کی زندگی میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں اور ان کی وجوہات کا تاریخی حوالے سے ذکر کیا ہے۔ یہاں یہ بتاتا نہایت ضروری ہے کہ مصنف چونکہ سفر نامے لکھنے کی مہارت رکھتے ہیں اس لیے اس باب کے انداز ِ تحریر میں سفر نامے کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، جو ایک کامیاب نریٹر کے لیے جزوِلاینفک ہے۔یہ باب نہ صرف تاریخ، ادب، صحافت اور سیاسیات کے طلبہ کے لیے فیض کی زندگی سے متعلق بنیادی اور اہم معلومات مہیا کرتا ہے بلکہ اساتذہ بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔اس میں جنگِ عظیم دوم سے لے کربھٹو کی پھانسی اور فیض کے انتقال تک کے زمانے کو کور کیا گیا ہے۔

’’علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کا فنِ شعر گوئی اور فلسفہ‘‘،تصنیف کا تیسرا باب ہے جس میں محترم ڈاکٹر رفیق خان صاحب نے ان نابغۂ روزگار شعرا ء کے فن و فلسفہ پر اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ وہ اس کے آغاز ہی میں کچھ یوں رقم طراز ہیں:’’ہمارے نزدیک اقبال اور فیض کی شاعری پر بات کرنا ایک حسّاس ترین امر ہے ۔ شاعری پر تنقید کرنا ہر خاص وعام کا شیوہ بن چکا ہے؛لیکن ہمارے نزدیک شعر کو اس کی گہرائی میں اتر کر سمجھنا اور اس سے لطف اندوز ہونا ، شعر پر بات کرنے کا بنیادی تقاضا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ بنیادی طور پر سائنسدان ہیں ، اس لیے کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا انیلیسس کرلیتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ وہ ایک اچھے نثر نگار اور شاعر بھی ہیں نیز انہیں اپنا کلام فیضؔ جیسی شخصیت کی موجودگی میں سنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے جس پر وہ بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ اس باب میں انہوں نے اقبالؒ اور فیض کی شاعری کے فنی محاسن کو مثالوں سے واضح کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دونوں مصورِ فطرت شاعر تھے۔ راقم الحروف یہ سمجھتا ہے کہ علامہ ؒ کے کلام کا ایک بڑا حصہ فی الواقعی ڈاکٹر صاحب کے موقف کے حق میں پیش کیا جا سکتا ہے(راقم الحروف کی تحقیقی مقالہ’’در برگِ لالہ وگل‘‘ اس کی بہترین مثال ہے) اور اسی طرح فیضؔ کے کلام سے بھی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں اور ڈاکٹر صاحب نہایت جانفشانی سے ایسی مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈ کرلائے ہیں ۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے دیگر ناقدین یا شارحین کا سہارانہ لینے کا اعلان بھی کیا ہے وہ لکھتے ہیں،’’واضح رہے کہ جو کچھ بھی اقبالؒ اور فیضؔ کے بارے میں کہیں گے وہ صرف اور صرف ہماری اپنی محسوسات ہوں گی‘‘۔اس کی وجہ غالباً ان کا خود کا شاعر ہونا اور اس پر آمد پر یقین رکھنا انہیں آورد کے شعراء سے ممتاز کرتا ہے ۔چنانچہ یہ بات ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے علامہؒ کی فطرت شناسی کی کئی خوبصورت مثالیں پیش کی ہیں۔مناظرِ فطرت کے بیان میں علامہ ؒ کا تخیل ابتدائی دور میں ہی اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔وہ دنیا سے دور بھاگ کر فطرت کے حسین مناظر کی گو د میں پناہ لینے کے آرزو مند نظر آتے ہیں۔ نظم ’’ایک آرزو ‘‘ کے درج ذیل اشعار اس کی بھر پور تصدیق و تائید کریں گے۔
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

پھر انہوں نے نظم ’’محبت ‘‘ کے اشعار پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ علامہؒ کے یہاں وہ کون کون سے اجزائے ترکیبی ہیں جن سے محبت یعنی عشق جیسی نایاب اور ناقابل شکست چیز متشکل ہوتی ہے۔انہوں نے اس ضمن میں پوری نظم درج کی ہے لیکن یہاں صرف پہلے دو اشعار اور آخری شعر ہی درج کیا جارہاہے۔
عروسِ شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذتِ رم سے
قمر اپنے لباسِ نو میں بیگانہ سا لگتا تھا
نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئینِ مسلم سے
خرامِ ناز پایا آفتابوں نے، ستاروں نے
چٹک غنچوں نے پائی ، داغ پائے لالہ زاروں نے

اقبال ؒکی فطرت سے لگاؤ کے نمونے پیش کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے فیضؔ کی شاعری سے مثالیں پیش کرکے ان کی فطرت شناسی بھی ثابت کی ہے۔ مثلاً:
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

یہاں جو اصل بات بیان کرنے کی ہے وہ یہ نہیں کہ دونوں فطرت کے دلدادہ شاعر تھے بلکہ اصل بات ان کے فطرت کو محسوس کرنے سے ہے کہ دونوں کے محسوس کرنے میں فرق کہاں تک ہے ۔پھر انہوں نے دونوں کے ہاں غمِ دوراں کے فرق کو واضح کیاہے ۔اس ضمن میں کئی مثالیں تفصیل کے ساتھ رقم کی گئی ہیں نیزاس سلسلے میں انہوں نے نہ صرف فیض ؔکی ’’سرودِ شبانہ‘‘ کے دونوں حصے شامل کیے ہیں بلکہ قارئین کے ذوقِ مطالعہ اور اپنے موقف کی تقویت میں ان کی مشہورِ زمانہ نظم ’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘بھی شامل کردی ہے۔

اس باب کی خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے یہاں ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ فیضؔ نے ہمیشہ علامہ اقبالؒ کو خراجِ عقیدت پیش کیا چنانچہ اس کے لیے بطور دلیل فیض ؔ کی نظم بعنوان’’اقبال‘‘ پیش کی گئی ہے۔
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نما فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا

محترم ڈاکٹر صاحب یہاں فیضؔ کی شاعری کی ایک بڑی خاصیت پر اظہارِ خیال کرنا نہیں بھولے ؛چنانچہ فیضؔ کی شاعری میں موسیقیت اور موسیقاروں کا اس پر کام نظر انداز نہیں ہوا۔اس کے بعد فیض ؔ کی زندگی کے سیاسی سفر کو اور ان کی قید و بند کی صعبتوں کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔یہاں انہوں نے ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ اور جنرل اکبر خاں کے علاوہ سجاد ظہیر کی بابت بھی لکھا ہے کہ یہ سب فیض ؔ کی زندگی سے کس طرح وابستہ تھے، دیگر کئی فوجی اور سول افسروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔یہاں مختصراً فیض ؔ کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے:
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

محترم ڈاکٹر رفیق خان صاحب کے نزدیک شاعری کے تین مراحل، ’’غمِ جاناں‘‘، ’’غمِ دوراں‘‘ اور ’’تصوف‘‘ ہیں۔ چنانچہ ایک موقع پر جب فیض ؔ کی شاعری کے مختلف ادوار کی بات آئی اور بقول میجر اسحاق’’ فیضؔ کی شاعری کے چار رنگ تھے‘‘۔ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے یہ جان کر اطمینان ہوا کہ میجر صاحب نے کہیں چار مراحل نہیں کہہ دیا کیونکہ ان کے نزدیک شاعری کے مندرجہ بالا تین مراحل ہی ہیں۔یہاں انہوں نے فیض ؔ کے ان چار رنگوں کو مختلف حوالوں سے بیان کیا ہے اور باب کے آخر میں فیضؔ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے اور اپنی نظم’’احساس‘‘ ان کی موجودگی میں سنانے کی روداد نہایت اختصار سے بیان کر دی ہے۔

چوتھے باب میں پاکستان کے نامور مصور اسلم کمال سے تعارف اور ان سے علامہ اقبال ؒاور فیض احمد فیض ؔکے بارے ہونے والی گفتگوکوایک مضمون کی شکل میں بیان کر دیا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محترم ڈاکٹر خان صاحب کا حافظہ بہت اچھا ہے اور وہ کسی بھی موقع پر ہونے والی یا کی جانے والی گفتگو کو دیر تک اپنی میمری میں محفوظ رکھتے ہیں اور پھر اسے ریفریش کرکے جب چاہتے ہیں قرطاسِ ابیض پر بکھیر بھی لیتے ہیں۔ اس باب میں جہاں انہوں نے اسلم کمال صاحب کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا ہے، نیز ڈاکٹر صاحب ان سے فیضؔ کا درج ذیل شعر سن کر اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی رات ایک غزل کہہ ڈالی ۔
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سر خرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
اب ڈاکٹر صاحب کی غزل کے ایک دو اشعار بھی ملاحظہ کیجیے۔
کیا جانیے کہ آج کس محفل سے آئے ہیں
راہِ وفا میں کونسی منزل سے آئے ہیں
اور
حیران ہو کے دیکھتے ہو کیوں ہمیں رفیق!
رنج و فراق و درد کی دلدل سے آئے ہیں

ڈاکٹر صاحب نے اس باب میں مختلف حوالوں ،جن میں جناب اسلم کمال کے خیالات بھی شامل ہیں،سے یہ ثابت کیا ہے کہ علامہؒ کو اگر ایک شاعر کی حیثیت سے دیکھا جائے تو بقول فیض ؔ ان کا مقام و مرتبہ بہت اعلیٰ ہے۔

’’علامہ اقبال کے بارے شفیق فاروقی سے گفتگو‘‘ تصنیف کا پانچواں باب ہے ۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے علامہؒ اقبال کے حوالے سے گفتگو کم کی ہے جب کہ شفیق فاروقی اور ان کے فن پر تفصیل سے لکھاہے(شفیق فاروقی کو راقم الحروف نے اپنی تحریر بعنوان: شفیق فاروقی عہدِ حاضر کا یگانہ مصور‘‘ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے) ۔ڈاکٹر خان صاحب نے اسلم کمال صاحب کے بعدفاروقی صاحب کے ساتھ اپنی اس گفتگو میں ایک بات جس کا خاص طور پر ذکر کیا ہے وہ ؛اقبال ؒ ، فیضؔ، اسلم کمال، شفیق فاروقی اور خود ان کا سرزمینِ سیالکوٹ سے تعلق ہے۔گویا مصنف کو اس بات پر ناز ہے کہ اس کا تعلق بھی اسی شہر کے گردونواح سے ہے جہاں حکیم لامت علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیض ؔ نے جنم لیا۔ڈاکٹر خان صاحب نے علامہؒ کا ایک واقعہ لکھا ہے جو غیر معروف ہے ، لیکن پر مزاح ہے اس لیے یہاں درج کیا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’بقول فاروقی صاحب پرائمری کے بعد جب ہائی سکول میں آئے تو سکول جاتے ہوئے علامہ اقبال ؒکا گھران کے راستے میں پڑتا تھا۔ علامہؒ صاحب کاگھر سیالکوٹ شہر کے کشمیری محلہ میں واقع تھا جس کے سامنے ایک تھڑا تھا جس پر اکثر علامہ ؒ بیٹھ کر اشعار کی نوک پلک سنوارا کرتے تھے اور بعض اوقات چھاتی پر اپنی میوزیکل وائلن کے تاروں کو حرکت دے کر مختلف سروں پر پرکھتے تھے کہ کیا غزلیں نظمیں وزن میں ہیں یا نہیں۔۔۔ایک دن جب وہ صبح کے وقت وائلن چھاتی سے لگائے تھڑے پر بیٹھے تھے تو ان کا ایک سکھ دوست ان کے پاس سے گزرتا ہوا رکا اور علامہؒ سے مذاق کرتے ہوئے کہنے لگا ،’’اقبال صاحب ! اج سویرے سویرے ای سینے نال لالئی جے‘‘۔ علامہؒ صاحب نے بے ساختہ جواب دیا،’’سرادارجی! سکھنی جوں ہوئی‘‘۔

چھٹے باب کا عنوان رکھا گیا ہے ،’’علامہ اقبال اور فیض احمد فیض (بحوالہ گورنمنٹ کالج لاہور)‘‘۔ اس باب میں مصنف نے دنیا کی ان دو بڑی شخصیات کا تجزیہ گورنمنٹ کالج لاہور کے حوالے سے کیا ہے ۔ چنانچہ میرے لیے بھی یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میں بھی اسی مادرِ علمی سے پروان چڑھا۔زیرِ نظر باب دراصل ڈاکٹر صاحب کا ایک لیکچر ہے جو انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کی ’’مجلسِ اقبال‘‘ کے تحت 2013ء میں دیا۔وہ لکھتے ہیں کہ اقبال ؒ1897ء میں سکاچ مشن کالج جب کہ فیضؔ1929ء میں مرے کالج سیالکوٹ سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور چلے آئے۔اس باب میں اقبال ؒاور فیض ؔکی ابتدائی شاعری کا تجزیہ مختلف حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

’’فکرِ مراد فکرِ اقبال کے آئینے میں‘‘ساتویں باب کا عنوان ہے جو درحقیقت ڈاکٹر خان صاحب کا ایک لیکچر ہے جسے بقول ان کے انہوں نے خرم مراد کی کتاب ’’وفائے زندگی ‘‘ سے متاثر ہو کر تیار کیا۔اس لیکچر میں نہایت دیانتداری سے انہوں نے پہلے خرم مراد کی’’اپنی تربیت کیسے کریں؟‘‘ کا لبِ لباب بیان کیا ہے اور پھر اس پر فکرِ اقبالؒ کے آئینے میں روشنی ڈالی ہے۔اس سے پچھلے ابواب سیدھے سادھے ہیں جنہیں عام قاری بھی سمجھ سکتا ہے لیکن یہ باب اہلِ علم کے لیے ہے اور اس میں جا بجا قرآنِ حکیم فرقانِ حمید کے حوالہ جات سے اپنے نکتۂ نظر کو سپورٹ کیا گیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

’’اگر مقصدِ اولیٰ بفکرِ اقبال اوربفکرِمراداﷲ کا قرب اور حصولِ جنت ہو تو بغیر بندگی [کے] حاصل نہیں ہو سکتا۔۔۔علامہ اقبالؒ کے مردِ مومن یعنی اقبالیات کے ہیرو کا مقصدِ اولیٰ حقائق اولیٰ(Ultimate Realities) تک رسائی ہے جب کہ ہر مسلمان کے لیے حقیقتِ اولیٰ ذاتِ باری تعالیٰ ہے ‘‘۔

محترم ڈاکٹر رفیق خان صاحب اس موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے علامہ اقبال ؒ کے فلسفہ خودی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا نفسِ مضمون اپنے نفس کی پہچان ہے کہ’’ جو اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے‘‘۔علامہؒ کا یہ کہنا اس پر مہرِ تصدیق ثبت کردیتا ہے۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو، اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

’’سیرتِ طیبہ اور شاعرِ مشرق‘‘یہ کتاب کا آٹھواں باب ہے جس میں صاحبِ تصنیف نے اپنے ایک اور لیکچر میں اوراقِ تاریخ سے مختلف فلسفیوں کے ہیروز کا حوالہ دیتے ہوئے حکیم لامتؒ نے جس ذاتِ بابرکات کو اپنا ہیرو منتخب کیا اس ہستی کا ذکر کیا ہے جس کے بارے قرآن کہتا ہے، وماارسلنک الا رحمۃ اللعالمین اور وہ ایسی ہستی ہے جسے نہ صرف تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا بلکہ ان کی زندگی کو تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار دے دیا گیا۔ چنانچہ بقول ڈاکٹر صاحب علامہ اقبالؒ کا عقیدہ بڑا واضح ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ:
بہ مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است

اس طویل لیکچر میں جو تنتیس صفحات پر پھیلا ہوا ہے اس تصنیف کا سب سے بہترین باب ہے جسے بے شمار مستند حوالہ جات سے آراستہ کیا ہے ۔مزید یہ کہ انہوں نے ان وجوہات کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جن کی بدولت ملتِ اسلامیہ آئینِ اسلام سے منحرف ہو کر انحطاط کا شکار ہوئی نیز علامہؒ نے ملتِ اسلامیہ کی بیماری کی تشخیص کے بعد جو دوا تجویز کی اس پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔اس لیکچر کے مطالعے سے قاری علامہؒ کے فلسفہ خودی اور فلسفہ عقل و عشق کو بآسانی سمجھ سکتا ہے کیونکہ اندازِ تحریر logicalہے اور آج کے پڑھے لکھے طبقے کے لیے نہایت موزوں ہے جو ہر بات کی دلیل مانگتا ہے اور منطق چاہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ منطق سے کلیتاً واقف ہیں اس لیے اس کی reflection ان کے دیگر مضامین اور لیکچرزمیں بھی دیکھی جاسکتی ہے لیکن اس لیکچر میں خاص طور پر نمایا ں ہے۔ اس لیکچر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں انہوں نے عشق اور عقل کا موازنہ فکرِ اقبال کی روشنی میں کامیابی سے کیا ہے۔حوالہ جات کی ایک طویل فہرست ہے جس کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں لہٰذا اصل تحریر ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کے اس لیکچر کو دنیا بھرکے موقر رسائل جرائد کی زینت بننا چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کی تحقیقی گفتگو ہے جس کی چھے دہائیاں تحقیق کے دشت میں گزری ہیں۔

نویں باب کا عنوان ’’فلسفہ اقبال کی سائنسی بنیاد‘‘ ہے گویا اس باب میں مصنف نے علامہ اقبال ؒکے سائنسی علوم سے آگہی کو موضوع بنایا ہے ۔وہ کہتے ہیں علامہ اقبال ؒ اگرچہ سائنس سے براہِ راست واقفیت نہ رکھتے تھے تاہم فلسفے کے طالبعلم کی حیثیت سے انہوں نے مغربی اور مشرقی حکماء کے افکار کو گہرائی میں جا کر پرکھا اور نتیجہ یہ اخذ کیا کہ مشرقی علماء یعنی اسلامی فکر سے آراستہ علماء وحکماء کے افکار چونکہ قرآن و سنت کے تابع ہیں اس لیے انہیں پر انحصار کرتے ہوئے اپنی فلسفیانہ فکر کو اشعارمیں بیان کردیا۔یہی نہیں اپنے خطبات میں بھی اسی فکر کو پیشِ نظر رکھا۔محترم ڈاکٹر صاحب نے اس باب میں دو تین نہایت اہم وضاحتیں کی ہیں جن کا تعلق ایک بار پھر نسلِ نو سے جڑتا ہے اور اس کا ذکر صفحاتِ گزشتہ میں بھی ہو چکا ہے کہ یہ نسل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نسل ہے جو اپنے ہر سوال کا جواب منطق سے چاہتی ہے اسی لیے دو راہیں سامنے آرہی ہیں ایک وہ جس پر چلنے والے سوشل میڈیا کی زینت بننے والی ہر پوسٹ پر یقین کر لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو اس کی logicalاور scientificبنیاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے درست یا غلط مانتے ہیں۔چنانچہ جب ڈاکٹر صاحب نے یہاں پہلی بات جس کا ذکر اپنے لیکچر کے آغاز میں کیا ہے وہ ہے مغربی حکمااور ان کے فطرت یعنیnatureکے متعلق نظریات۔ اس ضمن میں انہوں نے اختصار کے ساتھ Thomson Hobbes, John Lock, Montesquieu, Sean Jaeques Rousseau, David Hume, HegelاورCarl Marxکے فلسفہ فطرت کو بیان کرنے کے بعد بتایا ہے کہ’’ علامہ اقبال ؒ کا فطرت کا مشاہدہ مغربی فلسفیوں سے کہیں مختلف تھا کیونکہ اس میں روحانیت اور اسلام کے ذریں افکار کا بہت زیادہ دخل تھا‘‘۔مزید یہ کہ جب علامہ ؒ یہ کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہر شے قدرتی صفات کی حامل ہے تو وہ درحقیقت اخلاقیات یعنی Ethicsکی بات کرتے ہیں جسے اب باقاعدہ سائنس تسلیم کر لیا گیا ہے اور اس کا مقصد بنی نوعِ انسان کو راہ راست پر رکھنا ہے۔چنانچہ اگر علامہؒ کی ابتدائی دور کی نظموں کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی نسلِ نوکے لیے اسی آہنگ اور پیرائے میں بنیادی ماڈل فراہم کر دیا ہے۔ بچوں کی نظموں کا تذکرہ کرنے کے بعد علامہ ؒ پند و نصائح کا دائرہ کار بڑے بوڑھوں تک بڑھاتے ہیں اس سلسلے میں مصنف نے ان کی نظم’’ عقل ودل‘‘ کی مثال پیش کی ہے۔آگے چل کر انہوں نے بانگِ درا کی غزل کا حوالہ دے کر یہ بتایا ہے کہ علامہؒ چاہتے تھے کہ انسان عقل و دل کے ذریعے کائنات کے پوشیدہ رازوں کو جاننے کی کوشش کرے۔
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے باربار دیکھ
آیا ہے تو جہاں میں مثالِ شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستیٔ ناپایدار دیکھ

بہر حال یہ تو اشیاء کو پرکھنے کا عقلی پیمانہ ہے لیکن ایک دوسرا پیمانہ بھی ہے جو روحانیت کا ہے اور اس کا تعلق عقل کے بجائے عشق جیسی لازوال قوت سے ہے۔ ایک بات جس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر خان صاحب نے کسی دوسری جگہ ایک بڑا باریک نکتہ بیان کیا ہے کہ لفظ’’عشق‘‘کا ترجمہ love نہیں ہو سکتا کیونکہ عشق ایسی قوت کا نام ہے جس کے سامنے loveکی کوئی حیثیت نہیں۔میں ان کو ان کی اس فکر پر داد دیے بغیر آگے چل نہیں سکتا تھا اس لیے ضمناًً اس بات کا ذکر آگیا۔

روحانیت جسے اہلِ مغربTheologyسے تعبیر کرتے ہیں ۔ علامہؒ کا کہنا یہ ہے کہ اگر اﷲ سے لو لگانا چاہتے ہو تو قرآنِ حکیم فرقان مجید میں اس کے پیغام کو پڑھو اور اسے سمجھنے کی سعی کرو۔اس سلسلے میں مصنف نے علامہؒ کی نظم’’انسان اور قدرت‘‘ کا حوالہ دیا ہے اور پوری نظم درج کر دی ہے۔
صبح خورشیدِ درخشاں کو جو دیکھا میں نے
بزمِ معمورۂ ہستی سے یہ پوچھا میں نے
پر توِ مہر کے دم سے ہے اجالا تیرا
سیمِ سیال ہے پانی ترے دریاؤں کا
گل و گلزار ترے خلد کی تصویریں ہیں
یہ سبھی سورہ والشمس کی تصویریں ہیں

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ لیکچر ایک خاص ربط کے ساتھ آگے بڑھتا ہے جس سے قاری اور سامع کو ایک ایک بات ذہن نشین ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ راقم الحروف نے بھی علامہؒ کے افکار کو پڑھنے اور سمجھنے میں ایک عرصہ صرف کیا ہے چنانچہ اپنے مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک کامیاب لیکچر ہے ۔اگرچہ میں نے یہ لیکچر نہ سنا اور نہ ہی ڈاکٹر صاحب سے کبھی اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی لیکن اس لیکچر کے سکرپٹ نے راقم الحروف کوبے حد متاثر کیا ہے۔اس لیکچر میں انہوں نے علامہؒ کی فطرت سے محبت، فلسفہ خودی کا سرسری جائزہ، نظریہ تحرک اورعشقِ رسولﷺ بیان کیا ہے اور پھر آخر میں آئن سٹائن کے نظریے کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی Theory of Relativityفکرِ اقبال کی سپورٹو ہے۔

’’فلسفہ اقبال:میری نظر میں‘‘ یہ ہے اس تصنیف کا دسواں باب ، جس میں ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ حکیم الامت کے فلسفے کو کس طرح سمجھتے ہیں اور ان کے کلام اور خطبات سے کیا اور کس طرح اخذ کرتے ہیں نیز اس کو نسلِ نو تک پہنچانے کا ذریعہ کیا اور کیسے ہونا چاہیے؟ یہ بھی ان کا ایک لیکچر ہے جو انہوں نے پاکستان اور امریکہ میں ڈیلیور کیا۔ اس کے ابتدائیے میں انہوں نے اپنی سوانح بیان کی ہے جو سچائی اور دیانتداری کی عمدہ مثال ہے اور اس کے بعد فلسفہ اقبال ؒ کو قدرے وضاحت وصراحت کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن اس لیکچر میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو پچھلے لیکچرز کا بھی حصہ ہیں لہٰذا ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اورانتہائے اختصار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے راقم الحروف بس یہی عرض کرے گا کہ دیگر لیکچرز کی طرح یہ بھی ایک کامیاب لیکچر ہے جو نسلِ نو کے لیے ایک عمدہ مثال ہے نیز یہ فکرِ اقبالؒ کو سمجھنے میں بہت ممد ومعاون ہو سکتا ہے۔

زیرِ نظر تصنیف کے گیارویں باب کا عنوان مصنف نے فیضؔ کے ساتھ منائی گئی اپنی دو یادگار شاموں کے حوالے سے ’’فیض احمد فیض ؔکے ساتھ دو یاد گار شامیں‘‘رکھا ہے اور اس کاآغاز مرزا اسداﷲ خاں غالبؔ کو خراجِ تحسین پیش کرکے کیا ہے :
ؑ ع ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

مصنف کی یہ دونوں ملاقاتیں ان کے قیامِ یورپ کے زمانے میں میں لندن میں ہوئیں۔اس باب میں مصنف نے اپنی شخصیت اور فنِ شاعری پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔مثلاً، وہ گلاسگو کے مشاعرے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں،’’ہم نے بھی اس مشاعرے میں بحیثیت شاعر حصہ لیا اور گلاسگو میں خوب متعارف ہوئے‘‘۔اس کے بعد ایک اور مشاعرے کا ذکر ہے جو لندن میں صد سالہ تقریباتِ اقبالؒ کے موقع پر منعقد کیا گیا اور اس میں فیضؔمہمانِ خصوصی تھے اور بقول مصنف انہیں بھی سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک شاعر کی حیثیت سے مدعو کیاتھا۔ اس مشاعرے میں ڈاکٹر صاحب نے فیضؔ کی موجودگی میں اپنی نظم’’احساس‘‘ پیش کرنے سے پہلے جو قطعہ پیش کیا وہ ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔
یاد رفتہ کو باز آنے دے
فکرِ شاعر کو پیچ کھانے دے
مجھ سے خوابوں میں کھیلنے والے
ایک لمحہ تو مسکرانے دے

ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں کہ فیض ؔ نے نظم کو پورے انہماک سے سماعت کیا اور کئی بار دل کھول کر داد دی۔اس مشاعرے کے زیرِ اثر اور فیضؔ سے فیض لے کر مصنف نے اپنی ایک اور نظم ’’کتنی صدیاں بیت گئی ہیں‘‘لکھی ۔ یہ دونوں نظمیں بھی اس باب کا حصہ بنائی گئی ہیں۔اسی طرح انہوں نے فیضؔ سے اپنی دوسری ملاقات کی تفصیل بھی فراہم کی ہے جو ایک بارپھر لندن ہی میں ایک دوسری تقریب میں ہوئی جس میں مصنف اور فیضؔ کو مدعو کیا گیا تھا۔اس باب میں انہوں نے دیگر تاثرات کے علاوہ فیضؔ کے فن و فکر کوبھی اجاگر کیا ہے۔

علامہ اقبالؒ ، فیض احمد فیضؔ اور مصنف کی علمی وادبی کاوشوں، حقائق اور فنی تاثرات پر مشتمل اس خزینے کا آخری باب’’علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیضؔ کے حوالے سے بیرون ملک سر گرمیاں‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس عنوان کے تحت انہوں نے گلاسگو میں گزرے ایام اور ادبی سرگرمیوں کا احاطہ کیا ہے اور اپنی ایک نظم ’’عقیدت کے پھول ‘‘بھی اس باب میں شامل کی ہے، جسے بقول مصنف مغرب میں بے حد پسند کیا گیا اور چونکہ اس نظم میں حکیم الامت ؒ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے اس لیے باوجود اس کے کہ مضمون طوالت اختیار کر رہاہے، چند اشعار درج کیے جارہے ہیں:
چشمِ بینائے ملت ہے اقبال تو
جس نے رو رو کے لکھے فسانے نئے
رنگ لائے گا، یہ میرا سوزِ دروں
اور بجیں گی مرے گھر میں شہنائیاں

مندرجہ بالا خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد مصنف نے گورنمنٹ کالج لاہور(جی ۔سی ۔یو)میں اپنی مصروفیات اور طلبہ سرگرمیوں کا ذکر کیا ہے ۔اس باب میں راقم الحروف کے تحقیقی مقالے ’’در برگِ لالہ وگل‘‘ کی جلد اول پر لکھا گیا ڈاکٹر صاحب کا رویو بعنوان ’’دربرگِ لالہ و گل -اردو ادب میں ایک اہم تحقیق کا اضافہ ‘‘بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے اس باب میں دبئی اور امریکہ میں منعقد کی جانے والی ادبی سرگرمیوں کو خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔

آخر میں اس تصنیفِ خوش نما کے بارے یہ کہا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبالؒ اور فیضؔ کے فن و شخصیت کو ایک ہی وقت میں پیش کی جانے والی یہ پہلی کامیاب کوشش ہے۔ جیساکہ اوراقِ گزشتہ میں اس بات پر روشنی ڈالی جاچکی ہے کہ مصنف کا انداز ایک روداد نویس کا ہے اور اس پوری کتاب میں مصنف نے نہایت کامیابی سے اقبالؒ، فیضؔ اور اپنی زندگی کی رودادیں بیان کی ہیں۔ زبان سادہ بھی ہے اور شستہ بھی۔ راقم الحروف کے نزدیک اس کتاب کے مطالعے سے علمائے اردو ادب کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عام قاری بھی مستفید ہو سکتا ہے۔دعا ہے کہ اﷲ استادِ مکرم محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان صاحب کو صحت و تندرستی کی نعمت سے مالا مال رکھے تاکہ ان کے قلم سے ایسی کئی اور نایاب اور ریفرنس کی مطبوعات منصہ شہود پر آسکیں۔آمین!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 301 Print Article Print
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 45 Articles with 9300 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Reviews & Comments

Language: