دائرے اور مسلمان

(Akram Saqib, Sahiwal)
ایک فقہ کے لوگ دوسرے کے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے سے گریزاں ہیں ۔ کچھ مقامات پر تو با قاعدہ تختیاں آویزاں کی جاتی ہیں کہ اس مسجد میں فلاں مسلک کا داخلہ منع ہے

بر صغیر میں مسلمانوں نے اپنے آپ کو مختف دائروں میں مقید کر رکھا ہے۔ اور کسی بھی دائرہ کا کرہ دوسرے دائرے کو مس بھی کر کے نہیں جا سکتا۔ ان دائرونںمیں اتنی شدت پسندی ،تکبر اور نفرت بھری ہے کہ لچک نام کی چیز ہی نہیں ہے۔ متوازی خطوط ہیں جو کبھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دئےں جاتے۔ خود کو حق اور دوسرے کو باطل ثابت کرنے کا ایسا جنوں سر پہ سوار کر دیا گیا ہے کہ ساری محنت اسی کام پر ہی ہو رہی ہے۔ اختلاف کو رحمت کی بجائے زحمت اور کھلے ذہن کی بحث کی بجائے تنگ نظری پر مبنی طعنہ زنی بنایا دیا گیا ہے۔ ہر فقہ کا عالم اور اس کا پیروکار اس کوشش میں مصروف ہے کہ دوسرے کو نہ صرف غلط ثابت کرے بلکہ یہ بھی سعی اور وہ بھی بھرپور طریقے سے کی جا رہی ہے کہ اس فرقے کو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیا جائے۔ ایک فقہ کے لوگ دوسرے کے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے سے گریزاں ہیں ۔ کچھ مقامات پر تو با قاعدہ تختیاں آویزاں کی جاتی ہیں کہ اس مسجد میں فلاں مسلک کا داخلہ منع ہے۔ یو ٹیوب پر کسی بھی عالم کا بیان سماعت فرمائیں وہ آپ کو پتہ نہیں کیا سبق دینا چاہتا ہے۔ صرف اور صرف اپنے کام اور مسلک کی پرچار کر رہا ہوتا ہے۔ تقریر کا بس ایک ہی موضوع ہوتا ہے کہ میں جس مسلک سے متعلق ہوں وہی درست ہے اور اسی مسلک کی ساری رسومات جائز ہیں۔کوئی ہی ہو گا جو ہمیں اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کا درس دے گا ورنہ سب ہی اپنی دکان چمکانے مں لگے ہیں۔ انگریز تو مسلمانوں پر ظلم کر گیا کہ دینی تعلیم کی سرپرستی چھوڑ دی بلکہ اسے ختم کرنے کی کوشش کی ۔ مغربی نظام تعلیم رائج کیا ۔ اس وقت کے علماّ نے اس کا حل مدارس بنانے میں تلاش کیا۔ یہ مدارس اپنی مدد آپ کے تحت منظم ہوئے اور مسلمانوں نے جذبی دینی سے ان مدارس کی سرپرستی کی اور انہیں مالی امداد مہیا کی۔ جب مدارس کافی حد تک مستحکم ہو گئے اور مالی وسائل کافی آنے لگے تو لالچ نے دل میں جگہ بنائی اور دوسرے مدارس کا چندہ روکنے کے لئے کچھ ایسی باتیں اپنے مدارس مین بتانا شروع کر دیں جن سے جذبہ ہی ختم ہو گیا۔ اسلام جو کہ نام ہی امن سلامتی اور محبت کا تھا اسے ایسا سخت اور بے لچک بنا کر ذہنوں میں راسخ کر دیا گیا کہ ہم مرنے مارے کے لئے تیار ہو گئے۔ آج ایسی مصلح کی اشد ضرورت ہے جو ہمیں یہ سمجھائے کہ مسلمان اور محبت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ صرف ایک مسلک کے لوگ دوسرے کے بھائی یا ہمدرد نہیں بلکہ جو بھی کلمہ اسلام کا پیرو ہے اسے دیکھ کر خوش ہوں اس سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔ رمضان المبارک بھی اسی احساس کا نام ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم فرقوں کے سخت دائروں سے نکل کر کامل مسلمان بنیں اور ہر مسلک اور فقہ کے مسلمان کو دیکھ کو مسکرا دیں ۔ اسے اپنا بھائی سمجھیں ۔ تبھی ہم اللہ کی رسی کو مبوتطی سے تھامنے والے بن سکیں گے۔ اللہ ہمیں مسلمان سے مبتد کرنے والا بنائے۔ آمین


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 30986 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
28 Jun, 2019 Views: 395

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ