آزادی نسواں۔

(Syed Anis Bukhari, )

حقوق نسواں کے عالمی دن کے موقع پر ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی خواتین نیبھی بٓڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے مختلف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بہت سے نعرے درج تھے مگر ایک نعرہ جو مجھے سب سے ذیادہ بولڈ اورپرکشش لگا وہ یہ تھا '' میرا جسم میری مرضی'' ایک مکمل اوروسیع المعانی نعرہ جو عورت کے حقوق کی مکمل ترجمانی کرتا ہوا دکھائی دیا۔ مگر حیف ہے معاشرے کے ان مردوں، ملاؤں اور جماعت اسلامی کی خواتین پر جنہوں نے اپنے بند، چھوٹے دماغ، رجعتی خیالات سے اس نعرے کو محدود کرکے نہ صرف تنگ نظری اور سخت گیر ہونے کا مظاہرہ کیا بلکہ انکے اندر کا گند اور جنسی خیالات کھل کر سامنے آ گئے۔ ان بند دماغ کیلوگوں کو عورت کے جسمانی خدو خال جن میں عورت کی بریسٹ اور شرم گاہ کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔ جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے کآ مرد فطری طور پر ایک جنسی حریص ہے۔ انکے دماغوں میں عورت کی جنسی شہوت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے یہ انکے بیمار اذہا ن کی نشاندہی کرتا ہے۔ میرا جسم میری مرضی سے مراد صرف سیکس ہی نہیں ہے بلکہ خواتین کا مردوں کے تسلط سے آزادی، انکے تعلیم حاصل کرنے کے حقوق، انکا اپنی مرضی سے ملازمتوں میں حصہ لینا، ماں باپ کا شادی سے پہلے انکی خواہش کودریافت کرنا، شادی کے بعد اپنی مرضی سے بچوں کی پیدائش میں وقفہ، اپنی مرضی سے لباس اور خوراک کا انتخاب اور خود مختاری حاصل کرناہے۔ ہمارے گھٹن ذدہ ماحول میں رجعت پسندوں کا اس نعرے کو اپنی مرضی کے معانی پہنانا اور عورت کے اس نعرے کو صرف جنس تک محدود کر دینا عورت کے ساتھ نہ صرف ذیادتی ہوگا بلکہ یہ عورت کی تذلیل کے مترادف بھی ہوگا اور مردوں کے اس غالب معاشرے میں یہ عورت کے حقوق پر ڈاکہ زنی بھی ہوگا۔ عورت کے لیے یہ شرف ہی بہت بڑا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں کا رہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہیر اس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جو اس بات سے انکار کرے مگر عورت پھر بھی ناقص العقل رہی۔

ہمارے مردوں کے غلب معاشرے میں عورت کو کبھی بھی اسکے حقوق نہیں دئے گئے اور ہمیشہ اسکے ساتھ ذیادتی کی گئی۔ کبھی وہ ونی کی جاتی ہے، کبھی وٹے سٹے میں جاں وروں کیطرح اسکا سودا کر دیا جاتا ہے، کبھی اسے مرضی کی شادی کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے، کبھی زناہ کے بدلے اسکی عزت کو پامال کیا جاتا ہے۔ ہم نے آجتک اسکی قربانیوں کے بارے میں سوچا ہی نہیں کہ یہی وہ عورت ہے جسے ستی کیا جاتا رہا، اسیزیور سے لاد کر قربان گاہ پر قربان کر کے اپنے معبدوں کو راضی کیا جاتا رہا، اسے صنف نازک کہہ کر اور اسکی آدھی گواہی کا دھونگ رچا کر اسے احساس کمتری کا شکار کیا گیا، اسے پاؤں کی جوتی قرار دیکر اسکی عزت نفس کو زبح کیا گیا، اسے صرف بستر گرم کرنے، مرد کی جنسی خواہش پوری کرنے، اس سے بچے پیدا کروا کے اسے گھر سے نکال دیا جاتارہا، اسے بھیڑ بکری کیطرح نیلام کیا گیا، اسے لونڈی، باندی اور کنیز بنا کر اسکی مرضی کے بغیر اس سے جسمانی اور جنسی ریپ کیا جاتا رہا، اسے ناقص العقل کہا گیا، اسے بچھوکہا گیا یہاں تک کہ اسے منحوس قراردیکر گھر سے نکالا جاتا رہا۔ اسے باندی اور لونڈی بنا کر اسکے جسم کوداغا گیا، اسکی ناک میں نکیل ڈالی گئی، اسکے ہاتھوں اور گلے میں زنجیر ڈا ل کر اسکی عزت کو پامال کیا گیا۔ اسے بچے پدا کرنے والی مشین بنا کر اس بچے لیکر اسکی پشت پر ٹانگ مار کر بے عزت کرکے نکالا گیا جوآج بھی جاری ہے۔

ہم شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم عورت سے تو وفا کی امید رکھتے ہیں مگر کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ جس عورت سے وفا کا تقاضا کیا جا رہا ہے اسے بھی بدلے میں وفا، پیار اور محبت چاہئے ہوتی ہے۔ وہ گھر کے سب کام کرتی ہے، وہ ہمارے بچوں کو پالتی ہے، وہ سارا دن محں ت اور مشقت کرنے کے بعد تھکی ماندی اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے اور رات کو اسکٓی جنسی خواہش بھی پوری کرتی ہے۔ اسکے منہ پر تیزاب پھینک کر معذور کر دیا جاتا ہے، تیل چھڑک کر اسے جلا دیا جاتا ہے یہ ہے ہماری تہذیب۔

اصل میں ہمارے معاشرے کا مرد عورت سے خوفزدہ ہے اس سے ڈرا ہوا ہے کہ کہیں عورت اپنے جنسی خیالات اور احساسات کا مطالبہ نہ کر دے۔ یہ مرد جو جگہ جگہ گُو کھاتا پھرتا ہے، جنسی بے راہ روی کا شکار ہے، اپنی خواتین کے حقوق پر ڈاکہ زن ہو کر آزادانہ طور پر جنسی کھیل کھیلتا پھرتا ہے اور آزدی سے عورتوں کی عزتوں سے کھلواڑ کرتا پھرتا ہے کہیں عورت اسکی راہ کی رکاوٹ نہ بن جائے۔ مرد اتنا کم ظرف اور کمینہ ہے کہ وہ عزت صرف عورت کو سمجھتا ہے اسے یہ معلوم نہیں کہ مرد اور عورت کی شرم گاہوں کی حفاظت دونوں پرلازم ہے۔ مگر مردوں کا غالب معاشری یہ مننے کو تیار نہیں اور وہ کھل کھلا کر جنسی کھیل کھیلنے کو مردانہ حق تصور کرتا ہے۔ وہ عورت کو پابند سلاسل رکھنا چاہتا ہے۔ وہ عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھ کر آزآدانہ طور پر ہر جائز نا جائز جنسی خواہش کو پوری کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ سب کچھ عورت کی آزادی سلب کر کے ہء کر سکتا ہے جو عورت کے حقوق کو سلب کئے جانے کے مترادف ہے۔ ہم مردوں اس تسلط ذدہ معاشرے کو رد کرتے ہیں اورعورتوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے میں انکے ساتھ ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 66343 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jul, 2019 Views: 384

Comments

آپ کی رائے