فکر ِاقبال میں یقین کی اہمیت

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 ڈاکٹر غلام شبیر رانا
بر صغیر میں نو آبادیاتی دور (1612-1947)کے دوران میں ظالم و سفاک استعماری طاقتوں نے اپنے استحصالی ہتھکنڈوں سے ایسے غیر یقینی حالات پیدا کر دئیے جن کے نتیجے میں اس خطے کے مظلوم عوام کی زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر اور آہیں بے اثر ہو گئیں ۔ دنیا بھر کی اقوام کے عروج و زوال کی چشم کشا صداقتوں سے لبریز تاریخ پس نو آبادیاتی دور میں قارئین کے لیے لمحہ ٔ فکریہ اور تازیانہ ٔ عبرت ہے ۔وہ قوم جواپنی تاریخ ،تہذیب ،ثقافت اوراقدار و روایات کو نظر انداز کر کرتے ہوئے ایام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی اور اپنے روزو شب کے احتساب میں تامل کرے اس کی مثال ایسے خزاں رسیدہ شجر کی ہے جس کی جڑیں سمے کے سم ،سیلِ زماں کے تھپیڑوں اور فسطائی جبر کی دیمک نے کھوکھلی کر دی ہوں ۔بے یقینی کا ایسے لرزہ خیز اور اعصاب شکن ماحول میں ایسی جان لیوا بے عملی پیدا ہوتی ہے جوبالآخر تباہ کن بے حسی پر منتج ہوتی ہے ۔اس قسم کی صورت ِحال کسی بھی قوم کی بقا کے لیے انتہائی بُرا شگون ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں جب اجتماعی بے حسی راہ پا جائے تو وہاں احتساب ذات کا تصور ہی عنقا ہو جاتاہے ۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ فطرت اقوام کی اجتماعی لغزشوں پر کڑی نظر رکھتی ہے ۔قومیں افراد سے مجتمع اور منضبط ہوتی ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔پرِ زمانہ کی رفتار پرواز، نُور سے بھی کہیں بڑھ کر ہے ۔ نو آبادیاتی دور میں بر صغیر کے حالات جس سمت جارہے تھے اس کے نتیجے میں مکمل انہدام کا عفریت ہر طرف منڈلا رہا تھا ۔ غاصب برطانوی سامراج کی چیرہ دستی فطرت کی تعزیروں کی زد میں آ گئی۔ قدرتِ کاملہ نے بر صغیر کے مسلمانوں کو علامہ اقبال کی صورت میں ایک ایسے بے لوث رہبر فرزانہ اور دیدہ ور سے نوازا جس نے بر صغیر کے محکوم باشندوں کو حریت فکر کا علم بلند رکھتے ہوئے حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ دکھائی ۔ تاریخ کے مسلسل عمل پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ صدیوں میں کوئی ایسا دانائے راز جنم لیتا ہے جو اپنے افکار کی ضیاپاشیوں سے ید ِبیضا کا معجزہ دکھاتے ہوئے مہیب سناٹوں کا خاتمہ کردے اور سفاک ظلمتوں کو کافو ر کر کے اذہان کی تطہیر و تنویر کو یقینی بنا دیتا ہے ۔

علامہ محمد اقبال کو شرق و غرب میں مینارۂ نُور کی حیثیت حاصل ہے جس کے افکار کو مقاصد کی رفعت کے اعتبار سے ہم دوشِ ثریا سمجھاجاتاہے ۔ نو آبادیاتی دور کے غیر یقینی حالات میں علامہ اقبال کے سوزِ یقیں سے لبریز پیغام نے یہاں کے محکوم باشندوں کے دلوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا ۔ نو آبادیاتی دور میں بر صغیر کے مظلوم باشندے جو طالع آزما ،مہم جُو اور استبدادی قوتوں کے شکنجے میں جکڑے تھے سانس گن گن کر زندگی کے دن پورے کرنے پر مجبور تھے ۔ جلیاں والا باغ میں( 13۔اپریل 1919)کو امرتسر کے قصاب ( کرنل ڈائر ) نے سفاکی اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطے کہ نہتے عوام کے خون سے جو ہولی کھیلی اس کے نتیجے میں ایک ہزار انسان لقمۂ اجل بن گئے ۔خوف اور دہشت کے ان صبر آزما حالات میں اقبال کا ترانہ بانگِ دراثابت ہوا اور اور ملت اسلامیہ کاشکستہ دل کارواں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ آزادی کی منزل کی جانب جادہ پیما ہو گیا۔ اس عہد میں بر صغیر کے محکوم عوام کا لہو سوزِ یقین سے گرمانے میں علامہ اقبال نے جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ نہ صرف اس خطے بل کہ اقوام عالم کی تاریخ کا درخشاں باب ہیں ۔ علامہ اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ بر صغیر کے باشندے جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے وطن کی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ نو آبادیاتی دور کے مسلط کردہ فسطائی جبر کے تباہ کن دور میں حالات کی سنگینی اور بے یقینی کے باعث جہد و عمل کی راہیں مسدو ہوتی جا رہی تھیں ۔ استعماری طاقتوں نے اپنے غاصبانہ اقتدار کو طول دینے کے لیے مختلف اوقات میں طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ۔تاریخ کے مختلف ادوار میں اس علاقے کے مظلوم عوام پر جو کوہِ ستم ٹُوٹاوہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کرب ناک حالات میں علامہ اقبال نے ملت کے جملہ مسائل اور مصائب کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے جہد و عمل کی راہ دکھائی اور بے یقینی کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ ر کھی۔ تاریخ کے اس نازک دور میں نوائے سروش کی حیثیت رکھنے والے علامہ اقبال کے روح پرور پیغام سے ہوا کا رخ بدل گیا۔ خزاں کے سیکڑوں مناظر دیکھ کر یاس و ہراس کا شکار ہوجانے والے راہ گم کردہ مسافروں کو علامہ اقبال کے پیغام سے طلوع ِصبحِ بہاراں کی نویدملی۔محکوم عوام کو یہ باور کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگرچہ تاجروں کے رُوپ میں آنے والوں نے مکر اور جبر کے ذریعے تاج ور بن کر بر صغیر کے باشندوں سے اقتدار غصب کر لیاہے لیکن اگر یقین اور اعتماد سے کام لیتے ہوئے جد و جہدکاآغازکیاجائے تو قومی وقار کی بحالی،ملی نشاۃ الثانیہ ،مکمل آزادی اور تعمیر نو کی منزل تک رسائی دشوار نہیں۔علامہ اقبال نے نو آبادیاتی دور میں بر صغیر کی ملت اسلامیہ کو محرومیوں اور مایوسیوں کے گرداب سے نکلنے اورساحل عافیت تک پہنچنے کی راہ دکھائی ۔بھیانک تیرگی کے اس لرزہ خیزدور میں افکارِ اقبال کو ستارۂ سحر سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔انھوں نے برصغیر کی ملت اسلامیہ کو بے یقینی اور بے عملی سے نجات دلاکر سعیٔ پیہم پر آمادہ کیا۔جس زمانے میں بے یقینی کا عفریت ہر طرف منڈلارہاتھاعلامہ اقبال کا فکر پرور پیغام تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔یقین کی ابدآشناقوت سے متمتع علامہ اقبال کا یہ ولولہ انگیز پیغام ہرعہد میں دلوں کو مرکزِمہر و وفاکرتارہے گا۔
یقیں مِثل ِ خلیل ؑ آتش نشینی
یقیں اﷲ مستی خود گزینی
سُن اے تہذیب ِحاضر کے گرفتار
غلامی سے ہے بدتر بے یقینی

علم بشریات کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ تلخ حقائق کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر تخیل کی جولانیوں کابھی اپنا الگ جہاں ہے ۔ ہر قسم کی مصلحت اندیشی سے بالاتر رہتے ہوئے وادیٔ خیال میں مستانہ وار گُھومنے والے ایسے پیام ِ نو بہار کو بھی اٹل حقیقت سمجھتے ہیں جوانھیں یاس و ہراس کی ا ذیت و عقوبت سے نکال کرحوصلے اور امیدکادامن تھام کریقین سے آگے بڑھنے پر مائل کرے۔نو آبادیاتی دور میں مسلمانوں کی زبوں حالی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے علامہ اقبال نے ملی تعمیر اور قو می نشاۃ الثانیہ کوپیشِ نظر کھتے ہوئے اپنی شاعری میں یقین کی اہمیت کو اجا گر کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے ۔قومی ابتلا اور آزمائش کے اس دور میں علامہ اقبال نے ان مقاصد کو زاد ِ راہ بنایا جو علی گڑھ تحریک نے متعین کیے تھے ۔علامہ اقبال نے بر صغیر کی ملت اسلامیہ پر یہ واضح کر دیا کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے روز و شب کااحتساب کرے ۔یہ بات یقینی ہے کہ رخشِ حیات پیہم رو میں ہے اور یہ سلسلۂ روز و شب اپنی نوعیت کے اعتبار سے نقش گر ِحادثات ہے ۔علامہ اقبال کے افکار کا قصر ِ عالی شان جس یقین کی اساس پر استوار ہے اس میں اسلامی تعلیمات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ اپنے افکار میں انھوں نے توحید کو ایک زندہ قوت کی حیثیت سے پیش کیا۔اپنی بصیرت سے علامہ اقبال نے اس بات کایقین کر لیا تھاکہ اس عالم آب وگِل میں ہرطرف خالقِ کائنات کے جلوے فکر و خیال کومہمیزکرنے کاموثر وسیلہ ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں تاریخ کے اس حادثے پر وہ دل گرفتہ رہتے تھے کہ فطرت نے تو انسان کو آزادپیداکیامگرجابر قوتوں نے انسان کی آزادی سلب کر لی۔غاصب استعماری قوتوں نے محکوم عوام سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے انھیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا۔اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کوزیب ِقرطاس کرتے وقت علامہ اقبال نے عملی زندگی کے ہر مر حلے یقین کی شمع فروزاں رکھنے پر اصرار کیاہے ۔ کثرت میں وحدت کے جلوے دیکھے اور ان چشم کشا صداقتوں کو اس یقین کے ساتھ اپنے اشعار کے قالب میں ڈھالاکہ روح اور قلب کی گہرائیوں میں سماجانے والے یہ اشعارپتھروں سے بھی اپنی تاثیر کالوہا منوالیتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ہزار خوف میں بھی انسان کی زبان کو دِل کی ترجمانی کرنی چاہیے ۔ہجوم یاس میں گھرے بے بس انسان کواپنے خالق کومددکے لیے پکارنا چاہیے ۔ ایران کے بادشاہ دارا (Darius III,336-330BC) اور ایران کے بادشاہ جم (Jamshid) جیسے پُرشکوہ بادشاہ جس عظیم ہستی کے در کے گدا ہوں اگر عام انسان اس کی معرفت حاصل کر لیں تومحتاج ِملوک ہونے سے ان کا بچ نکلنا یقینی ہے ۔ انسان کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے قادر مطلق اپنی مخلوق کے حال سے باخبر ہے ۔انسان کا خانۂ لاشعور بھی خالق ِکائنات کے نور معرفت سے منور ہے ۔خداوند ِ کریم کی عظمت کے سوا سب کچھ بتان وہم و گماں ہے ۔اپنے خالق کی دائمی قوت ،عظمت و ابدی حکومت کے سوا ہر قسم کے وہم و گماں کو دل سے نکال دینا ہی توحیدپر کامل یقین کی دلیل ہے ۔ توحیدپر کامل یقین کے ساتھ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کی تمنادل میں لے کر علامہ اقبال نے ہر عقدۂ تقدیر ِ جہاں کھولنے کو جوسعی کی ہے وہ ان کے اسلوب کاامتیازی وصف ہے ۔ توحیدکی امانت سے اپنے سینے کو منور کرنے والے مشرق کے اس یگانۂ روزگار فلسفی کے افکار کی باز گشت ہر عہد میں سنائی دے گی۔
خِرد دیکھے اگر دِل کی نگاہ سے
جہاں روشن ہے نُور ِ لااِلہ سے
درجہانِ کیف و کم گردیدعقل
پے بہ منزل بُرد ازتوحید عقل
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادمصدائے کن فیکون
ماسوا اﷲ کے لیے آ گ ہے تکبیر تری
تُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمو ر ہو گا نغمۂ توحید سے
ہم نشیں !مسلم ہوں میں ،توحید کا حامل ہوں میں
اس صداقت پر ازل سے شاہدِ عادل ہوں میں
نبضِ موجودات میں پیداحرار ت اس سے ہے
اور مسلم کے تخیل میں جسار ت اس سے ہے

علامہ اقبال نے حیات جاوداں کے لیے سعی اور ستیزکو ناگزیر قرار دیا ہے ۔زندگی کے سفر میں نشیب و فراز کا ایک غیر مختتم سلسلہ ازل سے جاری ہے ۔علامہ اقبال کا خیال ہے کہ توحید پر کامل ایقان ،انتھک جد و جہد اور بلا توقف خوب سے خوب تر کی جستجوکے ساتھ ساتھ اپنی خدادادصلاحیتوں پر انحصار ہی وہ عصاہے جووقت کے فراعنہ اور آستین کے سانپوں کاسر کچل سکتاہے ۔اس کے بعد پر عزم انسان مقصد کے ساتھ اپنی لگن اور قلبی وابستگی کے اعجاز سے ہر مشکل پر قابو پالیتا ہے ۔یقین کے معجزنمااثر سے منزلیں رستے میں بچھتی چلی جاتی ہیں ۔علامہ اقبال نے توحید پر مکمل یقین کواسلامی تعلیمات سے مربوط کیاہے ۔ افراداور اقوام کی تعمیر و ترقی کاراز یقین میں پوشیدہ ہے ۔یقین افراد کو وہ اعتماد عطاکرتا ہے جس کے اثر سے وہ جور و جفاکے مظہر لرزہ خیزحالات میں بھی احتیاط اور ضبط سے کام لیتے ہوئے اپنی دھن میں مگن رہتے ہوئے روشنی کا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ یہ یقین ہی ہے جوحق گوئی و بے باکی کونموبخشتا ہے ۔اس انگارۂ خاکی کوجب یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے تو وہ طائر لاہوتی کی سی بلندپروازی پر قادر ہو تا ہے ۔یقین سے نمو پانے والی خود آگاہی زیر ِ تیغ کلمۂ حق اداکرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے ۔حریت ِ فکر کے مجاہدوں کو اس بات کا یقین ہوتاہے ظلم و استبداد کا پرچم بالآخر سر نگوں ہوتا ہے ۔نوآبادیاتی دور میں بر صغیر کے باشندوں کو علامہ اقبال نے اس بات کایقین دلایا کہ صحن چمن سے خزاں کاجاناٹھہر گیا ہے ۔دور ِغلامی میں معاشرتی زندگی میں جو اضطراب، بے یقینی اور تشکیک پائی جاتی تھی اس کے خاتمے کے لیے تاریخ کے اس نازک دور میں علامہ اقبال نے ناقابل فراموش جد و جہدکی ۔علامہ اقبال کی شاعری میں ندرت ،تنوع اور ارتقا کی جو مسحورکن کیفیت جلوہ گر ہے وہ قاری کو جہانِ تازہ میں پہنچا دیتی ہے ۔یقین کے موضوع پر ان کی شاعری اسلامی تعلیمات کی مظہر ہے ۔ فکری رہنمائی کا یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی کااہم تاریخی ثمر قرار دیا جاتاہے ۔اپنی شاعری میں علامہ اقبال نے توحیدپر یقین کی پُر زور تلقین کرتے ہوئے وہم و گماں میں مبتلا افراد کو متنبہ کرتے ہوئے کہاہے :
بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتاہے
ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے
خدائے لم یزل کادستِ قدرت تُو زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تُو ہے
چمک تیری عیاں بجلی میں،آتش میں، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں،سُورج میں ،تارے میں
بلندی آسمانوں میں ،زمینوں میں تری پستی
روانی بحر میں ،اُفتادگی تیری کنارے میں
جو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیندسوتا ہے
شجر میں،پُھول میں ،حیواں میں،پتھر میں ستارے میں

نو آبادیاتی دور میں علامہ اقبال کے سامنے جومقاصدتھے ان کاتقاضا یہ تھاکہ بر صغیر کے مسلمانوں کا توحید پر ایمان پختہ تر کیا جائے ۔توحیدپر کامل ایقان انسان کووہ فقید المثال جرأت اور استقامت عطاکرتاہے کہ انسان نتائج کی پروا کیے بغیرجبر و استبدادکو پائے استقامت سے ٹھکرانے میں کوئی تامل نہیں کرتا۔علامہ اقبال نے اس امر کی صراحت کر دی ہے کہ اس کائنات کاذرہ ذرہ تغیر و تبدل کی زد میں ہے۔سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے اس کے بعدجاہ و جلال اور قوت و ہیبت کے سب سلسلے نیست ونابود ہو جائیں گے۔علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں بر صغیر میں بر طانوی استعمار کی محکوم ملت اسلامیہ پر واضح کر دیا کہ اس نا تمام کائنات سے دما دم کن فیکون کی صدا آ رہی ہے ۔ مظاہر قدرت کے مشاہدے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ سیکڑوں دورِ فلک ابھی راہ میں ہیں ۔مر حلۂ شوق طے کرنے کے آرزومند جب ہر لحظہ نیاطُور نئی برقِ تجلی کی کیفیت دیکھتے ہیں تو اُن کے دلوں پر خالق ِ کائنات کی عظمت کے انمٹ نقوش ثبت ہوتے ہیں ۔اس طرح توحید پر یقین کی جوروح پرور اور ایمان افروز صورت پیدا ہوتی ہے وہ دلوں کو مرکز مہر و وفا اور حریم کبریا سے آشناکرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے توحید پر یقین کو جس اندازمیں بیان کیا ہے اس سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یقین ایسی متاع بے بہا ہے جس سے فقیری میں بھی نام پیدا کیا جا سکتاہے ۔زندگی کی اقدار عالیہ کے تحفظ سیر ت وکردار کی تعمیر میں یقین کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔علامہ اقبال کی شاعری میں یقین کا یہی جذبہ اس شاعری کو نوائے سروش کا درجہ عطا کرتا ہے۔
کہہ گئے ہیں شاعری جزویست از پیغمبری
ہاں سنا دے محفل ِ ملت کو پیغامِ سروش
حق نے عالم اس صداقت کے لیے پیدا کیا
اور مجھے اس کی حفاظت کے لیے پیدا کیا
دہر میں غارت گر ِ باطل پرستی میں ہوا
حق تو یہ ہے حافظ ناموسِ ہستی میں ہوا
نخل ِ اسلام نمونہ ہے برو مندی کا
پھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا

علامہ اقبال نے نو آبادیاتی دور کے حبس زدہ ماحول میں بے یقینی کے خاتمے کے لیے مقدور بھر جدوجہدکی۔انھوں نے یقین کو وسیع تر اور گہرے معنوں میں دیکھا۔ان کی شاعری میں مشرق و مغرب کے ممتاز ادیبوں اور فلسفیوں کے افکار کے پرتو کا کرشمہ فکر ونظر کومہمیز کرتاہے ۔زندگی اور اس سے متعلقہ اٹل صدقتوں کی مظہر قابلِ یقین تجزیاتی مطالعہ کی آئینہ دار ان کی شاعری زندگی کی حقیقی معنویت کو سامنے لاتی ہے۔اپنی شاعری میں انھوں نے یقین کے بارے میں جس گہری سوچ کو جگہ دی ہے اُس سے قاری کو قلبی،روحانی اور مادی تسکین کے سر چشموں سے سیراب ہونے کے فراواں مواقع میسر آتے ہیں۔ان کی شاعری میں جس خود اعتمادی کا اظہار موجود ہے اس کے سوتے بھی یقین ہی سے پُھوٹتے ہیں۔علامہ اقبال کی شاعری کے مطالعہ کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یقین انسان کوعرفان ذات،عزت نفس اور خود اعتمادی کی بیش بہا دولت عطا کرتا ہے۔ بر صغیر میں مغلیہ عہد حکومت(1526-1857)کے دوران میں مطلق العنان بادشاہوں نے اپنی توجہ ہرن مینار، باغات،محلات اور مقبروں کی تعمیر پرمرکوز کردی ۔اس کانتیجہ یہ نکلا کہ اس خطے میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ نہ بن سکا۔ان حالات میں لادینی عناصرکوکھل کھیلنے کاموقع مل گیا۔سر سید احمد خان(1817-1898)اور ان کے ممتاز رفقائے کارنے علی گڑھ تحریک کے زیر اثربرطانوی حکومت کے ساتھ تعاون کیا اور برصغیر کی ملت اسلامیہ کی فلاح کے منصوبوں پر کام کاآغازکیا۔اس کے بعد اورینٹل کالج لاہور ( قیام:1870)،جامعہ عثمانیہ حیدر آباددکن(قیام :1918) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی(قیام:1920) میں مشرقی تہذیب و ثقافت ،ادب اورتاریخ کے فروغ پر توجہ دی گئی۔ نو آبادیاتی دور میں بر صغیر کے باشندوں کے دلوں میں آزادی کی لگن پیدا کر کے ان میں حب الوطنی،خو د اعتمادی اور جذبۂ ملی کوتحریک دینے میں علامہ اقبال کے تصور یقین نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اپنی اُردواورفارسی شاعری کے ذریعے علامہ اقبال نے بر صغیر کی ملت اسلامیہ کوخواب غفلت سے جگایا۔ تیس دسمبر 1930 کواپنے تاریخی خطبہ الہ آباد میں انھوں نے جس یقین کے ساتھ بر صغیر کی ملت اسلامیہ کی آزادی کو نصب العین بنایا اس کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے قوم نے انھیں مفکر پاکستان،حکیم الامت اورشاعر مشرق کے القاب سے نوازا۔

اپنی شاعری میں علامہ اقبال نے بر صغیر کی ملت اسلامیہ کویہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے جس طرح نظامِ ہستی مسلسل چل رہا ہے بالکل اسی طرح اقوام اور ملل کے دن بھی پیہم تغیر و تبدل کی زد میں ہیں۔گردشِ لیل و نہار،حیات و ممات ،طلوع و غروب اور عروج و زوال کے سب مظاہر دیکھنے کے بعداس امر کا پختہ یقین ہو جاتاہے کہ کوئی عظیم ہستی یقیناًموجود ہے جس نے کائنات کا یہ سب نظام سنبھال رکھا ہے ۔ علامہ اقبال نے اس بات کایقین دلایاکہ مذہب ہی روحانیات اور اخلاقیات کامعدن ہے۔مذہب کی آفاقی تعلیمات پر عمل پیراہوکرسماجی انصاف کویقینی بنایاجاسکتاہے ۔ علامہ اقبال کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ جب تک حرص و ہوس کے بیشے نہیں کٹتے انسان کی انااور خود اعتمادی کوشدید خطرات لاحق رہیں گے۔ توحیدو رسالت کا ایقان انسان کوارفع مقام عطاکرتاہے ۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے ایثار،خلوص،درمندی،بے لوث محبت ،بے باک صداقت ،فراخ دلی اوررحم دلی کی دولت عام کرنے کی خاطر توحید ورسالت پر یقین کو وسیلہ بنایاہے۔
سلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روز وشب ، اصلِ حیات وممات
سلسلۂ روز و شب، تارِ حریر ِ دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
سلسلۂ روز و شب ،سازِ ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زِیر و بمِ کائنات

علامہ اقبال کے تصور یقین میں قادر مطلق کی طرف سے ودیعت کی گئی خودی کومحوری حیثیت حاصل ہے ۔علامہ اقبال کے اشعار میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ خودی کانشیمن انسانی قلب ہے۔انھوں نے خودی کوتیغ فساں سے تعبیرکیاہے اوراس کا راز کلمۂ طیبہ میں پوشیدہ ہے۔وہ موج نفس کوشمشیر کا نام دیتے ہیں اور خودی کوتلوارکی دھار قرار دیتے ہیں۔اﷲ کریم کی اطاعت ،ضبط نفس اور نیابت الٰہی خود ی کے تین مراحل ہیں۔اگر انسانی خودی مضبوط ،مستحکم اور عزت وخود داری کی اساس پر استوار ہو تو وہ سیلِ زماں کے مہیب تھپیڑوں میں بھی محفوظ رہتی ہے۔
زمین و آسمان و کرسی وعرش
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی
از محبت چوں خودی محکم شود
قوتش فرماندۂ عالم شود
پنجہ ٔ او پنجہ ٔ حق می شود
ماہ از انگشت اُو ﷺ شق می شود

فکر اقبال میں حریت فکر پر یقین بھی کلیدی اہمیت کا حامل سمجھاجاتاہے ۔جہاں تک آزادی ٔاظہار کا تعلق ہے علامہ اقبال نے اس جانب متوجہ کیاکہ انسان کو اپنے مافی الضمیر کے اظہارکے لیے کچھ اخلاقی حدود و قیود کی ہر حال میں پابندی کرنی چاہیے۔علامہ اقبال کواس بات کایقین ہے کہ انسان کی تخلیق نہایت احسن طریقے سے ہوئی ہے۔ اسی لیے انسان کواشرف المخلوقات کہاجاتاہے ۔ علامہ اقبال نے ذوقِ نگاہ کی امین جرأت اظہار اور حریتِ فکر و عمل کومثبت یامنفی طرز ِ عمل پر محمول کرنے نے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ حریت ضمیر سے جینااور حریتِ فکر کا علم تھام کرعظمت انساں کے لیے فناہوناہی بقاکی دلیل ہے۔علامہ اقبال نے آزادی ٔ اظہار کی جو یقینی صورت پیش کی اس کی باز گشت بیسویں صدی کے مابعدجدیدیت کے فرانسیسی فلسفی گلز ڈلیوزے(,1925-1995 Gilles Deleuze)کے افکار میں بھی ملتی ہے ۔ انسان کے ارتقا کے سلسلے میں ڈلیوزے بر طانوی ماہر حیاتیات چارلس ڈارون(Charles Darwin ,1809-1882 )سے بہت متاثر ہے۔جدیددور میں یورپ میں آزادیٔ اظہار کے موضوع پر مباحث کاایک سلسلہ چل نکلاہے۔ روسی۔برطانوی فلسفی اسایہ بر لن (Issaih Berlin,1909.1997 )نے آزادی ٔاظہار کے موضوع پر کچھ خودساختہ اصول پیش کیے ہیں۔ علامہ اقبال نے اسلام کی ابد آشناتعلیمات پر یقین محکم سے جوفکر پرور اور خیال افروزمعائر اخذ کیے ان کے سامنے اسایہ بر لن کے مفروضے اور نام نہاد اصول محض دُھول ہیں ۔علامہ اقبال کواِس بات کا یقین ہے کہ قحط الرجال کے موجودہ دور میں بھی اگر ابراہیم ؑکاایمان پیداہوجائے تو نارِ نمرودکوگل زار میں بدلتے دیکھاجاسکتاہے۔علامہ اقبال کو مردِمومن کی فقیدالمثال صلاحیتوں کایقین ہے جس کی نگاہ سے نوشتہ ٔ تقدیر بھی بدل جاتاہے ۔علامہ اقبال نے مردِمومن کا جوتصور پیش کیاہے اس میں مردِ مومن کوروحانیت اوراخلاقیات کے بلندترین منصب پر فائز دکھایا گیا ہے ۔علامہ اقبال نے جس مردِ مومن کواپنی شاعری کے ذریعے متعارف کرایا ہے وہ دیارِ مشرق سے تعلق رکھتا ہے اور مشرقی ادبیات کا ایک ایسامعتبر حوالہ ہے جس کی استعدادِ کار کااندزہ کرنابہت مشکل ہے ۔ علامہ اقبال کا مردِ مومن جب اپنے خالق کی معرفت حاصل کر لیتا ہے تو وہ محتاجِ ملُوک نہیں رہتا۔وہ ہزار سجدوں سے نجات حاصل کر کے اپنے معبود ِحقیقی کے ساتھ نہایت مضبوط اور مستحکم روحانی اور قلبی رشتہ استوار کر لیتاہے۔جلال الدین محمد رومی(1207-1273) کے ’مردِ حق ‘کے مانندعلامہ اقبال کامردِمومن بھی اس دنیا میں اﷲ کریم کا نائب بن کر توحید و رسالت کی عظمت کاعلم بلند کرتا ہے۔ جلال الدین رومی کے ساتھ علامہ اقبال کوگہر ی عقیدت تھی اس لیے وہ انھیں پیر رومی کہتے تھے ۔علامہ اقبال کو اس بات کا یقین تھا پیر رومی نے قرآن حکیم کی تعلیمات کاعمیق مطالعہ کیاہے ۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں رومی سے اکتساب فیض کاذکر کیا ہے:
تُو بھی ہے اُسی قافلۂ شوق میں اقبالؔ
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومی

عراق سے تعلق رکھنے والے فلسفی عبدالکریم الجیلی (1365-1424)نے بھی انسان کامل کا تصور پیش کیا۔ جرمن فلسفی نطشے( Friedrich Nietzsche,1844-1900 ) نے اپنے مردِکامل کے تصور میں اخلاقیاتی پہلو کونظر انداز کرتے ہوئے محض حیاتیاتی پہلوکوپیشِ نظر رکھا ہے۔دنیا بھر میں علامہ اقبال کے افکار کی وسعت اور ہمہ گیر اثر آفرینی کا اعتراف کیا گیا۔انھوں نے سامراجی طاقتوں کی ہوس ملک گیری،شقاوت آمیز نا انصافیوں اور نو آبادیاتی نظام کی قباحتوں کے خلاف کھل کر لکھا۔ نو آبادیات کے محکوم عوام کے مصائب و آلام پر تڑپنے والے حریت فکر کے اس مجاہد نے سادیت پسندی کے عارضے میں مبتلا طالع آزما اور مہم جُو استبدادی قوتوں کو آئینہ ایام میں جوروجفا کی مظہر ان کی ہرا دا دکھا دی ۔علامہ اقبال کو یقین تھا کہ ظلم کی معیاد کے دن کم رہ گئے ہیں اور بہت جلد نوآبادیاتی دور کی زخم خوردہ مشرق کی اقوام کواپنے حقوق کی جد و جہد میں کامیابی حاصل ہو گی۔ علامہ اقبال نے دیارِ مغرب میں تعلیمی مدارج کی تکمیل کی مگرمغربی فکر و فلسفہ کے سامنے سپر اندازہونے سے انکار کر دیا اور اپنے لیے فکر و خیال کی ایسی راہوں کاانتخاب کیا جسے دیکھ کر اغیاربھی دنگ رہ گئے۔
چوں فنااندررضائے حق شود
بندۂ مومن قضائے حق شود
گماں آبادہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیلِ رہبانی
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جوہوذوقِ یقیں پیداتو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیرِ مِلت ہے

علامہ اقبال کی شاعری میں قوتِ عشق کی برتری پر یقین کی جو مسحورکن کیفیت دکھائی دیتی ہے۔یہ شاعری ان کی حب الوطنی اور جذبۂ ملی کابراہِ راست اظہارہے۔ ان کے کانٹ ،بر گساں، سپائی نوزا،ہیگل،گوئٹے،غالبؔ،بیدلؔ،ایمرسن،لانگ فیلو اور ورڈزورتھ کے وسیع مطالعہ کاثمر ہے۔ علامہ اقبال کے کلام کے مطالعہ کے بعد قاری کو اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی مردِ مومن اس ظالمانہ استحصالی نظام کے خلاف آواز بلند کرے گا۔علامہ اقبال نے مردِمومن کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ وہ ایام کا مرکب نہیں بل کہ ایام کا راکب بن کر مہرو ماہ و انجم کے محاسب کا کردار ادا کرتا ہے۔علامہ اقبال نے مردِ کامل کے بارے میں لکھا ہے:
پابندیٔ تقدیر کہ پابندی ٔ احکام
یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مردِ خردمند
اِک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر
ہے اس کا مقلد ابھی نا خوش ابھی خورسند
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
متاعِ بے بہاہے دردو سوزِ آرزومندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شان ِخداوندی
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اُس کی اُمیدیں قلیل اُس کے مقاصد جلیل
اُس کی ادا دِل فریب اُس کی نگاہ دِل نواز
نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دِل و پاک باز
نائب ِ حق در جہاں آدم شود
بر عناصر حکمِ او محکم شود

یقین کو وسیع تر معانی عطاکرکے افکارِ تازہ کے وسیلے سے جہان تازہ تک رسائی کویقینی بنانے کی سعی کی ہے۔ ان کی شاعری میں جلوہ گر کچھ الفاظ ایسے ہیں جویقین کے سر چشمے کی عطا ہیں۔ مثال کے طور پرسوز و ساز،حسرت،آرزو،جستجو،تمنا،اشتیاق،شوق،عشق اور اشک۔ علامہ اقبال کی شاعری پائے جانے والے یہ الفاظ گنجینۂ معانی کا طلسم ہیں۔جذبہ ٔ عشق کوعلامہ اقبال نے داخلی اہمیت کی حامل زندگی کی اہم قدر سے تعبیر کیا ہے۔توحیدکے تصور اور خالقِ کائنات کے مظاہرِفطرت اور مخلوق کے ساتھ تعلق کے موضوع پر علامہ اقبال کُھل کر لکھا۔دس محرم 61ہجری کو حضرت امام حسینؑ نے توحیدو رسالت کی سر بلندی کے لیے جو قربانی دی علامہ اقبال نے اس سے گہرے اثرات قبول کیے۔ان کاخیال ہے کہ شہدائے کر بلاکی عظیم قربانی سے حق و صداقت کے اصولوں کی سر بلندی کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔علامہ اقبال نے اساہم واقعہ کے حوالے سے تاریخی شعور کو اجاگر کرنے کی جوسعی کی ہے اس کی اساس توحید پر کامل یقین ہے۔ان کی شاعری سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حریتِ ضمیر سے جینے کے واسطے اسوۂ شبیرؓ ہی واحدراستہ ہے ۔ ہر قسم کے جبر کو مسترد کر کے حریت ضمیر سے زندگی بسرکرنابا وقار اقوام کا شیوہ ہوتاہے ۔کر بلا کی خاک اس احسان کو فراموش نہیں کرسکتی کہ اسے نواسۂ رسول نے اپنے خون سے سیراب کیا ۔ان کی اس قربانی سے استبدادی حکومت کے سفینے اُلٹ گئے اورسیلِ زماں کے مہیب تھپیڑوں جاہ و جلال کے سب سلسلے نیست و نابود ہو گئے۔علامہ اقبال نے واقعۂ کربلاکو حریت فکر و عمل کے ایسے فقید المثال استعارے سے تعبیر کیاہے جوتا ابد اذہان کی تطہیر و تنویر کو یقینی بناتا رہے گا۔
موسیٰ ؑو فرعون و شبیرؓ و یزید
ایں دوقوت ازحیات آید پدید
زندہ حق از قوتِ شبیر ی است
باطل آخر داغِ حسرت مِیری است
بر زمین کر بلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
تا قیامت قطع ِ استبداد کرد
موجِ خون او چمن ایجاد کرد
بہرِحق در خاک وخوں غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است
نقش الا اﷲ بر صحر ا نوشت
سطرِ عنوانِ نجاتِ ما نوشت
رمز ِ قرآن از حسین ؓ آموختیم
زِ آتشِ او شعلہ ہا اندوختیم

وطن اور ارضِ وطن سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کرنے والے ایک قادر الکلام شاعر،ذہین فلسفی،مخلص مفکر اور وسیع المطالعہ مذہبی مصلح کی حیثیت سے علامہ اقبال نے جس لائق صد رشک و تحسین اعتماداوریقین کے ساتھ بر صغیر کی ملت اسلامیہ کی فلاح کے لیے مساعی کیں وہ تاریخ کاایک درخشاں باب ہے۔ علامہ اقبال نے واقعہ کر بلاکوحریت ِفکر و عمل کے ایسے استعارے کے طور پر پیش کیا ہے جس کے معجز نمااثر سے معاشرتی زندگی سے بے یقینی کاخاتمہ کیا جاسکتاہے۔استبدادکے خاتمے کی خاطر حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانیوں سے زندگی کی حیات آفریں اقدارکو تب و تاب جاودانہ نصیب ہوئی۔علامہ اقبال نے میدانِ کر بلا میں حضرت امام حسین ؑکی عظیم قربانی کوزندگی کی حقیقی معنویت اجاگر کرنے کایقینی وسیلہ سمجھتے ہوئے لکھا ہے :

آں کہ بخشدبے یقیناں ر ا یقیں
آں کہ لرزد از سجود او زمیں
آں کہ زیر ِتیغ گوید لا الہ
آں کہ ازخونش بروید لا الہ

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 201 Print Article Print
About the Author: Ghulam Ibnesultan

Read More Articles by Ghulam Ibnesultan: 211 Articles with 166103 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: