پاکستان پر عائد 6 ارب ڈالر کے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

عالمی بینک کے ثالثی فورم پر ریکوڈک فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً آئی ایم ایف سے ملنے والے چھ ارب ڈالرز کے قرض جتنے جرمانے کی خبر سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اس نقصان کے ذمہ داران کے تعین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے۔
 


پاکستان کے خلاف ہرجانے کا یہ فیصلہ ورلڈ بینک کے بین الاقوامی ثالثی فورم انٹرنشینل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) کی جانب سے آیا ہے جس کے تحت پاکستان کو ٹیتھان کمپنی کو پانچ ارب 97 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

اٹارنی جنرل انور منصور نے اس بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور وزیر اعظم نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ’وزیر اعظم کے حکم پر جلد کمیشن کی تشکیل ہو جائے گی جو 1993 سے لے کر آج تک پاکستان کو اتنے بھاری نقصان کا سبب بنے والے مقدمے کے تمام ملوث افراد سے پوچھ گچھ کرے گا‘۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کمیشن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی شامل تفتیش کرے گا۔

واضح رہے کہ ریکوڈک کیس کا فیصلہ سنانے والا بینچ تین ججوں پر مشتمل تھا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اب ریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید اس وقت حاضر سروس ججز ہیں۔ جسٹس گلزار احمد دسمبر میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس بن جائیں گے۔

وزیر اعظم سے اپنی ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انور منصور نے کہا کہ کمیشن وجوہات کے تعین کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کرے گا۔

چند ہفتے قبل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ریکوڈک کے حوالے سے پاکستان ایکسڈ میں کیس ہار گیا ہے صرف ہرجانے کی رقم کا تعین ہونا باقی ہے۔

اٹارنی جنرل آفس کے مطابق ایکسڈ کی جانب سے جرمانے کی رقم کا تعین کر دیا گیا ہے جو کہ پانچ ارب 97 کروڑ ڈالر (944 ارب روپے) ہے۔

فیصلے کے بعد پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
اٹارنی جنرل انور منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اس فیصلے خلاف نظرثانی کے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرے گا۔

ان کے مطابق کچھ پہلوؤں پر نظرثانی کے لیے تین ماہ تو کچھ میں تین سال تک کا عرصہ ہے تاہم انور منصور کے مطابق اس فیصلے کے خلاف اپیل کا آپشن موجود نہیں ہے۔

انور منصور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیتھان کمپنی کی جانب سے مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے اور ہم مذاکرت پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جتنے بڑے نقصان کا سامنا ہے اس کو کم کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑا وہ کریں گے جبکہ مذاکرات تو تنازعات کا حل ہوا کرتے ہیں۔

یہ مذاکرات کب اور کیسے ہونگے اس حوالے سے فریقین آپس میں رابطہ قائم رکھیں گے۔ اس وقت اٹارنی جنرل آفس میں عالمی معاہدات کے تنازعات کے حل سے متعلق ایک سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو اس معاملے پر کام کرے گا۔

اس مقدمے کے دوران پاکستان کے وکلا کی ٹیم چار بار تبدیل ہوئی۔ باہر ممالک کے وکلا نے فیس تو وصول کرلی لیکن مقدمے کو منطقی انجام سے پہنچانے سے پہلے ہی اس سے علیحدگی اختیار کرتے رہے۔

انور منصور کے مطابق اس مقدمے میں بھاری فیسیں ادا کی گئی ہیں اور اب ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ آئندہ ہمارے پاکستانی وکیل ایسے مقدمات میں پیش ہوا کریں گے۔

عدالتی فیصلوں کی وجہ سے پہلے ہی پاکستان کو کارکے سمیت متعدد مقدمات میں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان سٹیل ملز اور موبائل فون کمپنیوں سے متعلق عدالتی فیصلوں کی وجہ سے بھی ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘
 


ریکوڈک بلوچستان میں کہاں واقع ہے؟
ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

ریکوڈک پر کام کب شروع ہوا اور یہ کب ایک کمپنی سے دوسری کو منتقل ہوا؟
بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔

یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔

چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کرکے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔ منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی)کو فروخت کیے۔

نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اور چِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔

ٹی سی سی اور حکومت بلوچستان کے درمیان تنازع کب پیدا ہوا؟
ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا۔

بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کی لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔

اس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔ حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔
 


سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔

کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔

ریکوڈک کا معاملہ بین الاقوامی ثالثی کے کن کن فورمز پر زیر غور رہا؟
2011 میں مائننگ کے لیے لائسنس مسترد ہونے کے بعد ٹی سی سی نے پاکستان میں کسی فورم میں جانے کے بجائے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا۔ ان میں سے ایک ایکسڈ جبکہ دوسرا آئی سی سی کا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق ٹی سی سی کی جانب سے 16 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

ان فورمز پر پاکستان کی جانب سے جن ماہرینِ قانون کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ان میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ ان فورمز پر حکومت پاکستان کی جانب سے جو موقف اختیار کیا گیا تھا ان میں یہ بھی شامل تھا کہ ٹی سی سی نے بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے افسروں کو رشوت دے کر ابتدائی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید علاقے اپنے لیز میں شامل کرائے تھے۔

تاہم ایکسڈ نے حکومت پاکستان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

چند ہفتے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک نشست کے دوران یہ کہا تھا کہ حکومت پاکستان ایکسڈ میں کیس ہار گیا ہے اور اب ثالثی فورم نے جرمانے کی رقم کا تعین کرنا ہے۔

جرمانے کا رقم کون ادا کرے گا؟
اگرچہ ریکوڈک پر غیر ملکی کمپنیوں نے ایکسپلوریشن کا آغاز 1993 میں کیا تھا لیکن 2011 میں کمپنی کی مائننگ کی لائسنس کے لیے درخواست کی منسوخی تک چند درجن ملازمتوں کے سوا معاشی لحاظ سے بلوچستان کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں ملا تھا۔

میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ہرجانے کی جو رقم ہوگی اس کی ادائیگی حکومت بلوچستان کو کرنی ہوگی۔
 


ثالثی فورم کی جانب سے بطور ہرجانہ جس رقم کا تعین کیا گیا ہے ماہرین کے مطابق اگر بلوچستان کے گزشتہ تین چار سال کے دوران بجٹ کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ تقریباً بلوچستان کے تین سال کے بجٹ کے برابر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بطور ملک ہمیں کہیں سے دو تین ارب ڈالر ملیں تو ہم بہت خوش ہوتے ہیں لیکن ہرجانے کی رقم بہت زیادہ ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اتنی بڑی خطیر رقم کی ادائیگی کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن اس کی ادائیگی کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر نقصان ہوگا اور ملک کے لیے کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کیس کی فیس بھی ہم دے رہے ہیں اوراب تک حکومت بلوچستان نے فیس کی مد میں ڈھائی سے تین ارب روپے کی ادائیگی کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات کے اچھے قواعد و ضوابط ہیں اگر جلد بازی میں کمپنی کے ساتھ معاہدے کو مسترد کرنے کی بجائے اس کو مختلف خلاف ورزیوں پر مرحلہ وار نوٹس جاری کر کے معاہدے کو منسوخ کیا جاتا تو شاید آج بلوچستان کو اتنا نقصان نہ پہنچتا۔


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

IT'S again the same old story of ineffieciency on the part of our concerned instirtutions ; I know there are hardly 3-4 companies which are capaple to explore , exploit and do the exraction of these precious mineral deposits like copper, silver,sand gold ; but why is is it that other states.e.g., gulf in particular can strike a deal for exploitation of these precious minerals why can can't we; maybe the reason being they are are better trained;have a realization that prophet [saws] traditions once said that all what is in the ground is the ground of Muslim lands belongs to the inhabitants of that area'it's no use going to the ''nitty-gritty of commission' factor;it simply relates to the realization and the will and determination that if those precious minearals is extracted the money has to be spent to uplift the people of the massess' I used to visit copper mines in Sohar a city bordering Abu Dhabi onthe other side of Sohar copper mines. about 200 miles from Muscat; Sohar the ancient city from where IBN batuta sailed off to his historic voyage to China' In conclusion everything is possible if you have a vision, are committed to serve your people' God is kink and we have all the precious minerals but not the will and determinations to exploit those precious metals lying underground
By: Taufeeq Raza, LAHORE on Jul, 16 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    
The Pakistani government will conduct an internal review of Inter­national Centre for Settle­ment of Investment Disp­utes' (ICSID) "long-standing arbitration" between the state and Tethyan Copper Company (TCC) while a commission will be formed to investigate who was responsible for the predicament that may cost Pakistan $5.976 billion, it emerged on Sunday.