پاکستانی اشرافیہ کے شوق، نایاب اور مہنگے جانور

پاکستان میں امیر طبقے کو نہایت مہنگے اور نایاب جانوروں کا شوق ہے۔ ملک میں کئی جگہوں پر ان جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے نجی ’چڑیا گھر‘ تک بن چکے ہیں، جن میں وہ جانور بھی شامل ہیں، جو اپنی بقا کے خطرات سے دوچار ہیں۔
 


کراچی میں بلال منصور خواجہ نے اشرافیہ کے اسی شوق کی تسکین کے لیے ایک نجی 'چڑیاگھر‘ بنا رکھا ہے، جس میں سینکڑوں جنگلی جانور موجود ہیں۔

سفید شیر کے پاس بیٹھے اور اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے 29 سالہ منصور خواجہ کے مطابق، ''میرے پاس کچھ انتہائی نایاب جانور بھی ہیں۔‘‘

پاکستانی قوانین مہنگے اور نایاب جنگلی جانوروں کی درآمد کے حوالے سے خاصے نرم ہیں اور کوئی جانور ملک میں پہنچا دیا جائے، تو پھر یہ قوانین قریب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان میں نایاب جانوروں خصوصاﹰ شیر رکھنے کو امیری اور طاقت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
 


حالیہ کچھ عرصے میں ایسے نایاب جانوروں کی پاکستان درآمد اور وہاں بریڈنگ کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب کہ جنگلی جانوروں کی بقا سے وابستہ حکام اپنی بے بسی کا نوحہ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کراچی کا امیر طبقہ اپنی مہنگی گاڑیوں میں شیر کے ساتھ گھومنے اور تصاویر بنا کر پوسٹ کرتا نظر آتا ہے، جب کہ بعض اوقات اخبارات میں ایسی خبریں بھی دکھائی دیتی ہیں کہ شیر کے ساتھ سفر کرنے والے کسی شہری کو گرفتار کر لیا گیا۔

خواجہ کے مطابق صرف کراچی شہر میں قریب تین سو افراد ایسے ہیں، جنہوں نے شیروں کو گھروں یا فارم ہاؤسز میں پال رکھا ہے۔
 


خواجہ اپنے چڑیا گھر میں موجود شیروں اور چیتوں کو 'نوادرات‘ قرار دیتے ہیں جب کہ ان کے پاس قریب چار ہزار مختلف جانور ہیں، جو انہوں نے گزشتہ کچھ برسوں میں جمع کیے ہیں۔

ان کا اصرار ہے کہ ان کے پاس موجود جانور آٹھ سو مختلف انواع سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواجہ کا تاہم یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان کے لیے یہ امارت یا طاقت کی علامت نہیں بلکہ جانوروں سے محبت کا اشارہ ہے، ''ہم پاکستانیوں کا ایک مسئلہ ہے، ہمارے دل بہت نرم ہیں، بے حد نرم۔ مگر جب ہمارا دل سخت ہو، تو پھر بہت سخت بھی ہو جاتا ہے۔‘‘

ان جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے خواجہ نے 30 ملازمین رکھے ہوئے ہیں جب کہ جانوروں کے چار ڈاکٹرز بھی مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔


Partner Content: DW

Reviews & Comments

Language: