زندہ روبوٹ

(Feryal Qadeer, Karachi)
زندہ روبوٹ ایک عام عورت کی کہانی جس کے ہر کام کرنے کے باوجود یہ تانا دیا جاتا ہے آخر کرتی کیا ہو.

سعدیہ ایک غریب گھر سے تھی اسکا تعلق ایک دیہاتی فیملی سے تھا اور سسرال بھی دیہاتی ملا شاید کچھ لوگ نہ جانتے ہوں کہ بہت سے دیہاتی فیملی میں لڑکی کو پیسوں کے عوض شادی کروانے کا رواج ہے اس پیسے سے والدین لڑکی کا جہیز بناتے ہیں کچھ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس رواج کو غلط طرح سے استعمال کرتے ہیں اور عورت کو پیسوں کے عوض شادی کر کے لے تو آتے ہیں پھر اسکو بھیڑ بکری کی طرح سمجھتے ہیں کے سارا کام کرو اس پے بوجھ ڈال دیتے ہیں کھیتی باڑی سے لے کے جانور کا خیال رکھنے تک کا سارا کام کرواتے ہیں خیر یہ تو بات رواج کی تو اب آگے یہ ہوا کہ سعدیہ شادی کرنے کے کچھ دس دن بعد ہی کام کرنے لگ گئی ہاتھوں کی مہندی بھی نہ اتری کے چولہا سنبھال لیا اب دن رات روٹیاں پکانا اسکا کام چاہے جتنی بھی روٹیاں کیوں نہ پکانی ہوں اب دن میں کپڑے دھونے ہوں یا جانوروں کو چارہ دینا سب کرنا پڑتا جب بیمار پڑے تو طعنے شروع کے ہائے ہائے چھوری بہانے بنیدی ے اب مجبوراً اٹھ کے سعدیہ کو پھر سارے کام کرنے پڑتے بغیر اف کیے اب کبھی کوئی غلطی ہو جاۓ تو شوہر کا ہاتھ اٹھنا لازمی کہ غلطی کیوں ہوئی یہ سب سارے کام کرنے کے باوجود رات کو ڈھیر سارے طعنے سنا نہ لازمی کہ ہائے تم تو میرا خیال نہیں رکھتی بس گھر کے کام جو کچھ نہیں ان کو کرنے میں لگی رہتی ہو یہ طعنے اکثر شوہر کے ہوتے ہیں جو کسی زہر سے کم نہیں ہوتے اب باقی کسر تھکے ہوئے شوہر کے پیر دبانے میں نکل جاتی ہے اور پھر اگر اولاد نہ ہو تو توبہ آفت آ جاتی ہے اکثر گاؤں کی بغیر پڑھی عورتیں جو شادی کے کچھ ماہ بعد ہی خوشخبری ہے کہ نہیں یہ پوچھنے لگتی ہیں اور اگر نہ ملی خوشی کی خبر تو انتظار کرنے کے بجاۓ طعنے اس بات پے بھی شروع. ان سب کو برداشت کرنے کے علاوہ عورت کے پاس کچھ نہیں رہتا وہ زندہ تو ہوتی ہے لیکن زندہ روبوٹ جس کو حکم دو تو اٹھے ورنہ بیٹھی رہے ھاں یہ ہر عورت کی کہانی نہیں بس ایک تصور ہے ایک عام عورت کی ذندگی کا جسکو زندہ روبوٹ سمجھا جاتا ہے اور اکثر تعلیم کی کمی کی وجہ سے یا کام عمری میں شادی کی وجہ سے وہ سب سہتی ہے سب کام کرتی ہےپھر بھی اسکو کہا جاتا ہے آخر کرتی کیا ہو تم.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Feryal Qadeer

Read More Articles by Feryal Qadeer: 6 Articles with 4213 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2019 Views: 210

Comments

آپ کی رائے