موازنہ نہ کریں!

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

کوئی باہر ملک سے آئے تو اُس کی ایک ہی کہانی ہوتی ہے کہ باہر ممالک میں پاکستانی ٹھیک ٹھاک اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جونہی ہوائی جہاز کے پہیے پاک سرزمین کو چھوتے ہیں تو اُن میں پاکستانی پُرانی روح جاگ جاتی ہے اور سارا نظم و ضبط رفو چکر ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی آپ نے بھی اکثر بیرونی ممالک کا سفر کرنے والے لوگوں سے سنی ہو گی اور تائید اً سر کو جنبش دی ہو گی،مجبوراً ہاں میں ہاں ملانا پڑتی ہے کیوں کہ یہ کہانی ہم ہر اُس شخص سے سنتے ہیں جو چند دنوں کے لئے باہر کا مہمان رہ ہو چکا ہو یا چند ماہ کے لئے یا سالوں کے لئے ، سب کی یہی ایک کہانی ہوتی ہے کہ پاکستان پہنچتے ہی پاکستانیوں کے رویے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ وہ پاکستانی جو باہر ممالک میں قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں یہاں قطار توڑتے نظر آتے ہیں۔ میں نے بھی یہ کہانی اکثر اپنے اساتذہ اور دوستوں سے سُنی ہے۔اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ یا ایسا کریں کہ یہ سوال اُن افراد سے پوچھیں جو یہ کہانی دل چسپی سے سناتے ہیں۔ جواب تقریباً ایک جیسا ملے گا کہ باہر دنیا کے قوانین سخت اور سب کے لئے برابر ہیں لہٰذا آپ دو نمبری وغیرہ نہیں کرسکتے ہیں اور پاکستانی بے چارے انہی قوانین کی زد میں آجاتے ہیں اور قوانین کی پاسداری مجبوراً کرتے ہیں۔ میرا ایک دوست بتا رہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں رات بارہ بجے ٹیکسی میں کہیں جارہا تھا کہ ڈرائیور نے ٹیکسی ایک سرخ بتی پر روک دی ، اُس وقت سڑک پر ٹریفک کا نام و نشان تک نہیں تھا ، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ سڑک صاف ہے اور ٹریفک اہلکار بھی نہیں ہیں لہٰذا آگے بڑھیں۔ اُس نے کہا۔ ’’ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن کیمرے لگے ہوئے ہیں ، میں پہلے بھی ایسی حرکت کرچکا ہوں اور ابھی تک جرمانہ بھگت رہا ہوں۔ ‘‘ ہمارے ہاں قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔جس کی وجہ سے صورت حال باہر دنیا کے برعکس ہے۔ اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یہ تصویر کا ایک رُخ ہے ، باہر دنیا کے باسی نظم و ضبط ، صبر و تحمل اور وقت کی پابندی کے حامل ہوتے ہیں۔ جب ہمارے ملک سے لوگ وہاں جاتے ہیں تو وہ بھی اُن کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اُن کے قوانین کا احترام کرتے ہیں لیکن واپسی پر رنگ ایسا اُتر جاتا ہے جیسا کہ پسینے یا بارش میں عورتوں کا میک اَپ صاف ہوجاتا ہے یا چہرہ بَد رنگ ہو جاتا ہے اور اپنے بچے بھی پہچاننے سے انکاری ہوجاتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا رُخ ملاحظہ ہو، اس کو اپنے معاشرتی مسائل کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے دیکھیں اور سوچیں کہ کیا واقعی ہم ایک بے ہنگم قوم ہیں اور بلا وجہ قانون توڑتے ہیں۔ اے ٹی ایم مشین کے باہر ایک ہجوم نظر آئے گا، دھکم پیل ہو رہی ہوگی اور چار چار ، پانچ پانچ افراد اے ٹی ایم کیوسک کے اندر گُھسے نظر آئیں گے۔ ڈاک خانوں میں یوٹیلٹی بل جمع کرنے کا منظر ایسا ہوتا ہے کہ جیسے حجر ِ اسود کو بوسہ دینے پر رَش ہوتا ہے۔ بینکوں میں لوگ اپنی رقوم نکلوانے یا جمع کروانے کے لئے پسینے سے شرابور یا سردی سے ٹِھٹْھرائے ہوتے ہیں۔ بوڑھے ریٹائرڈ پینشن یافتہ مرد و خواتین بینکوں اور ڈاک خانوں کے سامنے آفس اوقات کار سے گھنٹوں پہلے گلیوں ، سڑکوں اور تھڑوں پر انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹوروں پر غریب عوام کا رَش اور ایک دوسرے کو دھکیلنے کے مناظر عموماً دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تصویر کا وہ رُخ ہے جس سے ہمارے وہ پاکستانی بھائی جو بیرونی ملکوں کے سفر سے آئے ہوتے ہیں،بے خبر ہیں۔ وہاں کے حالات کا ہمارے معاشرے کے حالات سے موازنہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ اَب ذرا اپنے معاشرتی مسائل کی روشنی میں ان واقعات کے جوابات حاضرِ خدمت ہیں۔ اے ٹی ایم مشین پر رَش اس لئے ہوتا ہے کہ شہر کی اسّی ، نوے فیصد مشینیں خراب یا آؤٹ آف کیش ہوتی ہیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی بار بار ہدایات کے باوجود بینک مینجروں کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ لہٰذا ایک مشین کے سامنے ہجوم اکھٹا ہوجاتا ہے، دھکم پیل اور بے صبری اس لئے ہوتی ہے کہ جلد از جلد رقم مل جائے تاکہ بچوں کی سکول فیسیں ادا ہوسکے ، سودا سلف وقت پر گھر پہنچا یا جا سکے یا آفس پہنچنے میں دیر نہ ہوجائے۔ جب کہ بیرون ممالک میں اے ٹی ایم مشینیں شاپنگ مال ، دفاتر ، یونیورسٹیوں اور ائیر پورٹس پر صحیح حالت میں ملیں گی۔ یوٹیلیٹی بلوں کے جمع کروانے پر رَش کیوں ہوتا ہے ؟ اور اکثر یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ہم یوٹیلیٹی بل آخری تاریخ کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور اُس دن لمبی لمبی قطاریں بن جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے جھٹکے عوام کو آئے روز لگتے رہتے ہیں۔ بجلی و گیس کے نرخوں میں ہر ماہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ خود سوچیں کہ ایسی صورت میں ایک غریب شخص اپنے گھر کا بجٹ کیسے تیار کرتا ہو گا۔ اس کو اپنے اخراجات کم کرنے میں کتنے دن لگتے ہوں گے اور یوں بل جمع کروانے کی آخری تاریخ سر پر پہنچ جاتی ہوگی۔ ہمارے معاشرے کے اندر بینک ملازمین کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسا وہ اپنی جیب سے آپ کو پیسے دے رہے ہوں۔ بینکوں کو چاہیے کہ وہ تنخواہ اور پینشن کے دنوں ، یعنی مہینے کے شروع دنوں میں کاؤنٹر وں کی تعداد میں اضافہ کریں تاکہ ملازمین اپنی ماہانہ تنخواہ سہولت کے ساتھ وصول کر سکیں۔ یوٹیلیٹی سٹوروں پر ہجوم اس لئے ہوتا ہے کہ وہاں بازاروں کی نسبت چند روپوں کی بچت ہوجاتی ہے۔ ان سٹوروں پر ہجوم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رَاشن کا ٹرک مہینے یا پندرہ دن میں ایک بار آتا ہے، پس اگر آج ہی کچھ مل جائے تو اچھا ورنہ کل کچھ نہیں ملے گا۔ چند ماہ قبل اخبارات میں پڑھا تھا کہ یوٹیلیٹی سٹوروں کی تعداد میں کمی لائی جارہی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام یوٹیلیٹی سٹور ملازمین کے معاشی قتل اور غریب عوام کو سہولت سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہ ہیں حقائق ، کیا ان حقائق کی بنیاد پر ہمارے معاشرے کا موازنہ دیگر اقوام سے کیا جاسکتا ہے ؟ جواب نہایت سادہ ہے کہ ہرگز نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 125348 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2019 Views: 386

Comments

آپ کی رائے