عوام مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی

(Faisal Ramzan Awan, )

ایک طویل عرصے سے قلم کاغذ سے ایک رشتہ جڑا ہوا ہے جب بھی معاشرے میں کچھ اچھا برا نظر آتا ہے تو بے اختیارلکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور جب اپنی ٹوٹی پھوٹی تحریر مکمل کرلیتا ہوں تو اپنے آپ کومیاں مٹھو سا لگتا ہوں اپنے آپ پر فخر سا محسوس ہونے لگتا ہے کہ مضمون پر اتنی مضبوط گرفت بھلا مجھ جیسے ایک سادہ لوح دیہاتی نے کیسے حاصل کرلی کیونکہ میرا تعلق تو پاکستان کے اس خطے سے ہے جو قیام پاکستان سے ہی محرومی پسماندگی اور زندگی کے بنیادی مسائل سے دوچارہے تلہ گنگ سے مغرب کی جانب لگ بھگ کوئی پچاس یا باون کلومیٹر دور گاؤں پچنند جو آج کل ایک قصبے کی شکل اختیار کرچکا ہے اس قصبے کے بازار میں اگر کسی دوست نے کبھی کوئی سبزی یا فروٹ وغیرہ خریدا ہوتو اس کو ضرور مہنگائی کا احساس ہوا ہوگا کہ واقعی آجکل مہنگائی عروج پر ہے وہ مہنگائی نہیں جو حکومت نے کررکھی ہے بلکہ خودساختہ ہے اور انتظامی طورپر بھی یہاں کوئی خاطرخواہ پوچھ گچھ نہیں ہوتی بہرحال اب چلتے ہیں اپنے اس تذکرے کی جانب جو فی الحال اپنا اصل موضوع ہے جو صرف میرا مسئلہ نہیں جو پچنندگاؤں سے دو کلو آلو لیکر مہنگائی کا رونا شروع کردے یہ پوری پاکستانی قوم کا مسئلہ ہے تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی جس طرح مہنگائی نے سر اٹھانا شروع کیا تھا ایسا لگتا تھا کہ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ حکومت کے بروقت اقدامات سے صورتحال بہتری کی جانب جانا شروع ہوچکی ہے غریب اور متوسط طبقہ دکانداروں اور تاجروں کی زیادتیوں کا نشانہ بھی بن رہا ہے اقتصادی استحکام اصلاحات اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لائی جارہی ہے جس میں تاجروں نے سیلزٹیکس اور شناختی کارڈ کی شرط عائد کرنے پر ہڑتال بھی کی اور مستقبل میں احتجاج کا شیڈول بھی دیالیکن وزیراعظم عمران خان نے واضح طورپربتادیا کہ حکومت ٹیکس وصولی کے معاملے میں ذرابھر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گی کیونکہ اس سے قبل ماضی میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے بڑے بڑے سرمایہ دار اور تاجر ٹیکس ادا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے رہے اور ملک غیرملکی قرضوں تلے دبتا چلا گیا سابق حکمران اپنی حکومت کو طویل کرنے کے لئے ٹیکس چوروں کو چھوٹ دیکر غریب عوام کے حقوق اور ان کو ملنے والی سہولیات پر ڈاکہ ڈالتے رہے صرف تاجر برادری جو ہڑتال کی دھمکی کے ساتھ ٹیکس ادائیگی سے جان چھڑوانا چاہتی ہے عمران خان نے صاف صاف بتا دیا کہ اس معاملے میں کوئی سمجھوتا کرنا یا ہڑتال کی دھمکیوں سے متاثر ہونا ملک اور اپنے اصول سے غداری ہے ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ بڑے لوگوں کو ٹیکس چھوٹ دے کر حکومت اور اس کے ادارے اپنی خواہشات کی تکمیل کرکے ملکی دولت باہر غیر ممالک میں منتقل کرتے رہیں اسی وجہ سے تو گزشتہ تیرہ چودہ برسوں میں پاکستانی عوام کو 98 ارب کے قرضوں میں ڈبودیا گیا ملکی معیشت کا پہیہ اس وقت گھومے گا جب ان سب کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا ملک بھر میں تاجروں کا احتجاج اور اپنی دکانیں بند رکھنے کا یہی مقصد تھا کہ وہ شناختی کارڈ کی شرط سے انکاری تھے اس کی بہت سی وجوہات ہیں جس میں سمگلنگ کا سامان بیچنے میں رکاوٹ حائل ہوتی ہے جس سے تاجر تو غیر ملکی سامان بیچ کر اپنا نفع حاصل کرلیتا ہے لیکن حکومت ٹیکس سے محروم رہ جاتی ہے سمگلنگ کی روک تھام کے اب ضرورت ہے کہ فعال پالیسی کے ساتھ کریک ڈاؤن کیا جائے ملک میں معاشی بحران کا سلسلہ ایک سال سے چل رہا ہے وہ حل ہونے میں نہیں آرہا ٹیکسوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے آئی ایم ایف سے رقم لیتے ہوئے کافی دشواری کا سامنا رہا جب آئی ایم ایف کی شرائط سامنے آئیں تو بجلی گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ضروری ہوگیا تھا آئی ایم ایف اتھارٹی اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھی کہ اگر چھ ارب ڈالر کا قرض اگر پاکستان حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی واپسی کے لئے کچھ ذرائع بھی سامنے آنا چاہئیں اور اس میں زیادہ تر ٹیکس کے نظام کو فعال کرنا ضروری تھا اب بہتری یوں نظر آرہی ہے کہ آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر مالیاتی ادارے بھی پاکستان کو قرض دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے جس سے ملک میں معاشی بحران حل ہونے میں مدد ملے گی وزیراعظم مختلف مواقع پر تاجر برادری اور پوری قوم سے کہہ چکے ہیں کہ بائیس کروڑ آبادی میں سے صرف پندرہ لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں جن پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے وہ تھوڑا بہت ہی ادا کریں تو ملک پر قرضوں کا بوجھ ہلکا ہوتا جائے گا اگران حالات میں جب اپوزیشن کے تنقیدی حملے بھی جاری ہیں اورحکومت مشکل میں بھی ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو معیشت مستقبل قریب میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے اس کے علاوہ حکومت ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرچکی ہے جنہوں نے مختلف اجناس اور اشیائےضروریہ وافر مقدار میں سستے داموں خرید کر ذخیرہ کررکھی ہے اور حکومت کی جانب سے 17 فی صد ٹیکس عائد اور گاہے بگاہے اس حکومتی اعلان کے ساتھ کہ ایک سال تک مہنگائی میں تقریبا 12 فی صد اضافے کا امکان ہے بعد میں معاملات بہتری کی جانب آجائیں گے تو ذخیرہ اندوز تاجر دکاندار سیلزٹیکس کی خبر سنتے ہی ذخیرہ کی گئی اشیا میں خودساختہ اضافہ کرکے اپنےمنافع کی شرح کو کئی گنا بڑھا کرغریب لوگوں کو مزید مہنگائی کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں اب حکومت کو معیشت میں درپیش باقی مسائل کے علاوہ ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ دھکڑ کے لئے بھی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا ایسا نہ ہوسکا تو ملک بھر میں میرے گاؤں کے نزدیکی بازار میں بیٹھے دکانداروں کی طرح لوٹ مار کا سلسلہ نہ رک سکے گا اور غریب اس مہنگائی کا مقابلہ نہیں کرپائے گا اور دو وقت کی روٹی مشکل ہوجائے گی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Ramzan Awan

Read More Articles by Faisal Ramzan Awan: 16 Articles with 5740 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2019 Views: 260

Comments

آپ کی رائے