علم کی قیمت

(Samreen Jan, Auckland)
یہ آٹیکل بچوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے بارے میں ہے جو دانستہ اور غیر دانستہ علم کے علمبردار کررہے ہیں۔علم کے عوض ان سے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو کہ بےشک ان کا حق ہے لیکن نہ دینے پر یا تاخیر ہونے پر انہیں سزایں دی جاتی ہیں اور دوسرے بچوں اور اساتدہ کے سامنے انہیں بےعزت کیا جاتا ہے۔میری آپ سب سے گزارش ہے کے اسن الفاظ کو پھیلاۓ تاکہ اس پر نظر ثانی کی جاۓ۔

براۓ مہربانی اپنے بچے کے واجبات(فیس) ادا کردیں ورنہ آپ کا بچہ امتحان میں نہیں بیٹھ سکتا۔

آج امتحان کی ڈیٹ شیٹ اسکے ہاتھ میں تھی۔پرچوں کی تاریخیں دیکھنے کے بعد اس کی نظر اس نوٹس پر پڑی تھی اور وہ ایک گہری سوچ میں پڑ گیا تھا کہ ایک ٹیچر کلاس میں داخل ہوئی ایک بڑا سا پرچہ ان کے ہاتھ میں تھا جس میں سے پڑھ کر کچھ بچوں کے نام پکار رہی تھی۔وہ سر جھکاۓ دعا کر رہا تھا کہ اس کا نام نہ پکارا جاۓ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا فیس تو اسکی بھی ادا نہیں ہوئی تھی۔ خالد عباس۔۔۔۔اچانک ٹیچر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی کھڑا ہوگیا۔آپ کی فیس بھی اب تک ادا نہیں ہوئی ۔کل تک سب بچوں کی فیس ادا ہو جاۓ ورنہ کل آپ سب کو کلاس سے باہر کھڑا کیا جاۓ گا۔ٹیچر کے کہے آخری الفاظ نے اسےمزید شرمندہ کر دیا تھ۔‍ا ۔ ویسے تو اسکا شمار کلاس کے بہترین بچوں میں ہوتا تھا لیکن والد کی اچھی نوکری نہ ہونے کی وجہ سے اسے ہمیشہ پوری کلاس کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا تھا۔اسکول والے بھی سب بچوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کے خواہاں تھے جو کہ اپنی جگہ بالکل درست تھے۔اس واقعے کے بعد سارا دن اسکا دل پڑھائی میں نہیں لگا۔ گھر جاتے ہی وہ سیدھا امی کے پاس گیا اور فیس کے متعلق سوال کرنے لگا۔ ماں نے سمجھا بجھا کر کھانا کھلایا اور یہ کہہ کر ٹالا کہ ابا آئینگے شام میں تو بات کرتی ہوں ۔ شام میں ابا کے آتے ہی وہ بہت مضطرب تھا کہ اماں کب بات کرینگی۔آخر کھانے کی میزپر اماں نےذکر چھیڑ ہی دیا۔ابا نے یہ کہہ کر دلاسہ دیا کہ کچھ دن میں ادا کر دینگے۔ کچھ دن۔۔وہ اپنے منہ ہی منہ میں کہہ کر رہ گیا۔ رات بھر وہ یہی سوچتا رہا کہ کل کتنی شرمندگی ہونے والی ہے۔ ٹیچر سے کیا کہوں گا اور دوستوں کو کیا عذر پیش کرونگا کہ آج بھی کیوں فیس ادا نہیں ہو سکی۔ کبھی سوچتا کہ کل اسکول ہی نہیں جاتا لیکن پھر پڑھائی کے نقصان کا سوچ کر یہ ارادہ ترک کر دیتا۔

یہ صرف ایک خالد نہیں ہے بلکہ نجانے کتنے بچے روزانہ اس ڈپریشن سے گزرتے ہیں۔اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ انھیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ علم نہیں بلکہ پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ پیسہ دو گے تو علم ملے گا۔

ایک خیال کے مطابق اسکول بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہاں بچوں کو علم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کی جاۓ، انھیں شعور سکھایا جاۓ،انھیں اچھے برے کی تمیز سیکھائی جاۓ اور بچوں کو ایک اچھا،پروقار اور مستحکم کردار کا شہری بنانے میں ان کی مدد کی جاۓ لیکن یہ کیا ؟یہاں تو ان ننھے ہونہاروں کو احساس کمتری کا شکار بنایا جارہا ہے۔ تعلیم کے علمبردار انھیں زندگی کے ابتدائی سالوں میں یہ سکھا رہے ہیں کہ پیسہ ہے تو عزت ہے۔ کچھ پیسوں کی وصولی کے لیے بچوں کو سزائیں دی جارہی ہیں۔ بچوں کو صرف اسلیے بے عزت کیا جاتا ہے کہ انھیں تکلیف ہوگی تو ماں باپ کو تکلیف ہوگی اور پھر وہ فیس ادا کردیں گے۔ کیا اسکول والوں کی یہ حرکت بچوں کی تربیت پر برے اثرات مرتب نہیں کررہی؟کیا انکی شخصیت کی دھجیاں نہیں اڑائی جارہیں؟کیا انھیں یہ احساس نہیں دلایا جارہا کہ تم ایک کم تر طبقے سے تعلق رکھتے ہو؟وہ بچہ اسی کشمکش میں رہتا ہے کہ امتحان کی تیاری کروں یا والدین کو فیس کے لیےدباؤ ڈالوں ورنہ میرے اسکول والے مجھے دوسرے بچوں اور اساتذہ کے سامنے ذلیل کرتے رہینگے۔
اسکول ایڈمینسٹریشن کا ایک مقرر کردہ فرد کلاس میں آتا ہے اور وہ سفید پوش ماں باپ جو بڑی مشکلوں سے بچے کے لیے کتابیں اور یونیفارم خرید کر،ان کی ٹیوشن فیس،ایڈمیشن فیس،لائبریری فیس،کمپیوٹر فیس اور تو اور سالانہ فیس بھی جمع کروا کر اور اسکول کی مقرہ کردہ کاپیاں جن پر اسکول کی اشتہار بازی ہوئی ہوتی ہے کا خرچہ کر کے بچوں کو اسکول بھیجنے کے قابل ہوتے ہیں اور کم آمدنی یا کسی اور وجہ سے ماہانہ فیس وقت پر ادا نہیں کر پاتے ہوں تو اب ان کے بچوں کے منہ سے نقاب نوچے جاتے ہیں ۔ باقاعدہ بچے کا نام لے کر انھیں تنبیہہ کی جاتی ہے کہ آپ اپنے والدین سے کہہ کر فیس ادا کر دیں ورنہ آپ کلاس میں بیٹھنے کے حق دار نہیں ہونگے۔اس سےبھی زیادہ ظلم یہ ہوتا ہے کہ بچے کو ایک دن کیلۓ یا کچھ دیر کیلۓ کلاس سے بےدخل کر دیا جاتا ہے۔دوسرے بچوں کے سامنے اس کی بے عزتی کی جاتی ہے اور لال رنگ کے قلم سے اس کی ڈائری میں نوٹس لکھ کر گھر بھیجا جاتا ہے۔

وہ بچہ جو پہلے ہی کتابوں اور کورس کے وزن سے دبا جارہا ہوتا ہے۔ وہ اسکول والوں کی اس غیر اخلاقی حرکت سے مزید پریشان ہو جاتا ہےبلکہ یوں کہیئے کہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔نہ تو پھر کلاس میں وہ اچھی کارکردگی دکھا پاتا ہے اور نہ ہی اب پراعتماد ہوتا ہے. پھر بچہ گھر جاتا ہے اور والدین کو آج ہوۓ سانحہ کے بارے میں بتاتا ہے تو ماں باپ یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ ایک دو دن میں فیس ادا کر دینگے۔ دوسرے دن وہ اسکول جانے سے پہلے یہ نہیں سوچتا کہ آج میں اسکول میں کیا سیکھوں گا یا کون کون سے دوستوں سے ملاقات ہوگی بلکہ اسے بس یہ سوچ پریشان کررہی ہوتی ہے کہ اکاؤنٹس والوں کو کیا کہوں گا،دوستوں کو کیا جواب دوں گا کہ کیوں فیس ادا نہیں ہو سکی اور اگر آج بھی کلاس سے نکالا گیا تومیتھس کا پیریڈ آج پھر مس ہو جاۓ گا۔ وہ سر جھکا کر اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نہ تو اس کے آنکھوں میں چمک ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ سیکھنے کی جستجو۔ بس دماغ میں ایک ہی بات گردش کررہی ہوتی ہے کہ آج کیا ہونے والا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کوئی چیریٹی سکولز تو ہیں نہیں کہ سب کی فیس معاف کر دیں نہ ہی گورنمنٹ انہیں فنڈ کرتی ہے تو یہ اپنا خرچہ کیسے نکالیں؟ ٹیچرز کو تنخواہیں دینی ہیں،بجلی کا بل، پانی کا بل،اسکول کی بلڈنگ کا کرایہ،چپڑاسی،جمعدار،چوکیدار،ماسی کی تنخواہ،اسکول میں ہونے والی مختلف سرگرمیاں اور ان سب کے بعد اسکول کے مالک کا منافع ۔ یعنی جس سرماۓ سے اس کی روزی روٹی چلتی ہے۔( جو کہ ہمیشہ نا کافی ہی ہوتا ہے)۔ کہاں سے آۓ گا یہ سب پیسہ؟

لیکن طریقہ تو یہ بھی صحیح نہیں جو انھوں نے اپنایا ہوا ہے۔ کیوں نا کوئی اور طریقہ نکالا جائے فیس وصولی کا جس میں بچوں کو تنگ بھی نہ کیا جاۓ اور والدین تک پیغام بھی پہنچ جاۓ۔ ذیل میں کچھ طریقے آپ کے ساتھ شئیر کرتی ہوں۔ دور حاضر الیکڑونکس دور ہے۔جہاں اسکول کے دوسرے کاموں کوکمپیوٹر سے آسان بنایا گیا وہاں یہ کام بھی آسان کیا جاسکتا ہے۔ ہر مہینے والدین کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجیں جس میں فیس ادا کرنے کا کہا جاۓ اور یہ بھی کہا جاۓ کے اگر فیس ادا کردی ہے تو اس میسج کو نظر انداز کر دیں۔ اگر ٹیکسٹ میسچ پر خرچہ نہیں کرنا چاہتے کو وٹس ایپ میسچ کریں یا ای میل بھیجیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو ان تمام سہولتوں سے محروم ہیں تو انہیں گھرکے نمبر پر کال کریں ۔اگر ایسا کرنے سے بھی کوئی ردعمل نہیں ہورہا ہے اور بچہ کو کہنا مجبوری ہوجاۓ تو اسے آفس میں بلا کر والدین کو لانے کا کہا جاۓ لیکن یہ آخری حربہ ہونا چاہیے۔ جس حد تک ممکن ہو بچے کو ان معاملات سے دور رکھا جاۓ۔ ایک اور کام جو کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے کچھ بچے معاشی لحاظ سے کافی مستحکم ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے آفس میں ایک بورڑ لگا دیا جاۓ کہ" اگر آپ کسی کی فیس ادا کر نا چاہتے ہیں تو" خوش آمدید" اور جس بچے کی فیس ادا ہو اس کے والدین کو بتادیں کہ آپ کے بچے کی فلاں مہینے کی فیس ادا ہوگئ ہے بقیہ ادا کردیں۔

ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں خدارا ان بچوں کی حفاظت کیجۓ ۔ان کے احساسات کی، ان کے جذبات کی،ان کے کردار کی اور ان کے مستقبل کی حفاظت کیجۓ۔یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ان کا مستقبل سنوارتی اور بگاڑتی ہیں۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ بچوں کو اگر یہ پتہ نہیں چلے گا کہ ان کے ماں باپ کیسے انکی فیس ادا کر تے ہیں تو انہیں علم کی یا ماں باپ کی قدر کیسے ہوگی تو اس کےليے آپ پریشان نہ ہوں یہ کام ان کے والدین پہلے ہی گھر پر سر انجام دے رہے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ انکی عزت نفس سے کھیلا جاۓ یا انکی گھریلو پسماندگی کو منظر عام پر لایا جاۓ۔حدیث شریف میں آتا ہے"ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ،پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے ،اللہ اسکی ضرورت کو پورا کرے گا۔جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالی اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور فرماۓ گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپاۓ گا اللہ تعالی قیامت میں اسکے عیب چھپاۓ گا"۔
(صحیح بخاری 244)

گورنمنٹ اس سلسلے میں کیا کرسکتی ہے؟ ویسے تو گورنمنٹ کے کرنے کو اور بھی بہت سے کام ہیں لیکن یہ بھی ایک اہم کام ہے۔ گورنمنٹ جو کر سکتی وہ یہ کہ نجی اسکولوں کو ایک نمبر الاٹ کر دے جس سے وہ والدین کو فوری میسجز کر سکے یا ایسا کوئ انتظام ہو کہ کمپیوٹر سے والدین کے فون پر پیغام بھیجا جا سکے۔میں گورنمنٹ سے التماس کرتی ہوں کہ براۓ مہربانی اس نظام کو تبدیل کرنے پر نظر ثانی کریں۔ یہ ہے تو بہت چھوٹی سی بات لیکن بات ہے ہمارے مستقبل کے معماروں کی۔ تبدیلی تب آتی ہے جب چھوٹی چھوٹی باتوں کو سدھارا جاتا ہے۔ قطرہ قطرہ سمندر ہوتا ہے۔
دعاؤں کی درخواست،ام فاضل۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Samreen Jan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2019 Views: 992

Comments

آپ کی رائے
Excellent Umm e Fazil
By: Hammad, Karachi on Jul, 28 2019
Reply Reply
0 Like