تعلیم میں آئی سی ٹی کا استعمال

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

ٓآئی۔سی ۔ٹی سے مراد انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ہے۔ اس میں وہ تمام آلات شامل ہیں جو آج کل انفارمیشن اور کمیونیکیشن کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ جن کا احاطہ ان صفحات پر ناممکن سی بات ہے۔ البتہ عام استعمال ہونے والے آلات میں کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ ، ملٹی میڈیا ، ہارڈڈسک ، انٹرنیٹ ، مرکزی و ثانوی یاداشتیں ،کی بورڈ ، ماؤس ، پرنٹر ، کمیونیکیشن میڈیا جیسا کہ کیبل و وائرلیس میڈیا اور نیٹ ورک آلات شامل ہیں۔ موجودہ دور میں یہ ٹیکنالوجی تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں استعمال ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نظام تعلیم میں بھی ان کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ طالب علموں ، اساتذہ، تعلیمی تحقیق ، تنظیم و انصرام ، تدوین نصاب اور جائزہ سب کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس کی بدولت ہم تعلیمی میدان میں نہ صرف آگے بڑھ سکتے ہیں بلکہ اس سے معیاری تعلیم کا حصول بھی ممکن ہو گا۔ بالا عنوان میں آئی۔سی ۔ٹی کے ساتھ تعلیم کا لفظ آیا ہے جو بذات ِ خود اپنے اندر ایک دنیا سموئے ہوئے ہے اور اسی کے اندر انفارمیشن اور کمیونیکیشن شاخوں کی صورت میں موجود ہیں۔ تعلیم کے معنی فرد کی تمام پہلوؤں سے نشوونما کرنا ہے، یعنی جسمانی ، ذہنی ، معاشرتی ، معاشی ، اخلاقی ، سماجی ، اسلامی اور نفسیاتی وغیرہ۔ باالفاظ دیگر فرد کی ایسی نشوونما مراد ہے جس سے وہ معاشرے کا ایک کار آمد شہری بن جائے۔ یہ تب ممکن ہے جب تعلیم کے ساتھ تربیت کا عمل برابری کی سطح پر ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں نمبرات کی دوڑ شروع ہوچکی ہے ، تربیت کا پہلو بالکل نظر انداز ہے۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہم صرف سند یافتہ افراد معاشرے کو دے رہے ہیں جب کہ معاشرہ ہم سے تعلیم یافتہ افراد چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ ان صفحات پر میرا مقصدصرف تعلیم میں ان ٹیکنالوجیز کا استعمال اور اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے تاکہ ہم اس پر عمل پیرا ہوں اور ہمارا شمار تعلیمی میدان کی صف ِ اول اقوام میں ہو۔اَب اس ٹیکنالوجی کے تعلیم میں استعمال کو سمجھتے ہیں۔ اول، انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز طالب علموں کی تعلیمی مواد تک رسائی کو آسان بناتی ہیں، یعنی وہ ایک کلک سے آن لائن تعلیمی مواد ، ڈیجیٹل لائبریریوں اور نامور سکالرز کے لیکچروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور وہ ان کو چھوٹے سے میموری کارڈ پر کو محفوظ کر سکتے ہیں۔ پھر جب چاہے اس کا مطالعہ ای۔ریڈر کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ آن لائن تعلیمی مواد کے علاوہ آج کل دنیا بھر کی جامعات نے مُوک (MOOC ) کی صورت میں اوپن آن لائن کورس متعارف کروائے ہیں جن میں طالب علم گھر بیٹھے کورسوں میں داخلہ لے سکتے ہیں، کورس کی تکمیل پر امتحان لیا جاتا ہے اور کامیاب طالب علموں کو سرٹیفیکیٹ دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں وزارت ِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے تحت سکلز ( مہارتیں ) سکھانے کے مفت آن لائن کورس کروائے جارہے ہیں۔ ویڈیو کانفرسنگ کی سہولت سے ایک استاد کئی اداروں میں بیک وقت زمان و مکان کی قیود سے آزاد اپنا لیکچر دے رہا ہوتا ہے اور جس میں سوالات و جوابات روایتی کمرہ جماعت کی طرح کیے جاسکتے ہیں۔دوم ، اساتذہ کی اہمیت ہر صورت ، ہر وقت اور ہر جگہ مسلمہ ہے۔ آئی۔ سی ۔ ٹی کا استعمال ان کو نئے طریقہ ہائے تدریس اور نئی تدریسی مہارتوں سے روشناس کرتا ہے اور ان میں پائی جانے والی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ یوں ایک استاد اپنے سبقی مقاصد آسانی سے حاصل کرتا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی سے گزشتہ خیبر پختون خوا حکومت نے ابتدائی و ثانوی تعلیم میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تربیت کروائی۔ سوم ، تعلیمی تحقیق سے مراد وہ تحقیق ہے جو نظام تعلیم کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرتی ہے۔ اس کا دائرہ وسیع تر ہے جو کہ طالب علم سے منتظمین ، تعلیمی فلسفہ سے تعلیمی نفسیات ، طریقہ ہائے تدریس سے نصاب سازی ، ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم، تحریک سے ذہانت اور کلاس روم مینجمنٹ سے سکول مینجمنٹ تک کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ تحقیقی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے سافٹ کا استعمال کیا جارہا ہے جس سے وقت کی بچت اور درست نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ چہارم ، آئی۔ سی ۔ ٹی کا استعمال تعلیمی تنظیم و انصرام میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ذریعے تعلیمی اداروں کے نظم و نسق میں بہتری لائی جاسکتی ہے اور اُن کے معیار اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے ایسی انفارمیشن ملتی ہیں جن کو ادارے کے سربراہان بہتر فیصلہ سازی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک ادارہ کمپیوٹر سائنس اور مینجمنٹ میں ابتدائی لیول کے کورس کروا رہا ہے، اُن کے فارغ االتحصیل طلباء کا ریکارڈ ڈیٹا بیس میں محفوظ پڑا ہے۔ اَب ادارے کی خواہش ہے کہ وہ کمپیوٹر سائنس میں ایڈوانس لیول کا کورس شروع کروائے لہٰذا وہ اپنے ڈیٹا بیس کا استعمال کریں گے اور اُن طالب علموں کو بذریعہ ای میل ، ایس ایم ایس یا فون کال سے مطلع کریں گے جنہوں نے کمپیوٹر سائنس میں ابتدائی کورس کیا ہوگا۔ اس سے ادارے کو ایڈورٹائزنگ کاسٹ میں نمایاں کمی کا بڑا فائدہ ملے گا۔ پنجم ، نصاب کسی معاشرے کی اُمنگوں کا ترجمان ہوتا ہے لہٰذا یہ ٹیکنالوجی نصاب کی تدوین میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، یعنی مواد کا اکٹھا کرنا ، انتخاب و چناؤ کرنا اور مواد کی ترتیب میں اپنا بھر پور کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان بیان کردہ مراحل میں نصاب کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا جاسکتا ہے اور یوں معاشرے کی ضروریات کے مطابق مواد کو نصاب میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ششم ، استاد ایک مخصوص وقت کے بعد یہ جائزہ لیتا ہے کہ طلباء نے اس کی تدریس ( پڑھائے گئے اسباق) کو کتنا ، کس حد تک اور کیا سیکھا ہے۔ اس حوالے سے وہ طالب علموں سے ماہانہ ، ششماہی ، نوماہی یا سالانہ امتحان لیتا ہے اور یہ جائزہ لیتا ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد کا حصول کتنا کیا ہے۔ انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے پرچوں کی تیاری اور معروضی سوالات کی کمپیوٹرائزڈ مارکنگ کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں ایک طالب علم کے تمام مضامین میں حاصل کردہ نمبروں کا مجموعہ ، فیصد ، گریڈنگ اور پاس و فیل بآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں ایسے مصنوعی ذہانت کے ساافٹ وئیر دستیاب ہوں گے جو موضوعی سوالات کی مارکنگ بھی کر سکیں گے۔ ہمارے معاشرے میں یہ تمام ٹیکنالوجیز موجود ہیں لیکن تعلیم میں ان کا استعمال خال خال نظر آتا ہے۔ اگر ہم تعلیمی میدان میں دیگر اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو ہم نے ای ۔سکولنگ ، ای۔ لرننگ ، ای۔ ٹیکسٹ بُک اور موبائل لرننگ کو اپنے معاشرے میں جگہ دینی ہو گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 125412 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2019 Views: 1390

Comments

آپ کی رائے