پاکستان کا قومی ترانہ اس کا پسِ منظر، معنی ومفہوم اور وضاحت: پہلی قسط

(Syeda F GILANI, Australia)
ہمیں اپنی قومی تاریخ کا ایک ایک باب ذہن نشین رکھنا چاہیے اور یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جب 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا شیرازہ بکھر گیا، مسلمانوں پر آسمانِ ہند پر مایوسی کی گھٹائیں چھا گئیں اورمسلمان تاریکی اور ظلمت کے اندھیروں میں بھٹکنے لگے تو ان حالات میں مسلمانوں کو کسی ایسے قافلہ سالار کی ضرورت تھی، جو ان کی صحیح منزل کا تعین کر سکتا، جو انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر، طوقِ غلامی ان کے گلے سے اتار پھینکتا۔
قوموں کے عروج و زوال میں عزم کا بڑا عمل دخل ہے کیونکہ عزم ہی وہ قوت ہے جس کی بدولت قومیں جہدِ مسلسل پر آمادہ ہوتی ہیں اور منزلِ مقصود کی طرف گامزن ہوتی ہیں تو وہ تمام راز ان پر منکشف ہوجاتے ہیں جنہیں پانے کی وہ متمنی ہوتی ہیں اور جب کسی قوم پر پنہاں رازمنکشف ہو جائیں تو وہ قوم دوسری قوموں سے نہ صرف ممتاز ہوجاتی ہے بلکہ وہ اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جس کا وعدہ انسانوں سے اللہ رب العزت نے خود کر رکھا ہے۔ارشادِ ربانی ہے”بے شک انسان کو وہی ملتا ہے جس کی کوشش کرتا ہے“۔
مملکت ِ خدادا پاکستان کا قومی ترانہ لکھتے ہوئے شاعر کے ذہن میں بھی ایسا ہی نظام ہے جو منضبط اور مربوط ہو اور ایسی فضا کو جنم دے سکے جس میں عوام کی خواہشات کا احترام، عدل وانصاف کا دور دورہ اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکے۔
غرض یہ کہ شاعر کی تمنا ہے کہ پاکستان کی بھاگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہو جو اس ملک کو خوشیوں کا گہوارہ بنا سکیں۔

مصور پاکستان، بانی پاکستان، پاک سر زمین اور پرچم

ہمیں اپنی قومی تاریخ کا ایک ایک باب ذہن نشین رکھنا چاہیے اور یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جب 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا شیرازہ بکھر گیا، مسلمانوں پر آسمانِ ہند پر مایوسی کی گھٹائیں چھا گئیں اورمسلمان تاریکی اور ظلمت کے اندھیروں میں بھٹکنے لگے تو ان حالات میں مسلمانوں کو کسی ایسے قافلہ سالار کی ضرورت تھی، جو ان کی صحیح منزل کا تعین کر سکتا، جو انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر، طوقِ غلامی ان کے گلے سے اتار پھینکتا۔ایسی بے بسی اور بے کسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنوں کو سنا اور محمد علی جناح ؒ جیسا بے باک لیڈر، ذہین قائد اور مخلص رہنما، ان کی رہنمائی کے لیے پید ا کیا۔جس کی شبانہ روز کاوشیں رنگ لائیں اور 14/اگست1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت ابھری جس کا نام چوہدری رحمت علی نے پاکستان تجویز کیا تھا۔

یہ مملکتِ خدادا پاکستان نہ صرف مسلمانوں کی طویل جد وجہد کانتیجہ ہے بلکہ ان کی بے لوث جانی و مالی قربانیوں کا ثمربھی۔گویا ہمیں آزادی کے حصول کے لیے بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ بقول مجید لاہوری:
سختیاں جھیل کر جان پر کھیل کر، دین ودنیا کی دولت ملی ہے ہمیں
ہم ہیں اسلاف کی عظمتوں کے امیں، اک مقدس امانت ملی ہے ہمیں
اب اس مقدس امانت کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔

یاد رکھیں! جب کوئی قوم آزادی کی جنگ لڑکر اپنے وجود کا لوہا منوا تی ہے تو آزادی کے ترانے گانا اس کا حق بن جاتا ہے۔ہمیں جب آزادی نصیب ہوئی تو ہماری قوم کو بھی ایک ایسے ترانے کی ضرورت تھی جو مسلمانوں کے مقاصد کا ترجمان ہو، جو ان کی حریت کی منہ بولتی تصویر ہو، پاک سرزمین پر رہنے والے باسیوں کی خود مختاری اور مساوات کا مظہر ہو، جو ایک آزاد ملک میں رہنے والی قوم کی شناخت ہو، جس میں حب الوطنی کا درس بھی ہو اور اسلامی روایات کی جھلک بھی۔ گویا قومی ترانے سے مراد قومی روایات کی ترجمانی ہے(مسلمانوں کی قومی روایات اسلامی روایات سے مختلف نہیں ہو سکتیں) اور قومی روایات کی ترجمانی کا سہرا، اس عظیم شاعر کے سر ہے؛جس نے ”شاہنامہ اسلام“ لکھ کر مسلمانوں کو ان کے درخشاں ماضی کی جھلک اور ان کی شان وشوکت کی تصویردکھائی۔اردو زبان میں نئے بحور و اوزان پیش کرکے اردو شاعری کے سرمائے میں اضافہ کیا اور اردو شاعری کے قدیم و جدید سکن کی تکمیل و تزئین اور اصلاح و تہذیب کے لیے نہ صرف قابلِ قدر خدمات سر انجام دیں؛ بلکہ ایک آزاد قوم کا قومی ترانہ لکھ کر اردو شاعری میں اپنی قادرالکلامی اور قوتِ اختراع کا لوہا منوایا۔ میری مراد ملک پاکستان کے مایہ ناز شاعر حفیظ جالندھری سے ہے۔

قومی ترانے کی ضرورت اس وقت شدت سے محسوس ہوئی جن 1950ء میں شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان نے23 فروری1949؁ء کو ایس۔ایم اکرام کی نگرانی میں سردارعبدالرب نشتر، پیر زادہ عبدالستار، پرفیسر چکروورتی، چوہدری نذیر احمد، ذولفقار علی بخاری، اے۔ ڈی اظہر، قوی جسیم الدین، اور حفیظ جالندھری پر مشتمل ایک نو رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ ملک کے چیدہ چیدہ شاعروں اور موسیقاروں نے کمیٹی کو723 ترانے اور دھنیں ارسال کیں۔جنہیں عبدالواحد خان رشیدی جمع کرتے رہے؛ لیکن احمد جی چھاگلہ کی تیار کردہ دھن کو پسند کیا گیا۔
21/اگست1949ء کو حکومتِ پاکستان نے قومی ترانہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام احمد جی چھاگلہ کی تیار کردہ دھن کو منطو رکرلیا۔ یہ دھن پاکستان نیوی بینڈ کے پی۔این۔ایس دلاور نے بنائی۔وارنٹ آفسر عبدالغفور اس بینڈ کے ماسٹر تھے۔ اس طرح پاکستان کی کلاسیکی موسیقی کا وجود عمل میں آیا۔اور راگ”جے جے ونتی“ اور ”آسا دری“ تشکیل کیے گئے۔
جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda F GILANI

Read More Articles by Syeda F GILANI: 35 Articles with 21467 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Aug, 2019 Views: 883

Comments

آپ کی رائے