سماج کا آئینہ۔۔۔۔۔۔قبرستان

(Tahir Farooqi, Muzaffarabad)
سما ج کا آئینہ۔۔۔۔۔۔قبرستان

2018 تک پاکستان میں آزاد کشمیر کے نظام میں تسلسل اور سیاست میں اعتدال سمیت شعبہ حیات زندگی کے بارے میں مثالیں دی جاتی تھیں، جنکا یہاں فخریہ اظہار بھی کیا جاتا تھامگر پھر رفتہ رفتہ رنگ بدلنے لگے اور اب ایسا لگتا ہے کہ ملک بھر میں بہتری کے اثرات رونماء ہونے لگے ہیں، اوریہاں بہتری کے بجائے ابتری پھیلتی جارہی ہے، جسکا تعلق کسی ایک ادارے یا شخص، گروہ کے ساتھ نہیں بلکہ یہ بحیثیت مجموعی معاشرتی المیہ بنتی چلی جارہی ہے، معاشرے کا ہر فرد اپنی اپنی سطح زمہ داری فرائض کے حوالے سے بے حسی اور خود اپنے اپنے اجتماعی نوعیت کے اخلاقی، سماجی رویوں سمیت قانون کی پاسداری میں لاتعلق ہوتا جارہا ہے، المیہ یہ بن گیا ہے کہ جسکی جتنی زیادہ زمہ داری ہے جو جتنا زیادہ ریاست کے حقوق سے فیض یاب ہورہا ہے اور اہمیت افادیت رکھتا ہے وہ اتنا ہی اس بے حسی لاتعلقی کے طرز عمل کا زمہ دار ہے مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار ہے نہ اپنے فرائض کی زمہ داری ادا کرنے کے بارے میں جواب دہی کو مانتا ہے،بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈاٹنے والا تماشہ لگا دیتا ہے، جب کوئی جواب نہیں بن پاتا تو الزام حکومت اداروں پر لگا دیا جاتا ہے حکومت اداروں کے نام مقام ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر جان بخشی کرالیتے ہیں،یعنی بطور شہری سے لیکر بطور سماج کے رہنماء اور ریاست کے ستونوں سے لیکراختیار آفیسر کے چال چلن علماء کی ذمہ داریوں سے لیکر پیشہ وارانہ شعبہ جات کے نمبرداروں تک سب ایک دوسرے کا نمبر کاٹتے ہوئے اپنی اپنی فکر میں مبتلا نظر آتے ہیں دوسرے کی بات آجائے تو خود کو بری الزمہ قرار دیکر نظام کو گالیاں نکالنے کو بڑا کام سمجھتے ہیں اور زندہ توزندہ مردہ لوگوں کے حوالے سے بھی اس رویے کو اپنی پہچان بنا بیٹھے ہیں جیسا کہ اپر اڈاہ قبرستان سے منسلک آبادیوں کے رہنے والوں کیطرف قبرستان کی حالت زار پر بڑے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے یہ قبرستان نشیء افراد کا مسکن اور راہگیروں، مزدوروں کیلئے بیت الخلا ء بن گئے ہیں، جانور بھی داخل ہو جاتے ہیں گندگی جا بجا ہے ایک بار مجھے ایک صاحب نے جو خود کو اخلاق کردار عبادت اور اپنے پیشہ وارانہ فریضے کے حوالے سے بڑا سب سے بڑھ کر نیک اور کامل انسان بتاتے ہوئے نہیں تھکتے نے کہا کہ اپراڈہ قبرستان میں بکریاں قبروں پر سے پودے گھاس وغیرہ کھا لیتی ہیں، تو انکے حالات سے واقف ہونے پر عرض کیاآپ نے کبھی کسی کو پانی نہیں پلایا اگر بکریاں قبر سے پودے وغیرہ چکھ لیتی ہیں تو شکر کریں آپ کے والد صاحب کو ثواب ہوگا، مقصد یہ تھا کہ آپ کے پیاروں کی قبروں کی صفائی بھی حکومت کرے تو پھر آپ کا کیا حصہ رہ گیا ہے، پیپلزپارٹی کے شیخ اظہر کے ساتھ ایک دوست کے والد کی نماز جنازہ میں راولپنڈی گئے نماز جنازہ کے بعد تدفین کے لئے قبرستان بھی گئے، اس قبرستان کے چاروں اطراف خوبصورت حفاظتی، مضبوط جالے اور سایہ دار شجروں کی چھاؤں قبروں کی ایک منصوبہ بندی کے تحت ترتیب ایک جیسی ہے، خوبصورتی نفاست کے ساتھ سب ایک جیسی قبریں اور پھولوں والے پودوں کا ان پر وجود صفائی شاندار تو تھی، اس دوران بات چیت میں پتہ چلا یہاں آبادی میں کوئی وفات پا جائے تو اسکے گھر والوں کو قبر کی فکر نہیں ہوتی، بلکہ یہاں کے قبرستانوں کی کمیٹیاں قبرتیار کرتی ہیں اگر آباد ی کا مستقل رہنے والا ہو تو پندرہ ہزار روپے خرچہ اور عارضی ہو تو 20 ہزار روپے خرچہ لیا جاتا ہے، وفات پانے والے کے ورثاء قبر تک جسدخاکی کو پہنچاتے ہیں، اسکے بعد تدفین سے لیکر بعد میں قبرستان کی صفائی او ر حفاظت تک کے بارے میں ان کو اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ قبر کیلئے جو معمولی خرچہ لیا جاتا ہے، وہ اسکے اتنظام صفائی وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے، مگر یہاں تو اندرون ضلع بلکہ اندرون حلقہ دوسرے دور کے علاقے والا مر جائے تو قبر پر جھگڑابن جاتا ہے حالانکہ یہ سارے قبرستان کے رقبے سرکار کے ہیں جنکی اپنی حالت زار پھر یہاں تدفین کے وقت کے المیے ناقابل بیان ہیں، اس سفاکی بے حسی کو کیا نام دیا جائے تاہم اتنا ضرور عرض کرتا ہے کہ اس المیہ کو عذاب کے مناظر بننے سے پہلے پہلے ماضی کے واقعات پر غور کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ پولیس مذہبی امور اوقاف کے حکام کے ساتھ بیٹھ کر تمام سرکاری رقبہ جات کے قبرستانوں کو اپنی تحویل میں لیں، جسطرح اولیاء اللہ کے مزارات سمیت مختلف جگہوں پرقابو پالیا گیا تھا یہ اوقاف کا محکمہ سرکار پر بوجھ نہیں بلکہ معاون کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح سرکاری رقبہ جات کے قبرستانوں کو تحویل میں لیکر انکا راولپنڈی کے قبرستانوں جیسا انتظام و انصرام یقینی بنائیں اور مرکزی قبرستان کو بھی خواب سے تعبیر کی شکل دے دیں، تو یہ بڑا کارنامہ ہوگا، محکموں کے فارغ بیٹھنے والے اہلکاران تو یہاں تعینات کر کے کام لیں تاکہ انکی روزی حلال ہو اور کل قبرستان میں دفن ہونے کے بعد حساب بھی آسان ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 205 Articles with 71243 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2019 Views: 202

Comments

آپ کی رائے