اخلاقی اقدار (Moralities) کی ضرورت اور اہمیت

(Tanveer Ahmed, )

وقت کے ساتھ ساتھ جہاں سب کچھ بدل گیا وہاں اخلاقی اقدار بھی ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ نئی نسل میں اب یہ سب کچھ نہیں پا یا جاتا۔ ایک صاحب سے یہ کہتے سنا کہ ہمارے دور میں تو سب لوگ اخلاقی اقدار کو اپنے دل و جان سے بھی عزیز رکھتے تھے لیکن آج کی نسل تو انتہائی بد تمیز ہو چکی ہے۔کوئی خواہش پوری نہ ہو تو آجکل کے بچے چیختے چلاتے ہیں۔گالم گلوچ تو عام ہو چکا ہے۔ بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کسی طور بھی محفوظ نہیں۔ اعتبار کا تو زمانہ ہی نہیں رہ گیا۔ بزرگ اور جوان کا فرق مٹ چکا ہے۔ مدد کا جذبہ مفقو د ہو چکا ہے۔ جس کے پاس دولت ہے وہ انتہائی مغرور ہو چکا ہے۔ بڑے چھوٹے کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے؟۔

اس بات کو مزید سمجھنے کے لیئے میر ی ایک مختصر سی ملاقات جنا ب اعجاز علی صاحب سے ہوئی ۔ آپ ایک موٹیوشنل سپیکر اور لائف کوچ ہیں اور کچھ عر صہ سے اپنا ایک ادارہ Moralities کے نام سے ہی اوکاڑہ میں چلا رہے ہیں۔انہوں نے بتا یا کہ انسان وہی کچھ کرتا ہے جو وہ اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔ پرانے دور میں ہم سب نے اپنے بڑوں کو سب کی عزت کرتے دیکھا ۔ روپیہ پیسہ تب بھی بہت اہم تھا لیکن اس کی جگہ کبھی بھی ذاتیا ت نہ لے سکی۔ شوہر اور بیوی تب بھی لڑتے تھے لیکن جو کچھ بھی ہوتا تھا سب کچھ بچوں کے سامنے نہ ہوتا تھا۔ اب سب کچھ سب کے سامنے ہورہا ہوتا ہے۔ بچوں کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ یہ تو بچے ہیں۔لیکن بچے ان سب چیزوں کو اپنے اندر جذب کر رہے ہوتے ہیں۔ میرا بہت سے ایسے بچوں سے واسط رہا جن کے والدین تو بہت تہذیب یافتہ نظر آتے تھے لیکن ان کے بچے گالم گلوچ کرتے تھے۔ ان بچوں سے بات کرکے پتہ چلا کہ ان کے والدین گھر میں ایک دوسرے کے ساتھ گالم گلوچ کرتے ہیں جس کی وجہ بچوں میں بھی یہ عادت پائی جاتی ہے۔ ان کے والدین عام لوگوں کے سامنے تو بہت مہذب نظر آتے ہیں لیکن ان کے گھر میں رہن سہن کے انداز ان کے بچوں کی صورت میں معاشرے میں برائی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔

جنا ب اعجاز علی صاحب نے بتا یا کہ آجکل ہمارے ہاں طلاق کی شرح میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات میں سے ایک اہم وجہ اپنے وسائل سے ذیادہ چادر پھیلانا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی دیکھ دیکھ کر لڑکیا ں اور لڑکے شادی سے پہلے اس آئیڈیل زندگی کے خواب دیکھتے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ جب شادی کے فورا بعد وہ تما م خواب ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔ اگر ان شادی شدہ جوڑوں کے بچے بھی ہوں تو سب سے ذیادہ نقصان ان بچوں کا ہوتا ہے۔ اپنے والدین کے منفی رویہ جات سے ان کی زندگی بالکل بدل جاتی ہے۔ ایک دوسرے پر اعتماد اور اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔ طلاق کے بعد بچے چاہے باپ کے پاس رہیں یا ماں کے پاس۔ ان کی شخصیت میں آنے والی تبدیلیاں ان کو کبھی بھی ایک اچھا اور فائدہ مند شہر ی نہیں بننے دیتیں۔ اس طرح کے منفی رویہ جات کو جاننے اور ان کا مناسب حل تجویز کرنے کے لیئے ہم نے
Moralities کا آغاز کیا ہے۔ اور اس کا بنیادی مقصد ہر انسان کی زندگی کو اس کے لیئے اور معاشرے کے لیئے فائدہ مند بنا نا ہے۔

معاشرے میں ان تما م مسائل کی جڑ ڈیپریشن بھی ہے۔ آجکل کے دور میں ہر شخص پریشان نظر آتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو پتہ ہو تا ہے کہ وہ کس وجہ سے پریشان ہیں ۔ایک تو ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور دوسرا وہ صرف پریشان ہی رہتے ہیں اور اس کو کوئی حل تلاش نہیں کرتے ۔ اگر ان کو کہا بھی جائے کہ آپ کو کسی سے مشورہ کرنا چاہیے یا علاج کروانا چاہیے تو وہ لوگ ایسی باتوں کو مذاق میں ٹال دیتے ہیں یا یہ تجویز دینے والے کے ساتھ غصہ کرتے ہیں اور اس سے تما م تعلقات ختم کر لیتے ہیں ۔ یہ انتہا ئی خطرنا ک صورتحال ہوتی ہے۔اور اس کا اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو انسان ہائی بلڈ پریشراور شوگر جیسے موذی امراض کا شکار ہوجاتا ہے۔

پریشان رہنے والو ں کی دوسری قسم جو آجکل کے معاشرے میں بہت ذیادہ ہوچکی ہے وہ ان لوگو ں کی ہے جن کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیوں پریشان ہیں ؟ایسی صورتحال کو بے چینی کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس سب کچھ ہوتا ہے لیکن دل کا سکون نہیں ہوتا۔ بعض صورتوں میں یہ بہت ذیادہ امیر ہوتے ہیں یا بعض اوقات بہت اعلی ڈگریاں ہونے کے باوجود یہ لو گ اچھی ملازمت حاصل نہیں کرپاتے ۔ اگر کوئی کاروبار شروع کرتے ہیں تو اس میں نقصان ہوتا ہے۔ اپنی ازدواجی زندگی میں بھی یہ لوگ نا کا م ترین ہوتے ہیں۔ان میں اکثر لوگ دوسروں کی پریشانیوں کوبھی خود پر سوار کر لیتے ہیں اور ایسی صورتحال کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں جن کا ان کو کبھی سامنا ہی نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کی زندگی میں سوچ کا کردار ذیادہ ہوتا ہے اور عمل نہ ہونے کے برابر۔ دوسروں پر ہر وقت نکتہ چینی کرنا ان کی عادت ہوتی ہے۔

ان سب مسائل کا علاج ادویات میں نہیں ہے۔ ان تمام مسائل کو ہلکی پھلکی بات چیت اور اپنے رویے Attitudeکو تبدیل کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہمارے سوچنے کا انداز ہی ہوتا ہے جو یا تو ہمیں مختلف بیماریوں کا شکار بھی بنا سکتا ہے یا پھر ہمیں معاشرے میں ایک کامیاب شہری بھی بنا سکتا ہے۔ اگر ہم خو د کے بجائے دوسروں کی فلاح کے بار ے میں سوچنا شروع کر دیں تو ہمارے مسائل بہت معمولی نظر آنے لگیں گے۔

ہمارے ہاں غصہ بہت سی مسائل کی جڑ ہے۔ غصہ بھی ہم اپنے والدین اور گھر میں رہنے والے لوگوں سے ہی سکھتے ہیں۔ بے جا لاڈ پیار اور ناجائز فرمائشوں کو پورا کرنے والے والدین دراصل اپنے بچوں کے اندر غصے کا بیج بورہے ہوتے ہیں۔سو میں سے اگر ایک خواہش بھی پوری نہ ہوئی تو ان کے بچے غصیلے بن جاتے ہیں۔ والدین ان بچوں کو بچہ سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تمام جائز اور ناجائز خواہشات پوری ہوں ۔ عملی زندگی میں اس طرح کے بچے اپنی بیوی اور بچوں کے لیئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ اکثر لاڈلی بچیوں کو بہت جلدی طلاق ہوجاتی ہے کہ ان کے لاڈ اٹھانے والا سسرال میں کوئی نہیں ہوتا۔ غصے سے بچینے کے لیئے اس کو پی جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن آجکل ہمیں اس کی کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔ عملی طور پر بھی گھر کے بڑے اپنے غصے کو چھوٹوں یا گھر کے ملازموں پر نکالتے ہیں۔اس گھر میں رہنے والے بچے بھی یہی سیکھ جاتے ہیں کہ غصے کو نکالنے کا یہی طریقہ ہے اور وہ اس پر اپنی باقی ماندہ زندگی میں عمل پیرا رہتے ہیں ۔

Moralities کے دیگر پروگرامز میں کامیابی آپ کے اندر ہے،وزن کو کنڑول کریں ادویات کے بغیر،اپنے ازدواجی تعلقات کو بہتر بنائیں اور صحتمند اور پرسکون زندگی کیسے حاصل کریں ،شامل ہیں۔

طلباء و طالبات کے لیئے انٹرویومیں کامیابی کا حصول،کاروباراور کامیابی،کیرئیر کا درست انتخاب،Train the Trainer،متاثر کن شخصیت،کامیابی کے راز اور ٹیچرز ٹریننگ بھی شامل ہیں۔ سیلز مین اور سیلز گرلز کے لیے سیلز میں اضافہ کرنے کے گُر اور ایک مضبوط سیلز ٹیم بنا نے کے طریقے بھی بتا ئے جاتے ہیں اور اپنے گاہکوں اور ٹیم کے اراکین سے عمد تعلقات پیدا کرنے کے راز بھی آشکارا کئے جاتے ہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanveer Ahmed

Read More Articles by Tanveer Ahmed: 69 Articles with 42197 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2019 Views: 369

Comments

آپ کی رائے