کیچڑ نہ اچھالیے

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

جی ہاں! ہمیں دوسروںپر کیچڑ اچھالنے سے بچنا چاہیے۔ عام طور سے ہم لوگ اس سے بچتے بھی ہیں۔ اردو میں کیچڑ سے متعلق کئی محاورات و ضرب الامثال موجود ہیں مثلاًکیچڑ اچھالنا، کیچڑچپکنا، کیچڑ کی اینٹ، کیچڑ کی کوڑی دانتوں سے نکالنا،کیچڑ میں پھنسنا، کیچڑ میں لوٹنا اور کیچڑ میں پتھر مارنےسے چھینٹیں اپنے ہی اوپر آتی ہیں۔

یہ سب تو محاورات ہیں لیکن اس وقت ہم حقیقی معنوں میں کیچڑ اچھالنے کی بات کررہے ہیں۔بارش کے موسم میں جب سڑکوں ، گلیوں، چوراہوں غرض ہر جگہ پانی ہی پانی ہوتا ہے، کیچر ہوتی ہے، اس عالم میں جب لوگ بحالتِ مجبوری سفر کرتے ہیں ؛ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ گندگی ، کیچڑ اور گندے پانی سے اپنے آپ کو بچا کر چلیں لیکن اچانک کوئی تیز رفتار گاڑی ا ن کے قریب سے گزرتی ہے اور ان کی ساری کوششوں پر ( گندا) پانی پھیر دیتی ہے۔ اس کے بعد بندا اس گاڑی والے کو گالیاں دیتا اور اپنی قسمت کو کوستا رہ جاتا ہے۔یہ بھی کیچڑ اچھالنا ہی ہے۔یہ صرف احساس اور اخلاقی تربیت کی بات ہوتی ہے ورنہ گاڑی کی رفتار کم کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا لیکن اخلاقی قدروں کو زوال آتا جارہا ہے اور لوگ اس کا بھی خیال نہیں رکھتے۔

یہ تو ایک طریقہ ہےکیچڑ اچھالنے کا ۔ اب ہم بات کرتے ہیں کیچڑ اچھالنے کے دوسرے طریقے کی ۔ آپ بارش میں یا بارش کے بعد اپنی موٹر سائیکل پر سفر کررہے ہیں، آپ کی پوری کوشش ہے کہ آپ پانی اور کیچڑ سے بچتے ہوئے جائیں۔ اس لیے آپ بہت محتاط انداز میں موٹر سائیکل چلا رہے ہیں۔لیکن منزل پر پہنچ کر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی قمیص یا شرٹ پر سامنے کی جانب کیچڑ کی ایک دھار بنی ہوئی ہے جو آپ کے گریبان سے لے کر دامن تک جارہی ہے۔ آپ حیران و پریشان ہیں کہ یہ کیچڑ میرے کپڑوں پر کیسے آئی ؟

ہم بتاتے ہیں کہ یہ کیچڑ کیسے آئی ؟ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے پہیّوںپر کیچڑ سے بچنے کے لیے ایک پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا پُرزہ لگایا جاتا ہے، جس کو فلیپ FLAP کہاجاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا پُرزہ یا ٹکڑا بمشکل 25 یا 30 روپے کا ملتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پہیوں سے اڑنے والی گرد ، کیچڑ یا پانی پیچھے آنے والی گاڑیوں پر نہیں جاتا بلکہ اس فلیپ کی وجہ سے وہ رک جاتا ہے۔اب آپ یاد کیجیے کہ دوران ِ سفر کئی موٹر سائیکلوں اور رکشوں نے آپ کو اوور ٹیک کیا تھا اور آپ سے آگے نکلے تھے۔ ان موٹر سائیکلوں یا رکشوں کے پچھلے پہیوں فلیپ یا مڈ گارڈ نہیں تھا۔ اب اگرچہ وہ لوگ چند سیکنڈز میں آپ کو پیچھے چھوڑ گئے لیکن اپنی نشانیاں آپ کی قمیص پر ثبت کرگئے۔اب آپ بیٹھ کر ان کو گالیاںکوستے رہیے ، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہاں البتہ ان کے کارنامے کی وجہ سے آپ کی اس دن دفتر سے غیر حاضری ہوسکتی ہے یا آپ اگر کسی تقریب میں جارہے تھے اب آپ وہاں جانے کی بجائے واپس گھر کو آجائیں گے۔ ساتھ ساتھ ان کو کوستے بھی رہیں گے۔

لیکن ان کو کوسنے کے بعد ذرا اپنی موٹر سائیکل کا بھی جائزہ لیجیے کہ اس میں بھی یہ فلیپ لگے ہیں یا نہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کسی کو گالیاں دے رہے ہوں اور کچھ لوگ آپ کو بھی گالیاں دے رہے ہوں۔ تو بس اچھائی اور آسانی تقسیم کرنے کا آغاز اپنے آپ سے، اپنی ذات سے کیجیے۔ بارشوں سے پہلے پہلے 25،30 روپے خرچ کیجیے ، اپنی گاڑی کے پہیّوں پر فلیپ لگایئے اور لوگوں پر کیچڑ نہ اچھالیے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 331 Print Article Print
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 510 Articles with 923288 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More

Reviews & Comments

Language: