خوشی ہر پل ہمارے آس پاس ہوتی ہے

(Roshan Khattak, Peshawar)

 خوشی ، عقل کے ایک ایسے احساس کا نام ہے جس میں اطمینان، تسلی،پیار ،فرحت و مسرت کی کیفیات اجاگر ہوتی ہیں۔

یہ کیفیت والدین خصوصی طور پر اس وقت محسوس کرتے ہیں جب ان کی اولاد ترقی کے زینہ پر اوپر کی طرف قدم رکھتی ہے ،ماہ اگست2019 میں ایک ایسا ہی دن گزرا جو میرے لئے باعثِ مسرت اور خوشی کا دن تھا کیونکہ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے فرزندِ ارجمند کو میجر رینک کے بیجز لگائے ،یہ لمحہ نہ صرف یہ کہ لمحہ یادگار بنا بلکہ مجھے یہ احساس بھی دلایا کہ خوشی تو زندگی کی گواہی ہے،زندہ ہونے کا اظہار ہے،زندہ دلی کی دلیل ہے۔خوشی کسی مادی شے یا دولت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ لوگ جن کے پاس دنیا جہاں کی ہر شے ہے،کبھی نا خوش نہ ہوتے۔موجودہ زمانے میں زمانے میں ذہنی دباؤ، ڈیپریشن اور نفسیاتی امراض بہت زیادہ ہیں ۔

بہت کچھ ہونے کے باوجود آج کا انسان موجودہ طرزِ زندگی سے خوش نہیں ہے حالانکہ پہلے زمانہ کی نسبت آج کے زمانہ میں بہت سہولیات موجود ہیں۔آج سے پچا س سال پہلے لوگ ساگ،پیاز کے ساتھ کھانا کھا کر خوشی کے دولت سے مالامال تھے ،آج دستر خوان پر کئی قسم کے کھانے مہیا ہیں مگر خوشی پھر بھی نہیں ہے۔حالانکہ خوشی ہماری صحت کے لئے صرف اچھی ہی نہیں بلکہ بہت ضروری اور لازمی بھی ہے۔خوش رہنے والے لوگوں کی قوتِ مدافعت زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور ایسے لوگ زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں ۔خوشی لوگوں کے دلوں میں وسعت پیدا کرتی ہے،طمانیت کا احساس پیدا کرتی ہے اور تکالیف سے گزرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔دیگر انسانوں سے تعلقات میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جبکہ نا خوشی ہماری صلاحیتوں،ہمارے کام کرنے کے جزبہ پر اثر انداز ہو تی ہے بلکہ ہمارے اندر زندہ رہنے کے خواہش کو کمزور بنا دیتی ہے۔

درحقیقت خوشی ایسی خوش کن ذہنی جزبات و کیفیات کا نام ہے جس میں طبیعت مثبت اور اور خوشگوار جذبات جنم لیتے ہوں۔ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ صحت خووشی کو چار درجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔پہلا درجہ خوشی کا وہ ہے جو مادی اشیاء سے حاصل ہوتی ہے ۔مثلا دولت، اچھا کھانا ،پینا وغیرہ۔دوسری خوشی وہ ہوتی ہے جو کسی کام میں کامیابی حاصل کرنے سے ملتی ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جو اچھے اور
نیک کام کرنے سے ملتی ہے۔آخری اور کامل خوشی اندر کی خوشی ہے۔ دراصل یہی اندر کی خوشی روحانی کیفیت کا نام ہے۔جو لوگ اپنے نصیب پر خوش ہوتے ہیں،وہی لوگ خوش نصیب ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کی روح خوش ہوتی ہے اور جس کسی کی روح خوش ہو، وہ مطمئن اور پر سکون ہوتے ہیں،ان کا جسم اور دماغ بھی پر سکون اور خوش رہتے ہیں ۔۔ایسے لوگ صبر، شکر،امید،قناعت وگیرہ پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔جن لوگوں میں غموں سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہو تی ہے ، وہ مشکل صورتِ حال میں اچانک گھبرا جاتے ہیں اور حوصلہ چھوڑ جاتے ہیں ۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی اﷲ کی جانب سے دیا گیا ایک حسیں تحفہ ہے،اس حسیں تحفے کی قدر کرنی چا ہیے۔جس طرح موسم اپنے اندر ہر رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے اسی طرح زندگی کا موسم بھی اپنے اندر دھوپ چھاؤں لئے ہوئے ہوتا ہے۔نا موافق حالات میں بھی مثبت سوچ اور مثبت طرزِ عمل بہت کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ انسانی کا مثبت طرزِ فکر چھوٹی چھو ٹی خوشیوں کو بھی بہت بڑا بنا دیتی ہے اور بڑے بڑے غموں کو چھوٹا کر دیتی ہے لہذا ہمیشہ ہر چیز میں اچھائی تلاش کریں۔ ملازمت کے دوران ترقی ملنا ایک معمول کی بات ہے ،میرے بیٹے کو ترقی ملی تو میں نے اس چھوٹی سی خوشی کو کئی گنا زیادہ بنانے کے لئے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے پر مدعو کرکے ہنسی مذاق اور ہلہ گلہ کرکے اپنی خوشی کو دوسروں میں بھی تقسیم کیا ، اس طرح میری خوشی دوبالا ہو گئی۔ گویا خوشی کو دوسروں میں تقسیم کرنے سے خوشی میں اضافہ ہو تا ہے۔ہمارے ارد گرد بہت ساری چھوٹی چھوٹی خوشیاں موجود ہوتی ہیں مگر ہمیں ان کا احساس نہیں ہو تا ،۔ یاد رکھیئے خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے ڈھونڈنا پڑتا ہے، خوشی ایک غیر محسوس ٹھنڈے اور لطیف احساس کا نام ہے جو ہر مرض کی دوا ہے، یہ دوا آپ کے ارد گرد،ہر پل موجود ہوتی ہے، جس کے لئے مثبت سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 266 Articles with 154173 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
27 Aug, 2019 Views: 431

Comments

آپ کی رائے