تنخواہ نہیں وفا

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

ظہر نماز کے بعد کاوقت ہے،فضا میں پرندے محوپرواز ہیں۔ مختلف گھروں سے اونٹوں کے بغبغانے،گھوڑوں کے ہنہنانے اوربکریوں کے ممیانے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔بچوں کو کھیلتے ہوئے ہوئے اچانک آپس میں الجھتا دیکھ کرایک صحابی ؓ انہیں سمجھارہے ہیں۔ہوادیوانہ وار سرزمین مدینہ کوچوم چوم اورجھوم جھوم کرگنبدخضریٰ کاطواف کررہی ہے۔سراپارحمت سرورکونین حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے جانثارصحابیٰ اکرام ؓ کے درمیان تشریف فرما ہیں۔دید کی لذت سے عشاق کے چہروں کی خوشی دیدنی ہے۔چہرہ محمد ؐ کے انواردیکھنا ،ان کی صحبت میں بیٹھنا اوران سے براہ راست احکام الٰہی سنناصحابیٰ اکرام ؓ کے نزدیک بیش قیمت سعادت ہے۔اس دوران پسینے سے شرابور ایک صحابی ؓ اپنے فرزندکوتلاش کرتے ہوئے بارگاہ رسالتؐ میں حاضر ہوتے اورعرض کرتے ہیں اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر سے اپنے گمشدہ بیٹے کیلئے پریشان اوراسے ڈھونڈرہا ہوں ،اس اثناء میں ایک دوسرے صحابی ؓ نے انہیں بتایامیں نے کچھ د ور گلی میں آپ کے بیٹے کواپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ہے یہ سن کر ان صحابیؓ نے اس گلی کی طرف دوڑلگادی جس پر محسن انسانیت حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں آوازدی جوانہوں نے نہیں سنی ،ایک صحابی ؓ ان کے پیچھے جاتے اورانہیں واپس بارگاہ رسالتؐ میں لے آتے ہیں ۔حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا وہاں بچوں کے درمیان اپنے بیٹے کوبہت زیادہ جوش سے آواز دینااورنہ باپ کی شفقت کامظاہرہ کرنا کیونکہ ہوسکتا ہے ان بچوں میں سے کوئی یتیم ہوتوسوچواس کے دل پرکیا گزرے گی۔یہ دین فطرت اسلام کی تعلیم وتربیت ہے۔کاش ہم بھی یتیموں کے جذبات واحساسات کی اس قدر پرواہ کرتے جس قدرمحسن انسانیت ،رحمت دوجہاں حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا ہے۔ میں نے کالم کی شروعات میں اہل اسلام کی ا رواح کوسیراب اورسرشار کرنیوالے جس واقعہ کو سپردقرطاس کیا ہے اس میں کمی بیشی پراﷲ عزوجل مجھے درگزر فرمائے،اس واقعہ میں پنہاں نصیحت کی اہمیت اورحساسیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔دعا ہے تقدیر ہمیں کسی یتیم کی دل آزاری کاسبب نہ بنائے ۔میں جب بھی کسی باوردی آفیسریااہلکارکی بیوہ اوربچوں کو بھرپوراستقامت کے ساتھ اپنے شہید کاجسدخاکی اوراس کی سٹارز سے جگمگاتی وردی وصول کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پرترس نہیں بلکہ رشک آتا ہے کیونکہ وہ ہم سے بہتر اوربرترلوگ ہیں۔شہیدوں کے ورثاء کے اشک درحقیقت رشک کی غمازی کرتے ہیں ۔ مادروطن کی خدمت ا ورحفاظت کی سعادت جبکہ اس کیلئے شہادت ہرکسی کونصیب نہیں ہوتی ،ان شہیدوں اورغازیوں کواﷲ تعالیٰ کاحسن انتخاب کہنابیجا نہیں ہوگا۔یقینااﷲ رب العزت جس سے راضی ہواسے مقام شہادت عطاء فرماتا ہے مگر ہم نادانوں کوشہیدوں کی قدروقیمت بارے شعور نہیں ہے ۔راہ حق میں شہادت کی آرزوتواپنے اپنے دورکے پیغمبر اورہمارے محبوب صحابیٰ ؓ بھی کرتے رہے ہیں ۔ہم اپنے سکیورٹی اداروں کے شہیدوں اورغازیوں میں فرق نہیں کرسکتے کیونکہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔اگرکسی کی شہادت پراس کے ورثا کوپوری کائنات بھی دے دی جائے تواس سے ان کی محرومی کامداوانہیں ہوسکتا۔ہمارے فرض شناس سکیورٹی اداروں کے سرفروش جانبازوں کامادروطن سے'' تنخواہ'' نہیں ''وفا''کااٹوٹ رشتہ ہے۔کوئی انسان چندہزارروپوں کیلئے اپنی بیش قیمت جان داؤپرنہیں لگاتا بلکہ صرف وہ بچے ماں پرفداہوتے ہیں جو وفاداراورفرمانبردارہوں ۔پاک فوج کی طرح رینجرزاورپولیس کے شہداء بھی اعلیٰ اعزازات اورمراعات کے مستحق ہیں ۔پاک فوج کے جانباز جس ماں کے فرزند ہیں رینجرزاورپولیس کے شہداء بھی اسی کے سپوت ہیں ۔تینوں وطن اورامن کیلئے جام شہادت نوش کرتے ہیں،ایک ماں کے تین بیٹیوں میں امتیازی رویہ مناسب نہیں۔جس قوم کے شہداء اس کاسرمایہ افتخار ہوتے ہیں اسے شکست نہیں دی جاسکتی۔پاک سرزمین کوہمارے شہیدوں نے اپنے مقدس لہو سے سیراب کیا ہے یہ قیامت تک بانجھ نہیں ہوگی۔اگرہم متحدہو ں توہزارمودی اورکروڑوں دہشت گردبھی ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتے۔جولوگ اپنے خون سے اپنی تاریخ رقم کرتے ہیں انہیں کوئی مودی مرعوب نہیں کرسکتا ۔پاکستان میں دہشت گردی کی آگ ہمارے شہیدوں نے اپنے خون سے بجھائی ہے اوراس میں پاک فوج کے ساتھ ساتھ پنجاب اورلاہورپولیس سمیت چاروں صوبوں کی پولیس کے شہداء کوبھی کریڈٹ دیناہوگا۔چھ سات سال پہلے تک پولیس شہداء کاکوئی پرسان حال نہیں تھاتاہم اب شہید وں کے وارث بے وارث نہیں ہوتے،الحمدﷲ پولیس شہداء کی عزت افزائی جبکہ ورثا کی اشک شوئی اورحوصلہ افزائی کیلئے راقم کی مثبت تجاویزسے بھرپور تحریروں نے بھی پولیس قیادت کوبیدارکرنے میں کلیدی کرداراداکیا ۔اس سلسلہ میں راقم کے متعدد کالم ریکارڈپر ہیں۔اب آئی جی پنجاب ،ڈی آئی جی اورڈی پی اوحضرات سبھی شہداء کے ورثاکی راہوں میں اپنی آنکھیں بچھادیتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک ڈی پی اواپنے ہاتھوں سے کسی شہید اہلکار کے کھیت میں دھان کی پنیری لگارہے تھے ۔اب ڈی آئی جی اورڈی پی اوباپ بن کرشہیدوں کی بیٹیوں کی رخصتی میں پیش پیش ہوتے ہیں۔اب ریٹائرمنٹ پرغازیوں کو بھی بھرپورعزت دی جاتی ہے ۔شہیدوں کے ورثاکی اشک شوئی ،ان کیلئے مسلسل آسانیاں پیدا جبکہ غازیوں کی عزت افزائی کرنا لاہوراورپنجاب پولیس کا ہرطبقہ اپنافرض اورخودپرقرض سمجھتا ہے،اس طرح تعمیری اورفلاحی اقدامات سے یقینامحکمے کامورال مزید بلندہوگا۔

4اگست کی دوپہر شاہراہ قائداعظم ؒ پرواقعہ الحمراء ہال میں شہداء پولیس کی پروقار،منظم اورمستحسن تقریب میں پہنچا تووہاں شہیدوں کے ورثا سمیت یتیم مگرپرعزم بچے بھی موجود تھے۔شہداء کے متعددباوردی ورثاکو تقریب کے انتظامات کرتے ہوئے دیکھنااچھالگا ۔متعدد سرکاری اداروں کے ہوتے ہوئے شہیدوں کے ورثا کاشہریوں کی خدمت اورحفاظت کیلئے پولیس کاانتخاب کرنا درحقیقت اس محکمے پران کے اعتمادکاآئینہ دار ہے۔شہداء کی یادمیں تقریب کے انتظامات میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ رہے اس سلسلہ میں انتھک اشفاق احمدخان کاصادق جذبہ قابل دید تھا،ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کرلگا انہوں نے اپنے پیاروں کوکھودیا ہے ،وہ تقریب کے باضابطہ شروع ہونے تک مسلسل متحرک رہے ۔ڈی آئی جی آپریشن لاہوراشفاق احمدخان سے زیادہ یتیم بچوں کادرد اوراحساس محرومی کون سمجھ سکتا ہے کیونکہ ان کابھی نوعمری میں یتیمی سے واسطہ پڑگیا تھاتاہم ان کی خدادادصلاحیتوں اوراوصاف حمیدہ کی حامل ماں جی نے انہیں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔نیک سیرت ماں جی کی نیک نیت، غیرمعمولی تربیت اورنصیحت نے اشفاق احمدخان کی کایا پلٹ دی اورانہیں زندگی کے ہرمیدان اورامتحان میں نمایاں کامیابی ملی ۔ لاہور کے زیرک اوردانشورسی سی پی او بی اے ناصر،ڈی آئی جی آپریشن لاہوراشفا ق احمدخان اورڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہورڈاکٹرانعام وحیدخان خود شرکاء کاشایان شان استقبال کررہے تھے ۔شہرلاہور کے ادب اور قلم قرطاس سے وابستہ سی ٹی او کیپٹن (ر)لیاقت ملک نے شاندار تقریب کے میزبان کی حیثیت سے اپنے جوہرکابھرپورمظاہرہ کیااورشرکاء سے دادوتحسین وصول کی۔سی سی پی اولاہور بی اے ناصر کوتقریرسے زیادہ تحریر پسند ہے۔بی اے ناصر میڈیا میں بیانات سے زیادہ اپنے ماتحت اہلکاروں کی انفرادی جبکہ ادارے کی مجموعی کارکردگی کومزید موثربنانے کیلئے مثبت اقدامات اور دوررس اصلاحات کے حامی ہیں۔ بی اے ناصر سے ہوئی ایک ملاقات میں ان کے تجزیے اور آئیڈیازسن کرخواشگوار حیرت ہوئی۔انہوں نے مختلف ملکوں کی پولیس اورہماری پولیس کے درمیان اعدادوشمار کے ساتھ موازنہ پیش کیا۔راقم نے انہیں بتایا کہ ہمارے ہاں ایک دوسرے کوسننے اورسنانے کارواج نہیں ہے ،آپ اہل قلم کے ساتھ نشست رکھیں اوران کے ساتھ معلومات شیئرکریں وہ پولیس کے وسائل اورمسائل میں فرق معلوم ہونے کے بعداس پرتنقید کرنے کاخیال اپنے دل سے نکال دیں گے ۔جس طرح دوسرے ملکوں کی افواج اورپاک فوج کے بجٹ میں زمین آسمان کافرق ہے بالکل اس طرح دوسرے ملکوں کی پولیس کے بجٹ سامنے ہماری پولیس کابجٹ ایک مذاق لگتا ہے ۔

تقریب کے احوال کی طرف واپس آتے ہیں،مجھے الحمراء ہال کے باہراوراندر ہر طرف شہداء پولیس کے مسرور اورپرنورچہرے نظرآرہے تھے۔شہداء کووہاں آنے کیلئے کسی دعوت کی ضرورت نہیں تھی وہ اپنی شہادت کے بعد اپنوں کاخلوص اورمورال دیکھنے آئے تھے۔الحمراء ہال میں آنیوالے شہداء کودیکھنے کیلئے روحانیت کی ضرورت تھی،راقم نے انہیں تقریب میں ہرطرف محسوس کیا۔بیشک شہداء زندہ ہیں اورجوزندہ ہووہ دیکھنے ،سننے اورسنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔شہداء اپنی یادیں تازہ کرنے کیلئے ہونیوالی تقریب کے شرکاء سے باتیں کررہے تھے مگر مجھے لگتا ہے مجھ سمیت صرف چندافرادنے ان کی باتیں سنی ہوں گی۔شہداء اپنے لہو کی سرخی سے ڈسپلن فورس کی اہمیت اورخدمات کی شہادت دے رہے تھے ،اپنے ادارے کی قربانیوں کے حق میں ان کی شہادت کومسترد نہیں کیاجاسکتا ۔جس معاشرے کی حفاظت کیلئے انہوں نے اپنے سینے دیواراورڈھال بنادیے تھے اس معاشرے سے ان کے کچھ جائز گلے بھی تھے۔میں نے ان شہداء کے شادمان چہروں پراطمینان دیکھا تومجھے پولیس سمیت سکیورٹی اداروں کودن رات گالیاں دینے والے ''بونے'' یادآگئے جواس پاک دھرتی پربوجھ ہیں۔پولیس کوگالیاں دینے والے جانے انجانے میں لاہورپولیس کے311شہیدوں سمیت پنجاب بھر کے1500 شہداء کی ارواح کوبھی تڑپاتے ہیں۔شہیدوں کے بچھڑجانے پران کے ورثا کی آنکھوں میں نمی نہیں آتی لیکن پولیس کیلئے گالیاں سن کروہ خون کے آنسوروتے ہیں ۔جوپولیس والے ہماری خاطر شرپسندعناصر کی گولیا ں کھاتے ہیں الٹا انہیں ہم گالیاں دیں توکیا یہ شرم سے ڈوب مرنے کامقام نہیں ہے۔کیا ہم پولیس کے بغیر زندگی تودرکنار ایک رات کاتصور کرسکتے ہیں،جوپولیس پرتنقید کرتے ہیں وہ اصلاح کیلئے تجاویزبھی تودیں۔جومعاشرے کرپشن میں لتھڑے ہوں وہاں ادارے اس نجاست سے سوفیصد پاک نہیں رہ سکتے ۔پولیس میں کرپشن سے انکار نہیں لیکن بدعنوانی کی دوڑ میں ہماری سیاست اورصحافت نے دوسرے ریاستی اداروں کوبہت پیچھے چھوڑدیا ہے۔میں سمجھتا ہوں وہ لوگ پولیس پرتنقید بلکہ اس ڈسپلن فورس کی توہین کرتے ہیں جوپولیس کی ابجد سے واقف نہیں ۔جس طرح اسلام پرتنقید کیلئے اس کامطالعہ کرناازبس ضروری ہے اس طرح پولیس پرتنقید کیلئے بھی اس فورس کے نظام کوسمجھنا ناگزیر ہے۔جس طرح بیسیوں یاہزاروں مسلمانوں کے افکاروکردارمیں غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن اسلام میں زیرزبر کی بھی غلطی نہیں اس طرح سینکڑوں پولیس آفیسریا اہلکاربدعنوان یانااہل ہوسکتے ہیں لیکن معاشرے کیلئے پولیس فورس کاوجود ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔سیاست ،صحافت اوراداروں سمیت جہاں بھی چورہوں انہیں چورکہنا اوران کے احتساب کیلئے آوازاٹھاناہمارا فرض ہے لیکن ریاستی اورقومی اداروں پرکیچڑاچھالناہرگز جائز نہیں اورنہ اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ یوم شہداء کے سلسلہ میں شانداراورقابل رشک تقریب کے انعقادکاکریڈٹ سی سی پی اولاہوربی اے ناصراورڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمدخان سمیت ان کے ٹیم ممبرز کوجاتا ہے۔ لاہورپولیس کی حالیہ اڑان کے پیچھے اشفاق احمدخان کاجنون اورویژن ہے ،انہوں نے اپنے ماتحت اہلکاروں کوایک خاندان بنادیا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 425 Print Article Print
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 21 Articles with 3997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: