سنکیانگ میں آباد مسلمان

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر ۔۔۔سید کمال حسین شاہ
وطن اس مکان یا جگہ کا نام ہے جہاں انسان اقامت پذیر ہوتا ہے ،انسان جب اس جگہ پر اپنی قیمتی زندگی کا کچھ اہم حصہ گزار لیتا ہے تو اسے اس جگہ اور وہاں کی عمارتوں اوراس کے گردو نواح رہنے والے افراد سے فطری طور پر کافی انسیت اور محبت پیدا ہو جاتی ہے ،اسی لئے جب کوئی انسان کسی ضرورت کے پیش نظر وطن سے دور ہوتا ہے تو اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد اپنے وطن عزیز کو واپس ہوجائے،اور اس محبت میں کوئی قباحت بھی نہیں کیو نکہ اس کا ثبوت صحیح حدیث نبوی سے ملتا ہے.انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، جہاں رہتا ہے اس سرزمین سے محبت ایک فطری عمل ہے۔ ہمیشہ سے انسان نے اپنے علاقے پر فخر بھی کیا اور اپنے وطن کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی بھی لگا دیتا وطن سے محبت سے مراد کسی شخص کی اپنے وطن کے لیے بے پناہ محبت اور پیار ہے۔ایک محب شخص اپنے ملک سے ثقافتی اور فکری طور پر جڑا ہوتا ہے اور وہ اپنے ملک وقوم کی بقا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتاہے۔کیونکہ وہ اس ملک کی مٹی میں جنا ہوتا ہے اور پھر یہی مٹی میں وہ پروان کو چڑھتا ہے اور پھر یہی مٹی اس کی باقی تمام ملکوں کی مٹی سے افضل نظر آتی ہے۔وطن سے محبت کا ایک جز یہ بھی ہوتا ہے جس کی بنا پر ایک ملک قائم ہوتا ہے۔سنکیانگ عوامی جمہوری چین کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔ یہ ایک وسیع علاقہ ہے تاہم اس کی آبادی بہت کم ہے سنکیانگ کی سرحدیں جنوب میں تبت اور، جنوب مشرق میں چنگھائی اور گانسو کے صوبوں، مشرق میں منگولیا، شمال میں روس اور مغرب میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان ،پاکستان اورمقبوضہ کشمیر سے ملتی ہیں.سنکیانگ کا مطلب "نیا صوبہ" ہے، یہ نام اسے چنگ دور میں دیا گیا۔ یہاں ترکی النسل باشندوں کی اکثریت ہے جو اویغور کہلاتے ہیں۔ جو تقریباً تمام مسلمان ہیں۔صوبے کا دارالحکومت ارومچی ہے جبکہ کاشغر سب سے بڑا شہر ہے۔ کاشغر بذریعہ شاہراہ قراقرم و درہ خنجراب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے منسلک ہے اور درہ تورگرت اور ارکشتام سے کرغزستان سے ملا ہوا ہے

چین کے مسلمان چین کا فخر ہے۔ چین جیسے ترقی کر رہا۔سی پیک سے ترقی پروان چڑھ رہا ہے۔ دشمن ممالک کی کوشش ہے اس کو ناکام بنایا جائے۔وہ مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔انھوں عام پاکستانیوں مسلم ممالک میں چین کے مسلمانوں مسلہ پیش کیا۔لیکن وہ جھوٹ نام کر دیا مسلمان ممالک نے مل کر پاکستان،سعودی عرب ،نائجیریا،الجیریا 37ممالک کے سفیروں نے بیجنگ کی طرف سے امر یکا کو خط لکھا جس میں اعتراف کیا گیا کہ چین نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کا سامنا کیا تھا،تاہم انسداد دہشت گردی اقدامات اور ووکیشنل ٹریننگ کے نتیجے میں وہاں امن اور سیکورٹی بحال ہوئی ہے۔37ممالک کے سفیروں اور سنکیانگ کی اہم شخصیات کی جانب سے لکھے گئے خط میں چین میں انسانی حقوق کی تعریف کی گئی ،خط میں امریکی سیکرٹری خارجہ ما ئیک پو مپیو کومخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ہم نے نوٹس کیا ہے کہ آپ نے چین کے خلاف سخت بیانات جاری کیے ہیں۔جن میں سے بہت سے سنکیانگ میں نسلی اور مذہبی گروپوں کی صورتحال اور انسانی حقوق کے حوالے سے الزامات پر مبنی ہیں،ہم سکالرز اور دانشور آپ کی ناقص معلومات ،غیر ذمہ درانہ اقدام اور غلط الفاظ پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ سنکیا نگ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے انتہا پسندی کے نظریات پھیلے اور مسلسل دہشتگردی کی کاروائیاں ہوئیں جن سے نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں اور جائیدادوں کو نقصان پہنچا۔اس وقت 11ستمبر کے دہشتگردانہ حملوں کے بعد سنکیانگبا لکل امریکی ریاست من ہیٹن کی طرح تھا جہاں لوگ ڈر اور خوف کی فضا میں رہتے تھے وہاں تمام قومیت کے لوگوں نے حالات کا سامنا کیا اور دہشگردی جیسی مجرمانہ کاروائیوں کی مذمت کی، سنکیانگ میں قوانین کے مطابق تشدد پر مبنی دہشتگردی کی کاروائیوں اور جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کیاگیا۔ اور وکیشنل تعلیم پر مبنی تربیتی مراکز ،اور ذرائع کی مینجمنٹ کو اہمیت دی گئی۔یہ مراکز قوانین کے تحت قائم کیے گئے جہاں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کیلئے تعلیم کی حمایت کی گئی جس سے ان مجرمانہ کاروائیوں کا خاتمہ یقینی بنانے میں مدد ملی ،کم جرائم پیشہ افراد کیلے بھی فنی تعلیم کے مراکز قائم کیے ، اس وقت سنکیانگ میں مجموعی طو رپر معاشرتی استحکام موجود ہے،گزشتہ تین سالوں میں تشدد اور دہشتگردی کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی،2018میں150ملین سے زیادہ لوگوں نے سنکیانگ کا رخ کیا جس میں 2.4ملین غیر ملکی سیاح تھے، ملکی اور غیر ملکی سیاحو ں نے سنکیانگ میں حاصل کی جانے والی معاشی اور سماجی ترقی کے حوالے سے اطمینان کا ا ظہار کیا، آپ کا یہ دعویٰ کے سنکیانگ کی جیلوں میں دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کو رکھا گیا ہے، بلکل غلط ہے ہم نے سنکیانگ میں و وکیشنل تربیتی مراکز اور فنی تعلیمی مراکز کا دورہ کیا اور دیکھا کہ طلباء۔ قومی زبان ،قانون ،کپڑوں کی تیاری ،فوڈ پروسیسنگ ،ہیئر ڈریسنگ اور دوسری صلاحیتیں حاصل کررہے ہیں جو کہ بہترین تعلیم اور پڑ ھا نے سے ممکن ہوا ہے، طلباء۔ کھیل کے میدانوں ،لائبریریوں اور دوسرے مقامات میں اپنی ثقافتی زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں۔طلباء۔ ہر ہفتے اپنے گھر جاسکتے ہیں اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو تعطیلات کے لیے درخواست دے سکتے ہیں نجی آزادی کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے، ہم نے دیکھا کہ بہت سے طلباء۔ مذہبی انتہاپسندی کے نقصانات کی اقسام اور نوعیت سے واقف ہیں،اور ان مجرمانہ کاروائیوں سے نفرت کرتے ہیں، اور طلباء۔ حکومت کے علاوہ جماعت کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے انھیں تعلیم فراہم کی اور دہشتگردانہ سرگرمیوں سے روکنے میں مددفراہم کی۔ہم نے دیکھا کہ بہت سے گریجویٹ طلباء مستحکم روزگار حاصل کرچکے ہیں، اچھی تنخواہیں حاصل کررہے ہیں ،اور اپنے اہلخانہ کیلئے اپنی صلاحیتوں کے ساتھ اچھی زندگی کا بھی اہتمام کررہے ہیں۔خط میں شخصیات کی جانب سے امریکی سیکرٹری خارجہ سے سوال کیا گیا کہ آپ یہ دعویٰ کیوں کرتے ہیں کہ سنکیانگ میں ایک نظام کے تحت یغور ثقافت کا قتل عام کیا جارہا ہے؟ عوامی جمہوریہ چین کا آئین یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست تمام نسلی گروہوں کے قانونی حقوق اور مفادات کا تحفظ فراہم کرتی ہے اور نسلی اقلیتوں کے علاقوں میں معاشی اور ثقافتی ترقی فراہم کرتی ہے، سنکیانگ میں متحرک طریقے سے نسلی اقلیتوں کی ثقافتوں کو تحفظ فراہم کیا گیا،اور نسلی اقلیتوں کو لازمی تعلیمی سکولوں میں زبان بھی سکھائی گئی، عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے امریکہ نے بھی اپنے شہروں میں ویڈیو کیمرے نصب کیے اور بیس بڑے ائیرپورٹس پر چہروں کی شناخت کے عمل کو شروع کیاگیا،تو پھر اس کے بعد سنکیانگ میں ویڈیو کیمروں کی تنصیب پر سوال کیوں اٹھائے گئے ہیں؟یہ واضح طور پر دوہرا معیار ہے ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ سنکیانگ میں نسلی اور مذہبی گروہوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے مناسب تجزیہ کرے گا۔ جھوٹ بولنا بند کرے گا غلط باتیں شیئر کرنے سے رکے گا اور فوری طورپر سنکیانگ جو کہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اس پر مداخلت سے باز رہے گا۔

سنکیانگ کے نائب گورنر نے عالمی برادی کی جانب سے ریاستی حراسی مراکز کی مذمت کے جواب میں کہا تھا کہ یہ دراصل تربیتی مراکز ہیں جو لوگوں کو شدت پسند رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں.بیجنگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ان ‘پیشہ ورانہ تربیتی مراکز‘ میں شرکت کر رہے ہیں، تاکہ اس علاقے میں پروان چڑھنے والے انتہاپسند خیالات سے چھٹکارا پاسکیں، جن کی وجہ سے حالیہ برسوں میں کئی فسادات اور حملے ہوئے۔خبر رساں ادارے کے مطابق سنکیانگ حکومت کے تعلیمی اور تربیتی مراکز ہماری ضروریات کے مطابق قائم کیے گئے ہیں۔ جو طلبہ یہاں سیکھنے کے لیے آتے ہیں، وہ اچھی خاصی تعداد میں ہیں۔‘

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ 'سنکیانگ ایک کھلا خطہ ہے جہاں ہم اقوام متحدہ سمیت تمام فریقین کو خوش آمدید کہتے ہیں، تاہم وہاں دورے کے لیے انہیں چین کے قانون اور ضوابط پر عمل کرنا ہوگا اور درست سفری طریقہ کار سے گزرنا ہوگا۔کئی پاکستانیوں نے سنکیانگ کی یوغر خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں اور ان کے باقاعدہ مشترک خاندان وجود میں آ چکے ہیں۔ ان خاندانوں کی تعداد 200 سے لے کر 300تک بیان کی جاتی ہے۔ یوغر خواتین چونکہ ترک نسل سے ہیں اس لئے رنگ و روپ اور خوبصورتی میں ان کا جواب نہیں۔پاکستان اور چین کی دوستی کی گہرائی اور گیرائی زبان زدِ خاص و عام ہے.پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی اچھے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ اقتصادی، اسلحہ اور توانائی میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہے ہیں.پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اْونچی. پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں. اسی لئے پاک چین دوستی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی موسم یا وقت اسے کم نہیں کر سکا ہے۔بلکہ یہ دوستی سمندر سے گہری ہمالیہ سے اونچی شہد سے زیادہ میٹھی اور اب سی پیک معاہدے کے بعد اسٹیل سے زیادہ پائیدار اور مضبوط ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 225542 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2019 Views: 225

Comments

آپ کی رائے