فکرِ اقبالؒ دورِ حاضر میں---قسط 1 --

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)

یہ تحقیقی مقالہ پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ادبی سیمینار میں پیش کیا گیا۔ افضل رضوی ؔ گزشتہ بیس سال سے علامہ اقبالؒ کے فکر و فلسفہ پر کام کررہے ہیں۔اگرچہ سائنس کے استاد ہیں لیکن میلان طبع اردو ادب اور اقبالیات کی طرف زیادہ ہے۔

علامہ اقبالؒ پر میری سالہا سال کی تحقیق نے مجھ پر یہ راز منکشف کیا ہے کہ علامہؒ کے فلسفہ خودی کو سمجھنے کی جتنی ضرورت ان کے دوریاگزشتہ صدی میں تھی، اس سے کہیں زیادہ ضرورت آج کے افراتفری اور مادہ پرستی کے دورمیں ہے۔

حکیم الامت علامہ اقبالؒ کا فکر و فلسفہ چونکہ آفاقی ہے اس لیے ہر کس و ناکس اس سے مستفیض بھی ہو سکتا ہے اور مستفید بھی۔یہ بات خاص طور پر ذہن نشین کرنے کی ہے کہ موجودہ دور میں ان کے فلسفہ خودی کو سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اگر دیکھا جائے توافکارِ اقبالؒ میں سب سے بڑا مسئلہ، مسئلہ خودی ہے جو ان کی مشرق و مغرب میں پہچان کا سبب ہے، لیکن اس مسئلے کو زیرِ بحث لانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ”خودی“کیا ہے؟ خودی فارسی زبان کا لفظ ہے اور قدیم لغات میں اس کے دومعانی ملتے ہیں ایک معنی تو”خود کا شعور“ ہے اور دوسرا ”خود کا ضرورت سے بڑھا ہوا احساس“، جسے تکبر اور غرور کہا جاتا ہے۔مگرعلامہ اقبالؒ نے خودی کو فلسفیانہ اصطلاح کے طور پر استعمال کیا ہے کہ فرد کا’نفس‘ یا ’انا‘ ایک مغلوق اور فانی ہستی ہے لیکن یہ ہستی اپنا ایک الگ وجود بھی رکھتی ہے جو عمل سے پائیدار اور لازوال ہو جاتا ہے۔اسی کو انگریزی میں ’ایگو‘(Ego) یا ’سیلف‘ (Self) کہتے ہیں۔

لامہ اقبالؒ نے اسرار ِ خودی کے دیباچے میں اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ انہوں نے خودی کے لفظ کو ایک جدا رنگ میں استعمال کیا ہے اور یہ اس رنگ سے قطعی مختلف ہے جو عام طور پر خودی کے لفظ پر دلالت کرتا ہے۔علامہ فرماتے ہیں:
”ہاں لفظ ِخودی کے متعلق ناظرین کو آگاہ کر دینا ضروری ہے،یہ لفظ اس نظم میں بامعنی غرور استعمال نہیں کیا گیا جیسا کہ عام طور پر اردو میں مستعمل ہے۔ اس کا مفہوم محض احساسِ نفس یا تعین ِ ذات ہے۔“
علامہ ایک اور جگہ خودی کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’جہاں جہاں یہ لفظ (خودی) میں نے استعمال کیا ہے اس سے مراد تشخصِ ذاتی یا احساسِ نفس ہے۔ انگریزی لفظ Individuality کا یہ ترجمہ ہے۔‘

یہی خودی کا تصور جس پر علامہ ؒکے فکر و فلسفہ کی عمارت استوار ہے اور جس کے بارے وہ اسرارِ خودی کے دیباچے میں وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ وحدت، وجدان یا شعور کا روشن نقطہ ہے، جس سے تمام انسانی تخیلات و جذبات و تمنیات مستنیر ہوتے ہیں،یہ پر اسرار شے جو فطرتِ انسانی کی منتشر اور غیر محدود کیفیتوں کی شیرازہ بندی کرتی ہے، یہ ”خودی“ یا ”انا“ یا ”میں“ جو اپنے عمل کی رو سے ظاہر اور اپنی حقیقت کی رو سے مضمر ہے، جو تمام مشاہدات کی خالق ہے مگر جس کی لطافت،مشاہدہ کی گرم نگاہوں کی تاب نہیں لا سکتی، کیا چیز ہے؟کیا یہ ایک لازوال حقیقت ہے یا زندگی نے محض عارضی طور پر اپنی فوری عملی اغراض کے حصول کی خاطر اپنے آپ کو اس فریب ِ تخیل یا دروغِ مصلحت آمیزکی صورت میں نمایاں کیا ہے؟ اخلاقی اعتبار سے افراد و قوم کا طرزِ عمل اس نہایت ضروری سوال کے جواب پر منحصر ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہ ہو گی جس کے حکما اور علما نے کسی نہ کسی صورت میں اس سوال کا جواب پیدا کرنے کے لیے دماغ سوزی نہ کی ہو مگر اس سوال کا جواب افراد کی دماغی قابلیت پر اس قدر انحصار نہیں کرتا جس قدر کہ ان کی افتادِ طبیعت پر، مشرق کی فلسفی مزاج قومیں زیادہ تر اس نتیجے کی طرف مائل ہوئیں کہ انسانی ”انا“ محض ایک فریب تخیل ہے اور اس پھندے کو گلے سے اتارنے کا نام نجات ہے۔ مغربی اقوام کا عملی مزاج ان کو ایسے نتائج کی طرف لے گیا جن کے لیے ان کی فطرت متقاضی تھی“
خودی کا عرفان علامہ اقبالؒ کے فلسفہ کا سنگِ اساس ہے،اسی کی تبلیغ ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا والے یہ راز ان سے سیکھیں اور اس سے اپنی شبِ تیرہ و تا ر کو روشن کریں۔
جس طرح حیات افراد میں توسیع اور استحکام سے وابستہ ہے۔اسی طرح اقوام و ملل کی حیات کا راز اسی احساس یا دوسرے لفظوں میں قومی انا کی حفاظت،تربیت اور استحکام میں مضمرہے اور حیاتِ ملیہ کا انتہائی کمال یہ ہے کہ افرادِ قوم آئین مسلم کی پابندی سے اپنی ذاتی خدمات کی حدود مقرر کریں۔
اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اقبال کے اس نظریے کا محرک کیا تھا؟ اور دورِ حاضرمیں اس کی اہمیت کیا ہے؟

جس وقت اقبال نے ہوش سنبھالا اس وقت مسلمان قوم ہندوستان میں زندگی کے دن گن رہی رہے تھی۔اورنگ زیب عالم گیر کے انتقال کے بعدسلطنتِ مغلیہ کا آفتاب ِ شوکت ترقی کے نصف النہار پر پہنچ کر ڈھلنا شروع ہو گیا تھا۔ اورنگ زیب کے جانشینوں نے ڈھلتے ہوئے سورج کے لیے بغیر کسی تردد کے افقِ مغر ب تک راستہ صاف کر دیا اور بالآخر مغلوں کی عظمت کا یہ آفتاب بہادر شاہ ظفر کے عہد میں ایک تھکے ہوئے مسافر کی مانند اپنی منزلِ مقصود پر پہنچے بنا مغرب کی شفق آلود پہاڑیوں میں کہیں گم ہو گیا۔ پس اس سورج کا غروب ہونا تھا کہ مسلمانوں پرغم و اندوہ کی گھٹائیں چھا گئیں،ہر سو حزن ویاس کے مہیب سائے حرکت کرتے دکھائی دینے لگے اور مسلمانوں کا مستقبل تاریک تر ہوتا چلا گیا۔یاسیت کی اس تاریکی میں امید کی کرن دکھانے والے پہلے شخص سرسید احمد خاں تھے،جنہوں نے پستیوں میں گری قوم کو سنبھالا دینے کی کو شش کی۔ سرسید کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شبلیؔ اور حالیؔ نے بھی مایوسی کے طلسم کو توڑ کر قوم میں غیرت وخوداعتمادی پیدا کرنے کی بھرپور تگ ودو کی۔ اس نازک وقت میں علامہ اقبالؒ ایک روشن ستارے کی طرح افقِ مشرق پر نمو دار ہوئے اور عزم ویقین کا پیام بر بن کر مسلمانانِ برِ صغیر کو اس دوراہے پر لے آئے جہاں وہ اپنی منزل کی شاہراہ کا تعین کرکے جدوجہد کا آغاز کرسکیں۔ ۔۔۔(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 110 Articles with 45766 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
29 Aug, 2019 Views: 400

Comments

آپ کی رائے