ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔۔؟

(Umer Farooq, )

ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ ہے وہ بیانیہ جوگزشتہ سات دہائیوں سے ہم بیان کرتے آرہے ہیں جبکہ موجودہ حالات میں بھی ہمارے اس بیانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ہم بدستوریہ نعرہ لگارہے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں مگرسوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟کشمیری لال چوک میں کھڑے انڈین فوج کے مظالم برداشت کررہے ہیں جبکہ ہم ڈی چوک میں کھڑے نعرے لگارہے ہیں ،کشمیری سری نگرمیں محصورہوکربھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں مگرہم آزادفضاؤں میں بھی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نظرنہیں آرہے ہیں ،کشمیری ایڑیاں اٹھااٹھا کرہماری مددکی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ ہم جھنڈے لہرالہراکران کی مددکررہے ہیں ،ہماری حکومت آج کل احتجاج کے مشن پرہے حالانکہ کشمیرکے معاملے پر حکومت سے کئی اچھا احتجاج ہماری مذہبی جماعتیں کرلیتی ہیں حکومتیں احتجاج نہیں فیصلے کیاکرتی ہیں کشمیریوں کے حق میں صرف احتجاج ہی کرناہے توآپ یہ ٹھیکہ دفاع پاکستان کونسل کودے دیں وہ لاکھوں عوام سڑکوں پرلے آئیں گے ،افغانستان پرامریکی چڑھائی کے وقت دفاع پاکستان کونسل نے لاکھوں کے مظاہرے کیے مگرامریکی حملے نہیں رکے بلکہ ہم نے امریکہ کواپنے اڈے فراہم کیے اورلاکھوں افغان مسلمانوں کے قتل عام میں شریک ہوئے ۔آج کشمیرمیں بھارتی چڑھائی کے بعد حکمران احتجاج پرہیں مگر آپ کے احتجاج سے مود ی کے کان پرجوں تک نہیں رینگ رہی ہے یہ میں نہیں کہہ رہابلکہ حکومتی اتحادکے سینیٹربیرسٹرسیف جمعہ کواس وقت ایوان بالامیں گرج رہے تھے جب عمران خان وزیراعظم ہاؤس کی بالکونی سے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے تھے -

سینیٹرسیف نے کہاکہ جائیں اقوام متحدہ میں تقریریں کریں ۔جائیں آپ سیکورٹی کونسل میں ۔ دنیاکے ہرفورم پربات کریں مودی کے کان پرجوں تک نہیں رینگے گی وہ ٹس سے مس نہیں ہوگادنیاتالیاں بجاتی رہے گی جیسے دنیا ہمیشہ تالیاں بجاتی رہی ہے۔یہ کوئی تاریخ میں پہلا واقعہ نہیں ہورہا،جب ظلم ہوتاہے جب مظلوموں کی لاشیں گرتی ہیں جب ان کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں تو لوگ صرف تماشہ دیکھتے ہیں بعد میں آکر ان مظلوموں کو دفن کرکے ان کی قبروں پرپھولوں کی چادریں چڑھاتے ہیں ۔آج تک قراردادوں ،احتجاجی مظاہروں کے ذریعے کسی کوآزادی نہیں ملی شام کوشمعیں جلاکر یوم سیاہ بنانے سے کسی کوآزادی نہیں ملی آئیں۔ اٹھیں ہم اس فرض پرلبیک کہیں جس کاقرآن میں حکم ہے جہادفی سبیل اﷲ اورقتال فی سبیل اﷲ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔مسلح جدوجہد کی جب بات کرتاہوں تومیں یہ نہیں کہتاکہ یہاں سے یاافغانستان سے بندے بھیجیں ۔کشمیرکے اندرکشمیرکانوجوان نہتا سینے تانے کھڑاہے اورانڈین آرمی کابزدل فوجی اس پرگولیاں چلارہاہے اسکے ہاتھ میں بندوق دیں اس کی مددکریں بین الاقوامی قوانین اس کی اجازت دیتاہے کشمیریوں کوآزادی سے لڑنے دیں آپ بے شک تقریریں کریں مگرجب تک سری نگرمیں انڈین آرمی کے افسران کی لاشیں نہیں گریں گی اس وقت تک آزادی کاخواب نہ دیکھیں ۔

یہ تقریراگرکوئی مولوی کرتایامجاہدکرتاتوآپ کہہ سکتے تھے کہ یہ دہشت گردہے اسے قومی سلامتی کے تقاضوں کاعلم نہیں ،مگرایک کلین شیوآدمی یہ بات کررہاہے حکومت کااتحادی ہے حکومتی بنچوں پربیٹھ کروہ یہ نعرہ لگارہاہے،چلیں آپ مولانافضل الرحمن کی بات پرکان نہ دھریں بیرسٹرسیف کی ہی سن لیں ،حکومت جس راستے پرچل رہی ہے وہ سوائے د ھوکے کے کچھ نہیں ۔قوم کادل بہلایاجارہاہے ۔

آپ کااحتجاج ،مظاہرے ،عالمی دنیاسے رابطے ،وزاراء کے تندوتیزبیانات اپنی جگہ درست ہوں گے یہ سب کچھ ہم پہلے بھی کرتے تھے ،آئندہ بھی کرتے رہیں گے سوال یہ ہے کہ آج مظلوم کشمیری جس مددکاطلب گارہے کیاہم وہ پہنچارہے ہیں ؟ہمارادعوی ہے کہ کشمیرہماراہے اورسارے کاساراہے توپھرہم اپنے اس دعوے میں کتنے سچے ہیں ؟اب توہمارابیانیہ یہ ہوگیاہے کہ انڈیانے آزادکشمیرپرحملہ کیاتوہم اینٹ کاجواب پتھرسے دیں گے اس کامطلب یہ ہواہے کہ ہم تقسیم کشمیرکے عالمی ایجنڈے کوتسلیم کرچکے ہیں قوم کویہ بارورکراویاجارہاہے کہ ہمارے زیرانتظام جوخطہ کشمیرہے اس کی حفاظت کریں گے انڈین نے جس پرقبضہ کرلیاہے اس سے ہم دستبردارہوچکے ہیں ؟

مجھے حریت کانفرنس کے ایک رہنماء نے ایک مظاہرے کے بعد وٹس اپ پریہ مسیج بھیجا کہ جب ہسپانیہ کے آخری مسلمان بادشاہ ابو عبداﷲ کوسقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تو ایک پہاڑ کی چوٹی پر رک کر وہ غرناطہ پر آخری نظر ڈالتے ہوئے رونے لگا اس وقت اس کی ماں نے اسے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے !"اس کے لیے عورتوں کی طرح مت رو جس کے لیے تم مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے" آج کشمیرکو انڈیا کا حصہ بنتے دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دہائی پر مجھے ابو عبداﷲ کی ماں کے الفاظ یاد آگئے۔آج ہم بھی رونادھوناہی کررہے ہیں مقبوضہ کشمیرکی جوچندوڈیوزکسی ناکسی طرح سوشل میڈیاپرآرہی ہے وہ دیکھ کرروح کانپ جاتی ہے ،دماغ شل ہوجاتاہے جوتھوڑے بہت حالات سے آگہی ہوتی ہے توکلیجہ پھٹنے کوآتاہے کبھی ہم نے یہ سوچا کہ نہتے کشمیری کس طرح بھوکے پیاسے آرایس ایس کے غنڈوں اوربھارتی فوج کے درندوں کامقابلہ کررہے ہیں،

ہمیں کشمیریاکشمیریوں سے محبت ہوتی توہم اس جہادی تحریک کوختم نہ کرتے جوکشمیریوں نے شروع کی تھی ،انہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کرکشمیرکاتحفظ کیاتھا اورمسئلہ کشمیرکوزندہ رکھا تھا مگرہماری حکومت نے ایک عالمی ایجنڈے کے تحت کشمیرکے جہادکابوریابسترگول کردیا حالانکہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ اورعالمی طاقتوں نے آزادی کی متعددتحریکوں پردہشت گردی کالیبل لگاکرانہیں کچلا مگرکشمیرکی تحریک ایسی تھی جوایسے وقت میں بھی محفوظ رہی۔مگرپھرپاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی اورایف اے ٹی ایف کے سامنے ڈھیرہوگئی ۔ ہمارے ان اقدامات سے کشمیریوں میں بددلی پھیل رہی ہے کشمیری آج بھی کشمیربنے گا پاکستان کانعرہ لگاکرگولی سینے پرکھا رہے ہیں ۔جن دریاؤں کی بدولت ہمارے کھیت کھلیان سیراب ہورہے ہیں اس پانی میں کشمیریوں کاخون بھی شامل ہے ۔مگرہمارے نوجوان کوصرف احتجاج کاراستہ دکھایاجارہاہے ۔

کشمیری نوجوان سوال اٹھارہے ہیں کہ اگرآپ ہماری حمایت میں لڑ نہیں سکتے تو ہمیں بتاکیوں نہیں دیتے ، اور اگر تم نے فیصلہ تقسیم کا کر لیاہے ۔۔۔ تو اپنی پالیسی واضح کرو۔۔۔ تا کہ کشمیری بھی فیصلہ کرسکیں ، یاد رکھو۔۔۔ حق و باطل کی لڑائی میں دو ہی راستے ہیں۔۔۔ اور تیسرا راستہ اھل کوفہ کا راستہ ہے۔۔۔ تم تو اھل کوفہ سے بھی بد تر نکلے۔۔۔اھل کوفہ نے کم از کم کم قافلہ حسینی کے وسائل تو نہیں کھائے تھے۔۔۔ کل روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔۔۔آج کشمیر جل رہا ہے اور تم سائرن بجا رہے ہو۔۔۔؟اورسائرن بھی ایسے کہ جس کی آوازسری نگرتک نہیں پہنچ رہی ہے چلواس سائرن کی آوازلال چوک تک پہنچتی توکشمیریوں کوسن کویہ احساس توہوتاکہ کوئی ہے جوہمارے لیے سائرن تو بجارہاہے ۔
دلوں میں نیزے، جگر میں خنجر، چبے ہوئے تھے، پر ہم کھڑے تھے
ہماری نظروں کے سامنے تن، کٹے ہوئے تھے، پر ہم کھڑے تھے
یہ حالِ غیرت، یہ سوزِ ایماں، یہ کیفِ ہستی، کہ فربہ ہو کر
عدو کے ہاتھوں ، گلے ہمارے، دبے ہوئے تھے ، پر ہم کھڑے تھے
ہمارے نیزوں، ہماری ڈھالوں، پہ تھا بھروسہ، جنھیں ازل سے
ہمارے آگے ، وہ سر بریدہ، پڑے ہوئے تھے، پر ہم کھڑے تھے
جنھیں دلاسہ، دہائیوں سے، وفا کا ہم نے، دیا ہوا تھا
وہ خواب آزادیوں کا لے کر، مرے ہوئے تھے، پر ہم کھڑے تھے
جو اہلِ باطل تھے، ان کے سینوں پہ، سج رہے تھے، عرب کے تمغے
جو اہلِ حق تھے، وہ سولیوں پر ، چڑھے ہوئے تھے، پر ہم کھڑے تھے
لکھو مورخ! یہ المیہ کہ، جہان بھر کے، ستم کدوں میں
ہماری بہنوں کے جسم سارے، چِھلے ہوئے تھے، پر ہم کھڑے تھے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26476 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Sep, 2019 Views: 298

Comments

آپ کی رائے