فکر اقبال دور حاضر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط 4

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)

کیونکہ:
خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
قرآنِ حکیم کے بعد جہاں سے انہوں نے اس نظریے کو اخذ کیا وہ احادیث ِ رسول ﷺ ہیں۔
حضورپرنور ﷺ نے فرمایا:
الکیس من دان نفسہ وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسہ ھوا ھاو تمنیٰ علیٰ اللہ الا مانی
ترجمہ: عقل مند وہ ہے جو اپنے آ پ کو پہچانتا ہے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرتا ہے اور کمزور وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہش کے پیچھے تھکاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ پر آرزوئیں رکھتا ہے۔
:”من عرف نفسہ فقد عرف ربہ“،
”جس نے اپنے نفس کو پہچانا،اس نے اپنے رب کو پہچانا۔“
دراصل اپنے نفس کو پہچاننا ہی خودی ہے۔
علامہ اقبالؒ کے فلسفے کا ایک اور مآخذ صوفیا کے افکار و مشاہدات ہیں،جس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں:
”اسرار کا فلسفہ مسلمان صوفیا اور حکماء کے افکا ر مشاہدات سے ماخوذ ہے اور تو اور وقت کے متعلق برگساں بھی ہمارے صوفیوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔“ علامہ اقبال ؒ جس صوفی سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ مولانا جلالالدین رومیؒ ہیں۔ وہ مولانارومیؒ کو اپنا پیرومرشد مانتے ہیں اور ان کے فیض کے از حد معترف ہیں۔کہتے ہیں:
ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحرِ پر آشوب و پراسرار ہے رومی
تو بھی ہے اسی قافلہء شوق میں اقبالؔ
جس قافلہء شوق کا سالار ہے ر ومی
اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام
کہتے ہیں چراغ ِ رہِ احرار ہے رومی
اور پھرجاوید نامہ میں کہتے ہیں:
پیر ِ رومی خاک را اکسیر
از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد
پیر رومی نے میری خاک کو اکسیر بنادیا اور میرے غبار سے کئی جلوے پیدا کر دیے۔
پیرِ رومی را رفیق راہ ساز
تا خدا بخشند ترا سوز و گداز
وہ پیر ِ رومی کے فیض کے متعلق رقم طراز ہیں:
علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
اور بال جبریل میں مزید کہتے ہیں:
حبتِ پیر روم سے مجھ پر ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سر بکف!
مولانا روم کے علاوہ علامہ اقبال دوسری جن شخصیات سے متاثر ہو ئے ان میں اما م ابوحامدبن محمد بن احمدالغزالی ؒ، عبدالکریم الجیلی، حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ،شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ اور بو علی سینا قابلِ ذکر ہیں۔ممکن ہے علامہ اقبال ؒ مغربی فلسفیوں سے بھی متاثر ہوئے ہوں؛لیکن یہ ثابت کرنا کہ انہوں نے یہ فلسفہ(خودی) مغربی مفکرین سے اخذ کیا ہے، بالکل بے بنیاد ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ علامہ اقبال ؒ کا فلسفہ خودی ابتدا میں صوفیا کے خیالات سے ابھرا بعد میں انہوں نے انہی خطوط پر چلتے ہوئے مغر ب کے خیالات سے بھی استفادہ کیا (یہاں یہ بتاتا چلوں کہ استفادہ کرنے میں اور اخذ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔شاید یہ نقطہ ان لوگوں کی سمجھ میں آیا نہیں یا وہ علامہ سے بڑا مفکر بننے کے چکر میں یہ سب فراموش کر بیٹھے)۔ایک تیسرا پہلو جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے وہ علامہ اقبال ؒ کے قومی اور ملکی حالات تھے۔ علامہ کے اس نظریے کے پہلے مخاطب مسلمان اور خصوصاً مسلمانانِ برِ صغیر تھے،اسی لیے انہوں نے خودی کی تعمیر میں فکرِ اسلامی کو بیان کرنے کی مساعی کی ہیں اور خودی کا خمیر انہی اسلامی اقدار سے اٹھایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی مثنوی اسرارِ خودی میں بالخصوص اور بقیہ تمام کلام میں بالعموم فلسفہ خودی کسی نہ کسی صورت میں جلوہ افروز ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کے دیگر نظریات اسی فلسفے کے گرد گھومتے ہیں گویا خودی علامہ اقبال ؒ کے نزدیک حیات کا دوسرا نام ہے۔ خودی ذوقِ تسخیر ہے،خودی ذوقِ خود آگہی ہے،خودی ذوقِ طلب ہے،خودی سوزِ حیات ہے اور ذوقِ تخلیق ہے۔خودی ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہے،جس کے آغاز اور انجام کی کوئی انتہا نہیں، عناصرِ فطرت میں خودی کا جلوہ دیکھا جا سکتا ہے جب کہ خودی کا مرکز و منبع انسانی قلب ہے۔ ملاحظہ کیجیے علامہ اقبال کی نظم ’ساقی نامہ‘ کے چند اشعار، جن سے خو دی کی انہی خصوصیات کا اظہار ہوتا ہے:
(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 112 Articles with 51321 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
12 Sep, 2019 Views: 390

Comments

آپ کی رائے