درندگی کی انتہاء

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 آپ جانتے ہیں کہ خون سفیدکیوں ہوجاتاہے؟اپنے ہی اپنوں کے دشمن کیوں بن جاتے ہیں؟انسان انسانیت چھوڑکردرندگی کیوں اپنالیتے ہیں؟ایک صرف ایک وجہ ہے جس کے سبب انسان انسانیت کے درجے سے نیچے گرجاتاہے،جلدی سے بہت زیادہ امیرہونے کی خواہش ،حلال وحرام ہی نہیں بلکہ خونی رشتوں کی تمیزکئے بغیردوسروں کواُن کے حق سے محروم کرنے کی کوشش میں قتل،قید،معاشی،ذہنی،اخلاقی تشددکرنے کارویہ ہمارے یہاں بہت عام ہے،زیادہ تراس رویے کاشکارخواتین ہوتی ہیں،افسوس آج بھی دورجہالت کی طرح خواتین کوبھیڑ،بکریوں کی مانند عورت کومرد کی ملکیت سمجھاجاتاہے جسے جب چاہے ذبح بھی کردیاجاتاہے،گزشتہ دنوں ایک اور دل خراش خبرنے انسانیت کاجنازہ نکال دیا،حافظ آباد کے علاقہ کالیکی منڈی میں دو بھائیوں شعیب اور جنید نے جائیداد ہتھیانے یعنی وراثت کاحصہ دینے سے بچنے کی نیت سے اپنی سگی بہن کودس سال تک گھرکے ایک کمرے میں قیدکرکے درندگی کی انتہاء کردی،نائلہ بی بی قیدمیں ذہنی توازن کھو بیٹھی،خبرملنے پر پولیس نے خاتون کو بازیاب کرکے اس کے بھائی جنید اور قریبی رشتہ دار محمد آصف کو گرفتار کر لیا، سنگ دل بھائی ہفتے میں ایک بار بہن کو کھانا دیتے،نائلہ بی بی نے دس سال ایک ہی کمرے میں ایک ہی چارپائی پر گزارے جبکہ کمرہ غلاظت اور گندگی سے بھرا ہوا تھا،نائلہ بی بی کو تشویشناک حالت میں ٹراما سنٹر منتقل کر دیا گیا،نائلہ بی بی نے جوسخت تین قید میں گزارے اُن دس سالوں کاتصورکریں،نائلہ بی بی نے اپنے بھائیوں کولاکھوں بارکہاہوگامجھے نہیں چاہئے جائیدادمجھے آزادکردویاپھرجان سے ماردو،نائلہ بی بی نے کتنی بارحاکم وقت کوپکاراہوگا؟بے حس معاشرے کوکیسی کیسی بدعائیں دی ہوں گی ؟سگے بھائیوں نے فانی دنیاکامعمولی فائدہ اُٹھانے کیلئے اپنی بہن کوجس درندگی کانشانہ بنایااُس کی ذمہ داری درندہ صفت بھائیوں ہی نہیں بلکہ ریاست پربھی عائدہوتی ہے،ریاست کاحصہ ہونے کے ناطے ہم سب ایسے مظالم کے ذمہ دارہیں،ماں،بہن،بیٹی، بیوی،پھپھو،خالہ یادیگر رشتہ دار خاتون کو حق وراثت سے محرم رکھنے کے ارادے یاخاتون کی جانب سے حق وراثت طلب کرنے پر باپ،بھائیوں،بیٹوں کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا یاآخری واقعہ نہیں،بہت سارے لوگوں کویہ جان کرحیرانگی ہوگی کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یا جائیداد کی ملکیت دینے کی شرح نہ ہونے کے برابرہے، جائیداد میں حصے اور ملکیت کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم آئی پی آر آئی کی جائیداد کی ملکیت کے حقوق دینے والے 127 ممالک کی فہرست میں پاکستان121ویں نمبر پرہے،صوبہ بلوچستان سب سے پیچھے ہے جہاں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی کے مطابق خواتین کوحق وراثت دینے کی شرح صفر ہے، فرسودہ رسوم و رواج جن میں جہیزکی لعنت سرفہرست ہے کی تقلید کرتے ہوئے خواتین کواس حق سے جبراً محروم رکھا جاتا ہے،معاشرتی اورجذباتی دباؤ کی وجہ سے خواتین کی اکثریت اپنا حق چھوڑ دیتی ہیں،ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ خواتین کو قتل، کاروکاری،ونی تک کرنے کی ایک وجہ وراثت میں ملی جائیداد کی تقسیم بنتی ہے،مذہب اور ریاستی قوانین کے مطابق عورت کا اپنے والدین،شوہر اور دیگر رشتے داروں کی جائیداد میں حصہ مقرر ہے،واضح قوانین اور سزاؤں کا تعین ہونے کے باوجود دیگرقوانین کی طرح عمل درآمد نہ ہونا بڑے بڑے سانحات کوجنم دیتاہے،پیار،محبت،حیا،اخلاق اوراحساس کی سرچشمہ مشرقی عورت ویسے بھی اپنے باپ،بھائی اورشوہرسے کچھ طلب کرنے سے شرماتی ہے،اکثربڑی خوشی سے اپنے تمام حقوق معاف کردیتی ہے پھربھی بے حس لوگ اپنی پھول جیسی بیٹیوں،بہنوں ہی نہیں بلکہ ماؤں اوربیویوں کوبھی تشددکانشانہ بناتے ہیں’’پریوینشن آف اینٹی ویمن پریکٹسس ایکٹ 2011ء کے تحت خاتون کو حق وراثت سے محروم کیے جانے پر دس سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے،خواتین کومردوں کے مقابلے میں وراثت سے آدھایااُس بھی کم حصہ دیاجاتاہے ،قانون کے مطابق بیٹی کا ماں اور باپ دونوں کی جائیداد میں حصہ ہوتا ہے، متوفی کی کل اولاد صرف ایک بیٹی ہے تو اسے جائیداد کا آدھا حصہ ملے گا،ایک سے زائد بیٹیاں ہیں تو کل جائیداد کا 2/3 حصہ برابر تقسیم ہو گا،مفتوفی کا بیٹا ہے تو ہر بیٹی کو بیٹے کوملنے والے حصے کا کم از کم آدھا حصہ ملے گا،متوفی کی کوئی اولاد نہیں تو بیوہ کو کل جائیداد کا چوتھائی حصہ ملے گا،اولاد ہے تو بیوہ کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ ملے گا،بیوہ شوہر کے مرنے کے بعد دوسری شادی کرے تب بھی وہ اپنے پہلے شوہر کی جائیداد میں اپنے حصے کی حقدار ہے،اس کے علاوہ بہن کا اپنے بھائی اور بہن کی جائیداد میں،ماں کا اپنی اولاد کی جائیداد میں حتیٰ کہ سوتیلی بہن کا بھی حصہ مقرر کیا گیا ہے۔راقم آج حکومت سے مطالبہ کرناچاہتاہے کہ خواتین کوحق وراثت دینے کیلئے موثرقانون سازی اوراُس پرعمل درآمد کرناممکن نہیں توپھرخواتین کے حق وراثت کوختم کردیاجائے تاکہ آئندہ کوئی نائلہ بی بی،کوئی آسیہ،،کوئی کوثر،کوئی نورین،کوئی اقراء،کوئی اختری بیگم یادیگراپنے ہی باپ،بھائی،بیٹے یاشوہرکے ہاتھوں تشددکانشانہ بننے سے بچ جائیں،حاکم وقت کی جدوجہد میں خواتین نے جوموثرترین کرداراداکیاہے ماضی میں اُس کی مثال نہیں ملتی،آج بھی روشن خیالی کادم بھرے والے خاندانوں کی خواتین وزیراعظم پاکستان عمران خان کاہرمحاذپردفاع کرتی نظرآتی ہیں توعمران خان جوخودروشن خیالی کے قائل ہیں خواتین کواُن کا حق وراثت دلوانے کیلئے موثراقدامات نہیں اُٹھائیں گے؟نائلہ بی بی کودس سال قید رہنے کے بعدجس حالت میں بازیاب کیاگیااسے دیکھ کربھی کپتان ایکشن نہیں لیں گے ،یہ خبرسچ ہے کہ نائلہ بی بی کواُس کے سگے بھائیوں نے حق وراثت یادیگرجائیدادسے محروم رکھنے کی نیت سے دس سال تک قیدرکھاتوپھرمکمل تحقیات کے بعدملزمان کوایسی سزدی جائے کہ دوسرے لوگ انہیں دیکھ کرعبرت حاصل کریں اورآئندہ کوئی خواتین کواُن کے حق وراثت سے محروم رکھنے کاسوچ بھی نہ پائے،میراوزیراعظم یہ کام بھی نہیں کرسکتاتوایک بارپھراپنامطالبہ دہرائے دیتاہوں ،خواتین کاقانونی وراثتی حق ختم کردیاجائے تاکہ آئندہ کوئی باپ،بھائی،بیٹا،شوہریادیگرجائیدادکے لالچ میں اپنی ہی ماں،بہن،بیٹی،بیوی پرتشددکرتے کرتے درندگی کی انتہاء تک نہ پہنچے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 310302 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Sep, 2019 Views: 379

Comments

آپ کی رائے