چنمیانند: قافلے والو خیر مناؤ ، رہزن ہی جب راہنما ہے

(Dr Salim Khan, India)

جموں کشمیر سے دفع ۳۷۰ کا خاتمہ کرنے کے بعد کئی زعفرانی رہنماوں نے اعلان کیا تھا کہ اب وہ کشمیر سے بہو لاسکیں گے ۔ اس شرمناک اعلان کرنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں ؟ اترپردیش کے شاہجہاں پور میں سابق مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ سوامی چنمیانند پران کے زیر انتظام لا کالج کی طالبہ کے اغوا اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس درندے نے پہلے بھی اپنے آشرم کی سادھوی کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور۲۰۱۱؁ میں مقدمہ درج ہوا تھا لیکن مودی کے آشیرواد سے یوگی نے اسے رفع دفع کرنے کی انتھک کوشش کی اور ضمانت پر رہا کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس معاملے میں سوامی چنمیانند کو اگر سنگسار کر دیا جاتا تو نہ جانے کتنی بہو بیٹیوں کی عزت و عفت سلامت رہتی ۔اتر پردیش کے شاہ جہاں پور میں سوامی سکھدیوانند لا کالج کی ایک طالبہ سوامی چنمیانند پر ویڈیو کے ذریعہ جنسی استحصال کا الزام لگانے کے بعد سے غائب ہوگئی ۔

مذکورہ ویڈیو میں طالبہ نے کہاتھا کہ سنت سماج کا ایک بہت بڑا رہنما، جو کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا ہے، مجھے بھی جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔ مودی اور یوگی جی سے درخواست ہے کہ میری مدد کریں۔ اس نے اہل خانہ تک کو مارنے کی دھمکی دی ہے۔ میں اس وقت کیسے رہ رہی ہوں؟یہ مجھے ہی پتہ ہے ۔ مودی جی میری مدد کیجئے۔ وہ سنیاسی پولیس اور ڈی ایم تک کو جیب میں رکھتا ہے، اس بات کی دھمکی دیتا ہے کہ کوئی میرا کچھ نہیں کر سکتا۔ میرے پاس اس کے خلاف سارے ثبوت ہیں۔ میری گزارش ہے کہ آپ مجھے انصاف دلائیے۔ ‘ملزمہ اپنے پہلے بیان میں نام تو نہیں بتایا مگر اشارہ اتنا واضح تھا کہ سب لوگ سمجھ گئے۔ مودی اور یوگی بھی سمجھے ہوں گے۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد نہ تو مودی کی آنکھ نمناک ہوئی اور نہ یوگی جی کا دل پسیجا اس لیے کہ یہ ڈھونگی سنیاسی کیا جانیں اولاد کیا ہوتی ہے اور صلہ رحمی کس چڑیا کا نام ہے؟

پولیس نے لڑکی کے والدکی تحریر پر ایف آئی آر درج کی اور سنگینی کے پیش نظر سنجیدگی کا ڈھونگ کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپہ ماری کی مگر ایف آئی آر میں جنسی استحصال کا الزام لگا نے سے گریز کیااور ویڈیو کو مشکوک قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر مظلومہ کی کردار کشی کی کہ دو سے تین دن پہلے وہ کسی نوجوان کے ساتھ دہلی کے کسی ہوٹل میں جاتی نظر آئی ۔چنمیانند نے الٹا وہاٹس ایپ پر۵ کروڈ تاوان کی دھمکی ملنے کی ایف آئی آر درج کرادی۔ پولس نے فوراً تاوان مانگنے والے نوجوان کو لڑکی سے جوڑ دیا۔ اتر پردیش انتظامیہ کی جانب سے جب انصاف کی کرن مفقود ہوگئی تو سپریم کورٹ نے اس کا ازخود نوٹس لیا اورریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ طالبہ کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ جسٹس آر بھانو متی بذات خود متاثرہ سے بات چیت کرسکیں ۔اس ڈانٹ ڈپٹ کے بعداتر پردیش پولس نے لڑکی کو راجستھان سے برآمد کرنے اور محفوظ ہونے کی اطلاع دی ۔ بی جے پی ڈھٹائی دیکھیں کہ ، چنمیا نند کے وکیل نے ان الزامات کو شبیہ خراب کرنے کی کوشش قراردیتے ہوئے اسے ایک روحانی شخص بتایا۔

سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر طالبہ کے والدین اور بھائی دہلی لائے گئے۔ طالبہ کے والد نے عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرنے کا عزم دوہرایا۔ انہوں نے بیٹی سمیت اہل خانہ کی سیکورٹی کا مطالبہ بھی کیا ۔ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ پھر اناؤ والا معاملہ نہ دوہرایا جائے۔ ان دونوں معاملات میں ملزمین کا تعلقات مایہ ناز سنگھ پریوار سے ہے نیز سابق مرکزی وزیر داخلہ سوامی چنمیانند بہر حال سابق رکن اسمبلی کلدیپ سینگر سے زیادہ طاقتور ہیں۔سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد یوگی حکومت کو حکم دیا کہ وہ ایس آئی ٹی کی تشکیل کرکے الہ باد ہائی کورٹ کی نگرانی میں چنمیانند پر لگائے گئے الزامات کی تفتیش کرے اور سارے خاندان کو سکیورٹی فراہم کرے ۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ کلدیپ سینگر کا مقدمہ بھی ابھی حال میں اتر پردیش سے دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ بی جے پی کی یہ پرانی روایت ہے۔ کسی زمانے میں مودی کے گجرات سے مقدمات ممبئی منتقل کیے جاتے تھے اب یوگی کے اترپردیش سے مقدمات دہلی بھیجے جاتے ہیں ۔ اس دوران ایک فرق یہ ہوا ہے کہ گجرات کے معاملات میں مدعی مسلمان ہوتے تھے اور کانگریس کی مرکزی سرکار کے دباو میں یہ ہوتا تھااب مرکزی حکومت بی جے پی کی ہے اور ہندو لڑکیوں کے ساتھ ناانصافی کے مقدمات منتقل ہورہے ہیں۔

عدالت کی جانب سے حوصلہ ملنے کے بعد چنمیانند پر الزام لگانے والی طالبہ نے دہلی کے اندر پریس کانفرنس کرکے صحافیوں کے سامنے اپنی دکھ بھری داستان پیش کی۔ لڑکی نے دعوی کیا کہ اس نے شاہجہاں پور میں بھی چنمیانند کے خلاف عصمت ریزی کی شکایت درج کروانے کی کوشش کی لیکن پولس نے گریز کیا ۔ اب بھی یہ حال ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایس آئی ٹی تو تشکیل دے دی گئی ہے اور اس نے لڑکی سے گیارہ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ۔اس کے رشتہ داروں کو بھی ہراساں کرنے کے لیے پولیس تھانے میں تفتیش کے لیے بلایا گیا لیکن ملزم سے کوئی سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ اس ایس آئی ٹی کو جسے سپریم کورٹ نےتشکیل دینے کا حکم دیا ہے دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت سے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے ۔ اناو کے بعد شاہجہاں پور کے معاملے نے سنگھ پریوار کو پوری طرح بے نقاب کردیا ہے لیکن افسوس کہ اکثریتی سماج اب بھی اس کو اپنا بہی خواہ سمجھتا ہے۔ چنمیانند کے چنگل سے اپنے آپ کو آزاد کرانے کی خاطر مودی اور یوگی سے گہا ر لگانے والی مظلوم طالبہ پر گلزار دہلوی کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
رہبری تھی کہ رہزنی توبہ
ہم کو فرمانروا نے لوٹ لیا
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 122 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 791 Articles with 246361 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: