دل تتلی بن اُڑا - تیسری قسط

(Saima Munir, Nankanasahib)

زمرد عباس کی گاڑی کا پیچھا کرنے لگا وہ سڑک کے بائیں جانب تھا عباس دائیں جانب عباس نے یکدم گاڑی چھوٹی سی تنگ گلی کی طرف موڑ لی سڑک پر ٹریفک کا رش تھا، زمرد فوراً سے عباس کو فولو نہ کر سکا۔ گاڑیوں کے گزرنے پر عباس کی گاڑی غائب پائی۔ وہ بھی اُسی گلی میں گھس گیا گلی کے اندر آٹھ دس گز کے فاصلے پر دس سے بارہ راستے پائے۔ وہاں کھڑا ہو کر اِدھر اُدھر تکنے لگا۔دانت پیسے اور منہ سے سانس خارج کیا۔
<-------->
عباس گاڑی سے اُترا،،،،،کالے کپڑوں میں ملبوس ، سانولے رنگ کے بڑی بڑی مونچھوں والے آدمی نے آگے بڑھ کر اُسکی گاڑی کا دروازہ بند کرنا چاہا۔ عباس"ہاتھ سے اسے وہیں رکا رہنے کا اشارہ کیا ،شکریہ میں کرلوں گا"
شاداب نیلے رنگ کے قالین پر دو سرخ رنگ کی کرسیوں میں سے مغربی جانب والی کرسی پر بیٹھا، سامنے ایک بڑا سرکل نما میز پڑا تھا "زعے نصیب "اٹھ کر کھڑا ہوا ''عباس صاحب آپ کو تو ہم سے زیادہ جلدی ہے '' ہنسنے لگا۔
عباس"کیوں بلوایا ہے؟
شاداب اکھڑاؤ لہجے میں جب سب پتہ ہے تو بار بار پوچھ کر اپنا اور میرا قیمتی وقت ضائع کیوں کرتے ہو؟
عباس"مسٹر شاداب لہجہ دھیما رکھئیے رہی بات بلڈنگ کی " میں آج بھی اپنے پرانے دس سالہ موقف پر قائم ہوں،تمہاری اضطرابیت بتارہی ہے پچیس مارچ حق کی فتح کا دن ہے۔
شاداب" بڑے دلیر ہو" اپنے داہنے ہاتھ کی انگلی کو مونچھوں پر سے اُلٹا گھما کر آنکھ کے پپوٹے کو اوپری طرف دھکیلا، پھر ٹیبل پر پڑے پستوݪ سے گولیوں سے بھری میگزین نکال کر کندھے اچکائے "میری درخواست ہے ،اس دلیر خون کو فضول میں ضائع مت کروانا"
عباس"مجھے مارنا اگر اتنا آسان ہوتا تو کئی قتل کر چکنے کے بعد بھی محض ایک اور پر ججک کیسی؟ اسکے لہجے میں حقارت اور رعب تھا
شاداب "عباس" زور سے چلایا اسکے گارڈ نے عباس کی کنپٹی پر گن تان لی
شاداب نے گارڈ کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔
عباس نے بندوق زور سے چھٹک دی" مجھے لگا تھا تم معافی نامے کا سوچ رہے ہو گے______پر کسی نے سچ کہا ہے" لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے" انشااللہ 25 مارچ کو ملیں گے پندرہ سال سے تمہارے ہاتھ میں کڑیاں دیکھنے کا منتظر ہوں۔ شاداب کھلکھلا کر ہنسا " کچھ خواب صرف دیکھنے کے لیے ہوتے ہیں"
عباس"چلو دیکھتے ہیں" کہہ کر چلا گیا۔
شاداب نے ہاتھ آگے بڑھایا پھر مٹھی پورے زور سے بھیچی ۔
فضلو"سر اسے جانے کیوں دیا? شاداب "فضلو یہ میرے گلے کی وہ ہڈی ہے جسے نہ نگل سکتا ہوں نہ اُگل" فضلو "یہ وہی اغوا والا کیس ہے نا؟ شاداب "اپنے کام سے کام رکھ" فضلو منہ لٹکاتے ہوئے اُسکے کندھے دبانے لگا۔
<-------------->
رضیہ" ٹوسٹ اٹھا کر کھاتے ہوئے ٹیبل پر پڑے چند ڈوکومنٹ سیدھے کر کے پن سے نتھی کیے۔ بائیں بازو سے سینے کے ساتھ لگا کر ٹھنڈی آہ بھری____چائے کا کپ اٹھا کر ایک گھونٹ پیا اف! شربت کھٹ سے واپس رکھ دی۔ تقریباً سات سے آٹھ صفات پر مشتمل ڈوکومنٹس دوبارہ سے ہاتھ میں پکڑ کر ہوا میں لہرائے "آج تو دھماکہ ہوگا" پرس لیا آگے کی طرف ٹانگ پر رکھا پیسے دیکھے پھر بلو پینسل رکھی جو لمبائی کے رخ مشکل سے اس میں سما سکی۔ آئینے کے سامنے جا کر بال ٹھیک کیے، کمرے سے نکل گئی۔ ادھر ادھر دیکھا کوئی نہیں تھا تو روم نمبر ایٹ کے دروازے پرنوک کر کے سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئی۔ ایک بھاری بھرکم خاتون نکلی۔ باہر نکلتے ہی اسنے شور مچانا شروع کر دیا "دارو کہاں ہو؟ ''رجی تو باز آجا----۔ !!جب تسلی ہوگئی کوئی نہیں تو اندر چلی گئی۔ رضیہ : سیڑھیوں سے اترتے ہوئے____موٹی ساری رات سونے نہیں دیا۔
<------------------>

زمرد: تیسری گلی کی نُکر پر پہنچ کر ذرا ٹھہرا چھٹی گلی سے نکلتی سفید کار دیکھی تو وہ واپس گلی میں چلا گیا اور چھپ کر دیکھنے لگا"ماموں کی گاڑی عباس کے جانے کے بعد زمرد اسی گلی میں گیا تو وہاں کچھ نہیں پایا تھوڑا آگے بڑھا اُسے اپنا بچپن یاد آنے لگا اسے لگا جیسے اس کا باپ اسے آواز دے رہا ہو وہ زور سے چلایا ابو ابو..... اسکی آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس کانو میں گھونجنے لگی ۔ بے دھیانی میں اسکی بائیک آگے چلتی گئی اس سے پہلے کہ وہ دیوار سے ٹکراتی عین ایک دو گز کے فاصلے پر روک لی۔ وہاں کچھ نہیں تھا مگر اسے لگ رہا تھا جیسے کبھی پہلے وہ یہاں آیا ہو۔
ایک لڑکا اسکے پاس سے گزرا اسکی گاڑی نے زمرد پر کیچڑ کی چھینٹیں داغ دیں۔ہیلو! اندھے ہو___؟ وہ متواتر ہارن دیتے ہوئے آگے بڑھتا گیا اور زمرد کی آواز سنے بغیر گزر گیا۔ بھدا سا سفید گیٹ کھلا، گاڑی اندر انٹر ہوگی۔ زمرد نے اسکا پچھا کرنا چاہا تو گارڈ کے ساتھ منہ ماری تو ہوئی مگر اسے اندر نہ جانے دیا گیا۔ زمرد دیکھو مجھے جانے دو " منگل خان"دیکھ صاحب یہاں وہی گزرتی ہے جسے اندر سے اجازت ملے ہم مجبور ہیں اپنے صاحب کی حکم ماننے پر، بڑی مہربانی ہوگی آپ یہاں سے چلی جائیں" زمرد اسے تھپکی دے کر پیچھے ہٹا بائیک پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا بائیک کو کبھی آگے لاتا کبھی پیچھے
<--------------->
سلمان:آگے بڑھا سلام شادب بھائی
شاداب : ہاتھ اٹھایا "بیٹھ بتا کوئی سوراغ ملا؟ موبائل میز پر رکھ کر شاداب کی طرف دھکیلا_____ لڑکی ہے، نام رجی،یتیم ہونے کے ساتھ ساتھ غریب اور مجبور بھی، نجی اخبار کے دفتر میں اسسٹنٹ 'جونئیر سیٹی رپورٹر' کے طور پر کام کرتی۔ شاداب نے موبائل اٹھایا لڑکی منہ کو شربت کا گلاس لگائے پی رہی تھی۔گھنگھریالے بال سامنے سے بامشکل کندھوں کو چھو رہے تھے، سفید رنگ،سیب جیسے گلابی گال، موٹی آنکھیں ہاتھ میں ڈوکومنٹس تھامے ہوئے: کھلے پانچوں والی پیلے رنگ کی شلوار کے ساتھ گول گھیر والی سفید شرٹ زیب تن کیے ہوئے تھی جو کہ گھٹنوں سے چھ سات سینٹی میٹر اوپر ہی تھی۔ شاداب نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور بولا تو جا اب" فضلو کی طرف موبائل کیا یہ لے زیادہ ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔
زمرد دیکھتا رہا جب گاڑی واپس نہ آئی تو لوٹ گیا۔
رضیہ باہر نکلی تو کلائی پر لگی گھڑی پر وقت دیکھا"ساڑھے نو ہو گئے 'لگتا ہے بس بھی گزر گئی"سامنے ایک بڑھیا نظر آئی جو سامان اٹھائے آرہی تھی۔وہ تھک کر سامان واپس رکھتی پھر اٹھا کر تھوڑا چلتی____پھر زمین پر رکھ دیتی۔ ارے یہ تو وہی گڑیا کی امی"چل رجی بھاگ!اسکے پاس آئی اور تھوڑا ہچکچاتے ہوئے اماں بی لائیں میں اٹھواؤں۔
زرینہ " بیٹی نہیں___وہ ٹھہر کر بولی" اللہ تمہارا بھلا کرے___خوش رہو! بس دو چار قدم اور رہ گئے۔
آگے بڑھ کر شاپنگ بیگ پکڑا جس میں گروسری کا سامان تھا"اماں 'بیٹی' کہہ کر پھر جھٹ سے پرایا بھی کر دیا" ایک کافی بھاری بیگ تھا ساتھ دو چھوٹے وہ مشکل سے چل رہی تھی اماں بی گھر بتائیں"پیچھے مڑ کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ بیٹا "سامنے سے بائیں ہاتھ مڑنا پھر تھوڑا آگے بائیں اور دوسرا گھر ہے"اسنے پہلے ہاتھ جنوب کی طرف اٹھایا پھر گھماتے ہوئے مغرب کی طرف لے گئی، رضیہ ابھی گھر کی طرف مڑی تھی کہ بس کا ہارن بجنے لگا "یہ کیا ہوا" رضیہ نے بھاگ کر دروازے کے آگے سامان رکھا۔ وہ اردگرد سے بے نیاز ہوکر بھاگی بس چل پڑی، وہ روڈ کی طرف لپکی،کالی گاڑی 'ریسنگ کار' کی طرح تیزی سے دھول اڑاتے ہوئے گزری۔ رضیہ ہلکا سا کھانسی سانس بہال ہوئی تو سڑک سے پتھر اٹھا کر گاڑی کی طرف کسا 'تب تک وہ نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی'جاہل___جتنی بڑی گاڑی اندر اُتنا بڑا نمونہ_______ وہ الٹے پاؤں چلتے ہوئے بائیک کے سامنے آگئی۔ زمرد گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا رضیہ کو بچاتے ہوئے خود گرتے گرتے بچا، رستہ اوبڑ کھابڑ چھوٹے بڑے پتھر پڑے تھے۔ "خودکشی کرنی ہے تو کسی گاڑی کے نیچے آؤ بائیک کے سامنے آکر اپنے اور دوسروں کے ہاتھ پاؤں نہ تڑواؤ" وہ رضیہ کی طرف دیکھے بغیر بولا
رضیہ: اسکی طرف دیکھ کر آگے بڑھی انگلی اٹھاتے ہوئے او ہیلو دماغ کی بتی آن ہے ایک تو بنا ہیلمٹ ___زمرد کے قریب پہنچی "پھر سڑک کے دائیں جانب موٹر بائیک چلاتے ہو؟ ٹریفک کے قوانین کی دو دو خلاف ورزیاں نہیں دو نہیں بلکہ تمہارے پاس اس ہیوی بائیک کا لائسنس بھی نہیں ہوگا اور ڈوکومنٹس تو تم گھر بھول گئے ہو گے" وہ کسی نیوز کاسٹر کی طرح تیزی سے بولتی رہی،اردگرد طائرانہ نظر ڈالی 'ابھی پولیس کو کال کرتی ہوں' جب زمرد ٹس سے مس نہ ہوا تو اسے گھورتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی ہاتھ پسلی پر رکھا"عجیب پتھریلا میٹریل ہے" دائیں ہاتھ میں پکڑے کاغذات سے ہوا لی منہ دوسری طرف پھیر کر کھڑی ہو گئی۔نظر چرا کر اسے دیکھتی پھر منہ موڑ لیتی____لفٹ لینے کا اچھا موقع! جانے 'بس'کب آئے گی "منہ میں بڑبڑائی
زمرد بائیک اسٹارٹ کر کے جانے لگا،پہلے تو حیران ہوئی پھر فٹ سے اسکے بائیک کے سامنے کھڑی ہو گئی بھاگنے لگے ہو؟
زمرد نے کان سے ہینڈ فری نکالا،،،، حیرت اور خفگی کا اظہار کرتے ہوئے " ایکسکیوزمی
رضیہ کا منہ لال پیلا ہو گیا،منہ میں بڑبڑائی" دل چاہا رہا ہے منہ نوچ لوں اس کھڑوس کا" ___مشکل سے ضبط کیا۔ زمرد نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا تو یکدم چونک گیا____او اچھا تم؟ "اب مجھ سے پنگا لینا ہے کیا؟"
رضیہ نے زمرد کی طرف غور سے دیکھا__تم وہی! اُلو کی طرح آنکھیں نکالتے ہوئے "کراچی ایئر پورٹ والے" اسنے دونوں ہاتھ سر کی طرف اٹھائے بائیں ہاتھ میں پکڑے ڈوکومنٹس سے اسکا چہرہ چھپ گیا۔ آہستہ آہستہ ہاتھ نیچے کرتے ہوئے ٹھہر کر بولی "وہ آدمی بچ گیا کیا؟
زمرد" کیوں آپ سوئم میں شرکت چاہتی تھیں؟ ویسے اگر ایسا ہوتا تو میری جگہ کرچی کی پولیس یہاں ہوتی۔ چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے تم انویسٹیگیشن میں پکڑے گئے ہو اور اب مجھے "دیکھو اسے نے مجھے آنکھ ماری تبی میں نے اسکا سر پھوڑا،،،وہ پیچھے مڑ کر تیز تیز چلنے لگی۔ رکو ____بائیک چلا کر اسکے پاس پہنچا، ایسا کچھ نہیں ہو رہا یہ ہماری حادثاتی ملاقات ہے"
منہ کھولا لمبی سانس بھرتے ہوئے واپس مڑی___بچگانہ مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے' سچ' "شکریہ! تم میری مدد نہ کرتے تو اُس دن میں پکا حوالات جاتی، اپنی رپورٹ اسکے بائیک پر رکھ دی اس سے پہلے کہ زمرد کچھ بولتا بنا اسکی سنے بولی اب تم دونوں لاہور شفٹ ہونے کا سوچ دہے ہو؟
زمرد"کون دونوں___کس کی بات کررہی ہو؟ اُسے گھورتے ہوئے۔
رضیہ "ڈرو نہیں میں ریٹنگ والی رپورٹر نہیں ہوں کسی کو نہیں بتاؤں گی تم کراچی سے بڑے بزنس ٹائیکون کی لڑکی بھگا کر لائے ہوئے۔
زمرد"ہاں___ ہکا بکا رہ گیا "تمہیں---" اتنے میں بس کا ہارن بجنے لگا وہ بھاگتے ہوئے اچھا پھر ملیں ہیں۔ یہیں شفٹ ہوئے ہو نا؟ ویلکم ٹو محنت پور! متواتر بولتے اور پچھے دیکھتے ہوئے بس پر چڑھ گئی۔ زمرد" محنت پور اسکی آنکھوں کے سامنے ایک چھوٹی سی بچی ریڈ فراک پہنے گھومنے لگی "میں ہوں گڑیا' محنت پور کی رانی' اسنے سر چھٹکا اور بولا گڑیا___!!! اسکے چہرے پر تڑپ تھی آنکھیں کھلیں تو بائیک پر پڑےکاغذات دیکھے عجیب لڑکی ہے او ہو____! اپنے ڈوکومنٹ بھی یہیں چھوڑ گئی۔ پہلے بس کا پیچھا کرنا چاہا پھر سکینہ کا خیال آیا تو جلدی سے گھر کا رُخ کیا۔
<----------->
عباس گھر میں داخل ہوا سکینہ سامنے پریشان کھڑی تھی۔ اُسے اکیلے دیکھ کر بے اختیار بولی" زمرد"
عباس اپنے اردگرد نظر دوڑانے کے بعد "کہاں ہے زمرد سکینہ بیگم?
سکینہ گھبرا گئی "جی وہ وہ آرام کر رہا ہے نا" عباس اسے اٹھانا مت سونے دینا کافی لمبا سفر کر کے پہنچا ہے۔
سکینہ"جی جی اسکی زبان لفظوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔
عباس"چائے بنوادیں ذرا۔ سکینہ:جی ابھی بنواتی ہوں" شیلو شیلو نوکرانی کو آوازیں دیتے ہوئےکچن کی طرف چل دی
عباس کمرے میں چلا گیا وہ بہت پریشان تھا۔ سوچنے لگا---کیا کروں؟ نہیں نہیں! زمرد مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا،یااللہ کوئی راستہ نکال دے ،آمین! وہ اٹھ کر کھڑکی سے باہر لان میں کِھلے ہوئے پھولوں کو دیکھنے لگا۔
سکینہ چائے لے آئی عباس"آپ ناراض ہیں؟
سکینہ" نہیں" مختصر تعطل کے بعد بولی مجھے پتہ ہے آپ شاداب سے ملنے گئے تھے۔
عباس"ہاں نہیں نہیں تمہیں فضول میں شک ہو رہا ہے" سکینہ ہاں ایسا ہی ہے"آپ کیوں ایک کنال پر بنی بلڈنگ کے لیے اپنی اور اپنی فیملی کی خوشیاں قربان کر رہے ہیں۔ وہ بیٹھ گئی۔
زمرد گھر داخل ہوتے ہی شور سنا تو دبے پاؤں وہ کمرے کی طرف بڑھا
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 132 Print Article Print
About the Author: Saima Munir

Read More Articles by Saima Munir: 4 Articles with 577 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: