سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات میں تباہی کے مناظر


سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات پر سنیچر کو ہونے والے حملوں کے بعد جمعے کو وہاں میڈیا کو لے جایا گیا۔ تنصیبات کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ سعودی تنصیبات کے مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
 


بقیق میں لی گئی اس تصویر میں ایک آئل ٹینکر کے تباہ شدہ حصے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُس کی تیل تنصیبات پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
 


ایران نے حملوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس سے پہلے یمن میں ایران کے حامی حوثی باغی کہہ چکے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے وہ ہیں۔ امریکہ بھی اپنے اس الزام پر قائم ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران ہے۔
 


سعودی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ خریص میں چار میزائل داغے گئے تھے۔
 


سعودی عرب میں سنیچر کو تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد پیر کو بازار کھلتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گذشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح یعنی 68 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ جا پہنچی تھی۔
 


اس حملے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب اور ایران میں الفاظ کی جنگ جاری ہے۔

Partner Content: BBC
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3567 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Comments

آپ کی رائے
Yaman ki tabahi k manazir bhi dekha do soudi paid.
By: Samar, Karachi on Sep, 21 2019
Reply Reply
0 Like
Saudi Arab ,oil installation attacks.
There is no date but only "JUMMA"-- "Hafta". Pl. note that this is annoying.
By: Ahmed .H., Karachi on Sep, 21 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    
Saudi Arabia's defence ministry has shown off what it says is wreckage of drones and cruise missiles that proves Iranian involvement in weekend attacks on two oil facilities. It said 18 drones and seven cruise missiles were fired from a direction that ruled out Yemen as a source.