فکر اقبال دور حاضر میں۔۔۔۔۔قسط 6

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)
علامہ اقبال ؒ کہتے ہیں،آرزو ہی مقاصد کے شکار کے لیے کمند کا کام دیتی ہے،اسی سے انسان کے افعال میں نطم وضبط پیدا ہوتا ہے، آرزو کی شعاع ہی انسان کے دل کو روشن رکھتی ہے اور جب انسانی دل آرزو کی تخلیق چھوڑ دیتا ہے تو وہ مردہ ہو جاتا ہے۔اس لیے دل کے زندہ رہنے کی ہمیشہ آرزو کرنی چاہیے:

دل ِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
اور دل کو اللہ کی محبت سے زندہ کیا جاسکتا ہے۔اس لیے انسان کا اولین مقصد خدا کی خوشنودی کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے اور خوشنودئ خدا اسی کے ذکر سے حاصل ہو سکتی ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:
(الذین امنو وتطمن قلوبھم بذکر اللہ ط الا بذکراللہ تطمئن القلوب )
(یعنی ان کو جو ایمان لاتے اور جن کے دل اللہ کی یاد سے آرام پاتے ہیں، خبر دار! دلوں کو اطمینان دینے والی شے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے۔
گویا دوسرے لفظوں میں حق تعالیٰ کی محبت کا جذبہ انسان کے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہونا چاہیے۔علامہ نے اسی جذبے کو نقطہء نور سے موسوم کیاہے اور اسی کا نام خودی ہے، کہتے ہیں:
نقطہء نورے کہ نام او خودی است
زیرِ خاک ِ ما شرارِ زندگی است
از محبت می شود پا یندہ تر
زندہ تر ، سوزندہ تر، تابندہ تر
(نقطہء نورجس کا نام خودی ہے یہی ہمارے بدن میں زندگی کا شرر ہے،یہ (اللہ تعالیٰ) کی محبت ہی سے زیادہ زندہ، زیادہ پائیدار، زیادہ چمک دار اور زیادہ سوزندہ ہو تاہے۔)
علامہ اقبال کا نظریہ یہ ہے کہ عشق ومحبت کی بدولت ہی خودی مستحکم ہوتی ہے،محبت ہی سے اس کا جوہر نکھرتا ہے اور اسی سے خودی کی پوشیدہ صلاحیتوں کی نشو و نما ہوتی ہے۔کہتے ہیں:
جوہرِ زندگی ہے عشق، جوہرِ عشق ہے خودی
آ ہ کہ ہے یہ تیغِ تیز پردگئ نیام ابھی!
گویا زندگی کو متحرک رکھنے، آگے بڑھانے، ارتقا کی طرف مائل کرنے اور واضح مقصد یت عطا کرنے کا کام عشق ہی کرتا ہے۔ کارو بارِ حیات و کا ئنات کی ساری گہما گہمی اور ساری رونق اسی کے دم قدم سے ہے۔ ’مسجدِ قر طبہ میں اقبال فرماتے ہیں:
مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام
تند وسبق سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے،سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
عشق دمِ جبریل، عشق دلِ مصطفی
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
عشق کی مستی سے ہے پیکرِ گل تا بناک
عشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہہ ِ حرم، عشق امیرِ جنود
عشق ہے ابن السبیل، اس کے ہزاروں مقام
عشق کے مضراب سے نغمہء تارِ حیات!
عشق سے نورِ حیات، عشق سے نارِ حیات
بال ِجبریل ہی کی ایک غزل میں یہ مضمون یوں ادا کرتے ہیں:
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیروبم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بدم
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحر گاہی کا نم
اور اسرارِ خودی میں فرماتے ہیں:
از محبت چوں خودی محکم شود
قوتش فرماندہئ عالم شود
(جب خودی عشقِ الٰہی سے مستحکم ہو جاتی ہے تو اس کی قوت زمانے کی فرماں روا بن جاتی ہے)
خودی کو مستحکم کرنے والی ایک اور چیز علامہ کے نزدیک فقرو استغنا ہے۔ انہوں نے فقر احتیاج کے معنی میں استعمال نہیں کیا بلکہ بے نفسی، استغنا اور عدمِ احتیاج کے معانی میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک فقر دل کی تونگری کا نام ہے۔کہتے ہیں:
(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 110 Articles with 45771 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
23 Sep, 2019 Views: 342

Comments

آپ کی رائے