ایک افسانہ ایک حقیقت

(M Munnawar Saeed, Karachi)
نئی THEORY کے مطابق والدین اور بچوں میں بے تکلفی ہونی چاہیے
بالکل دوستوں کی طرح ۔اس کے نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔

مما نے TV کا بٹن آن کیا۔
سب ننھے مننے بچے لاوئنج میں ممی ڈیڈی کے قریب آکر بیٹھ گئے۔
ڈیڈی کی انگلیاں دس بارہ چینلز تبدیل کرنے کے بعد اچانک ایک انڈین چینل پر آکر ٹھر سی گئیں ۔
ایک رومانٹک انڈین فلم چل رہی تھی۔
پوری فیملی خوب انجوائے کرنے لگی۔
بچے بھی ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے۔
ممی ہیروئن کی ساڑی کا ڈیزائن دیکھ رہی تھیں اور ڈیڈی اس کے ہیئر اسٹائل کی داد دے رہے تھے۔
گانا اور ڈانس شروع ہوا تو سب نے کورس کی شکل میں ملکر ساتھ گانا شروع کردیا۔
نئی THEORY کے مطابق والدین اور بچوں میں بے تکلفی ہونی چاہیے
بالکل دوستوں کی طرح ۔
ادب و احترام نام کی چڑیاں کب کی اڑ چکیں۔

ویسے اس تجربے کی کامیابی کا درست اندازہ تو جب ہوتا ہے جب اولاد جوان ہوگی۔
چوزوں کی طرح چوں چوں کرتے پیارے پیارے بچے جب بڑے ہوکر کووے کی طرح کائیں کائیں کریں گے اور شیر کی طرح دھاڑنے لگیں گے تو اس THEORY کے نتائج کا بہتر طور پر اندازہ ہوسکے گا۔
بہر کیف خوب ہلا گلا ہورہا تھا ۔
میوزک اور گانے پر سب رقص کررہے تھے کہ اچانک دادا جان کے کھنکھارنے کی آواز آئی۔
مما نے دونوں بچوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر انکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔ جتنی دیر میں ڈیڈی نے ہڑ بڑا کر ریموٹ کو ڈھونڈا اور جلدی سے گرین چینل تبدیل کیا ۔

دادا جان آکر بیٹھ گئے ۔
گرین چینل دیکھا ۔
مولانا صاحب کا درس جاری تھا۔
دادا جان کا چہرہ سپاٹ تھا۔کچھ کچھ ناگواری کا احساس بھی نمایاں تھا۔
ڈیڈی زوق و شوق سے گرین چینل دیکھنے لگے۔
مما اپنے موبائل میں مصروف ہوگئیں اور بچے ماں کی گود میں بیٹھے ابھی تک جھوم رہے تھے۔
شاید گانے اور میوزک کا خمار ابھی تک باقی تھا یا گرین چینل کا روحانی فیض ۔
اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

دادا جان کچھ دیر تو یوں ہی مضطرب بیٹھے رہے۔
عالم اضطرار میں انکے پیر تیزی سے ہل رہے تھے۔
اچانک وہ چیخ اٹھے۔
یہ کیا BORING CHANNEL لگایا ہوا ہے۔
بھئی کچھ اچھا سا لگاو۔
بوڑھوں والی عادتیں ہیں تم لوگوں کی ۔
کوئی اچھی سی HOLLY WOOD مووی لگاو ۔
بچے بور ہو رہے ہیں ۔
ممی ڈیڈی کی بھی جیسے جان میں جان آئی۔
ڈیڈی نے جلدی سے مائیکل جیکسن کے ڈسکو گانے لگا دیئے ۔
دادا جان کے چہرے پر ایکدم رونق آگئی ۔جیسے رگوں میں خون کی گردش رواں ہوگئی۔
بچے بھی خوش ہوگئے ۔ممی ڈیڈی کی سانسیں بھی بحال ہوگئیں ۔
سارا گھر خوب انجوائے کرنے لگا۔سب رقص و سرور میں گم ہوگئے ۔

پس دیوار لگی دادی اماں کی تصویر متغیر ہورہی تھی ۔
وہ سوچ رہی تھیں کہ میں جب زندہ تھی تو مرغی کا دڑبہ صبح شام کھولتی تھی۔
تاکہ چوزے اور مرغی دانا دنکا چگیں اور واپس دڑبے کے اندرچلے جائیں ۔

جوزے اور انڈے چیل کوووں سے بھی محفوظ اور بلی کا بھی خطرہ نہیں۔

کہیں یہ رنگ برنگے چینلز اور سوشل میڈیا مرغی کا وہ دڑبہ تو نہیں کے جس کا دروازہ میرے بعد گھر والے بند کرنا بھول گئے ہیں۔
چیل ؛کووے، بلی سب اندر گھسے بیٹھے ہیں۔
میرے چوزے بھی اندر ہیں نا معلوم کب یہ ان معصوم چوزوں کو دبوچ کر کھا جائیں ۔
ہائے میرا مستقبل اغیار کے ہاتھوں میں غیر محفوظ دکھائی دیتا ہے۔
دادی اماں متفکر ہیں ۔
یہ سن کر کہ سعودی عرب کے بگڑ ے ہوئے شہزادے نے خواتین کے ڈریس کوڈ پر پابندی ختم کردی ہے۔
اب کیا ہوگا کیا ہمارے مقدس مقامات ویٹی کن سٹی کی حیثیت تک محدود ہوجائیں گے۔
آپکے دادا اور میرا جوان بیتا جب وہاں جائیں گے تو ان کی نظروں کی حفاظت کون کرے گا۔
بہو واپسی میں عبایا ساتھ لائے گی یا اسکرٹ جینز تو خیر اب پرانی بات ہو گئی ۔
بچے وہاں جاکر وہی کیفیت اور روحانیت محسوس کریں گے جو ہماری امت کے قرون او لی میں پائی جاتی تھی۔
کاش میں تصویر سے نکل پاتی اور تبدیلی کی رفتار کو اپنے ہاتھوں سے کنٹرول کرپاتی ۔
اللہ ۔میری آنے والی نسلوں کی حفاظت فرمائے ۔

(محمد منورسعید )
نوٹ :
اپکی مثبت آرا ہمارے لئے قابل قدر ہونگی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 193 Print Article Print
About the Author: M Munnawar Saeed

Read More Articles by M Munnawar Saeed: 23 Articles with 9046 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: