دل تتلی بن اُڑا - چوتھی قسط

(Saima Munir, Nankanasahib)

عباس"ٹھیک کہتی ہو وہ تم سب کے لیے ایک زمین کا ٹکرا ہے، مگر مت بھولو قادر اور صدیق کا خون 'اسکا مقصد اور میرے لیے اُس 10 سالہ بچے سے کیا ہوا وعدہ "منہ سنوارا جیسے کچھ نگلا ہو پھر بولا"" وہ وعدہ اہم ہے جو میں نے اسکے باپ کے جنازے پر کیا تھا۔
سکینہ"وہ بھول چکا ہوگا"
عباس" مگر اللہ کچھ نہیں بھولتا اُسکے ہاں سب محفوظ ہے۔
سکینہ"عباس کو جھنجھوڑتے ہوئے آپ کیوں میری پھولوں جیسی بیٹی سے اسکے معصوم خواب چھین لینا چاہتے ہیں۔ خدا کا واسطہ! مت جھونکئیے زمرد کو اس آگ میں۔
زمرد ایک قدم پیچھے ہٹا خوابیدہ حالت میں چلنے لگا___________فون کی گھنٹی بجی، کرسی پر بیٹھے شخص نے فون پک کیا۔ سنجیدہ شخصیت فرنچ کٹ داڑھی آنکھوں میں چمک سیاہ بال بائیں جانب چھوٹا سا پف جس کے چند بال گرے کلر میں ڈائی کیے ہوئے۔ اسکی نظریں سامنے میز پر پڑی فائل پر تھی۔فائل پر پینسل سے کچھ تحریر کرتے ہوئے۔ہیلو___وعلیکم سلام _____جی مفتی صاحب! آفس میں کھلیتے بچے کی طرف دیکھتے ہوئے
سراسیمگی کا مظاہر کیا اور بولا بہت خوب کیا خوش خبری سنا دی آپ نے________اچھا ٹھیک ہے ادھر آو پھر اکھٹے بنک چلتے ہیں اللہ حافظ___فون رکھنے سے پہلے اسے کہیں کاغدات تیار کروا لے ___میں آج ہی عباس بھائی سے کنسٹرکشن کی ڈیٹیلز ڈسکس کرتا ہوں۔ بچہ فٹبال دروازے سے باہر نکال کر لے گیا آڈیٹوریم میں کھیلنے لگا۔ اسکا فٹ بال جا کر چیف ایگزیمنر کی کرسی سے ٹکرایا۔ جس کی پشت والی دیوار کے اوپر سفید رنگ کا بڑا سا چاٹ لگا تھا اس پر دو ہاتھوں کے حصار میں جلتی موم بتی بنی تھی۔ اوپری طرف کھلی کتاب بنی تھی جس پر VIRTUE NEVER ENDS لکھا تھا۔ اپنی نشت سے اٹھا اس نے ہاتھ میں تھامہ سوالنامہ questionnaire ٹیبل پر رکھا۔ کشادہ سینہ شرٹ کو باہر ابھارتی توند کالی ڈاڑھی آنکھوں پر بڑے بڑے گول والا چشمہ اسکی طرف دیکھا تو بچہ سہم کر آفس کی طرف بھاگا۔ فردوس فردوس وہ چلایا
فردوس "جی سر چراغ "
چراغ کالج سے تمام بچوں کو باہر نکال دو"
فردوس"مگر جناب عالی کالج میں کوئی بچہ نہیں اوپر سکول سے آوازیں آ رہی ہیں" فردوس کو گھورتے ہوئے فٹبال 'میں' کھیل رہا تھا؟ اس نے پاوں سے فٹبال فردوس کی طرف دھکیل دیا۔ فردوس پلر کے پیچھے چھپے بچے کی طرف دیکھ کر" جی سر ،،نہیں سر مگر وہ وہ سر 'وہ' پرنسپل صاحب کا بیٹا ہے" چراغ نے اسے کھا جانے والی نظروں دیکھا کڑک لہجے میں بولا"فردوس" فردوس "جی جناب عالی" جاو اب میں اسے دوبارہ نہ دیکھوں" اتالیق Teacher کو مذاق سمجھ لیا " بچے استادوں کو فٹبال ماریں گے" سوال نامہ اٹھا کر ٹیبل پر پڑا الارم بجا دیا۔پلک جھپکتے ہی بچیاں لائن بنا کر آڈیٹوریم کی طرف بڑھنے لگیں۔ فائرنگ کی آوازیں آئیں سب بچے ادھر ادھر بھاگنے لگے چھوٹا بچہ کوریڈور کے ساتھ لگے پودے کے پیچھے چھپ گیا۔ ایک لڑکی بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔ گارڈ کو کسی نے گولی ماری کالج میں دس سے بارہ لوگ گھس آئے ۔ سبھی ٹیچرز سٹاف روم میں چھپ گئیں۔ ایک بولی پولیس کو بلواو، دوسری نہیں کوئی فائدہ نہیں۔چہار سو لڑکیوں کی چیخ و پکار تھی۔ تین نقاب پوش آگے بڑھے چراغ انکے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا اسکے ہاتھ میں پینسل تھی ان کی طرف اٹھاتے ہوئے ''تعلیم اگر میسر نہیں آسکی تو ہوسکتا ہے تب بس میں نہ ہو، مگر علم و معلمین اور درسگاہوں کا ادب انسان کے بس میں ہوتا
ہے۔ ایک تاڑکے سے قد کا غنڈہ آگے بڑھا گن کی نل اس کی گردن کے اوپر رکھ کر منہ کو زور سے دھکیلا___بہادر لوگ جملوں سے زیر نہیں ہوتے۔ اسکی پینسل چھین کر دوسرے ہاتھ سے دو ٹکڑے کر دی۔ چراغ"پورے اعتماد سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "بہادروں کا پتہ نہیں؛ اکثر ناسمجھوں پر لفظ بے ہی اثر گزر جایا کرتے ہیں۔
وہ گن پشت سے گھما کر لایا اور چراغ کے سر پر دے ماری۔ چراغ کا سر پھٹ گیا خون بہنے لگا، عینک نیچے گری ایک شیشہ ٹوٹ گیا۔ چراغ کو دھکا دیا وہ زمین پر گرگیا ۔تیرے جیسی چیونٹیاں ہمارے راستوں میں اکثر مسلی جاتی ہیں۔ وہ سیدھے آفس کی طرف آگے بڑھے اور چند لمحوں بعد ایک آدمی کو گھسٹتے ہوئے باہر لائے۔ وہ اپنا گریبان چھوڑوا رہا تھا چھوڑو مجھے___ تمیز سے بات کرو ۔مگر تینوں غنڈے اسے باہر کیطرف لے جانے لگے ۔بچہ زور سے چلایا ابو ابو اور انکا پیچھا کرنے لگا۔ کچھ دور اسے ایک آدمی کے پاس لے جا کر پیٹنے لگے وہ مزاحمت کرتا رہا مگر آٹھ دس لوگوں کے سامنے بے بس تھا۔ راڈ، ڈنڈے ،بندوق کے بٹ کی اندھی ضربوں سے تھک ہار کر زمین پر گر پڑا۔ بچے نے جا کر باپ کے منہ سے مٹی صاف کی ابو ابو اٹھیں سامنے ایک بندہ کھڑا تھا قہقہا لگا کر ہنسا "اٹھ صدیق تیرا بچہ تجھے پکار رہا ہے" ۔اس نے اٹھنا چاہا مگر دھڑم سے واپس زمین پر جا گرا ۔ شاداب آج کے بعد اگر یہ کالج، سکول کھولا تو یاد رکھ ابھی تیرا بیٹا تجھے کندھا دینے کے قابل بھی نہیں ہے۔ صدیق کے منہ پر اپنا بوٹ رکھ لیا۔وہ کراہانے لگا۔ شاداب زمین کی طرف جھک کر بولا اور اونچا تھوڑا اور اونچا۔ صدیق سے درد برداشت نہیں ہو رہا تھا بولا "آہا" شرم کرو معصوم بچے کے سامنے یہ سب__ اسنے سانس لی منہ سے پف نکالی جس سے دھول دور تک اڑی بچے نے ادھر ادھر دیکھا ننھے ہاتھوں میں قریب پڑا راڈ تھاما اور زور سے شاداب کو دے مارا جو اسکی آنکھ پر لگا۔ بچہ خوف سے پیچھے ہٹا اور باپ کی طرف دیکھنے لگا۔ شاداب نے آنکھ پکڑ لی یہ میری آنکھ پھوڑ گیا جانے مت دنیا۔ صدیق پکارا بیٹا بھاگ جا بھاگجا۔
زمرد یکدم ڈر سا گیا ابو۔۔۔۔وہ سیڑھیوں تک پہنچ چکا تھا اوپر چڑھنے لگا اسکی پلکیں بھیگی بھیگی اور چہرہ گلرنگ لگ رہا تھا۔ وہ تیزی سے کمرے کی طرف چلا گیا۔
عباس" سکینہ بیگم جو لڑکا ساری دنیا سے پیاری ماں کی ناراضگی کو بلائے طاق رکھ کر آیا ہے, اسکے مقصد کے سامنے آنا بیوقوفی ہے۔ میں اگر اسکا راستہ روکنا بھی چاہوں تو محض ریت کی دیوار ہونگا۔ عباس نے کپ واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔ سکینہ:وہ سب تو ٹھیک مگر ۔عباس:مگر یاد رکھو سکینہ بیگم رخ دریاوں کے مڑ جاتے ہونگے پر سمندر کی لہریں تابع نہیں کی جا سکتیں،وہ بھی جب چودہویں کا چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو
سکینہ"روبینہ اسلئے نہیں آئی۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی
عباس"جوان بچوں کے آگے ماں باپ بے بس ہوتے ہیں۔
<------->
ٹنزیلہ ٹنزیلہ اٹھو دیکھو دس بج گئے۔۔۔۔۔ہاتھ جھٹکتے ہوئے "کیا ہے سویرا سونے دو" کمبل اڑا کر چہرے کو دوبارہ چھپا لیا۔ سویرا" آج اماں آئی گی" تنزیلہ"جلدی سے اٹھ کر فون آیا ہے کیا؟" سویرا "نہیں جمعہ کے ڑوز نہیں آئی اٹوار کو ضڑوڑ آئیں گی۔ تنزیلہ"دارو آئے گی مجھے پتہ ہے ہاسٹل کا بچا ہوا کھانا لے کر،ناک چڑھاتے ہوئے وہ پھر سو گئی ویسے سویرا اماں آ ہی نہ جائے اسے کیا ضروت ہے بڑے گھر میں سکون سے رہتی ہے ہمیں یہاں چار گز کی جہنم میں جھونکا ہوا۔ سویرا"شڑم کڑو وہ ہماڑے لیے گھڑ سے باہڑ لوگوں کی چاکڑی کڑٹی ہیں پڑ ٹمہیں سمجھانا فضول ہے اسکے پہلو میں پڑے پلنگ پر بیٹھ گئی۔ تنزیلہ"اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھی گود میں سر رکھ کر' اچھا سوری' اماں کی چمچی کہہ کر واش روم میں چلی گئی۔ سویرا اسکے پیچھے بھاگی مگر تنزیلہ نے ڈور بند کر لیا۔ سویرا"ناشتہ خوڈ بناوگی ٹو مزہ آئے گا اس نے تنزیلہ کا بستر ٹھیک کرنا شروع کردیا۔کتابیں ٹھیک کرتے ہوئے انکے نیچے سے فیشن میگزین دیکھا تو پریشان ہوگئی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پڑی سیٹ پر بیٹھ گئی اسکا رنگ اڑا سا گیا۔

<------>
آفس کی بلڈنگ میں انٹر ھوتے ہی منہ موڑ لیا، دو عدد کپ ٹرے میں رکھے کوریڈور کی طرف آتے شخص کی طرف دیکھا نظریں پھیر لیں اف اللہ یہ تو ابھی شکایت لگائے گا۔ ہم سے کیوں نگاہیں پھیرتے ہو؟ رضیہ کے قریب سے بچگانہ دانت نکالتے ھوئے گزر گیا۔ رضیہ" غصے سے دیکھ کر بولی نکل ادھر سے تجھے تو پھر دیکھ لوں گی"۔ عابد ڈر کر پیچھے ہٹا پھر آہستگی سے بولا"اپنی نوکری کی خیر مانگ " بتیس دانت اسے دیکھاتے ہوئے______سر نے بولا تھا اسامہ یا رجی ان دونوں میں جو پہلے آئے کہنا درشن کروا جائے۔ رضیہ نے منہ صاف کیا پچھے ہٹ کر آگے بڑھی "غائب ھوجا صبح صبح نحوست گلے پڑ گئی۔ رضیہ آفس میں چلی گئی فوراً سے کرسی سنبھالتے ہی فائل نکالی کھولی ٹیبل پر رکھی پھر نکالی وہ کافی فائل نکالنے کے بعد پیچھے لگے بکس شلیف کی طرف لپکی "کہاں رکھ دیں یار ،اب کیا ہوگا؟ اتنے میں فون سیٹ پر بیل بجھی،جلدی سے فون پک کیا ہیلو!ریسپشن سے کال تھی "مس رجی سر تسکین بلوا رہے ھیں ۔ رضیہ"اوکے" ٹیبل پر پڑی فائلوں کو ایک بار پھر دیکھا؛جب جانے لگی تو اس کے آفس سے ایک کا فرق چھوڑ کر بیٹھے وقار نے فائل بند کر کے ٹیبل پر دھر دی اور طنزیہ مسکرایہ" رضیہ نے سینے کی سیدھ تک پہنچتی آفس کی گلاس وال پر ہاتھ رکھا حیرانی سے اسے تکنے لگی "آج مجھے دیکھ کر منہ کے تین سو پینسٹھ زاویے نہیں بنا رہا۔ دال میں کچھ کالا ہے سنبل"
سنبل:رجی آج مشکل ہے جو 'تو' بچ جائے __بال کندھے سے پیچھے کیے دوبارہ ٹائپنگ میں لگ گئی۔
رضیہ"میں بھی'رجی' ھوں رجی" سبھی ایمپلائرز اپنی جگہ سے اٹھ کر رضیہ کی طرف باری باری دیکھنے لگے۔ اسنے فائلز اٹھائیں اور تسکین کے آفس کے قریب جا کے رک گئی۔ اندر سے آوازیں آرہی تھیں او ہو! لگتا میٹنگ چل رہی ہے۔ مڑنے لگی تو اسے لگا اسامہ کا نام لیا جا رہا ہو اس نے دروازے سے کان لگا کر باتیں سننا شروع کیں۔ عابد خالی ٹرے گھماتے ہوئے"اچھا تو یہ بھی کرتی ہو؟ یہ 'چغل پانام' پھر آگیا پینسل نیچے گرائی اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے یہ پینسل اٹھا رہی تھی ۔ عابد "ہاں دیکھ لیا کچن میں چلا گیا" اندر سے آنے والی سرگوشیوں کی طرف متوجہ ہوئی سمجھا دیا تھا نا؟ تسکین"اکبر خان وہ لڑکا بہت پہنچا ہوا ہے میں نے سمجھانا چاہا تھا مگر وہ مخالفین کی صف میں جانے کی دھمکی دینے لگا۔
اکبرخان "تو اسے جلدی منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہاہاہا۔۔۔اچھا تسکین میں نکلتا ہوں رحیم یارخان جانا ہے۔
تسکین " چلو پھر اگلے مہینے ملتے ہیں۔ ویسے بڑے چکر لگ رہے ہیں کہیں بھابی تو نہیں ڈھونڈ لی وہاں" کرسی گھماتے ہوئے اس پر ٹیک لگا لگی۔اکبر خان کے چہرے کی رنگت پیلی پڑ گئی مشکل سے مسکرایہ۔"ارے تسکین صاحب یہ چیپڑ chapter کلوز ہی سمجھو وہ دروازہ کھولنے لگا تو رضیہ نے دیوار کے ساتھ لگ کر آنکھیں بند کر لیں۔اسکے گزرنے پر وہ اندر داخل ہو کر بولی" سر مئے آئی کم ان"
تسکین"نو" وہ ہکی بکی رہ گئی پیچھے مڑنے پر تسکین "امید کرتا ہوں آئند اندر آنے بعد اجازت طلب نہیں کرو گی "
رضیہ:سوری سر مسکین __ بلکل سیریئس ہو کر کھڑی ھو گئی۔
وہ کرخت لہجے میں بولا تسکین ت سے___اگلی بار ٹائم پر نا پہنچنا ہو، تو آنے کی زحمت مت اٹھانا۔
رضیہ"سر مسکین"سانس اندر کو کھینچی ہونٹوں پر dummy مسکراہٹ لائی۔ تسکین نے غصے سے دیکھا ہاتھ کندے کے اوپر سے پیچھے پوائنٹ کیا" کل رات ایئر پورٹ پر مسئلہ ہوگیا تھا۔ ساری فلائٹس کا شیڈول خراب ہوگیا میں 12 بجے پہنچی اوپر سے موٹی ثناء اتنی اونچی آواز میں میوزک سنتی ہے کیا بتاوں وہ تیز تیز بولتی گئی۔
تسکین" اچھا ذرا لاو رپورٹ دو مجھے
رضیہ:سر وہ ڈپٹی کمشنر اور ٹھیکیدار والی فائلز مسننگ ہیں۔
تسکین تھوڑا اٹک کر بولا وہ وقار نے مرتب کردیں۔
رضیہ"مرتب کردیں اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔سر یہ کیا مذاق ہے؟ اسکی اتنی ہمت 'میری محنت' نام وقار کا،کس سے پوچھ کر لیں وہ باہر کی طرف گئی۔
تسکین رک رجی میں نے دیں ہیں
رضیہ"سر آپ ایسے نہیں کر سکتے"
تسکین "اس آفس کے فیصلے کرنے کے لیے مجھے اجازت کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی مجھے وہ نہیں کل والی رپورٹ چاہیے۔۔۔!! ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر جھکا "اسمگلنگ اسکینڈل والی___ جس کے لیے تمہیں کراچی بھیجا تھا"
رضیہ"وہ تو ہے، مگر "او ہو! اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر "رپورٹ تو بائیک پر رکھی تھی" تسکین "رپورٹ لاو کن سوچوں میں گم ہو؟ فکر نہ کرو دوسری دونوں پبلیکیشن میں تمہارا نام متاخرین میں آئے گا۔" رضیہ"آہاں متاخرین ہیں____ ھمھم " سوچ میں پڑ گئی' وہ رپورٹ تو بائیک پر رکھ آئی ہوں اب یہ زہر پینا ہی پڑے گا؟
تسکین نے رضیہ کے چہرے کے قریب چٹکی بجائی کیا سوچ رہی ہو رجی
رضیہ "ہاں ہاں" وہ چونک گئی۔
تسیکن"رپورٹ " ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بٹر بٹر اس کی طرف دیکھنے لگا
رضیہ کو بہت غصہ آیا مگر وہ ضبط کر گئی بڑبڑائی ٹھیک ہے پھر مسٹر مسکین آہ! سر تسکین وہ دراصل رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی۔
تسکین"رجی کیا بولا؟
رضیہ "سمجھ نہیں آرہی کیسے بتاوں۔
تسکین"دیکھو "سیدھی بات کرو "
رضیہ"بہت جلد رپورٹ مرتب کرلوں گی"کاشف تو مہرہ ہے اصلی کردار کوئی اور ہے۔
تسکین"تجس کےساتھ کون___کون رجی؟"
رضیہ"تھوڑا انتظار کریں۔ بہت جلد رجی سرپرائز دے گی۔ اس نے ٹرخنے میں آفیت جانی۔
تسکین"واہ لڑکی دام والی ہے۔ نمبر ڈائل کر کے فون کان سے لگا لیا۔ ہاں اکبر خان
اکبر "تسکین صاحب حکم"
تسکین"میں نے سوچ لیا تمہاری درخواست مان لیتا ہوں اکبر"اسمگلنگ رپورٹ پر____ بہت شکریہ! "
تسکین" ارے نہیں شکریہ کیسا"

<---------->
زمرد لیٹ ٹاپ لیے بیٹھا تھا بند کر کے ٹیبل پر رکھا بیڈ پر چلا گیا گلاس خالی تھا جگ اٹھایا وہ بھی خالی پایا واپس رکھ کر گلاس اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
رجب چپکے چپکے سے سرخاب کے ڈور کو نوک کرتے ہوئے جلدی آو سُر۔

<------>♢<------>
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 91 Print Article Print
About the Author: Saima Munir

Read More Articles by Saima Munir: 5 Articles with 855 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: