ہیرے ہمیشہ گھر ہی سے ملتے ہیں!

(Aqsa Amal, Karachi)

افریقہ میں ایک کسان رہتا تھا جو آسودہ حال اور خوش تھا۔وہ خوش اسلئے تھا کہ آسودہ حال تھا اور آسودہ حال اس لئے تھا کہ وہ خوش تھا ۔ایک روز کسان کھیتی باڑی کر رہا تھا کہ ایک ہیرے کا تاجر اسکے پاس آیا اور اسے ہیروں کے شکوے اور ان کے تحویل میں ہونے کی بناء پر حاصل ہونے والی طاقت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا:"اگر تمہارے پاس تمہارے انگوٹھے کے سائز کا ہیرا ہو تو تم اپنے ایک شہر کے مالک ہو سکتے ہو۔اگر تمہاری مٹھی کے سائز کا ہیرا ہو تو تم اپنے ایک ملک کے مالک ہو سکتے ہو" ۔یہ کہہ کر تاجرچلا گیا مگر کسان کو تذبذب میں ڈال گیا۔اس رات اُسے نیند تک نہ آئی اُس کی خوشی ختم ہو گئی وہ بےچین اور غیر آسودہ ہو گیاکیونکہ وہ ناخوش تھا۔ اگلے روز ہی اس نے اپنے سارے کھیت بیچ ڈالے اور اپنے خاندان کے گزر بسر کا بندوبست کیا اور ہیروں کی تلاش میں نکل پڑا۔اُس نے دن رات ایک کر کے پورے افریقہ چھان مارا مگر اُسے ہیرا نہ ملا۔ تاجر کی بات نے کسان کے دل و دماغ پر اتنا اثر کیا کہ وہ ہیرے کی تلاش میں اسپین جا پہنچا۔اس نے ہیرا حاصل کرنے کی ٹھان لی تھی ۔اسپین میں تگ ودو کے بعد بھی اُسے ہیرا نہ ملا ۔وہ جذباتی ،مالی اور جسمانی طور پر بالکل ختم ہو چکا تھا ۔وہ اس قدر دل برداشتہ ہوا کہ اُس نے بارسلونا کے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔

اُدھر اُس کے گاؤں میں جس شخص نے اسکے کھیت خریدے تھے وہ ایک روز چشمے پر جس اُسکے کھیت سیراب ہوتے تھے ۔اپنے اونٹوں کو نہلا رہا تھا کہ اس کی نظر چشمے کے پار ایک پتھر پر پڑی جو صبح کی کرنوں میں جگمگا رہا تھا اور قوس و قزح کے رنگ بکھیر رہا تھا۔اُس شخص نے سوچا کہ یہ پتھر اسکے کارنس پر خوب سجے گا سو وہ اس پتھر کو اُٹھا کر گھر لے آیا اور اسے لیونگ روم میں رکھ دیا۔ اسے سہہ پہر ہیروں کا وہی تاجر اسکے پاس آیا اور اُس نے کارنس پر جگمگاتے ہوئے پتھر کو دیکھا تو پوچھا کیا ہربرٹ(کسان) واپس آ گیا؟ کھیتوں کے نئے مالک نے جواب دیا :"نہیں تم کیوں پوچھ رہے ہو؟"۔ اس تاجر نے کہا :"اس لئے کہ یہ ہیرا ہے۔میں تو ایک نگاہ میں ہیرے کو پہچان لیتا ہوں"۔وہ شخص بولا:"نہیں! یہ تو پتھر ہے جو میں نے چشمے کے پاس سے اُٹھایا تھا ۔میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں۔وہاں ایسے بہت سے پتھر ہیں"۔ لہذا وہ تاجر کو چشمے تک لے گیا ۔انہوں نے سیمپل کے طور پر کچھ پتھر اُٹھا لئے اور انہیں تفصیلی جانچ کیلئے بھیج دیا ۔یقینی طور پر وہ پتھر ہیرے ہی تھے اور کسان کے کھیتوں میں یہ ہیرے جابجا بکھرے پڑے تھے ۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ بے چارے ہربرٹ کو احساس بھی نہ ہو سکا کہ ہیرے اسکے اپنے صحن میں موجود ہیں ۔اور ہم میں سے اکثریت کے ساتھ یہی ہوتا ہے"تمہیں کس چیز کی خواہش ہے ؟دوست پوچھتے ہیں۔ذہنی سکون کی ،خوشی کی ہم حسرت سے کہتے ہیں اور آپ کے خیال میں ذہنی سکون اور خوشی کس طرح حاصل ہو سکتی ہے؟ امریکہ میں کوئی کام مل جائے؟ آپ تو جانتے ہیں کہ وہاں ڈالرز میں سیلری ہوتی ہے اور پھر ہم غیر ملکی سفر کیلئے روانہ ہو جاتے ہیں کمانے اور اسٹیبلش ہونے کے جمچکر میں کمر توڑ لیتے ہیں ۔ہم ہر دو سال بعد پاکستان واپس آتے ہیں اور اپنے حاسد رشتہ داروں کو بڑے فخر سے انہیں اپنی کار کے بارے بتاتے ہیں جو پردیس میں ہمارے پاس ہوتی ہے ۔اُس ڈش واشر کے بارے میں بتاتے ہیں جو تمام برتن خود دھوتا ہے جبکہ ہم خود رشک سے اس سہل رفتار لائف کو دیکھتے ہیں جو ہمارے رشتہ دار یہاں بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ہماری زندگیوں کے اختتام پر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہیرے تو خود ہمارے عقبی صحن میں ہمارے اپنے وطن میں موجود تھے یا وہ ایک خوبرو مرد بھی ہو سکتا ہے جو آپ کے پڑوس میں رہتا تھا یا وہ خوبصورت عورت جس سے آپ کی ملاقات آفس کی پارٹی میں ہوئی تھی لیکن آپکو تو اپنی کرنے کی پڑی ہوتی ہی آپ کا اپنا گھر بار اپنا وطن چھوڑ جاتے ہیں اور تلخ حقیقت کا احساس آپکو بعد میں ہوتا ہے تب سمجھ آتا ہے کہ سچے ہیرے کون سے تھے ۔ہیرے وہاں پر ہیں جہاں آپ اس وقت موجود ہیں اور انکی چمک دمک ان لوگوں کے وجود سے آرہی ہے آپ جن کے ہمراہ ہیں لہذا ان کی قدر کریں اور مزید آگے دیکھنے کی کوشش نہ کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Amal

Read More Articles by Aqsa Amal: 9 Articles with 2347 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Oct, 2019 Views: 159

Comments

آپ کی رائے