پروگریسو محصول

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

یہ بالکل باطل منہج ہے، بعض احباب بلکہ کئ مسلمان ملکوں کے حکام بھی اسکی ترویج کرتے نظر آتے ہیں اور یہ منہج پیش کرتے نظر آتے ہیں جس کو پروگریسو ٹیکسیشن یا پروگریسو محصول کہا جاتا ہے. اسکا اسلام کے طریقہ کار سے کچھ تعلق نہیں ہے. اسکا مطلب ہے جوں جوں آپ کی امدنی بڑھے تو آپ پر فیکس محصول کے فیصد بھی بڑھتی رہے.

مثال کے طور ہر آپ اگر پاکستان کے ڈائریکٹ محصول سلیب کی طرف نظر دوڑائیں تو یہ پانچ فیصد سے آغاز ہوکر پینتس فیصد تک چلا جاتا ہے.

اور یہ کچھ اور نہیں مگر صریح ظلم و ستم اور حکام کی بے رحمی ہے، اللہ انکو ھدایت دے، اور ہمیں اور انکو اس جہل سے نکالے، اللھم آمین . کیونکہ میں پاکستانی ہوں اس لیے یہاں پر میں پاکستان کی نوعیت سے بات کروں گا.

اسلام میں ڈائریکٹ ٹیکس جو پیسہ و مال پر ہوتا ہے اسکو زکوة کہا جاتا ہے. تو مالدار طبقے پر ڈھائ فیصد کے حساب سے زکوة ہوتی ہے يعنى كسى كى سالانه بچت جب وہ پچانوے گرام سونے یا اس کی قیمت کے برابر ہوجائے یا پانچ سو پچانوے گرام چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ہو اور اس کی برابر رقم یا سونے/چاندنی پر سال گزر جائے تو اس بچت پر ڈھائ فیصد زکوة ہوگی. لیکن یہ بات یاد رہے کہ ڈائریکٹ محصول زکوة کی ضمن میں اسکی قیمت یا فیصد سے نہیں بڑھتی بلکہ وہ اس ڈھائ فیصد کے اعتبار سے ہی لیا جاتا ہے. مثلا ایک شخص دس لاکھ کا مالک ہے اور دوسرا دو کروڑ کا اور تیسرا ایک عرب کا مالک ہے مگر ان تینوں کی زکوة ڈھائ فیصد فيکسڈ ہی رہے گی .

کیونکہ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ مالدار غریب ہوجائے تیس فیصد اور پچاس فیصد ڈائرکٹ ٹیکس ادا کر کے. بلکہ یہ تو یورپ اور امریکہ جیسی باطل جمہوریت پسند ملکوں کو طریقہ ہے. اسکو اسلام کے کھاتے میں ڈالنا صریح ظلم ہے اور ہم اس باطل منہج کی مذمت کرتے ہیں.

جی ہاں، ڈائریکٹ ٹیکس جو زکوة کی مد میں لیا جائے وہ زمین پر، مال پر، پیسہ پر، اجناس پر، جانوروں پر مختلف کیفیت میں مختلف ہے. مگر مال و پیسہ پر یہ ڈھائ فیصد ہے.

تو پاکستان کے لوگوں پر ڈائریکٹ ٹیکس لاگو كر كے انکے مال میں ظلم و بربریت کرنے سے بہتر ہے کہ ان میں حق بات کی آگاہی پیدا کی جائے کہ اللہ نے ان کے نصاب کو پہنچے ہوئے اس مال پر جو پچانوے گرام سونے کی مد کے برابر ہو اس پر ڈھائ فیصد زکوة کو فرض قرار دیا ہے. اگر اس مال کو ادا کرنے کی آگاہی کو فروغ دیا جائے تو یقین مان لیں یہ مال پاکستان بھر کے لیے کافی ہوگا.

لیکن اگر پھر بھی ایک حکومت ڈائرکٹ ٹیکسیشن یا پروگریسو محصول لاگو کرنا ہی چاہتی ہے تو اس کو پانچ فیصد سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے اور اس کو فيکسڈ فیصد رکھنا چاہئے. کیونکہ اس محصول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ اپنی آمدنی سے ہاتھ دو بیٹھیں بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کس طرح حکومتی امور کے لیے فینڈز کو اکٹھا کیا جائے تاکہ عوام کی فلاح کے لیے معاشرے میں اچھے امور کو سرانجام دیا جائے. اس ضمن میں حکومت کو نیک اور صالح علماء حق سے رائے ضرور لینی چاہیے. اور یاد رہے کہ ٹی وی یا میڈیا پر نظر آنے والے یا سیاست میں نظر آنے والے تمام لوگ جو داڑھیوں اور پگهڑیوں میں ہیں ضروری نہیں کہ وہ اشخاص علماء حق بھی ہوں بلکہ علماء حق وہی ہیں جو اپنا مدعا قرآن والسنتہ اور صحیح روایات سے پیش کرتے ہیں اپنی رائے سے نہیں اسلیے ان ہی سے اس موضوع پر بھی رائے لینی چاہیے.

ماہر معاشیات ڈاکٹر تیمور رحمان کے مطابق پچانوے سے آٹھانوے فیصد تک پیسہ پاکستان میں مختلف ان امور میں لگ جاتا ہو جو طریقیاتی نہیں ہوتے اور صرف دو سے پانچ فیصد تک ہی پیسہ طریقیاتی امور پر خرچ ہوتا ہے جس سے پبلک ہسپتال، سکول، یونیورسٹیز بنتی ہیں اور دیگر فلاحی کام سر انجام دے جاتے ہیں.

پاکستان کے بجٹ پر اخراجات:
* پچاس فیصد قرضوں کی مد میں
* بیس سے پچس فیصد دفاعی اخراجات کی مد میں
* پندرہ سے بیس فیصد اشرافیہ کے اخراجات کی مد میں
* صرف دو سے پانچ فیصد ہی ترقیاتی مد میں خرچ ہوتے ہیں

تو میری رائے میں لوگوں پر پروگریسو ٹیکسیشن کے نام پر مزید دباؤ ڈالنے کى بجائے بہتر یہ ہے کہ حکومت اس پانچ فیصد طریقياتی اخراج کو کم از کم بیس فیصد کرنے کی کوشش کرے اور بجٹ کو اشرفیہ کو سامنے رکھ کر بنانے کی بجائے ان سے اس مال کو بچا کر عوام پر خرچ کرنے کی کوشش کرے. اس ضمن میں محصول یا ٹیکس بریکٹ کو بڑھانا ایک اچھی حکمت عملی ضرور ہے تاکہ لوگ زکوة بھی ادا کریں اور ٹیکس بریکٹ کو فيکسڈ پانچ فیصد پر ہونا چاہئے، اور اس سے زائد ہرگز نہیں کیونکہ صحیح حدیث میں ٹیکس لگانے والے حاکم کو صاحب مکس کہا گیا ہے.

(صاحب مکس سے دو لوگ مراد ہیں وہ حاکم جو لوگوں سے زبردستی محصول و ٹیکس لیتا ہے. یا ایسا بھتہ خور جو لوگوں کے مال چھینتا ہے)

اور اشرافیہ سے اس مال کو بچانا چاہئے جو وہ اپنے زور پر حکومتوں سے ہتھیا لیتے ہیں، تاکہ عوام پر کئے گئے محصول کے جمہوری طریقہ سے رائج ظلم و ستم سے بچتے ہوئے اسلامی انداز و فکر پر عوام کی فلاح و بہبود پر مال کو خرچ کیا جائے.

اور اللہ بہتر جاننے والا ہے

تنبیہ: اگر کوئ بھائ پی ٹی آئ کے کسی وزیر یا حکام بالا تک رسائ رکھتا ہے تو یہ آرٹیکل ان تک ضرور پہنچائیں تاکہ حکومتی عناصر اپنی تصحیح کرلیں. اللہ ہمیں اور ہماری حکومتوں کو ھدایت دے اور انکو باطل فہم سے بچائے، اللھم آمین.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 286 Articles with 216091 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2019 Views: 149

Comments

آپ کی رائے