ہوشیار!!!!ورنہ!!!

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

ابتداہے اللہ عزوجل کے نام سے ۔جس نے ہمیں انسان بنایااور اپنی اشرف المخلوقات کا تاج ہمارے سر سجایا۔ناظرین:آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے ۔جو آج معاشرے کی رگ رگ میں پیوست ہوچکاہے ۔۔بلکہ اس مرض نے معاشرے کے حسن اور قابلیت کے جوہر کو دیمک کی طرح چاٹ لیاہے ۔۔
قارءین :آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا پہیلیاں پوچھ رہاہوں !!ایسا نہیں میں آپ کی توجہ چاہتاہوں !!کہ آپ اس اہم اور گھمبیر مسئلہ پر پیش کی جانے والی گفتگو کو توجہ سے سنیں !!
ایک مہلک بیماری سفارش ہے اور ظاہر ہے کہ سفارش وہاں کی جاتی ہے جہاں امیدوار نااہل نالائق اور کسی بااثر آدمی کا تعلق دار ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب سفارش بھی ہے جس نے نااہلوں کو اوپر لا کر ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور اہلیت رکھنے والے افراد ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
سفارش ایک ایسی دیمک ہے جس نے اس معاشرے سے اہلیت کی جگہ نااہلی کو دے دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی شعبہ نہ تو صحیح کام کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی منصب کامیاب ہوتا ہے ہم مسلمان ہیں لیکن ہمارے کردار پر کئی ایسے بدنماداغ ہیں جس سے ہماری شخصیت پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں ۔
آئیے میں آپ کو سفارش کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے تاریخ و سیرت کا ایک واقعہ بتاتا ہوں فیصلہ آپ خود کیجئے گا کہ صدیاں گزرگئیں لیکن یہ واقع اسی طرح اپنے سبق اور درس کی خوشبو سے تروتازہ ہے ۔
سفارش کا سلسلہ اتنا دراز ہو چکا ہے کہ اس کو انقلابی اقدامات ہی روک سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ اصحابِ بست و کشاد یہ کار خیر انجام دیں گے تو یہ ہماری بھول ہے کیوں کہ وہ تو خود نااہلی اور سفارش کی بنیاد پر کھڑے ہیں اس بیماری کو روکنے کے لئے انقلاب اور دیانت دار قیادت کی ضرورت ہے جس کے آثار بھی دور دور تک نظر نہیں آتے ۔
قارءین :آئیے ذراناجائز سفارش کو اسلام کے پیرہن میں ناپنے تولنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام ناجائز سفارش کے متعلق ہمیں کیا پیغام دیتاہے ۔
ناجائزسفارش سے مراد ایسی سفارش ہے جس کے ذریعے کسی شرعی سزا کے نفاذ کو روکنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ حضرتِ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسکی سفارش اللہ کی حدود پار کر جائے اس نے اللہ کی مخالفت کی ۔(مستدرک ، کتاب الحدود، باب من حالت شفاعتہ الخ،رقم الحدیث۸۲۱۸، ج۵،ص۵۴۶)
آئیے ارشاد باری تعالیٰ کی روشنی میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
رب تعالیٰ فرماتاہے :وَمَنۡ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اورجو بُری سفارش کرے اُس کے لئے اُس میں سے حصہ ہے ۔(پ ۵،النسآء:۸۵)
ناظرین: سیرت کا ایک واقعہ جو رہتی انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ذراسنیے اور سبق حاصل کیجئے !!واقعہ کچھ اسطرح ہے کہ ـ: حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی توقریش سوچ وبچارکرنے لگے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم سے اسکی سفارش کون کرے ؟ بالآخرحضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ کا انتخاب ہوا کہ یہ حضور کے محبوب ہیں یہ بات کرسکتے ہیں ۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلي الله علي وسلم سے اس عورت کی سفارش کی تو سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ پھرکھڑےہوئے اورخطبہ دیا:اے لوگو! تم سے پچھلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان میں صاحبِ منصب چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتااور اگر غریب چوری کرتا تو اس پر حد قائم کی جاتی ،خدا کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔(مسلم ، کتاب الحدود، باب قطع السارق الشریف وغیرہ،،رقم الحدیث۱۶۸۸،ص۹۲۷)
ناظرین :آئیے ذرااحادیث کی روشنی میں ناجائز سفارش کی مذمت جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا:’’جس کی سفارش اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود میں سے کسی حد کے سامنے رکاوٹ بنی اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ضدبازی کی اور جس نے باطل کی حمایت میں جان بوجھ کر جھگڑا کیا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں رہے گا یہاں تک کہ اُسے چھوڑ دے اور جس نے کسی مومن کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جہنمیوں کی پیپ میں رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنی بات سے توبہ کر لے۔‘‘
(سنن ابی داود،کتاب القضاء ،باب فی الرجل یعین…الخ ،الحدیث:۳۵۹۷،ص۱۴۹۰۔ )
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ سنیے اور سبق حاصل کیجئے !!تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے ظلماً جھگڑے میں کسی کی مدد کی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے غضب میں آ گیا۔‘‘ (سنن ابی داود ،کتاب القضاء ،باب فی الرجل یعین۔۔الخ ،الحدیث:۳۵۹۸،ص۱۴۹۰۔)

شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس نے ناحق جھگڑے میں کسی کی معاونت کی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں رہے گا یہاں تک کہ اُسے چھوڑ دے۔‘‘ (المستدرک،کتاب الاحکام ،باب لا تجوز شہادۃ بدوی علی صاحب قریۃ ،الحدیث:۷۱۳۳،ج۵،ص۱۳۵۔ )
ناظرین یہ تو تھا سفارش کا قابل مذمت پہلو!!!لیکن اسی عنوان کو دوسرے انداز میں بھی دیکھا جاسکتاہے ۔معلوم ہے وہ عنوان کیاہے ۔۔
جی ہاں !!وہ یہ کہ ناجائز سفارش تو قابل مذمت ہے ۔کیا کوئی سفارش قابل تعریف بھی ہے کیا کوئی سفارش جائز بھی ہے ۔۔آئیے اب اس پر غور کرتے ہیں ۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مدنی آقا صلی اللہ علی وسلم کی بارگاہ اقدس میں کوئی سائل یا ضرورت مند حاضر ہوتاتو آپ صلی اللہ علی وسلم فرماتے : (حاجت روائی میں )اسکی سفارش کرو اجر پاؤ گے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے ذریعے جو چاہتاہے فیصلہ کرتاہے ۔(صحیح بخاری ، کتاب الادب ، رقم ۶۰۲۷، ج۴،ص۱۰۷ )
جبکہ حضرتِ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: سفارش کرکے اجر پاؤ ، تم میں سے کسی کی حاجت دیکھ کر میں اسے ذہن نشین کرلیتا ہوں کہ کب تم اسے حل کرو ا کر اجر پاؤ گے ؟(ابوداؤد، کتاب الادب ، باب فی الشفاعۃ رقم۵۱۳۲، ج۴، ص۴۳۱)
اسی طرح مراۃ المناجیح میں حدیث مبارکہ رقم کی گئی کہ :’’ جب حضور کے پاس سوالی یا حاجت مند آتا تو فرماتے اے صحابہ سفارش کرو ثواب دیئے جاؤ گے ۱؎ اور اللہ اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے فیصلہ فرمائے ۲؎(مسلم،بخاری)
مراۃ المناجیع شرح مشکاۃ المـصابیح میں اس حدیث کے تحت لکھا گیا کہ :۱؎ یعنی اس سائل یاحاجت مند کی حاجت روائی کے لیے ہم سے سفارش کرو تم کو سفارش کرنے کا ثواب ملے گا۔ معلوم ہوا کہ حاکم سے حق اور اہل حق کی سفارش کرنا ثواب ہے کہ نیکی کرنا،نیکی کرانا،نیکی کا مشورہ دینا سب ہی ثواب ہے باطل کی سفارش گناہ ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ شرعی حددو میں سفارش حرام ہے اور تعزیرات میں سفارش جائز۔(اشعہ)۔۔۲؎ یعنی اگر ہم تمہاری سفارش کے مطابق فیصلہ کریں تو تمہاری سفارش کی وجہ سے نہ کریں گے بلکہ بہ حکم الٰہی اور اگر سفارش قبول نہ کریں اس کے خلاف فیصلہ کریں تو بھی تمہاری سفارش کی مخالفت سے نہیں بلکہ یہ دونوں عمل بہ حکم الٰہی ہوں گے کیونکہ ہماری زبان پر رب تعالٰی کلام فرماتا ہے ہمارے کام رب کے کام ہیں،ہاں تم کو بہرحال ثواب مل جاوے گا خواہ سفارش قبول ہو یا نہ ہو لہذا تم سفارش قبول نہ ہونے پر ملول نہ ہو اور آئندہ سفارش چھوڑ نہ دو۔
آئیے قرآن مجید سے جائز سفارش کے بارے میں جاننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
مَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنْہَاۚ وَمَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَاؕ وَکَانَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا﴿۸۵﴾
ترجمہ ٔکنزالایمان: جو اچھی سفارش کرے اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور جو بری سفارش کرے اس کے لیے اس میں
سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادرہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو اچھی سفارش کرے اس کے لئے اس کا اجر ہے اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
محترم قارءین :ایک باریک نکتہ اسے سمجھنے کی کوشش کیجئے !!
اچھی سفارش وہ ہے جس میں کسی کو جائز نفع پہنچایا جائے یا تکلیف سے بچایا جائے، اس پر ثواب ہے جیسے کوئی نوکری کا واقعی مستحق ہے اور کسی دوسرے کی حق تَلفی نہیں ہورہی تو سفارش کرنا جائز ہے یا کوئی مظلوم ہے اور پولیس سے انصاف دلوانے میں مدد کیلئے سفارش کی جائے۔ بری سفارش وہ ہے جس میں غلط سفارش کی جائے، ظالم کو غلط طریقے سے بچایا جائے یا کسی کی حق تلفی کی جائے جیسے کسی غیر مستحق کو نوکری دلانے کیلئے سفارش کی جائے یا کسی کو شراب یا سینما کے لائسنس دلوانے کیلئے سفارش کی جائے، یہ حرام ہے۔
ہم نے آپ کے سامنے اور پھول اور خار دونوں آپ کے سامنے رکھ دیے !!عقل مند انسان تو ہمیشہ پھولوں ہی کو پسند کرتاہے ۔۔وہ تو خار سے دامن بچابچا کے گزرتاہے ۔۔۔تو پھر کیا خیال ہے ؟کبھی ناجائز سفارش کریں گے ؟یا کسی سے اپنے لیے ناجائز سفارش کرنے کا تقاضا کریں گے ؟
خدارا!!اس عارضی و فانی دنیا کے چند فوائد کی خاطر اپنی آخرت کا نقصان نہ کیجئے !!!!خدارا !!!ایسا ہرگز نہ کریں !!!!ناجائز سفارش کا تصور بھی دل و دماغ پر نہ گزرنے دیں !!!!!!پلیز پلیز پلیز ہرگز ہرگز ایسا نہ کریں !!!!!!!اپنے بھلے اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے خداکے لیے ایسا نہ کریں !!!
محترم قارئین :اپنے کامنٹس میں ہمیں ضروربتاءیے گا کہ اآپ ہمارے موقف سے کس حد تک متفق ہیں۔۔۔اآخر میں بتاتے چلیں کے اآپ @hos1011وزٹ ضرور کرنا نہ بھولیے گا۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 141 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 235 Articles with 222475 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ