عوامی جمہوریہ چین کا قومی دن اور پاک چین مثالی دوستی

(Muhammad Akram Awan, )

طویل خانہ جنگی سے چھٹکارے کے بعد 21ستمبر1949کوچین کے عظیم راہنماماؤزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی اور1950کے بعدسے یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طورپرمنایا جاتاہے۔ہرسال یکم اکتوبر سے سنہری ہفتہ کا آغازہوتا ہے ،جسے پوری قوم کی طرف سے زبردست تیاری کے ساتھ خصوصی طورپرمنایا جاتاہے۔بیجنگ،شن جن،ہاربین،ہانگ جواورشیامن سمیت وسیع وعریض ملک کے تمام چھوٹے وبڑے شہروں میں انتہائی جوش وجذبے کے ساتھ قومی جشن کااہتمام کیا جاتاہے۔ مختلف شہروں کودُلہن کی طرح سجایا جاتا ہے،خاص کر تاریخی عمارتوں کورنگ برنگی جھنڈیوں،قومی پرچم اور روشنیوں سے خوب مزین کیا جاتاہے۔اس قومی موقع کی مناسبت سے بیجنگ میں ملٹری پریڈ،فائرورک شواوردیگرہرشہروقصبہ میں رنگارنگ تقاریب منعقدکی جاتی ہیں ۔ شاہراہوں کو سرخ روایتی رنگ کے گلدان،رنگ برنگے پھولوں سے اس خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اوررات کودلفریب روشنیوں کے شوکاخصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ امسال چین کے 70ویں قومی دن کے موقع پر صوبہ گانسوکے شہرڑانگ یی کے کسانوں نے اپنے عظیم ملک سے اظہارمحبت کے طورپر سیکڑوں ٹن لال مرچ سے کئی میٹرلمبا اور چوڑاقومی پرچم اورملک کا نقشہ بنایاہے۔

قومیں اپنے راہنماء کی بدولت ہی دنیامیں بلند مقام اورمنزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔چینی عوام کی خوش بختی کہ انہیں عظیم راہنمااورکرشماتی شخصیت ماؤزے تنگ کی قیادت نصیب ہوئی۔ماؤزے تنگ نے بکھرے ہوئے قبائل چین کومتحدکیا، اورباہمی احترام،مفاہمت،امن وآتشی اورمعاشی ترقی کے راہنما اصولوں کوبنیاد بناتے ہوئے چین کواقتصادی قوت بنانے کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ چین مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ،آج دُنیا کی سب سے مضبوط اقتصادی طاقت بن چکا ہے۔

1950سے1960تک چین میں فی کس آمدنی محض50ڈالرتھی۔اس مرحلہ پر مفلوک الحال چین کے لئے اپنی بقاء مشکل نظرآرہی تھی۔یہاں کے لوگ بھوک افلاس کا شکارتھے اورخط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبورتھے۔ چین پوری دُنیا کی مجموعی آبادی کا پانچواں ملک ہے ۔بنیادی طور پرزرعی ملک ہونے کے باوجود آج سے 60سال قبل زرعی خود کفالت محض ایک خواب تھا۔مگرچین کی مخلص قیادت نے زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے ایسے ٹھوس اقدامات،اصلاحات اورمنصوبہ بندی کی کہ چندسالوں میں یہ قوم زراعت کے شعبہ میں مکمل طورپرخودکفالت کے حصول میں کامیاب ہوئی،یہاں تک کہ آج یہ ملک زرعی شعبہ میں ٹیکس فری ہے۔اس قوم نے تعلیم،صحت، صنعت وحرفت اورجدید ٹیکنالوجی سمیت زندگی کے ہرشعبہ میں وہ کارہائے نماں سرانجام دیئے کہ آج پوری دُنیااس قوم کی کامیابوں پرحیران اوررشک کرتی ہے۔

چین نے چندہی سالوں کے اندراپنے عوامی کی بہتری وبھلائی اورسہولتوں کے لئے اقدامات کئے ،جن کی بدولت کچھ ہی عرصہ میں یہاں سماجی زندگی میں انقلاب برپاکردیا گیا،عام شہریوں سے متعلق ایسا جامع دستوراورضابطہ حیات وضع کیا گیا ،جس سے انسانی حقوق کے تحفظ کوضمانت ملی۔معذورافراد،بوڑھوں،بچوں ،عورتوں اوربے سہاراافرادکی امداداوربحالی کے لئے خصوصی طورپرتوجہ دی گئی۔

پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جس نے چین کوتسلیم کیا،پاکستان کے اس اقدام کوچین نے ہمیشہ عزت اورقدرکی نگاہ سے دیکھااورمضبوط ومستحکم دوستی کا ایساہاتھ پاکستان کی طرف بڑھایا کہ ہرگزرتے لمحہ کے ساتھ دوستی مزیدبڑھتی گئی۔ذاتی مفادات سے بالاترہوکرسفارتی تعلقات نے دونوں ممالک کے لئے ہمیشہ آسانیاں پیداکیں۔پاکستان اورچین کے آپس کے تعلقات اس قدرمضبوط ہیں کہ علاقائی اوربین الاقوامی کسی قسم کے حالات کبھی اس دوستی پراثرانداز نہیں ہوسکے ۔چین نے ہرمشکل گھڑی میں پاکستان کابھرپورطریقہ سے ساتھ دیااورکبھی بھی کسی قسم کی مصلحت کا شکارنہیں ہوا۔

پاکستان اورچین دونوں ممالک نے ہرمعاملے میں ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کی۔چین نے پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت سے لے کرمختلف دفاعی پروجیکٹس (ٹیکسلا ،کامرہ دفاعی پروجیکٹس،ہری پورانرجی اوربے شمار پروجیکٹس ) کے قیام،سیاسی تعلقات ،فوجی سازوسامان کی ترسیل اورمعاشی مسائل سمیت ہرمسئلہ میں مخلصانہ مددکی۔پاکستان کے اس عظیم دوست چین نے اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پرمسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے پر زوردیا۔چین نے جنوبی ایشیامیں کسی ایک ملک کے تسلط اوراجارہ داری قائم کرنے کی سیاست سے ہمیشہ بے زاری کااظہارکیا اور چین پورے خطہ میں ہمیشہ امن وامان کاخواہاں رہا۔

عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان کی جدیدٹیکنالوجی،فوجی ودفاعی ہتھیار،سرمایہ کاری کی فراہمی اورہرقسم کی قدرتی آفات وبحرانوں سے نکلنے میں پاکستان کی مددکی۔ چین نے پاکستان کے داخلی وبیرونی مسائل کے حل میں ہمیشہ مخلصانہ کوشش کی۔چین پاکستان کاسب سے بڑاتجارتی شراکت دارہے۔پاک چین اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبہ سے پاکستان میں معاشی خوشحالی کے دورکے آغازکی امیدکی جارہی ہے۔سی پیک منصوبہ سے پاکستان کے انرجی بحران کے حل میں بھی مدد ملے گی۔سی پیک کا منصوبہ پاکستان اورچین کی دوستی مظہرہے۔عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ شروع کئے گئے تمام منصوبوں کی تکمیل اورکامیابی کے لئے پاکستان کی فوجی اورسول وسیاسی قیادت کے عزائم ایک ہیں۔

دونوں ممالک کی گہری اورپائیداردوستی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی نبھانے کاجوعہدپہلے روزسے کیا تھااُس پرآج تک قائم ہے اورہرموقع پردوستی کا حق اداکیا ۔ پاک چین دوستی کوعالمی برادری میں مثال کے طورپردیکھا جاتاہے اوربجاطورپرکہاجاتا ہے کہ پاکستان اورچین کی دوستی ہمالیہ سے بلند،سمندرسے گہری اورشہدسے میٹھی ہے۔ ہرپاکستانی کوعوامی جمہوریہ چین کی دوستی پرفخرہے اورپوری پاکستانی قوم چین کی کامیابی اوراستحکام کے لئے دعاگوہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 44531 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Oct, 2019 Views: 200

Comments

آپ کی رائے