بھکاری کی جھونپڑی سے لاکھوں کی نقدی برآمد

انڈیا کے صنعتی دارالحکومت کہے جانے والے شہر ممبئی میں ایک بھکاری کی حادثے میں موت کے بعد ان کی جھونپڑی سے لاکھوں کی نقدی ملی ہے۔

82 سالہ برادی چند پننا رام جی آزاد عرف 'سادھو بابا' گوونڈی اور مانخرد ریلوے سٹیشنز کے درمیان پٹڑی پار کرتے ہوئے ٹرین کے نیچے آ گئے تھے۔
 


پولیس کے مطابق وہ راجستھان کے ایک گاؤں کے رہائشی تھے لیکن ایک عرصے سے ممبئی میں سکونت پزیر تھے اور ریلوے سٹیشنوں پر بھیک مانگا کرتے تھے۔

ان کی موت کے بعد جب تفتیش شروع کی تو پولیس گووندی کی کچی بستی میں ان کی جھگی تک پہنچی جہاں حکام کو پونے دو لاکھ کی ریزگاری ملی۔

اس کے علاوہ بینک میں فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں آٹھ لاکھ 77 ہزار روپے جمع کروانے کی دستاویزات بھی وہاں موجود تھیں۔

’سادھو بابا‘ کی موت کے بعد پانچ افراد نے ممبئی پولیس سے رجوع کیا ہے کہ وہ ان کے وارث ہیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

بی بی سی مراٹھی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ مذکورہ بھکاری کے دو بیٹے ہیں اور فکسڈ ڈپازٹ میں صرف ان کے بڑے بیٹے کا نام وارث کے طور پر درج ہے۔

پولیس افسر نند کشور نے بتایا کہ ان کے گھر سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ کے سکے ملے جن میں 50 پیسے، ایک روپے، دو روپے اور پانچ روپے کے سکے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بینک میں 96 ہزار روپے بھی جمع پائے گئے ہیں۔
 


یہ ریزگاری ٹن کے ڈبوں، پانی کی ٹنکیوں اور جھونپڑی میں مختلف جگہ پر چھپائی گئی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ چار اکتوبر کو حادثے کے بعد بھکاری کو راجا واڑی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں انھیں مردہ قرار دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے ہاں سے ان کے پین کارڈ اور آدھار کارڈ کے علاوہ ووٹر شناختی کارڈ اور سینیئر سٹیزن کے کارڈ بھی ملے۔

ایک مقامی رکشہ ڈرائیور معراج قریشی نے بی بی سی کو بتایا: 'میں انھیں بچپن سے جانتا ہوں۔ وہ ریلوے سٹیشن کے باہر بھیک مانگا کرتے تھے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ اتنے دولت مند تھے۔ وہ بھکاری کی طرح رہتے تھے اور کبھی اپنی دولت کی نمائش نہیں کی۔'

انڈیا میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بھکاری کی موت کے بعد اس کے پاس سے بڑی رقم ملی ہو۔

انڈین میڈیا کے مطابق رواں سال انڈیا کی جنوبی ریاست آندھر پردیش کے آننت پور ضلعے میں ایک 75 سالہ بھکاری کے پاس سے تین لاکھ 20 ہزار روپے ملے تھے۔ وہ گنتاکل میں مستان ولی درگاہ کے سامنے بھیک مانگا کرتے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں مستان ولی درگاہ سے فون آیا کہ کوئی شخص درگاہ کے احاطے کے باہر مردہ پڑا ہے۔ پولیس نے جب ان کے جسم کے ساتھ پڑے بیگ کو کھولا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس میں تین لاکھ 20 ہزار روپے تھے۔


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language:    
Documents for fixed deposits worth Rs 8.77 lakh along with coins worth Rs 1.5 lakh were found by police on Monday from the house of a beggar who died in an accident in Mumbai. The policemen who walked into the worn out one-room home of the beggar, Birju Chandra Azad, had to spend eight hours inside the house counting the bagful of coins, which were approximately worth Rs 1.5 lakh.