اسد ملتانی : ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 ڈاکٹر غلام شبیر ر انا
محمد اسد خان اسدؔ 13۔دسمبر1902نے ملتان کے شیرانی پٹھانوں کے ایک خاندان میں جنم لیا ۔مشن سکول ملتان سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا ۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نو آبادیاتی دور میں 1926میں انھیں گور نمنٹ آ ف انڈیا سیکر ٹریٹ میں ملازمت مل گئی ۔ نو آبادیاتی دور میں اسد ملتانی نے بر صغیر کی ملت اسلامیہ میں عصری آ گہی پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔اسد ملتانی کو اس بات کا شدید قلق تھا کہ برطانوی تاجر اپنے مکر کی چالوں سے بر صغیر میں تاج ور بن بیٹھے ۔ بر طانوی استعمار کی سفاکی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان مطلق العنان آمروں نے بر صغیر کے مظلوم باشندوں کو قلعۂ فراموشی میں محصور کر دیا تھا ۔ اسد ملتانی نے علامہ اقبال کے افکار کی جس تدبر اور ذہانت سے تشریح کی وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔ان کی اس فکر پرور اور بصیرت افروز توضیح کے اعجاز سے افکار اقبال کے نئے آفاق تک ر سائی کے امکانات پیدا ہوئے ۔ اسد ملتانی نے ادبی زندگی کی تخلیقی فعالیتوں میں اقبال شناسی میں گہری دلچسپی لی ۔لاہور میں 9۔جنوری 1938کو پہلا یوم اقبال منایا گیا ۔اس میں اسد ملتانی نے بھی فکر اقبال کے منور گو شوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ جبر کے سامنے سپر انداز ہونے کو اسد ملتانی بزدلی اور دُوں ہمتی پر محمول کرتے تھے۔ جب آزادی کی صبح درخشاں طلو ع ہوئی تو وہ پاکستان پہنچے اور دفتر خارجہ میں اہم خدمات پر مامور ہوئے ۔سرکاری ملازمت کے سلسلے میں انھوں نے کچھ عرصہ کراچی میں قیام کیا ۔ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے وہ وفاقی ڈپٹی سیکر ٹری کے عہدے تک پہنچے ۔ پس نو آبادیاتی دور میں بدلتے ہوئے طرزِ احساس کے بارے میں اسد ملتانی نے اپنے خیالات کا بر ملا اظہار کیا ۔ نوے سالہ غلامی کے نتیجے میں اس خطے کے باشندے جس مستقل نو عیت کے احسا س کم تری میں مبتلاہو گئے تھے اس سے نجات حاصل کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا تھا۔ اسد ملتانی اور ان کے ممتاز معاصرین نے اتضائے وقت کے مطابق تحریکِ پاکستان کے جذبات کوقوم کے دلوں میں زندہ رکھنے کی مقدور بھر سعی کی۔وہ چاہتے تھے کہ ارضِ وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ قلبی وابستگی اوروالہانہ محبت کے جذبات کو مہمیز کرکے دلوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا جائے ۔ بر طانوی استعمار کے خاتمے کے بعد ہجرت کے وقت انتقال آبادی میں لوگ آ گ اور خون کا دریا عبور کر کے یہاں پہنچے ۔ حریت ِ فکر کے علم بردار ادیبوں نے ان الم نصیب جگر فگاروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ۔ان کی کوشش تھی کہ معاشرتی زندگی میں فرد کی بے چہرگی اور عدم شناخت کے گمبھیر مسئلے کا تدارک کیا جائے ۔ ارتکازِ توجہ کو زادِ راہ بنا کر معمولات ِزندگی کی تکمیل اس صلاحیت سے متمتع کرتی ہے جو زندگی کی حقیقی معنویت کی تفہیم و توضیح کے لیے نا گزیر ہے ۔سمے کے سم کے مسموم ثمر کے مہلک اثرات سے نجات حاصل کرنے کے لیے شگفتہ شاعری کا مطالعہ انتہائی موثر اور خوش گوار تجربہ ثابت ہوتا ہے ۔اس مقصد کے لیے پاکستانی ادبیات کی ترویج و اشاعت کو اپنا نصب العین بنانے و الوں میں اسد ملتانی ، امیر اختر بھٹی ،ڈاکٹر محمد دین تاثیر ،رفعت سلطان ،کبیر انور ،شیر افضل جعفری ، مظفر علی ظفر ،حسن عسکری ، خادم مگھیانوی ،یوسف ظفر اورکیف بنارسی شامل ہیں ۔ حریت ضمیر سے زندگی بسر کرنے اور حریت فکر کا علم بلند رکھنے والوں نے ہر عہد میں اسوۂ حسین ؓ کو پیش ِ نظر رکھا۔ اسد ملتانی نے جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے حق گوئی و بے باکی کو شعاربنایا اور سلطانی ٔ جمہور کی ہمیشہ حمایت کی ۔ اسد ملتانی نے اپنے جن ممتاز معاصرین سے مل کر عوامی بیداری کو شعار بنا یاان میں احمد ندیم قاسمی ، استاد دامن ، احسان دانش ، احسن فاروقی ، ابن انشا ، انجم رومانی ، احمد فراز ،، ادا جعفری ، ارشاد گرامی ، اسحاق ساقی ،باقی صدیقی ، بیدل پانی پتی ،محشربدایونی ،سیف الدین سیف ،جمیل الدین عالی ، جوش ملیح آبادی ، چراغ حسن حسرت ، حفیظ جالندھری ، حفیظ ہو شیار پوری ،حمایت علی شاعر ، حبیب جالب ،سید جعفر طاہر ، دیوان احمد الیاس نصیب ،رضا ہمدانی ،رئیس امروہی ، ظہیر کا شمیری ، سید محمد جعفری ، سجاد حسین ،شفیع ہمدم ،عابد علی عابد ،عارف عبدالمتین ، عبدالعزیز خالد ، عبدالباقی سید ،عزیز حامد مدنی ، غلام بھیک نیرنگ ، غلام جیلانی اصغر ،فارغ بخاری ، فیروز شاہ ،قتیل شفائی ، قیوم نظر ،کبیر انور ،کیف بنارسی ، سراج الدین ظفر ، شان الحق حقی ،شہزاد احمد ، ضیا جالندھری، ضمیر جعفری ، عبد الحمید عدم ،فیض احمد فیض ، فہمیدہ ریاض ، منیر نیازی ،مجید امجد ،ماہر القادری ، محسن بھوپالی،مظہر اختر ، مختا ر صدیقی ،منظور حسین شور ،ناصر کاظمی، نو بہار علی خان ،نذیر احمد سید ، اوروزیر آ غا شامل ہیں ۔ پاکستا ن کا وفاقی دار الحکومت جب کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو اسد ملتانی بھی اپنے فرائض منصبی کے سلسلے میں یکم نومبر 1959 کوکراچی سے اسلام آباد پہنچے تھے ۔ یہاں کے ادیبوں سید ضمیر جعفری ،کرنل محمد خان ،منشا یاد اور نذیر احمد شیخ کے ساتھ ان کے دیرینہ مراسم تھے ۔ دورانِ ملازمت 17۔نومبر 1959کو انھوں نے راول پنڈی میں داعی ٔ اجل کو لبیک کہا ۔ دو روز بعد ان کا جسدِ خاکی راول پنڈی سے ملتا ن منتقل کیا گیا ۔ملتان کے نواح میں واقع حسن پروانہ شہر ِخموشاں کی زمین نے اردو شاعری کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھپا لیا ۔ نو آبادیاتی دور اور پس نو آبادیاتی دور میں اسد ملتانی کی علمی ،ادبی اورقومی خدمات کا ایک عالم معترف تھا ۔ تحریک پاکستان کے جن ممتاز قائدین نے اس یگانۂ روزگار فاضل کی ملی خدمات کوقدر کی نگاہ سے دیکھا ان میں علامہ اقبال اورقائد اعظم محمد علی جناح بھی شامل ہیں ۔تاریخ اور اس کے مسلسل عمل پر گہری نظر رکھنے والے اس با کمال تخلیق کار نے اپنی زندگی پرورش ِ لوح و قلم کے لیے وقف کر ر کھی تھی ۔اسد ملتانی کی قومی خدمات کی بنا پر تاریخ ہر دور میں ان کے نام کی تعظیم کرے گی ۔

نو آبادیاتی دور میں جھنگ کے ایک دُور افتادہ گاؤں ٹھٹھی لنگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان باقر علی خان نے انڈین سول سروس کے مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اور اس نمایاں کامیابی حاصل کی ۔تربیت مکمل کرنے کے بعدباقر علی خان کو لکھنو میں انتظامی خدمات پر مامور کیا گیا ۔ قیام پاکستان کے بعد باقر علی خان نے ملتان میں کمشنر کی حیثیت سے انتظامی خدمات انجام دیں ۔ممتاز ماہر تعلیم،حریت فکر و عمل کے مجاہد اور تاریخ دان رانا عبدالحمید خان گورنمنٹ کالج جھنگ ( قائم شدہ :1926) کے پہلے پر نسپل تھے ۔سرکاری ملازمت سے پہلے اسد ملتانی کے ساتھ ان کا معتبر ربط تھا۔ رانا عبدالحمید خان کی قیادت میں جھنگ کے طلبا اور اساتذہ ایک مطالعاتی دورہ کے سلسلے میں لکھنو پہنچے تو باقر علی خان اور اسد ملتانی سے بھی ملے ۔اس مطالعاتی دورے میں انھیں یہ جان کر دکھ ہوا کہ میر تقی میرؔ کامزار لکھنو ریلوے سٹیشن کے نیچے دب چکاہے اور اس کے آثار اب کہیں موجود نہیں ۔یہ سب باتیں رانا عبدالحمید خان کی کار کے ڈرائیور حاجی احمد بخش کی یادداشتوں پر مشتمل مخطوطے ’’ بخش دو گر خطا کرے کوئی ‘‘میں بھی درج ہیں۔ قدرت اﷲ شہاب کے معاو ن خصوصی اﷲ دتہ سٹینو نے اپنی خود نوشت میں اپنی زندگی کے وہ اہم واقعات سپردِ قلم کیے جن کے اس کے دل و دماغ پر انمٹ نقوش مرتب ہوئے ۔ خود نوشت کا عنوان’’میری حیات کا افسانہ ‘‘ احباب کو بہت پسند آیا۔ اس خود نوشت میں اﷲ دتہ سٹینو نے اسد ملتانی اور جھنگ کے ممتاز ادیبوں کے باہمی تعلقات اور رابطوں کے بارے میں بھی اپنی یادداشتوں کو محفوظ کیا تھا۔ اﷲ دتہ سٹینو نے اپنی یادداشت کے مخطوطہ کے پیرایہ ٔ آغاز میں یہ شعر درج کیا :
میری حیات کا افسانہ دیکھنے والو
کہیں کہیں سے یہ قصہ پڑھا نہیں جاتا

حیف صد حیف کہ دیکھتے ہی دیکھتے اﷲ دتہ سٹینو کی خود نوشت ’’میری حیات کا افسانہ‘‘ ابلقِ ایام کے سموں کی گرد میں اوجھل ہو گیا اور دنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔واقفِ حال لوگوں کا گمان ہے کہ خود نوشت کا یہ مخطوطہ اگست 1973 کے اواخرمیں آنے والے دریائے چناب کے اس قیامت خیز سیلاب کی طوفانی لہروں کی بھینٹ چڑھ گیا جس نے قدیم جھنگ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی ۔

قدرت اﷲ شہاب (پیدائش :26فروری 1917وفات :24۔جولائی 1986)کو جب جھنگ میں ڈپٹی کمشنرکی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔اس عرصے میں قدرت اﷲ شہاب ، رفعت سلطان ،سید جعفر طاہر ، اسد ملتانی ،رانا عبدالحمید خان اور جھنگ کے ممتاز ادیبوں کے معتبر ربط کا یہ سلسلہ زندگی بھر جاری رہا ۔ قدرت اﷲ شہاب کو معلوم ہوا کہ لاہور میں مقیم اُردو زبان کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو (پیدائش :11۔مئی 1912وفات :18۔جنوری 1955)لاہور میں شدید علالت اور جگر کی خرابی کے باعث سخت پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ جھنگ کے مقامی ادیبوں کی تحریک پر قدرت اﷲ شہاب نے بیگم منٹو اورممتاز مفتی (پیدائش :11۔ستمبر 1905وفات :27۔اکتوبر 1995) سے مشورہ کیا ۔اہل خانہ کی اجازت کے بعد قدرت اﷲ شہاب نے سعادت حسن منٹو سے ملاقات کی اوراُسے بہلا پُھسلا کرجھنگ لانے میں کامیاب ہو گیا ۔ قدرت اﷲ شہاب نے اپنے ذاتی معاون اﷲ دتہ سٹینو کو تا کید کر دی کہ سعادت حسن منٹو کے علاج اور آرام و سکون پر خاص توجہ دی جائے ۔اﷲ دتہ سٹینو نے سعادت حسن منٹو کے ساتھ یاد گار وقت گزارا اور اُردوافسانے کے اس با کمال تخلیق کار کو جھنگ شہر میں واقع اپنے آبائی گھر کے مہمان خانے میں لایا ۔ شہر کے حاذق اطبا پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیاگیا جس میں حکیم غلام محمد،حکیم محمد صدیق ،حکیم طالب حسین،حکیم نذر محمد ،حکیم محمد کفیل ، حکیم شیر محمد ،ڈاکٹر محمد کبیر خان اور حکیم احمد بخش (چار آنے والا حکیم ) شامل تھے ۔ان اطبانے منٹو کی طبیعت دیکھی تو مشورہ دیا کہ مریض کو روزانہ باغ میں صبح کی سیر اور شام کی چہل قدمی پر مائل کیا جائے ،تازہ پھل اور سبزیاں کھلائی جائیں ،ستُو ( بُھنے ہوئے جو کے آٹے اور شکر کا شربت )پلایا جائے اور ہر قسم کی نشہ آور چیزوں اورنشہ آور مشروبات سے مکمل پر ہیز کیا جائے تا کہ مجرب یونانی ادویات اپنا اثر دکھا سکیں ۔ ہرکھانے کے بعد خشک حنظل کا دو چمچ سفوف بھی ایک گلاس دودھ کے سا تھ پینا لازم تھا۔سعادت حسن منٹو شہر کے نواح میں واقع گھوگھے والا کنویں کے حوض میں نہاتا،غلام علی خان چین اس کے لیے نزدیکی گاؤں پکے والا سے بھینس کا خالص دودھ ، دہی،کنگ،مکھن ا ور دیسی گھی لاتا ،چودھری دل میرخان کے کھیتوں سے تازہ سبزیاں آ جاتیں،تازہ پھل بھی شہر کی فروٹ مارکیٹ سے منگوا لیے جاتے اور مقامی ماہی گیر رُلدو موہانہ کُنڈی لگا کر دریائے چناب اور جہلم کے سنگم تریموں سے تازہ مچھلی پکڑ کر لاتا اور بکرے کا گوشت منظور قصاب سے خریدا جاتا ۔ ماڑی ،بلو اور شاکر کے تھل سے حنظل ، لسوڑے ، ڈیہلے ،پیلوں ،بیر ،پیلکاں، کھجوریں اور کھمبیاں منگوائی جاتیں۔ مقامی ادیبوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی چل نکلا اور سب احباب نے سعادت حسن منٹو سے ٹُوٹ کر محبت کی ۔ امیر اختر بھٹی ، حاجی محمد یوسف ،احمد تنویر ،معین تابش ،سید مظفر علی ظفر ،خادم مگھیانوی ،کبیر انور جعفری ،رام ریاض ،دیوان احمد الیاس نصیب ،محمد شیر افضل جعفری ،سید جعفر طاہر ،غلام علی خان چین ، ظہور احمد شائق ،سید تحمل حسین ،ملک عمر حیات اور الحاج سید غلام بھیک نیرنگ نے سعادت حسن منٹو کی عیادت کی اور اردو افسانے کے اس عظیم تخلیق کار کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کی ۔ اطبا کی ہدایت پرمحتاط میزبان کی طرف سے یہ سخت پابندی یہ تھی کہ سعادت حسن منٹو سگریٹ نوشی اور شراب کے نزدیک ہر گزنہیں جا سکتا اور بے راہ روی کے شکار افراد سے کوئی رابطہ نہیں رکھ سکتا۔سلطان ہاتھی وان کے دربار کے نلکے کاپانی بھی منٹو کو پلایا گیا۔سعادت حسن منٹونے شورکوٹ اور پنڈی لال مرید کے کھنڈرات بھی دیکھے ۔سعادت حسن منٹواپنے میزبان قدرت اﷲ شہاب اور ان کے معتمد معاون اﷲ دتہ سٹینو کے حُسنِ اخلاق اور مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا ۔حسنِ فطرت سے لبریز اس نئے ماحول میں سعادت حسن منٹو ابتدا میں تو خوش و خرم دکھائی دیتا تھا لیکن پر ہیز اور علاج کی صورت میں اُسے جن سخت پابندیوں کا سامنا تھا وہ ان سے سخت ناخوش و بے زار تھا۔وہ میزبانوں کی بے لوث مہمان نوازی اور ادیبوں کی والہانہ پن کی مظہر استقبالیہ نشستوں سے اکتا گیا ۔ایک ہفتے کے بعداچانک منٹو کے تیور بدل گئے اور وہ کسی کو بتائے بغیر چُپکے سے لاہور چلا گیا ۔ منٹو نے اپنی زندگی کے تلخ شام و سحر میں اِک گونہ بے خودی کی جستجو میں مے نوشی شروع کی۔ وہ مے نوشی کو ترک نہیں کر سکتا تھااور جھنگ میں اس کی مے نوشی کی کوئی صورت موجود نہ تھی ،منٹو کے بارے میں بہ قول غالبؔ یہی کہا جا سکتا ہے :
مے سے غرض نشاط ہے کِس رو سیاہ کو
اِک گُونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

سعادت حسن منٹو نے اگرچہ جھنگ میں محض چند روز قیام کیا لیکن جھنگ کے بزرگ ادیب اکثر سعادت حسن منٹو کو یاد کرتے اور بتاتے کہ منٹو کی بیمار پرسی کے لیے نواحی شہروں سے جھنگ آنے والے ادیبوں میں اسد ملتانی اور ان کے معتمد رفقائے کار بھی شامل تھے ۔اسد ملتانی کومعمر مورخ اور نقاد حامد علی شاہ کی اس بات سے اتفاق تھا کہ سعادت حسن منٹو اردو افسانے کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی کا نام ہے ۔ وہ ایک وسیع النظر افسانہ نگار ہے ،کوہ سے لے کر کاہ تک معاشرتی زندگی کا کوئی معاملہ اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہتا ۔ جھنگ میں اپنے مختصر قیام کے دوران میں سعادت حسن منٹو نے اپنے افسانے ’’ کھول دو ‘‘ ، ’’ نیا قانون ‘‘، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ ،’’ہتک ‘‘ اور’’ ٹھنڈا گوشت ‘‘ یہاں کی ادبی نشستوں میں پڑھ کر سنائے تھے ۔سعادت حسن منٹو کو کثرت مے نوشی نے جس طرح مکمل انہدام کے قریب پہنچا دیا، جھنگ کے ادیب اسے ایک لرزہ خیز ادبی سانحہ سے تعبیر کرتے ۔ 18۔جنوری 1955 کوجب منٹو نے بیالیس سال کی عمر میں دنیاکو خیر باد کہا تو جھنگ کے ادیب شدت ِ غم سے نڈھال تھے۔ اس موقع پر کھیوہ کے مقام پر صاحباں کی قبر کے نزدیک ایک پُر فضا مقام پر تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں آغا نو بہار ،خادم مگھیانوی ،دیوان احمد الیاس نصیب ،شاکر ترک ،خلیل اﷲ خان ، محمد امین ،عبدالحلیم ،اﷲ یار خان ، اور امیر خان نے اس افسانہ نگار کے اسلوب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کی خدمات کو سراہا۔ اس تعزیتی ریفرنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے حزیں چنیوٹی نے بتایا کہ سب حاضرین اس طرح غرقابِ غم دکھائی دیتے تھے جیسے قزاق ِ اجل نے سب ادبی ثروت کو لُوٹ لیا ہو ۔ اردو نظم کے عظیم شاعرمجید امجد کی نظم ’’ منٹو‘‘ کے یہ اشعار بھی اسی زمانے کی یاد دلاتے ہیں۔ مجید امجد کے یہ اشعار سن کر اسد ملتانی سمیت سب حاضرین کی آ نکھیں بھیگ بھیگ گئیں۔
میں نے اُس کو دیکھا ہے
اُجلی اُجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی بِھیڑ کے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں
جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے :
’’دُنیا تیرا حُسن ،یہی بد صورتی ہے !‘‘
دنیا اُس کو گُھورتی ہے
تصانیف :
مشارق ،حمد و نعت ( مرتبہ :پروفیسر جعفر بلوچ )،تحفہ ٔ حرم ،مرثیہ اقبال
اقبالیات اسد ملتانی ( مرتبہ :پروفیسر جعفر بلوچ )
کلیات اسد ملتانی ( مرتبہ سید شوکت علی بخاری )

اسد ملتانی نے اپنی ظریفانہ شاعری کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے کیا تھا ۔ان کی گل افشانی گفتار کا سلسلہ مجلہ ’’ طلوع اسلام ‘‘ اور ’’ نمک د ان ‘‘ میں جار ی رہا ۔مجیدلاہور ی (1913-1957) کی ادارت میں شائع ہونے والے ادبی مجلہ ’’ نمک دان ‘‘ میں ’’ ملتانیات اسد ‘‘ کے عنوان سے اسد ملتانی کی شاعری باقاعدگی سے شائع ہوتی تھی ۔اسد ملتانی کی مقبول نظمیں ’’ وقت ِ نماز ‘‘ ، ’’وعظ جدید ‘‘،’’ بو قلمونیاں ‘‘ ،’’ دیا کبیر رو ‘‘ ،اور ’’ مالی امداد ‘‘ گہری معنویت کی حامل ہیں ۔معانی کے مانند الفاظ کے سینے میں اُتر جانے والے اس جری تخلیق کار کی شاعری میں زبان و بیان کی پختگی ،مزاح کی پر لطف چاشنی اور طنز کی شدت فکر و خیال کی ندرت کی مظہر ہے ۔ معاشرتی زندگی کی ا نتہائی تکلیف دہ بے اعتدالیوں ،نا ہمواریوں ،تضادات اور بے ہنگم ارتعاشات کے ہمدردانہ شعور سے لبریز اسد ملتانی کی ظریفانہ شاعری تازہ ہوا کے ایسے جھونکے کے مانند ہے جس کے معجز نما اثر سے ہجوم غم میں گھرے قاری کے دل کی کلی کھل اُٹھتی ہے ۔ ایک وسیع النظر تخلیق کار کی حیثیت سے اسد ملتانی نے تخلیق فن کے لمحوں میں جس بصیرت ،خلوص ،دردمندی اور فنی مہارت سے اپنے جذبات ،احساسات ،تجربات اور مشاہدات کو پیرایۂ اظہار عطاکیا ہے اس کا کرشمہ دامنِ دل کھینچتا ہے اور قاری کو جہانِ تازہ کی نوید سن کر مسکرانے لگتا ہے ۔حبس اور گھٹن کے اعصاب شکن مسموم ماحول کے جان لیوا سکوت کے مظہر لرزہ خیز سمے کے سم کے مہلک ثمر کو پاش پاش کر کے اسد ملتانی ادب کے قارئین کے ساتھ درد مندی کی اساس پر ایک ایسا رشتہ استوار کر ر کھا تھا جس کے معجز نما اثر سے طلوع ِ صبح بہاراں کے امکانات روشن تر ہوتے چلے گئے ۔اسد ملتانی کی ظریفانہ شاعری سے نار بھی گل زار میں بدل جاتی ہے ۔اسد ملتانی نے واضح کر دیا کہ سنگلاخ چٹانوں ،جامد و ساکت پتھروں اور کھنڈرات کے سامنے بیٹھ کر آہ و فغاں کرنے و الے صرف اپنے جی کا زیاں کرتے ہیں ۔ ممتاز ماہر ِ نفسیات حاجی حافظ محمد حیات کہا کرتے تھے کہ اپنے دِل کے داغوں اور حسرتوں کی پرورش کرنے والوں کی مثال ایسے حمار کی ہے جو ہری ہری گھاس کی رکھوالی میں ہلکان ہوتا ہے مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر رہتا ہے کہ اس کے بعد گھاس تو کوئی چمار قماش گھسیارا کاٹ کر لے جائے گا مگر اسے اپنی ہی خالی آ نتوں کی جگالی کرنے پڑے گی ۔اسد ملتانی کے مخاطب ذوق سلیم سے متمتع ادب کے حساس اور ذہین قاری ہیں ۔ایک زیرک تخلیق کار کی حیثیت سے اسد ملتانی کو اس بات کا احساس ہے کہ بزِ اخفش قماش کے مسخروں کے سامنے طنز و مزاح کی باتیں کرنا وقت او ر محنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں اس کے باوجود اس جر ی تخلیق کار نے صحرا میں اذان دینے کا سلسلہ جار ی ر کھا۔
ان عقل کے بندوں میں آ شفتہ سر ی کیوں ہے
یہ تنگ دِلی کیوں ہے یہ تنگ نظری کیوں ہے
رہیں نہ رِند یہ زاہد کے بس کی بات نہیں
تما م شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
ہیں کچھ طیور فضائے چمن کے زندانی
فقط اسیر ی ٔ دام و قفس کی بات نہیں
نگاہ بھی نہیں اُٹھتی بلندیوں کی طرف
طلب کا ذکر نہیں دسترس کی بات نہیں
پسند ِ خاطر ِ ا ہلِ صفا ہے میری غزل
کہ اِس میں کوئی ہوا و ہوس کی بات نہیں
اسد ؔ یہ کام ہے صد گونہ سینہ کاوی کا
حیات صرف شمارِ نفس کا نام نہیں

اسد ملتانی کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔اپنے ہر ملاقاتی کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے پیش آنا اسد ملتانی کا شیوہ تھا۔ جھنگ اور شور کوٹ سے تعلق رکھنے والے ادیب امیر اختر بھٹی ، سمیع اﷲ قریشی ،مرتضٰی شاکر ترک ،رانا ظفر علی ،صفدر سلیم سیال ،احمد تنویر ،شارب انصاری ،رانا سلطان خان، حاجی محمد یوسف ،غلام سرور خان ، رانا ارشد علی خان ،عزیز احمد ناظر ، رجب الدین مسافر ،اسحاق مظہر ،احمد نواز خان ،اﷲ بخش نسیم ،عبدالر شید ہاشمی اور حیات خان سیال ان کے قریبی احباب میں شامل تھے ۔وہ اپنے احباب کو مجید لاہوری ( عبدالمجید چوہان :1913-1957)کا کلام سناتے تو محفل کشت زعفران بن جاتی ۔ شور کوٹ کی ایک ادبی نشست میں ممتاز ماہر تعلیم غلام علی خان چین نے اس رائے کااظہار کیا کہ مجید لاہوری کے تخلیق کیے ہوئے مزاحیہ کردار تجوری بھائی ، بنک بیلنس جی، جمن شاہ برساتی ،گل شیر خان، رمضانی،سیٹھ ٹائر جی ،ٹیوب جی ، بندو خان، سائیں سلیمان بادشاہ ان کی حسِ ظرافت کا منھ بولتاثبوت ہیں ۔اسد ملتانی نے مجید لاہور ی کے مداحوں کے اس تجزیاتی مطالعہ کو پسند کیا اور دل کھول کر داد دی ۔اس یادگار نشست میں اسد ملتانی نے یہ غزل سنائی تو محفل کے شرکا کی طرف سے انھیں بہت داد ملی ۔
پوچھی نہ چشم ِ تر کی نہ آ ہِ رسا کی بات
کرتے رہے وہ مجھ سے بس آب و ہوا کی بات
کیا بات میں سے بات نکلتی چلی گئی
تھا مدعا یہی کہ نہ ہو مدعا کی بات
طوفاں کا خطرہ سُن کے نہ کر خوف اس قدر
آخر خدا کی بات نہیں نا خدا کی بات
کیا رسم ِ التفات زمانے سے اُٹھ گئی
سب کی زبان پر ہے ستمِ نا روا کی بات

قیام پاکستان کے بعد جھنگ شہر میں حکیم اجمل خان کے شاگرد حکیم احمد بخش نے دکھی انسانیت کی جو بے لوث خدمت کی وہ اس علاقے کے لوگو ں کو آ ج بھی یاد ہے ۔بیسویں صدی میں طب یونانی کے فروغ کے سلسلے میں حکیم اجمل خان کی مساعی کو حکیم احمد بخش (چار آنے والے حکیم ) نے ہمیشہ قدر کی نگا سے دیکھتے تھے ۔حکیم اجمل خان کی عظیم شخصیت خاک کو اکسیر بنا دیتی تھی اور غبار راہ سے ایسے جلوے پیدا ہوتے جو نگاہوں کو خیرہ کر دیتے تھے ۔بیسویں صدی کے اس یگانہ ٔروزگار طبیب ،دانش ور ،حریت فکر کے مجاہد اور مرد مومن نے پارس کی صورت مس خام کو کندن بنا دیا اور ذرے کو آفتاب بننے کے فراواں مواقع میسر آئے۔زمانہ لاکھ ترقی کے مدارج طے کرتا چلا جائے ایسے لوگ چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں مل سکتے ۔

حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) نے جھنگ شہر میں اپنا مطب قائم کر کے دکھی انسانیت کی خدمت کا عزم کر لیا ۔ایک خستہ حال سی جھونپڑی میں قائم یہ مطب بھی ان کی درویشی ،فقیری،استغنا، سادگی،قناعت اور عجز و انکسار کی عمدہ مثال تھا ۔حکیم احمد بخش (چار آنے والے حکیم ) ایک چٹائی پر بیٹھتے ،سامنے گھڑونچی پر پانی سے بھرے مٹی کے گھڑے رکھے ہوتے ان پر چپنی اور مٹی کے پیالے دھرے رہتے ۔ سامنے ایک الماری میں چند مرتبان ،کچھ بو تلیں اور سفوف کے ڈبے رکھے ہوتے ۔وہ ہر وقت ہاون دستے میں خشک جڑی بوٹیاں کُوٹ کر کوئی نہ کوئی طبی نسخہ یا سفوف تیار کرنے میں مصرو ف رہتے ۔ ادویات سازی کے اس احتیاط طلب طبی کام میں ان کے سعادت مند شاگرد ان کا ہاتھ بٹاتے اور اس طرح باہمی تعاون سے یونانی ادویات،عرقیا ت ،شربت اور معجونوں کی تیاری کا کام جاری رہتا ۔ مقامی طور پر تیار کیے جانے والے کھدر کے صاف اور سادہ لباس میں ملبوس سر پر کلاہ و دستار باندھے اور پاؤں میں کھسہ پہنے جب حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) اپنے مطب میں بیٹھتے تو اپنی گل افشانیٔ گفتار سے حاضرین کو مسحور کر دیتے ۔ان کے پاس جو بھی مریض علاج کی غرض سے آتا وہ اس سے صرف چار آنے وصول کرتے اور مریض کو ایک بوتل شربت ،ایک بوتل عرقیات ،معجون ،مربہ جات اور پھکی دیتے۔اگر کوئی مریض زیادہ رقم دینا چاہتا توو ہ کسی صورت میں قبول نہ کرتے البتہ کم پیسے دینے والے سے کبھی بحث و تکرار نہ کرتے ۔ وہ دوا بھی دیتے اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے ا ﷲ کریم کی رحمت سے وہ مریض جلدشفا یاب ہو جاتا ۔ جھنگ شہر اور گرد و نواح کے قصبات کے لوگ آج تک محو حیرت ہیں کہ اس قدر کم قیمت میں علاج معالجہ کرنے والا حکیم اپنی گزرا وقات کیسے کرتا ہو گا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کہ یہ سب کچھ سات عشروں تک ہوتا رہا اور عقل ہمیشہ کی طرح محو تماشائے لب بام ہی رہی ۔چار آنے والا حکیم اس قدر مشہور ہوا کہ اکثر لوگوں کو اس کے اصل نام کا علم ہی نہیں ۔ ملک بھر سے لوگ طویل مسافت طے کر کے یہاں آتے اور ایک ہی خوراک سے شفا یاب ہو کر ہنسی خوشی واپس اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوتے ۔ حامد علی شاہ،غلا م علی خان چین اور حاجی محمد یوسف کا کہنا تھا کہ مریضوں کا دوا علاج ،نباضی اور تشخیص تو محض ظاہری صورت تھی ،باطنی کیفیات ،جذب و مستی ،قلبی ،روحانی اور وجدانی اسرار سے بہت کم لو گ آگا ہ تھے۔ حکیم بخش کے اسد ملتانی سے نہایت قریبی مراسم تھے۔ حکیم احمد بخش جب بھی ملتان جاتے اسد ملتانی ان کا خیر مقدم کرتے تھے ۔ قدرت اﷲ شہاب ،اﷲ دتہ سٹینو ،سید جعفر طاہر اور محمد شیر افضل جعفری کی دعوت پر ایک مرتبہ اسدملتانی جھنگ بھی آ ئے اور حکیم احمد بخش سے ملاقات کی ۔حکیم احمد بخش نے جب اسد ملتانی کی مقبول نظم ’’ آسان نسخے ‘‘سنی تو وہ دنگ رہ گئے ۔ افادیت سے لبریز یہ نظم مقامی خوش نویس سجاد حسین سے لکھوا کر اسے فریم کرایا اور لوگوں کے استفادے کے لیے فریم کو اپنے مطب میں آ ویزاں کر دیا ۔
آسان نسخے
جہاں تک کام چلتا ہو غذ اسے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے
اگر تجھ کو لگے جاڑوں میں سردی
تو استعمال کر انڈوں کی زردی
جو ہو محسوس معدے میں گرانی
تو چکھ لے سونف یا ادرک کا پانی
اگر خوں کم بنے بلغم زیادہ
تو کھا گاجر ،چنے ،شلجم زیادہ
جو بد ہضمی میں چاہے تُو افاقہ
تو کر لے ایک یا دو وقت فاقہ
جو پیچش ہے تو پیچ اس طرح کس لے
مِلا کر دُودھ میں لیموں کا رس لے
جگر کے بل پہ ہے انسان جِیتا
اگر ضعفِ جگر ہے کھا پپیتا
جگر میں ہو اگر گرمی دہی کھا
اگر آ نتو ں میں خشکی ہے تو گھی کھا
تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
تو فور اً دودھ گرما گرم پی لے
جو طاقت میں کمی ہوتی ہے محسوس
تو پِھر ملتاں کی مصری کی ڈلی چُوس
زیادہ گر دماغی ہے تیر ا کام
تو کھایا کر مِلا کر شہد بادا م
اگر ہو دِل کی کم زوری کا احساس
مربہ آ ملہ کھا اور انناس
اگر گرمی کی شدت ہو زیادہ
تو شربت پی بہ جائے آبِ سادہ
جو دُکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی سے غرارے
اگر ہے درد سے دانتوں کے بے کل
تو اُنگلی سے مسوڑھوں پر نمک مَل
جو ہے افکار ِ دنیا سے پریشاں
نمک داں پڑھ ،نمک داں پڑھ ،نمک داں ( مجلہ نمک داں :فروری ۔ مارچ 1955)

اردو کی شگفتہ شاعری کے مظہر اسد ملتانی کے منفرد اسلوب کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عالمی کلاسیک اور معاصر ادبیات کا عمیق مطالعہ کیا تھا ۔ برطانوی مزاح نگار پی جی وڈ ہاوس (P.G.Wodehouse,1881-1975)،کینیڈا سے تعلق رکھنے والے مزاح نگار سٹیفن لی کاک ( , 1869-1944 Stephen Leacock) ، مشہور برطانوی مزاح نگاررونالڈ ناکس ( , 1888-1957 Ronald Knox ) اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہر نفسیات اور تحلیل نفسی کے ماہر سگمنڈ فرائڈ ( Sigmund Freud ,1856-1939 )کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔بیسویں صدی کے وسط میں اسد ملتانی کی مقبولیت عروج پر رہی۔ تخلیق فن کے لمحوں میں اسد ملتانی نے تکلم کے سلسلوں کو نیا رنگ اور بلند آہنگ عطا کیا ۔ایک بات سے دفعتاً نئی اور پُر لطف بات پیدا کر کے قاری کو ہنسادینا ان کے شگفتہ اسلوب کی انفرادیت کی دلیل ہے ۔زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس کا جادو اُس وقت سر چڑھ کر بولتا ہے جب وہ لفظی مرقع نگاری،تحریر میں الفاظ کے رد و بدل ،اعراب اور نقاط کی تبدیلی سے دھنک رنگ منظر نامہ مرتب کر دیتے ہیں ۔ اس فن میں اس با کمال تخلیق کار کی عدیم النظیر کامرانیوں میں کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 494 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ibnesultan

Read More Articles by Ghulam Ibnesultan: 237 Articles with 214847 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Very interesting and thought provoking article.
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Jul, 01 2020
Reply Reply
3 Like
Language: