ہتک۔۔۔تجزیاتی مطالعہ

(Hira Mustajab, Islamabad)

جب بھی اردو افسانہ نگاروں کا تذکر ہ کیا جاتا ہے تو پاکستان کے نامور ادیب ،افسانہ نگار "منٹو" کے ذکر کے بنا ء اردو کی تاریخ ادھوری اور نامکمل معلوم ہوتی ہے ۔منٹو اُن چند بڑے نامور ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے برصغیر، یعنی تقسیم ہند کے حالات و واقعات ، ہنگاموں اور فسادات کو نہ صرف خود دیکھا بلکہ اسے حقیقت اور سچائی کے ساتھ اپنی کہانیوں میں بیان کر ڈالا ۔ انہوں نے بے شمار موضوعات پر افسانے لکھے ہیں ۔

منٹو کا افسانہ " ہتک" ایک ایسا افسانہ ہے۔ جو انہوں نے طوائفوں کی زندگی کے بارے میں لکھا ۔جس میں طوائف کی ذات،اس کے خیالات وواقعات،عاشق مزاج ، مردوں سے میل جول،محفل،اور کو ٹھےکا منظر ، کچھ اس طرح سے بیان کیا کہ وہ سب آنکھوں دیکھا معلوم ہوتا ہے ۔

افسانہ "ہتک" شروع سے بڑے نرم لیکن مضبوط قدم رکھتا ہوا آگے بڑھتا ہے ۔جوں جوں افسانہ آگے بڑھتا ہے۔ پڑھنے والے کے دل و دماغ پر اس کا قبضہ زیادہ مستحکم ہو جاتا ہے ۔افسانہ" ہتک" ایک طوائف کی کہانی ہونے کے باوجود پڑھنے والے کو اس لئے بھی متاثر کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک عورت کو طوائف بننے پر مجبور تو کر سکتا ہے لیکن ایک طوائف کو پیار کرنے والا شوہر اور گھر نہیں دے سکتا۔ بقول منٹو؛
"ہمارا معاشرہ ایک عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے ۔مگر تانگہ چلانے کی نہیں ۔"

منٹو کے اس افسانے کا مرکزی کردار "سو گندھی" ہے ۔افسانہ "ہتک" کی کہانی دراصل ایک طوائف کی ہے ۔جیسے اپنے پیشے (طوائف ) سے کوئی دلچسپی نہیں ۔لیکن معاشرے نے اسے طوائف بننے پر مجبور کیا ہے ۔

اس افسانے میں بہت کچھ ہونے کے باوجود ، سب کچھ "سو گندھی" ہی ہے ۔افسانہ "ہتک" اپنے مخصوص ماحول اور فضا میں بسنے والے کرداروں کی انفرادیت کے باوجود مجموعی طور پر افسانے کی ہیروئن "سوگند ھی" کے کردار کی ایک مکمل تصویر ہے ۔

"دن بھر کی تھکی ماندی وہ ابھی ابھی اپنے بستر پر لیٹی تھی اورلیٹتے ہی سوگئی تھی۔ میونسپل کمیٹی کا داروغۂ صفائی، جسے وہ سیٹھ کے نام سے پکارا کرتی تھی۔ ابھی ابھی اُس کی ہڈّیاں پسلیاں جھنجھوڑ کر شراب کے نشے میں چور، گھرواپس گیاتھا—— وہ رات کو یہاں بھی ٹھہر جاتا مگر اُسے اپنی دھرم پتنی کا بہت خیال تھا جو اس سے بے حد پریم کرتی تھی۔ "

یہ تمہید " ہتک" افسانے کی ہے ۔ اس میں افسانہ نگار نے ایک کے بجائے کئی باتیں کہی ہیں ۔منٹو نے افسانے میں نہ صرف ایک طوائف کی زندگی کو بیان کیا بلکہ اُن مر دوں کا ذکر بھی کیا ہے ۔جو اپنی بیویوں کو دھوکا دیتے ہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ منٹو نے اس افسانے میں ایک تیر سے کئی شکار کئیے ہیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔

"ہتک" کی مرکزی کردار "سوگندھی" محبت کی بھوکی ایک ایسی طوائف کی کہانی ہے ۔جو ہر شے میں اپنے لیے محبت تلاش کرتی ہے ۔ اس کی زندگی میں کئی مرد آتے اور چلے جاتے ہیں ۔ لیکن کوئی بھی اُسےاپنا نام نہیں دے سکتا ۔بلکہ مرد "سوگندھی" کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

"ہر روز رات کو اس کا پرانا یانیا ملاقاتی اس سے کہاکرتا تھا: ’’سوگندھی! میں تجھ سے پریم کرتاہوں۔‘‘ اورسوگندھی یہ جان بوجھ کر کہ وہ جھوٹ بولتاہے، بس موم ہوجاتی تھی اورایسا محسوس کرتی تھی جیسے سچ مُچ اس سے پریم کیا جارہا ہے——پریم——کتنا سندربول ہے"

سوگندھی ایک پاک اور صاف زندگی گزارنا چاہتی ہے۔وہ چاہتی تھی کہ کوئی اسے اپنا لے ۔اُس کا اپنا ایک گھر ہو۔جہاں وہ ایک مکمل زندگی بسر کر سکے ۔لیکن جب وہ اپنے ہر مضوعی عاشق سے ٹھکرائی جاتی ہے تو اسے اپنے کمرے میں موجود کتے میں انسانیت دکھائی دیتی ہے ۔"سوگندھی" اپنے کتے کو انسان سے برتر جانتی ہے ۔اوراس سے لپٹ کرسوجاتی ہے ۔

"ہتک" افسانے میں منٹو نےعورت کی بے بسی اور معاشرے میں موجود اُن مردوں کو دکھایا ہے ۔جو ایک طوائف کےساتھ رہنا تو پسند کرتے ہیں لیکن اُسے اپنا نا نہیں ۔منٹوکے افسانے "ہتک" کا اختتام جذباتی کشمکش اور انسانی نفسیات کی ایک فنکارانہ تصویر ہے ۔
تحریر؛ حرا مستجاب، بی ایس اردو زبان و ادب

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 132 Print Article Print
About the Author: Hira Mustajab

Read More Articles by Hira Mustajab: 2 Articles with 786 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: