بیٹی دفنا دو

(Maryam Hasan, )

وہ حیران تھی ایک لڑکی کیسے بدل سکتی ہے اور اپنی خواہشیں کیسے چھوڑ دیتی ہیں وہ گہری سوچ میں ڈوبی اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی کوئی کیسے اپنا گھر ماں باپ بہن بھائی جن کے ساتھ پوری زندگی گزار دی ہو... ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ اچانک اس کی بہن نے اس کو آواز دے دی .شروع سے خوش رہنا اور سب کا دل جیتنا اس کی عادت تھی گھر میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس سے ناخوش ہو. دوستوں میں بھی اس کا بہت چرچا تھا دل ہی دل میں اس نے اپنے فیوچر کا سوچ رکھا تھا اس کی آنے والی زندگی اس کا شوہر کیسا ہوگا اور یہ سوچ کر کبھی تو خوش ہو جاتی اور زیادہ تر اداس. کیونکہ گھر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ...

اور نہ کسی اور کے مطابق ہو سکتی تھی دن ہفتون ہفتے سالوں میں بدلتے گئے اور اس کا رشتہ ہوگیا عجیب سوچ میں الجھ گئی بدلتے رشتے بدلتے لوگ سسرال والوں کو دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ ساری زندگی اب جہنم میں گزارے گی کچھ بھی ہوجائے لڑکی نے بدلنا ہے کچھ بھی ہو جائے اس کو قربان ہونا ہے اور اپنے شوہر کو دیکھ کے کچھ عرصے کے بعد وہ کہنے لگی" ایک لڑکی تب تک اچھی بیوی نہیں بن سکتی جب تک وہ اپنا آپ اپنی خواہشات کا قتل نہ کردے" سب چھوڑنا ہے ماں باپ کا پیار نخرے اور لاڈ کے دن ختم اب وہ ایک قیدی ہے جہاں اس کو زنجیروں نے باندھا ہے اور اس زنجیر کو چھوپاتے ہوئے اپنے آنسو پیتے ہوئے اس کو مسکرانا ہے اور صرف مسکرانا ہے کیونکہ بہو کی ٹھیک بات غلط ہے اور بیٹی کی غلط بات بھی ٹھیک ہوتی ہے بیٹی کو درد ہے تکلیف ہے بیمار ہے اس کو اجازت ہوتی ہے سب کی ..بہو کا کوئی درد نہیں اس کا دل نہیں اس کا کوئی حق نہیں ماں باپ کے لاڈ لاڈوں میں پلی ہوئی شہزادی چینک کے آنے پر رونے والی بیٹی اب روتی نہیں ہے مسکراتے نہیں ہیں بات بات پر ناراض ہو جانے والے لڑکی اب چپ رہتی ہے درد سہتی ہے سارے رشتے کھو کر بھی اپنے میکے جا کر کہتی ہے کہ وہ بہت خوش رہتی ہے کبھی ماں کو دیکھتی ہے اور کبھی باپ کو حسرت سے دیکھتی ہے سسرال کے تانے یاد کرکے پھر اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کے روتی ہے... آج میں کہتی ہوں ہو بیٹی کو دفنا دو اس کو مار دو اپنے ہاتھوں سے بیٹیوں کو نہ سسرال بھیجو ان کو زندہ رہنے دو ان کو جینے دو ان کو مسکرانے دو....

میں تیرے اس روپ سے واقف نہیں ...
میرے پاس عشق ہے اور کچھ نہیں...
میری زندگی ہے تباہ میری روح ہے چور...
موت بھی مجھ سے اوکتانے لگی یو..
میرا روم روم میری دھڑکنیں ہین گند کے جالے میں الجھی یو...
میرا کوئی نہیں میرا وجود نہیں میری سانس بھی ادھار کی...
تیرے ہیں یہ تو جہان یہ آسماں میرا سایہ بھی اب میرا نہیں....
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 86 Print Article Print
About the Author: Maryam Hasan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: