بہتر معاشی مستقبل کیلئے نیسلے پاکستان کی طرف سے نوجوان شیف کی ٹریننگ

کھانا روح کی غذا ہے ، نہ صرف کھانے والے کیلئے بلکہ پکانے والے کیلئے بھی۔ کھانا پکانے کے شوقین جانتے ہیں کہ یہ ایک سکون بخش عمل ہے ۔ پیشہ ور شیف بننے کے خواہش مند افراد اتنے کم کیوں ہیں ؟ یقینا اس کی ایک بڑی وجہ خصوصی ٹریننگ سنٹرز کی کمی بھی ہے۔ ایک ٹرینڈ شیف اور شوقیہ شیف میں فرق واضح ہوتا ہے، اسی لیے اس کام کی باقاعدہ ٹریننگ لازمی ہے ۔
 


نیسلے پاکستان کا گلوبل پروگرام YOCUTA (ینگ کلنری ٹیلنٹس ) اسی مقصد کے تحت اب پاکستان میں بھی لانچ کیا گیا ہے، تاکہ نوجوان شیفز کو ٹرین کر کے مارکیٹ میں موجود خلاء کو پورا کیا جائے۔ یہ پروگرام نیسلے گلوبل یوتھ انیشی ایٹو کے زمرے میں آتا ہے، جس کا ہدف ہے دنیا بھر میں 1کروڑ نوجوانوں کے لئے ملازمت کے ذرائع پیدا کرنا ۔

YOCUTA پروگرام کے ذریعے نوجوان شیفز کو اپنی تھیوری اور عملی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا تاکہ وہ فوڈ سروس انڈسٹری کیلئے باقاعدہ تیا ر ہوں اور دنیا بھر میں کہیں بھی اپنی صلاحیتوں کے بل پر کام کر سکیں ۔
 


سامر شدد، نیسلے پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر نے اس پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نیسلے کی جانب سے 2030تک پوری دنیا میں ایک کروڑ نوجوانوں کیلئے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس پہلے پروگرام کے ساتھ ہی ہم 40سے زائد ہنر مند اور با صلاحیت طالب علموں کو ٹرین کر چکے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ ایسے ہی پاکستان بھر میں دیگر شیف بننے کے خواہشمندوں کے خواب بھی پورے کریں گے۔

عبداﷲ جاوید ، نیسلے پروفیشنلز کے بزنس ایگزیکٹیو (BEO)نے کہا کہ نیسلے پروفیشنلز کو اس بات پر فخر ہے کہ یہ دوسرے کاروباروں کو پھلنے پھولنے میں مد د کر رہا ہے۔ اس ٹریننگ کے ذریعے کلاس روم ٹیچنگ اور پریکٹیکل کے ساتھ نوجوان شیفز کی ایک نئی اور با صلاحیت پود مارکیٹ میں آئے گی ۔

بیشک ٹیلنٹ بہت ہے ، مگر کسی بھی چیز کا ماسٹر بننے کے لئے وقت ، لگن اور محنت ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ اپنے شوق کو پیشہ بھی بنا نا چاہتے ہیں ۔ کسی بھی اور جاب کی طرح ، اک شیف کی زندگی بھی کئی ٹریننگز کا ایک سلسلہ ہے۔ جس سے وہ نئے نئے ہنر سیکھ کر خود کو بہتر سے بہتر بناتے رہیں ۔
 


نیسلے کا نوجوانوں کیلئے یہ اقدام قابل تعریف ہے اور اسی طرح نوجوانوں کیلئے ذرائع پیدا کرنے میں اک نیا اور خوش آئند قدم ہے۔

Reviews & Comments

How to get admission
By: Ahsan, Lahore on Oct, 15 2019
Reply Reply
0 Like
Language: