معاشرے میں پروان چڑھنے والے غلط کام

(Abdul Waris Sajid, )

غلام قوم کے ذہن اور سوچ بھی غلام ہوتی ہے۔ ہم نے جسمانی طور پر آزادی ضرور حاصل کی مگر ذہنی اور فکری طور پر ابھی تک غلام ہیں۔ انگریز کے غلام، مغرب کے غلام امریکہ کے غلام…… ہمارے حکمران ، سیاستدان اور راہنما جب ان ہی کا قبلہ امریکہ ہے تو پھر عوام کیوں نہ امریکی سوچ رکھیں اور مغربی تہذیب اپنائیں۔

عوام پاکستانی ہے مگر ان میں کلچر مغربی ہے اور دن بدن تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ہم لاشعوری طور پر ہی ان رسم و رواج اور مخصوص کاموں کو اپناتے جا رہے ہیں جو ہمارے اسلام مذہب کلچر اور تہذیب و ثقافت کا حصہ ہی نہیں مگر آج کل ہم بڑے اہتمام سے اپنانے لگے ہیں۔ موقعہ جو بھی ہو خوشی کا یا غم کا۔ کام ہم سے عیسائی ، یہودی یاہندوانہ تہذیب کا سرزد ہوتا ہے۔

سالگرہ منانا
گذرے دسمبر کی بات ہے ایک نئی چینل کے آغاز کو چھ سال مکمل ہوئے، اور پھراس چینل پر سالگرہ کا وہ ڈھنڈورہ پیٹا گیا کہ لوگ دیکھ دیکھ کر تنگ آگئے عین ممکن ہے کہ اس ٹی وی چینل کی سالگرہ کے کیک کی خبریں اس قدر چلیں کہ اس کا عملہ بھی تنگ آگیا ہو گا۔ اب حال یہ تھا کہ کوئی بھی سابقہ کونسلر ایم پی اے جسے اخبار یا ٹی وی پر اپنی خبر دیکھے سالوں گذر گے تھے اس نے اس ٹی وی کی سالگرہ کا کیک کاٹا اور ویڈیو ارسال کر دی اور بس اتنے میں ٹی وی والے بھی خوش اور خبر نشر ہونے پر وہ صاحب بھی شاداں و فرحاں۔

اب تو حال یہ ہے کہ ہم ہر چیز کی سالگرہ بڑے اہتمام سے منانے لگے ہیں چاہئے وہ چیز کچھ بھی ہو جاندار بے جان یا زندہ یا مردہ پہلے پہل سالگرہ صرف بچوں کی منائی جاتی تھی کھاتے پیتے لوگوں میں یہ رجحان عام تھا جن کے ہاں مال وافر اور سوچ مغربی تھی وہ اپنی اولاد کا عقیقہ کریں نہ کریں سالگرہ ہر سال ضرور ہوتی تھی پھر دیکھا دیکھی ہر کام عام ہو گیا ہر طبقہ میں رجحان پا گیا۔ بچوں کی سالگرہ کے بعد یہ سلسلہ دوسری چیزوں میں بھی چل نکلا۔ میگزین اور اخبارات میں سالگرہ کے نمبر نکلنے لگے اور کیک کٹنے لگے۔

اب تو حال یہ ہے کہ بڑی بڑی شخصیات کو پیدا اور اس کے بعد فوت ہوئے سو سال سے بھی اوپر کا عرصہ گذر چکا ہے مگر ان کی سالگرہ ضرور منائی جاتی ہے اور کیک خاص طور پر کاٹا جاتا ہے۔ کیک کاٹنے والوں کی تصویر بھی ضرور بنائی جاتی ہے کیونکہ اس تصویر کے لیے تو سب اہتمام ہوتا ہے اور تصویر اگلے روز اخبارات میں چھپوائی جاتی ہے۔

شمع روشن کرنا
ایسے ہی غم کے موقعہ پر بھی بہت سے کام اہل مغرب کی طرز پر کئے جانے لگے ہیں مثلاً دسمبر 2014ء کے مہینے میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ رونما ہوا جب دہشت گردوں نے 140بچوں کو گولیوں سے چھنی کر کے شہید کر دیا۔ پاکستان کیا دنیا بھر میں یہ خبر جس نے سنی وہ رو دیا ہم نے ٹی وی پر خود کئی احباب کو روتے دیکھا ایک ہفتے تک جب تک متاثرین ٹی وی اخبارات میں آتے رہے ہم آبدیدہ ہو جاتے ۔ یہ ایک فطری عمل اور سنت رسول بھی ہے غم کا یہی ایک اظہار ہے کہ شوروغل کے بغیر آنسو بہائے جائیں اور اﷲ کی رضا پر ہی راضی رہا جائے۔

لیکن ہم نے اس سانحے کے بعد عجیب و غریب افعال و اعمال دیکھے جو سراسر مغربی تہذیب و تہوار سے مزین تھے پاکستان بھر کے ہر سکول ہر مشہور مقامات پر شہدا کی یاد میں شمع روشن کی جاتی رہیں۔ ان کے نام اور تصاویر پر پھول رکھے جاتے رہے اور ان کی یاد میں ایک منٹ یا دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی رہی ایسا نہیں کہ ہمیں ان بچوں کی شہادت پر غم نہ تھا واﷲ کئی بار آنکھیں اشکبار ہوئیں مگر افسوس قوم کی ان افعال سے ہوا کہ ہم غمی میں بھی اہل مغرب کی تہذیب کو نہیں بولتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو مغربی لوگ کرتے ہیں وہ بھی کسی سانحے پر اس جگہ شمع روشن کرتے ہیں۔ ہم نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا ۔وہ سانحے کے مقام پرپھول جمع کر دیتے ہیں۔ ہم نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر رکھا ہے۔ وہ ہاتھ باندھ کر کچھ لمحوں کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں ہم نے بھی ایسا ہی کیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ اور انڈیا میں بھی اظہار یک جہتی کے لیے 2منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ہمارے ہاں بھی یعنی غم کے اظہار میں یک جہتی کے لیے اہل مغرب بھی خاموشی اختیار کرنے کا رواج ہے تو ہندوؤں کے ہاں بھی یہی رسم اور مسلمان بھی یہی کرنے لگے۔بہت کم مقامات پر غم اور سوگ کا جو صحیح طریقہ اور شہدا کے ورثاء کے لئے جو صحیح اظہار یک جہتی اور اظہار تعزیت تھا کیا گیا۔بہت کم جگہوں پر غائبانہ نماز جنازہ اداہوئی اور دعائے مغفرت کا اہتمام ہوا ورنہ ہر جگہ سے ایسی تصویر اور خبریں ہی پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں کہ فلاں مقام پر سانحہ پشاور کی یاد میں شمع روشن کی گئی۔ دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور پھول رکھے گئے۔

یا خدا! یہ قوم کیوں اسلام اور مسلمانوں کی تہذیب ، رسم و رواج اور احکامات بھول گئی اور مغرب کی نقالی میں اس قدر کھو گئی کہ اسے اپنی خوشی کے تہوار یاد رہے نا غم کے اظہار۔

گال سے گال ملانا
پہلے پہل ایسا نہیں ہوتا تھانہ کہیں دیکھا جاتا تھا یہ دو چار سال ہی میں کام شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس قدر عام ہو گیا کہ اب ہر جگہ خواتین کی ملاقات پر یہی ہوتا ہے پہلے جب دو خواتین ملتی تھیں تو مصافحہ کرتی تھیں بہت دنوں بعد ملیں تو گلے ملتی دیکھی جاتی یہی محبت کا انداز اور اظہار تھا مگر کچھ سالوں سے مغربی انداز واظہار اس قدر عام ہو گیاہے کہ بس سٹاپ ہو یاساپنگ مال، آفس ہو یا کوئی شاہراہ اب دوخواتین کے ملنے پر مصافحہ نہیں ہوتا بلکہ وہ پیار سے گال سے گال ملاتی ہیں چونکہ یہ مغربی طریقہ ہے اس لیے اہل مغرب کی تقلید میں روز بروز عام ہو رہا ہے اس میں ذرا بھی جھجھک نہیں ہوتی۔ نہ ہی خواتین کے ہاں باعث شرمندگی سمجھا جاتا ہے کہ پبلک مقام ہونے پرمرد بھی انہیں دیکھتے ہیں۔

لڑکیوں میں سیگریٹ نوشی کا بڑھتا رجحان
ایک وہ زمانہ تھا جب لڑکوں میں سیگریٹ نوشی کو بہت برُا سمجھا جاتا تھا اور لڑکے اپنے بڑوں سے چھپ چھپا کر سیگریٹ پیتے تھے ان میں اپنے بڑوں کا خوف بہرحال موجود ہوتا تھا کہ کہیں گھر والوں کو پتا نہ چل جائے ورنہ ان کی کلاس ہو جائے گی اور بعض تو اپنے باپ دادا کے ہاتھوں پٹ بھی جاتے تھے مگر وہ وقت اب بیت گیا اب حالات بدل گئے ہیں نیازمانہ کروٹ لے رہا ہے اور پاکستان میں مغربی کلچر فروغ پا رہا ہے وہ زمانے میں لد گئے جس میں لڑکوں کا سیگریٹ پینا معیوب سمجھا جاتا تھا اب تو بات لڑکوں کو چھوڑ کر لڑکیوں تک جا پہنچی ہے ۔ نئے زمانے کے نئے تقاضے کہ اب تو لڑکیاں سرعام سیگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ تفریحی طبع کے لیے نوجوان لڑکیاں گروپ کی شکل میں بھی پیتی ہیں اور خاص پارٹیوں میں بھی ۔بڑے لوگوں کی سوسائٹی میں تو یہ کلچر اب گاڑیوں اور شاہراہ پر عام ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ معیوب نہیں بلکہ آزادی میں شامل ہے پچھلے دنوں اس حوالے سے ایک خبر اخبار میں بھی چھپی۔ قصور سے یہ خبر تھی کہ بیدیاں کے علاقے میں بستر پر آگ لگنے سے ایک خاتون جھلس کر جاں بحق ہو گئی ۔ تفصیل کے مطابق بیدیاں کی رہائشی کبراں اپنے بستر پر لیٹی سگریٹ نوشی میں مصروف تھی کہ سگریٹ کی چنگاری بستر پر گری جس سے بستر میں آگ بھڑک اٹھی اور کبراں جھلس گئی، امدادی ٹیم نے ہسپتال منتقل کیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔ روزنامہ دنیا لاہور،28 دسمبر 2014اب تو خیر سیگریٹ پینے سے بھی بات بہت آگے چلی گئی ہے لڑکیاں شیشہ اور ا ٓئس پیتی ہیں۔ شراب نوشی کرتی ہیں اور نشہ آور ادویات استعمال کرنے لگیں ہیں۔

کتوں سے پیار
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو کتوں کے بارے میں بڑے واضح احکام دیئے ہیں اور صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ انسان بالخصوص مسلمان کتے کو صرف شکار اور رکھوالی کے لیے رکھ سکتا ہے احادیث میں رسول اکرمﷺ کے واضح احکامات ملتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتوں کے رکھنے کے جواز میں کوئی احادیث نہیں ملتی۔ لیکن آپ کو یہ بہت جگہ دیکھنے کو ملا ہو گا کہ بہت سے لوگ کتوں کو گود میں لئے ہوتے ہیں یا پھر اٹھائے ہوئے چل پھر رہے ہیں جیسا کہ گلبرگ یا ڈیفنس کے ایریا میں عام دیکھا جاتا ہے علاوہ ازیں ہمارے سابق صدر پرویز مشرف بھی میڈیا پر کتوں کو اٹھائے نظر آتے تھے یا پھر آپ نے دیکھا ہو گا کہ آئے دن کہیں نہ کہیں ڈاگ شوکی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں اب تو کتوں کا مقابلہ حسن بھی ہونے لگا ہے ،یہ سب مغربی نقالی ہے اور مغربی نقالی میں اسلام کی مخالفت اور احکامات خداوندی سے بغاوت ہے۔پاکستان میں تو ایسے اشرافیہ طبقے کے کتوں وہ سہولتیں میسر ہین جن کے لئے یہاں کی غریب عوام ترستی رہتی ہے۔

سیلفی بنانا
فیس بک اور ٹیویٹر جیسی شوشل ویب سائٹ کا تو ہر دسواں پاکستانی دیوانہ ہے بچے جوان کیا یہ شوق تو بہت سے بوڑھوں نے بھی پال رکھا ہے۔ فیس بک کے جو منفی اثرات معاشرے میں پھیل رہے ہیں اس کی خبریں تو روز بروز اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں آج کل فیس بک سیلفی بنا کر تصویریں اب لوڈ کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ دفاتر تعلیم گاہوں، پارکوں، تفریحی مقامات اور پارٹیوں میں اب لوگ موبائل فون پر اکثر اپنی تصویریں بناتے نظر آتے ہیں۔ اپنی تصویر یا سیلفی لے کر پوسٹ کرنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مقبول عام تفریحی بن چکی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ غیر محسوس طریقے سے نفسیاتی اورذہنی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں اس وقت پوری دنیا بالخصوص امریکا اور یورپ میں ماہرین نفسیات سیلفی کو اپنی تحقیق کا موضوع بنا رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وہ مریض ہیں جنہیں سیلفیوں کے جنوں نے ذہنی صحت کی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔

سیلفی سے مراد کسی بھی شخص کی ایسی تصویر جو وہ خود لیتا ہے ۔ خاص طور پر یہ فعل نوجوان نسل میں عام ہو رہا ہے یہ کلچر معروف شخصیات بھی اپنا رہی ہیں امریکی صدر اوبامہ دسمبر2013میں جب نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے گئے تو انہوں نے وہاں اپنی سیلفی بنائی۔ ایسے پاکستان میں جب بلاول بھٹو نے اپنے پہلے جلسے میں سیاست کا آغاز کیا تو وہ بھی سیلفی بناتے نظر آئے۔ ایساہی پاکستانی کرکٹرز بھی اس کلچر کا شکار نظر آتے ہیں۔ورلڈ کپ 2015کے آغاز سے قبل جب پاکستان ٹیم کی کٹ کی نماش ہوئی تو اس میں تمام کھلاڑی سیلفی بنانے میں ہی مشغول رہے اگلے دن اخبارات میں ان کی تصویر بھی شائع ہوئی اور تبصرہ بھی ۔ تبصرہ کچھ یوں تھا کہ پاکستانی کرکٹرز میچز میں اگر چے کار کردگی نہ بھی دکھائیں مگر کیمرے کے سامنے تصاویر بنوانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، کرکٹرز کا انداز ایسا ہے کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ میچ بھی جیت لیں گے، پہلی سیلفی کے مقابلے تو جیت لیں۔ ستاروں کی ٹیم ورلڈ کپ تیار یوں کے پہلے مرحلے میں تو ناکام ہوگئی ، تاہم سیلفیز بنانے میں سب سے آگے رہی ۔اب وکٹیں گریں یا نہ رنز بنیں سیلفیز دھڑادھڑ بنتی رہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 465 Print Article Print
About the Author: Abdul Waris Sajid

Read More Articles by Abdul Waris Sajid: 25 Articles with 11691 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

السلام علیکم
آپ نے بڑی اچھّی نشاندہی کی ہے، اس بات کی ضرورت ہے کہ اس فرق پر لکیر کھینچی جائے، ورنہ بچّے اسکو اپنا کلچر اور معمول سمجھ لیں گے شکریہ
By: Syed Haseen Abbas Madani, Karachi on Oct, 28 2019
Reply Reply
0 Like
Language: