گٹکا مافیا

(Atta ur Rehman Khan, )

یہ بھی کیا ستم ہے کہ جہاں ایک روٹی بارہ یا پندرہ روپے کی ملتی وہیں جان لیوا گٹکا، چھالیہ، پان اور ماوہ وغیرہ کم از کم پانچ روپے میں دستیاب ہے۔ آپ اگر شہر کی گلیوں میں سفر کریں یا عمارتوں کا دورہ کریں تو آپکو دیواروں اور کوچوں پر قائد اور اقبال کے فرمودات کی بجائے پان کی پیکوں کے نقش نظر آئیں گے، ایک بات اور یہاں قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ایک پان کی پیک کی اگر ڈیڑھ صدی بار بعد بھی زیارت کی جائے تو اس کے زاویوں پر ذرہ برابر فرق نہیں آتا اب سوچیں کہ یہ غلاظت ہمارے جسم میں داخل ہوکر کیا طوفانِ غلاظت اور تباہی مچاتی ہوگی

رواں مہینے کی 5 تاریخ کو سندھ گورنمنٹ کے رہنما سعید غنی نے یہ نوید سنائی کہ پابندی کے باوجود گٹکا، وغیرہ فروخت ہورہا ہے اس لیے قانون بنا رہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس پر فوری طور پر عمل کیا گیا اور 9 اکتوبر کو اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد گٹکے کی خرید و فروخت پر نہ صرف پابندی عائد کی گئی بلکہ مجرم کو ایک سے چھ سال کی سزا بھی دی جائے گی۔ اسکے بعد ابتک کی اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے چند گرفتاریاں بھی ہوچکی ہیں۔ دفعہ جے 337 کے نافذ ہونے کے بعد جہاں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں گٹکا مافیا بھی سرگرم ہے جو کہ انسانی جان کی پرواہ کیے بنا صرف روپوں کی لالچ میں انسانوں کو موت کی گھاٹ اتار رہی ہے

ایسا کوئی گٹکا کھانے والا نہیں پایا گیا جو اس نجاست اور مضر صحت شئے کے نقصانات سے واقف نہ ہو یا اسے ٹھیک مان کر اپنی غذا کا حصؐہ بنا رہا ہو۔۔۔ اب سوال یہ ابھرتا ہے کہ اسے کھانے والے ایسا کیونکر کر ہے ہیں تو تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ اس میں مختلف طرح کے تمباکو استعمال ہوتے ہیں جس میں پھپھوندی یا فنگس پیدا ہوجاتی ہے جس کے سبب نائیکوٹین یعنی نشہ آور اجزاء بن جاتے ہیں اور آدمی کو اسکی لت لگ جاتی ہے ۔۔۔ بات ہو گٹکے کے اجزاء کی تو اس میں کتھا، قیمام، زعفران، تمباکو، وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے ظاہر ہے کہ نچلے درجے کے گٹکوں میں زعفران اور گل قند وغیرہ شامل نہیں ہوتے ہیں۔ اکثر گٹکے کھانے والے گیلا گٹکا پسند کرتے ہیں جسے چونے کے پانی اور مصنوعی فلیور سے تیار کیا جاتا ہے وقت زیادہ ہونے پر اسکے ذائقے میں عجیب کڑواہٹ بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ پاکستانی تمباکو راجا جانی کو سستا کہا جاسکتا ہے جبکہ بھارتی تمباکو بابا چھاپ، تین سو، چھ سو، نو سو، وغیرہ زیادہ قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کیساتھ بھارت اور بنگلہ دیش بھی تمباکو پیدا کرتے ہیں

جناح اسپتال کے ڈاکٹرز کے مطابق ہر برس دس ہزار منہ کے کینسر کے مریض آتے ہیں اور ہر 300 کینسر کے مریضوں میں سے 100 منہ کے کینسر میں گھرے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق منہ نہ کھلنا اور گالوں پر جلن ہونا منہ کے کینسر کی علامات میں سے ہیں۔ اس مسئلے نے اب جنگی صورتحال اختیار کر لی ہے یا کچھ بڑھ کر بات کریں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ گندہ دھندا اب ایک مافیا کی صورت اختیار کرچکا ہے اور اسکی دلیل یہ ہے کہ بندش کے باوجود اب بھی اس کی فیکٹریاں شہر کے مختلف علاقوں جیسے کہ سرجانی ٹاون، کورنگی، لیاقت آباد، شاہ فیصل، پی آئی بی کالونی، سولجر بازار، فیروز آباد، جیکسن، ماڑی پور، موچکو، کلاکوٹ، بغدادی اور کلری، وغیرہ میں سرگرم ہیں۔ اب ظاہر ہے ایسے قانون شکن کام قانون فروشوں کی ناک کے نیچے نہ ہورہے ہوں یہ کیسے ممکن ہے بلکہ خبریں تو یہ ہیں کہ اس حوالے سے کچھ نام سامنے بھی آئے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے فاضل جج کے سامنے یہ مسئلہ اٹھا تو ان کا فرمانا تھا کہ جہاں خریداروں کو 1 سے 6 سالوں کی سزا دی جارہی وہیں گٹکا فروشوں کو سزائے موت دی جانی چاہئے واضح رہے کہ اسکے بعد جج نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ لیکن صورتحال کیا واقعی اتنی سیدھی اور سادہ ہے یا اسکی روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات اٹھانا وقت کی ضرورت بن چکی ہے یہی نہیں بلکہ اسکے لیے ایک خاص ٹیم یا فورس تیار کی جائے کہ جو اسے اور اس سے جڑے لوگوں کو سامنے لائے اور قانون کے حوالے کرے۔

جہاں اسکے خلاف حکم علمی وقت کی ضرورت ہے وہیں کچھ شعور کی بیداری بھی کرنی ہوگی اکثر لوگ محض نیند سے بچنے کیلئے گٹکا کھاتے ہیں اور جب اسے چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس وقت تک انہیں اسکی لت لگنے کے سبب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اگر ماوہ کی جگہ میوہ کا استعمال کیا جائے تو یہ صحت کیلئے بھی بہتر ہوگا اور خوش ذائقہ بھی! ( ماوہ بھی میوہ کو کہتے ہیں چونکہ یہ لفظ مین پوری کیلئے عام ہے اس لیے تقابل کیا گیا)۔

پابندی لگانے سے عارضی اور وقتی فائدہ ہوسکتا ہے مگر تربیت سے ہی ہماری آنے والی نسلیں اس لعنت سے بچ سکیں گی۔ حکومتی سطح پر اس معاملے پر مزید غور کرنا چاہئے اور کولجوں، یونیورسٹیوں کے علاوہ کارخانوں وغیرہ میں بھی تربیتی پروگرامز کی ابتداء کی جانے چاہیے اور ہر شہری اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے ہر قریبی گٹکا، چھالیہ، پان اور ماوہ کھانے والے کو باتوں باتوں میں اس غلاظت سے دور کرنے کی کوشش کرے ۔ یہاں قابل فکر بات یہ ہے کہ یہ بھی خودکشی کا ایک طریقہ ہے جس طرح خودکشی کے متعلق سوچنے والا کسی نہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہوتا ہے وہیں یہ سب کھانے والے کو بھی کوئی نہ کوئی ذہنی اذیت ہوسکتی ہے۔
...

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 63 Print Article Print
About the Author: Atta ur Rehman Khan

Read More Articles by Atta ur Rehman Khan : 4 Articles with 1082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: