خوبصورت فریب.

(Dur Re Sadaf Eemaan, Karachi)

 وہ ایک معزز شخصیت تھی. علم و فصاحت کا نور اس کی وال پر اس کے لکھے ہوئے تحقیقی مقالہ جات، سے جھلکتا تھا فہم و دانش کی اختصار کے ساتھ کی گئی گفتگو، ہر تنقید و اعتراض کا مدلل و مدبر جواب، زبان کی مٹھاس اور جہلا کی بدتمیزیوں و فحش گوئی کے جواب دھیمی مسکان یہ سب کچھ مل کر اس شخصیت کو مزید نکھار کر پیش کرتے تھے. کبھی اس شخصیت کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں سنی گئی تھی. مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ صنف نازک ہی نہیں مردوں کا بھی اس کی پوسٹ پر ہجوم رہتا تھا، خواتین و حضرات دونوں ہی اس معزز و پروقار شخصیت کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل کرنا اعزاز سمجھتے تھے. وہ بھی تو خواتین و حضرات دونوں کی مدد کی حتی الامکان کوشش کرتا تھا، زرا بھی تو غرور نہ تھا اسے اپنی اعلی تعلیم، تاریخ، تحدیث، فقہ منطق بلاغت، علوم ِ دنیاوی و دنیوی پر مکمل گرفت و مہارت رکھنے کے باوجود بھی، خواتین و حضرات دونوں ہی خوش تھے اس سے پسند کرتے تھے، تعریف کرتے تھے، عقیدت رکھتے تھے.... پھر جانتے ہیں کیا ہوا.....؟؟؟؟

پھر وقت نے معمولی سا رخ پلٹا اور مکروہ سچ سامنے آیا اتنا نورانی ، اجلا روشن لبادہ شیطانی وجود کو چھپانے کے لیے تھا، لوگ علم سے متاثر ہو کر اس کی جانب بڑھتے تھے، مردوں میں سے کوئی اس کے کام آسکتا ہو،اونچے رتبے، بلند عہدے پر ہو وہ اس شخصیت کا دوست بن جاتا اور اس کے ساتھ ہی اس کا سب خلوص ہوتا اور رہی بات خواتین کی ان کے اونچے رتبے بلند عہدے کی کس کو ضرورت تھی، ان کا خواتین ہونا ہی کافی ہوتا ہے اپنی نادانی میں معتبر شخصیت ِ نام نہاد سے مدد لینا، پھر مدد کے لیے رابطہ رکھنا اور پھر یہ اخلاقی رابطہ کب تعلق و دل لگی بن جائے. کب کوئی وہ معتبر، معزز شخصیت کسی ڈیٹنگ پوائنٹ کو آباد کر جائے، دل بھرنے اور نیکسٹ کے دورانیہ تک کا یہ سفر معزز شخصیت اور نادان کلی دونوں کے لیے بڑا ہی دلفریب و دلکش ہوتا ہے، نادان کلی اس علم و فصاحت و بلاغت سے بھرپور خوبصورت دل والے انسان کو اپنے نام کے ساتھ دیکھ دیکھ خوش ہوتی یہ جانے بغیر اس نام پر کتنے حرف اٹھنے والے ہیں اور کتنے آنسو گرنے والے ہیں اس کے بعد اختتام تو آپ سب جانتے ہی ہیں کہ کہ دونوں فریقین میں سے کون کس کیفیت میں ہوتا ہے جی یقینن "ایک کا آنسوؤں پر اور ایک کا بیزاری پر " اختتام ہوجاتا ہے

نادان کلی اپنے مسخ ہونے کے بعد نمبر ملاتی رہ جاتی ہے، اور معزز شخصیت کسی اور نادان شہزادی کو اپنے خوابوں کی ملکہ بنانے میں مصروف ہوجاتا ہے.... یہ دائرہ یوں ہی چلتا جارہا ہے، چلتا جارہا ہے، اور نہ جانے کب تک چلتا رہے گا

اپنی عزت کے ڈر سے وہ نادان کلی لب سی لیتی ہے مگر سوچنے کی بات ہے نہ کل تک لڑکیوں کو اس طرح شکار کیا جاتا تھا، ان کی وال پر عبایے ،نقاب و حجاب، اسلامی نظریات کو لے کر تعریف، لفظ بہن سے لے کر محبوبہ تک کے، اور محبوبہ سے لے کر آوارہ بنادینے تک کے سفر طے ہوتے ہوجاتے تھے
عمل آج بھی وہ ہی ہے بس اب نادان کلی کی جگہ معزز شخصیت آگئی، علم کا نور، سچائی کا زیور پہنے وار ہوجاتے ہیں جو خالی بھی نہیں جاتے

عرصہ دراز بعد قلم اٹھایا، شاید اس طرح سے موضوع کو بیان نہیں کر پائی جیسے کرسکتی تھی، مگر پہ درپہ اپنے ارد گرد مسلسل ایسے واقعات دیکھ دیکھ کر اب لکھنے کو دل نہیں کرتا ایک منفی سوچ حاوی ہوگئی فائدہ ہی کیا میرے لکھنے سے کسی کو کوئی فرق پڑتا ہے، اثر ہوتا ہے.

لیکن پھر سوچا لکھنا چاہیے شاید کبھی تو انجانے میں، میرا کوئی ٹوٹا پھوٹا بے ربط لفظ کسی پر اثر کر جائے، اور اس لفظ کی تاثیر کسی نادان کلی کو مسلے جانے سے عافیت دے جائے،رب العالمین سب کو عافیت میں رکھے چادر محفوظ فرمائے چار دیواری مضبوط فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 136 Print Article Print
About the Author: Dur Re Sadaf Eemaan

Read More Articles by Dur Re Sadaf Eemaan: 49 Articles with 20590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: