مغربی تہذیب کے پرستار شلوار سے بیزار

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

رواں ماہ یعنی اکتوبر کے دوسرے عشرے میں دیس سے متعلق دو بڑی خبریں سوشل میڈیا پر چھائی رہیں ۔ ایک تو ہم ٹی وی ایوارڈ شو جو کہ پانچ تاریخ کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں منعقد ہؤا دوسری اس معرکے کے نو روز بعد یعنی چودہ اکتوبر کو برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان آمد ۔ جس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اپنے پانچ روزہ دورے میں ان دونوں نے ہماری روایات و اقدار اور تہذیب و ثقافت کے احترام میں ہمارے روایتی ملبوسات زیب تن کئے ۔ غیر مسلم برطانوی شہزادی جو اپنی مرضی کی مالک تھی اور اپنی سلطنت میں ہر طرح کا لباس پہنتی ہے وہ ایک مسلم ملک میں ہرگز بھی اس بات کی پابند نہیں تھی کہ وہاں کے لباس پہنے اس نے اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے مشاورتی عملے کے منتخب کردہ پاکستانی ملبوسات پہننے کو ترجیح دی ۔ جبکہ چند روز قبل ہونے والے ایوارڈ شو میں ہماری ٹی وی ایکٹرسوں اور ماڈلز نے بھی یہی کچھ کیا تھا ۔ انہوں نے بھی امریکی تہذیب و ثقافت کے احترام اور اظہار یکجہتی کے طور پر اپنے ڈیزائنروں کے تیار کردہ مغربی ملبوسات زیب تن فرمائے جس پر دیس میں خوب واویلا مچا اور پھر شہزادی کی مثالیں دے کر دہائیاں دی گئیں اور انتہائی ناقابل اشاعت تبصرے اور فتوے بھی جاری کئے گئے ۔ جن میں کم سے کم درجے کی بھی نامعقول رائے یہ تھی کہ شہزادی کا مقابلہ ان سے نہ کیا جائے اور یہ بھی کہ یہ فرق ہوتا ہے شاہی خاندان اور شاہی محلے والوں میں ۔

کوئی ایوارڈ شو ہو یا فیشن شو اس میں بہت ہی کم اور ناکافی لباس پہن کر شریک ہونے کی روایت کو تو اب ایک عرصہ ہو چکا ہے خاص طور پر بیرون ملک مثلاً دوبئی وغیرہ میں منعقد ہونے والی تقریبات میں ہمارے ہاں کی شوبز آرٹسٹوں کی تو ہمیشہ سے یہی کوشش رہتی ہے کہ جسم خاص طور پر اپنے ناتواں کندھوں کو کپڑا نام کی کسی بھی مصیبت کے بوجھ سے مطلق آزاد رکھا جائے ۔ ابھی بھی کچھ ایسا نیا تو نہیں ہؤا تھا مگر ایوارڈ شو کے چند ہی روز بعد انگلستانی شہزادی نے ہمارے پاکستانی لباس پہن کر دھوم مچا دی اور اپنے سابقہ غلاموں کی اولادوں کی بینڈ بجا دی ۔ اور کچھ کالے انگریزوں کا فرمان ہوتا ہے کہ ان کی اپنی زندگی ہے جیسے چاہیں گذاریں کوئی کون ہوتا ہے دخل دینے والا؟ یہ ان کا اپنا پرسنل میٹر ہے تو سوال یہ ہے کہ پرسنل میٹر کو پبلک کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ اپنے کسی بھی اقدام اور ذاتی سرگرمی کو عوامی سطح پر مشتہر کریں گے تو مختلف قسم کے عوامی ردعمل کا سامنا تو کرنا پڑے گا ۔ شوبز کے لوگ خود اپنے منہ سے خود کو پبلک پراپرٹی کہہ رہے ہوتے ہیں اور طرح طرح کے ہتھکنڈے بھی آزماتے ہیں میڈیا میں اِن رہنے کے لئے ۔ اور یہ میڈیا ہی ہوتا ہے جو انہیں عوام میں زندہ رکھتا ہے اور ان کے کسی بھی ذاتی عمل پر رائے زنی بھی اسی رعایت کا حصہ ہے تو پھر اس پر اعتراض کیوں؟ پبلک پراپرٹی ایکدم سے پرائیویٹ ہو جاتی ہے خواہ اس نے ملک و قوم کی عزت کا جنازہ نکالا ہو ۔

ہمارے ہاں کی کئی ایک نامور اور سینئر ٹی وی آرٹسٹ اپنی جوانی کھونے کے بعد اپنے حواس کھو بیٹھیں اور اس صدمے کی شدت کو کم کرنے کا حل انہوں نے اپنے لباس کو کم کر کے نکالا ۔ دوپٹے کو طلاق دے دی اور آستینوں کو بھی عاق کر ڈالا جیسے کپڑوں کو آدھا کرنے سے ان کی عمر بھی آدھی رہ جائے گی ۔ ساٹھ سے ستر سال تک کی عمر رسیدہ شوبز مہیلائیں اپنے جسم کی نمائش کر کے جوان نظر آنے کی کوشش میں ہلکان نظر آتی ہیں ۔ سب سے زیادہ کمال تو ان محترمہ نے کیا جو ایوارڈ شو کی تقریب میں شرکت کرنے امریکہ پدھاریں تو ان کی شلوار ہی غائب تھی ۔ لگتا ہے عمر کے ساتھ ساتھ ان کی یادداشت بھی چلی گئی ہے پہلے دوپٹے اور آستینوں پر لعنت بھیج کر انہوں نے اپنی عمر کم کرنے کی کوشش کی جو بےسود ہی رہی اور اب شلوار سے بھی بیزار ۔ لیگ اِن یا ٹائیٹس کا تک تکلف گوارا نہیں ۔ اللہ غنی! یہ عمر تو اللہ اللہ کرنے اور اپنی آخرت کی فکر کرنے کی ہے قبر میں پوچھے جانے والے سوال و جواب کی تیاری کی ہے ذرا سوچیں تو سہی کہ اگر کبھی اسی ادھ ننگے جسم کے ساتھ ہی موت آ گئی اور کفن بھی میسر نہ آیا کہ آپ کو اپنا جسم ڈھانپنا پسند ہی نہیں اور اسی اپنے پسندیدہ ادہورے لباس میں دفن ہونا پڑ گیا تو؟

انہی کے دور اور عمر کی ہماری بہت سی صف اول کی ڈائمنڈ جوبلی فلمی ہیروئینیں ہیں مگر مجال ہے جو کبھی سلیولیس یا بغیر دوپٹے کے نظر آ جائیں ۔ کیونکہ یہ جانتی ہیں کہ زندگی کی شام آن پہنچی ہے اور اب یہ وقت قبر میں پیر لٹکانے کا ہے نا کہ لانگ بوٹ میں ڈالنے کا اور وہ بھی شلوار سے بےنیاز ہو کے ۔ اس عمر میں ایسی حرکتوں کا صاف مطلب ہے کہ جب تک انہوں نے یہ سب نہیں کیا تھا تو انہیں مواقع میسر ہی نہیں آئے تھے اور جب موقع ملا تو اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ بات تو تبھی ہے کہ آپ کو برائی کا موقع ملے اور آپ اس سے باز رہیں (رعنا تبسم پاشا)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 167 Articles with 1011965 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Oct, 2019 Views: 2761

Comments

آپ کی رائے