موت کے 44 سال بعد ہٹلر کے دوست کی قبر کشائی کیوں کی گئی؟

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

دنیا بھر کی عدالتوں میں چلنے والے کچھ مقدموں کے انوکھے فیصلے دنیا بھر کو چونکا دیتے ہیں اور لوگ برسوں ان کو یاد رکھتے ہیں۔ یہ فیصلے بسا اوقات دنیا بھر کی عدالتوں کے لیے ایک نظیر بن جاتے ہیں اور ان کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ گذشتہ دنوں اسپین کی عدالت نے دیا ہے۔
 


اسپین کی اعلیٰ عدالت نے اسپین کے سابق آمر ’’ فرانسسکو فرانکو‘‘ کی میت کو سرکاری یادگار یا مزار سے نکال کر اس کو عام لوگوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم دیا ہے۔

سابق آمر فرانسسکو فرانکو جن کو اٹلی کے مسولینی اور جرمنی کے ہٹلر کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔فرانکو نے 1939ہٹلر اور مسولینی کی مدد سے اسپین کے اقتدار پر قبضہ کیا اور 1975 میں اپنے انتقال تک وہ اسپین کے اقتدار پر قابض رہے۔ ان کی میت کو اسپین کی ’’ فایون ‘‘ وادی میں واقع ایک قومی یادگار کے اندر ایک مزار بنا کر دفن کیا گیا تھا۔
 


مئی 2017 میں اسپین کی پارلیمنٹ نے فرانکو کی باقیات کو سرکاری یادگار سے نکال کر کسی بھی عام قبرستان میں دفن کرنے کا مطالبہ کیا۔
 


24 اگست 2018 کو اسپین کے وزیر اعظم نے ایک قانونی ترمیم کے ذریعے سپین کے ’’ تاریخی یادگاری قانون‘‘ میں ترمیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری یادگاروں میں صرف انہی لوگوں کو دفن کیا جاسکتا ہے جو کہ 1936 تا 1939 کی خانہ جنگی کے دوران جاں بحق ہوئے ہوں۔
 


13ستمبر 2018 کو پارلیمنٹ نے رائے شماری کے ذریعے فرانکو کی باقیات کو سرکاری یادگار سے نکالنے کی منظوری دیدی۔ تاہم فرانکو کے خاندان نے اس کی مخالفت کی اور اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا۔ان کا مؤقف تھا کہ فرانکو کی باقیات کو یادگار سے نکال کر مکمل فوجی اعزازت کے ساتھ میڈرڈ کے وسط میں واقع ’’الموڈینہ کیتھڈرل‘‘ میں دفن کیا جائے۔
 


لیکن فرانکو کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے لواحقین نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جس طرح ان کے رشتہ داروں کو خانہ جنگی کے دوران کو فرانکو نے غائب کرکے قتل کردیا اور ان کی لاشیں کسی نامعلوم جگہ پر دفن کردیں، ٹھیک اسی طرح فرانکو کی باقیات کو بھی کسی نامعلوم جگہ پر دفن کردیا جائے۔
 


 حکومت نے فرانسسکو فرانکو کے اہل خانہ مطالبہ رد کرتے ہوئے انہیں اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو فرانکو کی باقیات کو میڈرڈ کے قریب واقع ’’ال پراڈو‘‘ کے قبرستان میں دفنا دیا جائے جہاں فرانکو کی اہلیہ، اسپین کے کئی وزرائے اعظم اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام دفن ہیں۔فرانکو کے خاندان نے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا اور معاملہ ٹلتا رہا، بالآخر ان کے خاندان نے فرانکو کے خاندان کی طرف سے تمام قانونی چارہ ذرائع استعمال کرنے کے بعد 24 ستمبر کو عدالت نے حکم دیا کہ باقیات کی منتقلی کا عمل شروع کردیا جائے۔
 


24 اکتوبر کو فرانسسکو فرانکو کو موت کے 44 برس بعد سرکاری یادگار سے نکال کر عام قبرستان میں دفن کرنے کی سزا پر عمل درآمد کیا۔سپین کے سابق وزیراعظم پیدرو ساپاتیرو نے ڈکٹیٹر فرانکو کی یادگار کے خاتمے کو جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔
 


حکومت نے باقیات کی منتقلی کے دوران صرف ان کے اہل خانہ کو ہی اس میں شرکت کی اجازت دی تھی ا۔اس موقع پر صرف سابق ڈکٹیٹر کے خاندان کے 22افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔فرانسسکو فرانکو کے نواسے نے اپنے دادا کے تابوت پر پھول چڑھائے۔ فرانسسکو فرانکو کی باقیات کی منتقلی پر تقریباً 70 ہزار ڈالر کا خرچہ آیا ہے۔

 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 7474 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language:    
Spain’s Supreme Court has today given its final green light to the exhumation of Francisco Franco from the Valley of the Fallen monument, located around 50 kilometers west of Madrid. The sentence that was made public on Monday by the top court rules that the plan by the Socialist Party (PSOE) government of caretaker Prime Minister Pedro Sánchez to move the former dictator to another cemetery is constitutional, and does not infringe planning laws or local legislation.