ناموں کی اہمیت

(Muhammad Ansar Usmani, Karachi)

 انسان کی زندگی کے تمام افعال واعمال ،اقوال واحوال جس چیز پرمحیط ہے وہ ایک ہی دین فطرت ہے اور وہ اسلام ہے۔اسلام انسانی عظمت کا نقیب ہے ۔ہماری زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام کی صالحانہ رہنمائی موجود ہے۔نومولود بچوں کے اچھے معنٰی دار نام تجویزکرنے ،مہمل اور بے معنیٰ ناموں سے بچنے کا چلن معاشرے سے ختم ہوچکا ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات وہدایات سے جس طرح بچوں کوحسن آداب سکھانے اور اچھی تربیت دینے کا درس ملتا ہے، اسی طرح بچوں کے اچھے نام تجویزکرنے کی اہمیت و نافعیت بھی بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔نا م تجویز کرنے کا مقصد محض تعین اورپہچان نہیں،بلکہ اس سے مذہب کی شناخت وابستہ کرنا اوردین کے لیے علامت اور شعاربننا ہے جوفکر وعقیدہ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے احادیث مبارکہ میں اس سلسلہ میں خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ خوبصورت اور با معنی ناموں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اورایسے ناموں سے منع کیاگیا ہے جو برے ہوں اوراپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے ناگوار ہوں ۔ حضرت ابودرداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ـ:’’قیامت کے دن تم اپنے اوراپنے آباء اجداد کے ناموں سے پکارے جاؤگے ،لہٰذا اچھے نام رکھاکرو۔‘‘ (رواہ احمد، ابوداود، مشکوٰۃ:۸۰۴) حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ باپ پر بچہ کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اوراس کو حسن آداب سے آراستہ کرے۔‘‘ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

اس وقت مسلم معاشرے کی صورت حال زبوں تر ہے۔ جدت پسندی کادور ہے۔ لوگ ایسے نئے نئے نام تجویز کرتے ہیں جو بے معنی اورمہمل ہوتے ہیں ،بلکہ ایسے نام نکلوانے کی فکر ہوتی ہے جومحلہ ،پڑوس اورآس پاس کے گاؤں دیہات اوراہل قرابت میں کسی کا نہ ہو۔کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ناموں کے معانی پوچھتے ہیں کہ لغۃً جن کا نہ کوئی مادہ ہوتا ہے اور نہ ماخذ اشتقاق۔ ظاہر ہے کہ ایسے مہمل الفاظ کے معانی لغت میں کیسے مل پائیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اچھے نام سے محبت رکھتے تھے۔ (زاد المعاد) ایک اور حدیث میں ہے ،حضرت ابوسعید رضی اﷲ تعالی عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوتو اس کا نام اچھا رکھے اور تعلیم وتربیت دے بالغ ہوجائے تو اس کی شادی کردے اور بالغ ہونے کے بعدشادی نہیں کی اور وہ لڑکا (یالڑکی) کسی گناہ میں مبتلا ہوگیا تواس کا گناہ باپ پر بھی ہے۔(مشکوٰۃ،ص:۱۷۲) حضرت ابوہب جشمی کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’انبیاء کے ناموں پراپنے نام رکھو اور اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نام عبداﷲ و عبدالرحمن ہیں اور سب ناموں سے سچے نام حارث وہمام ہیں اور سب سے برے نام حرب اورمْرہ ہیں۔‘‘

بعض ناخواندہ لوگوں میں یہ رجحان بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ نام قرآن سے تجویز کرنے کو خیروبرکت کا ذریعہ سمجھتے ہیں قطع نظر اس کے کہ معنی کیسے ہیں، چنانچہ ایک صاحب نے اپنی بچی کا نام رکھا ’’لِمَن تَشَآء ‘‘ رکھا۔ ایک اور صاحب کے بارے میں پتہ چلا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو ’’وَرِیشا‘‘ سے موسوم کیا۔ ایک عزیز شہرملاقا ت کرنے دیہات سے آئے تو انہوں نے بتایا میں ایک ایسی عورت کو جانتا ہوں کہ جو ذرا قرآن کریم پڑھنا جانتی تھی ۔اس کے یہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیداہوئیں اس نے اپنے کو خواندہ سمجھتے ہوئے بچیوں کے نام تجویز کرنے کے لئے قرآن کریم سے ’’سورہ کوثر‘‘ کا انتخاب کیا چنانچہ بڑی بچی کا نام ’’کوثر‘‘ رکھا دوسری کا نام ’’وانحر‘‘ تجویز کیااور تیسری کا نام ’’ابتر‘‘ رکھ دیا۔ کوثر اور وانحر کے معنی تو بحیثیت نام کسی حد تک درست بھی ہیں لیکن آخرالذکرنام ’’ابتر ‘‘کے معنی بہت بدتر کے ہیں ،جو کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ ایسے لوگوں کو بطور اصلاح کچھ کہاجائے تو سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سے رکھے ہوئے ناموں کو تبدیل کرناکون سے مسئلہ کی بات ہے۔ حالانکہ قرآن کریم سے نام تجویز کرنے کی بات علی الاطلاق درست نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ قرآن کریم
میں ’’حمار‘‘، ’’کلب‘‘، ’’خنزیر‘‘، ’’بقرہ‘‘، ’’فرعون‘‘، ’’ہامان‘‘، ’’قارون‘‘ وغیرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں، تو ان کے طریق استدلال کے مطابق ان الفاظ کے ذریعہ بھی نام رکھنا صحیح ہونا چاہیے؟

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’ آدمی اپنے بچے کو سب سے پہلا تحفہ جو دیتا ہے وہ نام ہے اس لیے بچوں کے اچھے نام تجویز کریں۔سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اچھا نام تجویزکرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسم کے اثرات مسمّیٰ میں منتقل ہونا بھی مسلم ہے۔ پھر عمدہ نام وہ ہے جس میں بندہ کے لئے بندہ ہونا ظاہر ہو۔ اس کے بعد وہ نام جو انبیاء اور پیغمبروں کے ناموں پر ہوں اس کے بعد ان ناموں کی اجازت ہے جس کے معنی میں کوئی برائی اور شر نہ ہو۔ اس وقت جدت پسندی کا ایک مزاج اورایک روہے، جس کے اثر سے چیدہ چیدہ افراد ہی محفوظ ہیں۔ قرآن کریم میں ’’منہم من قصصنا علیک‘‘ کے تحت بعض پیغمبروں کے اسماء ذکر کیے گئے ہیں ان میں بھی بعض نام تو امت مسلمہ میں رائج ہیں اور بعض قلیل الاستعمال ہیں مثلاً آدم، ذوالکفل اور نوح، بعض بالکل متروک ہیں مثلاً ہود، لوط، الیسع حالانکہ ان کے بابرکت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، زبان پر ثقیل بھی نہیں، بہت ہلکے پھلکے ہیں، بس ان کی طرف ہماراالتفات نہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ansar Usmani

Read More Articles by Muhammad Ansar Usmani: 25 Articles with 7837 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 344

Comments

آپ کی رائے