رہ گئی رسم اذاں

(Maria Malik, )

میں بطور یونیورسٹی طالب علم اپنے الفاظ کو احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے کالم لکھ رہی ہوں کہ " رہ گئی رسم اذاں ، روح بلالی نہ رہی " " کیونکہ حی علی الفلاح " کی صداؤں سے مسلمانوں کے مردہ دلوں کے قفل نہیں کھلتے ۔ رسول عربی ﷺ کی شہادت پر گواہی دیتے ہوئے پتھر دلوں میں کوئی چنگاری نہیں بھڑکتی ۔ اسلام کے نام لینے والے نہ جانے کہاں کھو گئے ؟

گزشتہ کئی دنوں سے جنت نظیر وادی کشمیر میں ظلم و بربریت کی کچھ ویڈیوز میری آنکھوں کے سامنے سے گزری ان کو دیکھنے ہی کی دیرتھی کہ میری نگاہیں ایک سے زیادہ ویڈیوز دیکھنے کی تاب نہ لاسکیں کہ میری آنکھیں سے آنسوؤں کی قطار میرے موبائل کی سکرین کو نم کرنے لگی ۔ میں یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئی کہ جوانوں کے ننگے جسموں پہ شکاری کتے چھوڑے جانے کے دلخراش مناظر دیکھ کر بھی بھائی چارے کا نعرہ لگانے والوں کے دلوں میں کوئی تحریک پیدا نہیں ہوتی۔ شام اور فلسطین کی چوکیوں پر زینب اور ریماؤں کی آہوں پر کیوں کوئی صلاح الدین نہیں آتا۔ وہ معصوم بہنیں ، بیٹاں کہ جن کے چہروں کو دیکھ کر آسمان کا چاند بھی شرما جاتا ہے دشمن ان کے باپوں، بھائیوں اور بیٹوں کے سامنے ان کی حیا کی چادر اتار پھینکتا ہے اور ان کی عصمت دری کرتا ہے ۔ تو پھر بھی کوئی محمد بن قاسم کیوں نمودار نہیں ہوتا ۔

وہ محمد بن قاسم جو ایک جوان بہن کی پکار پہ دریاؤں ، چٹانوں ، وادیوں اور سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چیرتے ہوئے پہنچتا ہے اور اﷲ اکبر کی صدا بلند کرتا ہے۔ اور کہتاہے کہ رب کعبہ کی قسم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ بہن کی آبرو کا انتقام نہیں لے لوں گا۔ مگر یہاں کوئی ہماری غیرت ایمانی کو لکارے بھی تو ہماری غیرت کے طلاطم میں کوئی موج نہیں ابھرتی ۔ اے مسلمان ! آج تیری غیرت ایمانی کولکارا گیا ہے ۔ بول مجھے جواب دے کہ تیری غیرت ایمانی کو میٹھی نیند کس نے سلادیا ۔ اب کوئی طارق بن زیاد " ہر ملک کہ ملک ما است کہ ملک خدائے ما است" کا نعرہ لگا کر اندلس کے ساحل پہ کشتیاں کیوں نہیں جلاتا؟بیچ کر تلواریں خرید لیے مصلے ہم نے بیٹاں لٹتی رہیں اور ہم دعا کرتے رہے
یہ تمام سوالات میر ے دل ودماغ میں کچوکے لگارہے ہیں تو میں ایک عجیب الجھن میں مبتلا ہو جاتی ہوں ان الجھنوں کو دور کرتے ہوئے سوچتی ہوں کہ ایساکیوں نہ ہوگا ؟ آج بت شکنوں کی جگہ بت فروشوں نے لے لی ۔ ہم آج اپنی ہی سوچوں کے دشمن بن گئے ہیں آج ہمارے ہی بمبوں کی زد میں آکر ہماری ہی مساجد شہید ہورہی ہیں۔ معصوم ہاتھ درندگی کی انتہاتک جا پہنچے ۔ آج ہم اپنے ہی پیاروں کے خون کے پیاسے بن گئے ہیں ۔ آج " نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر " کا نعرہ اپنی ہی دھرتی ماں کے نعروں میں گم ہو گیا ۔ ہمارے سپہ سالاروں اور محافظوں کی قبروں پہ ٹھوکریں ماری گئیں۔ سر اٹھا کے غیرت کے نام پر چلنے والوں کو عدالتی کٹہروں کی زینت بنایا گیا ۔ اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے کا نعرہ لگا کر میری بہنوں کے سروں سے سکارف چھیننے کی کوشش کی گئی ۔
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں۔

کراچی کی فٹ پاتھوں پہ حکیم سعید شہید ، مفتی شام زئی اور مفتی حسن تراوی کے قاتلوں کا آ ج تک پتہ نہ چل سکا۔ سیالکوٹ بھرے چوک میں دو بھائیوں حسیب اور منیب کو لقمہ اجل بنایا گیا مگر ہم خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے۔ آج ہم ـ" ایاک نعبد و ایاک نستعین " کا تو دم بھرتے ہیں مگر ہاتھون میں کشکول اٹھائے بھکاری بنے ہر درودروازے پہ دستک دیتے ہیں ۔
آج مساجد مرثیہ خواں کہ نمازی نہ رہے
آج ہر کوئی مئے مس زوق تن آسانی ہے ۔

آج کا مسلمان اخوت کی محبت سے بیگانہ ہے۔ فرقہ واریت نے اسے فرقوں میں تقسیم کردیا ۔ اس کا کردار ، گفتاراور ظاہر وباطن جدا ۔ اس ضمیر مر چکا اس کی خودی جا چکی اس کا جذبہ قلندرانہ جا چکا۔ نہ حسرت فارابی نہ تب وتاب رومی نہ جستجوئے غزالی آج وہ ساز اور موسیقی کا دیوانہ ہو چکا۔

شاعر مشرق نے تو کابل میں کانٹا چبھنے سے ہندوستان کے ہر مسلمان کے بے تاب ہونے کا خواب دیکھا تھا مگر آج کل گردن بھی کٹ جائے تو کسی کو احسا س نہیں ہوتا ۔ میں یہ تحریرٹوٹی ہوئی قلم ، بکھرتے ہوئے خیالوں ، کانپتے ہوئے خیالوں ، لرزتے ذہن اور نمناک آنکھوں سے لکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کل کو اگر جناح اور اقبال کی روحوں نے ہم سے یہ پوچھ لیا کہ ہمارے بعد وطن کی تعمیر کہاں تک پہنچی تو نگاہیں شرم کے مارے اٹھ نہ پائیں گی۔

ہم نے اپنے ہی بزرگوں کے فرمودات کو نظر انداز کر دیا اور ممکن ہے کہ اگر اب بھی ہماری سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی تو ہم گھٹا گھوپ اندھیروں کی وادیوں میں جاگرے گے ۔ اور پھر ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔ تو پھر مجھے برملا یہ کہنے کا حق ہے کہ
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 185 Print Article Print
About the Author: Maria Malik
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: