راستہ تو بس راستہ آپ ؐ کا!

(Inayat Kabalgrami, )

 آج کا دَور ترقی یافتہ کہلاتاہے، ہر گوشۂ زندگی میں نت نئی ایجادات ہورہی ہیں، جدید اِکتشافات کے سامنے عقل و خرد محو حیرت ہے، آج دُنیا کی دُوری ختم ہوچکی ہے، ذرائع ابلاغ اور وسائل نقل و حمل نے ترقی کرکے سالوں اور مہینوں کے کام دِنوں گھنٹوں اور منٹوں میں ممکن کردئیے ہیں، پہلے کے بالمقابل آج مال و دولت کی بھی کمی نہیں رہی، حقیقت میں آج زمین سونا اُگل رہی ہے، سمندروں نے اپنی تہوں سے ہیرے، موتی اور جواہر پارے سواحلِ انسانی پر لاکر رکھ دئیے ہیں۔ سارے اسباب ووسائل کے باوجود آج لوگوں کو سکون وطمانینت حاصل نہیں، ایک دائمی بے اطمینانی ہے، جو سب پر مسلط ہے، ہر طرف ظلم و ستم کی گرم بازاری ہے،آئے دن فسادات اور قتل و غارت گری ہورہی ہے، نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، فتنوں کا نہ تھمنے والا سیلاب امڈتا چلا آرہا ہے، جس طرف دیکھئے اختلاف ہی اختلاف ہے، بین الاقوامی اختلاف، فرقہ واری اختلاف، سیاسی پارٹیوں کا اختلاف، خاندان کااختلاف، گھر اور افراد کا اختلاف اور نہ جانے کون کون سے اختلافات ہر سو رونما ہورہے ہیں۔ ہر آدمی ایک دوسرے سے مختلف و منحرف نظر آرہا ہے۔ خود غرضی عام ہورہی ہے،اخلاق و پاک دامنی کا فقدان ہے، شرافت و امانت ناپید ہورہی ہے، امن وآشتی اور سکون و عافیت مفقود ہوتی چلی جارہی ہے۔ کون سی ایسی برائی ہے جس کا تصور کیا جائے اور وہ معاشرے میں موجود نہیں، زِنا اور شراب نوشی عام ہے۔ سود اور سودی کاروبار ہر گھر میں پہنچ چکا ہے، جوا اور سٹہ بازی کی نئی نئی شکلیں اختیار کی جارہی ہیں، دخترکشی بلکہ نسل کشی ایک فیشن بن گئی ہے۔ آج کے اِس دَور کو کون سا دَور کہیں گے؟ فتنوں کادَور! گناہوں کا دَور! بے حیائی اور بے لگامی کا دَور! خودسری اور خودغرضی کا دَور! شیطانی دَور! یاجوجی یا ماجوجی دَور! سمجھ میں نہیں آتا کہ عصرِ حاضر کو کیا نام دیا جائے؟ دَورِ حاضر دَورِ جاہلیت کی طرف تیزی سے رَواں دَواں ہے؛ بلکہ بعض لحاظ سے اِس سے بھی آگے جاچکا ہے۔

موجودہ اسلامی مہینہ ربیع الاول جس سے ہم اور آپ گذر رہے ہیں محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیدائش اور دنیا سے پردہ کئے جانے والے اہم واقعات کے لئے مشہور ہے،آپ ؐ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ضلالت وگمراہی میں غلطاں و پیچاں انسانیت کو حق و ہدایت کی سیدھی راہ دکھائی اور جہنم کے دائمی عذاب سے نجات کا راستہ بھی بتلایا۔ رحمت عالم ﷺ کی رسالت عالم گیر ہے، آپ ؑپوری دُنیا کے لیے چراغِ راہ بن کر تشریف لائے تھے۔ آپ ؑ ہی کی سیرت و سنت کو سامنے رکھ کر دُنیا راہ یاب ہوسکتی ہے، ہر طرح کے مسائل کا حل آپ ﷺہی کی اتباع میں مضمر ہے، جملہ خرافات و مصائب سے نجات کا ’’نسخہ کیمیاء‘‘ آپ ﷺکی زندگی میں ہی مل سکتا ہے، لاکھوں کروڑوں درود و سلام ہو پیارے آقا محمد رسول ﷺ پر۔
قرآن کریم میں پیارے رسول ﷺ کی زندگی کو ہمارے لئے اسؤۃ اور نمونہ قراردیا گیا ہے،معیشت،معاشرت،طریقت،میدان جنگ،سیاست،معاملات،الغرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں رسول اکرم ﷺ کی ذات میں رہنمائی نہ ہو۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔راہِ طریقت، راہِ شریعت،امن واخوت جنگ و جدل۔۔۔ذاتِ محمد ؐ راہ نما ہر منزل،ہر میدان میں ہے

اسکی روشنی میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر قول وعمل ہمارے لیے رہنما خطوط مہیا کرتاہے،دور حاضر میں عام انسان سے لیکر حکومتوں تک جو انارکی اور انتشار پایا جاتا ہے اس کا دائمی اور پائیدار حل اسلامی تعلیمات اورآپ ؐ کے ارشادات اور سب سے بڑھ کر آپ ؐ کی سیرت مبارکہ اپنانے میں ہیں۔ اس وقت دنیا میں جن مشکلات اور مسائل کا ہوا کھڑا کیا گیا ہے اس کا یقینی حل سیرت مبارکہ میں موجود ہے۔معاشرتی مسا ئل میں میاں بیوی اور بچوں اوروالدین کے درمیان جو خلیج حائل ہوتی جارہی ہے اس کے لئے سیرت رسول ﷺ سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے،معاشی مسائل جیسے فاقہ کشی،بھوک مری،اور غذائی اجناس کی کمی کی وجہ سے خودکشی کی وارداتوں وغیرہ پر قابو پانے کے لئے غور کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ ﷺ نے ذخیرہ اندوزی نہ کرنے اور مسکینوں کی دستگیری کرنے کی جو تلقین فرمائی ہے اس سے ہم کو سوں دور ہیں جس کی وجہ سے یہ مسائل کھڑے ہورہے ہیں۔عالمی منظر نامے پر سابقہ پندرہ بیس سالوں سے دہشت گردی،شدت پسندی کی وجہ سے عالمی برادری سراسیمگی وحیرانی کی تصویر بنی ہوئی ہے اور ان مسائل کے لیے اسلام کے شفاف دامن امن کو داغدار بنانے کی جو منصوبہ بندی و سازشیں ہوئی اورہورہی ہیں وہ ہر خاص وعام پر واضح ہے جس کی وضاحت کی شاید اس تحریر میں ضرورت نہیں ہے۔اسلام پر شدت پسندی اور خونخواری کا الزام لگا کر عالمی استغاری قواتیں اس کے خلاف منظم ہورہی ہے اور قیام امن کے مسئلہ کو لیکر اپنی پریشانی کا اظہار کرچکی ہے وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جس مذہب پر وہ یہ الزام تراشی کررہے ہیں اس کے بانی (محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم )نے ہمیشہ ہی جنگ پرامن و صلح کو ترجیح دی ہے اور کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے، صلح حدیبیۃ اور فتح مکۃ بطور مثال کافی ہیں،اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں اسلامی ممالک سے انقلاب کی جو گونج سنائی دے رہی ہے اس سے نام نہاد مسلم حکمران حواس باختہ ہیں،اسلامی انقلاب ان کی آمریت یا مطلق العنان جمہوریت پر لگام کسنے کو ہے اور ایسے میں پاکستان سمیت مشرق وسطی اور خلیجی ممالک ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہیں۔

دنیا نے صدیوں تجربہ کیا اور آج بھی کررہی ہے کہ حقیقت میں نظامِ عالم پر کنٹرول اﷲ تعالیٰ کے قوانین کے نفاذ سے ہی ممکن ہے، اُن کے بغیر یہ دُنیا راحت و سکون کا مسکن نہیں بن سکتی، امن و آشتی کا ضامن صرف اور صرف اسلام ہے، حقیقت میں آج پوری انسانیت اپنی زبانِ حال سے اُسی دَور کو پکار رہی ہے جس دَور میں رسول اﷲﷺنے اﷲ کے سارے قوانین کو روبہ عمل لاکر ایک معطر و معنبر ماحول تیار کیاتھا اور انسانیت کو اُس کی صحیح راستے و منزل پر پہنچایا تھا۔آج ایسے مشکل دور و ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کیا جائے اورآپ ؐکی حکمت عملی کو اپنے لیے حرز جاں بنایا جائے کہ کس طرح نبی محترم ﷺ نے زندگی گزارنے کی تلقین کی ہے ،بگڑتے ہوئے حالات میں اس کا مطالعہ اور اس پر مکمل عمل آوری سے امید ہے کہ دنیا ایک بار پھر خیر القرون کا سا امن وچین حاصل کرلے گی۔کاش کہ انسانیت کامیابی کی ا س شاہ کلید کو مسائل حیات کے ہر قفل پر آزمائے اور تمام پریشانیوں سے دائمی چھٹکارا حاصل کرے اسی لیے کہا گیا ہے کہ۔۔۔روشنی ہے تو بس روشنی آپ ؐ کی۔۔راستہ ہے تو بس راستہ آپ ؐ کا۔۔۔
اﷲ پاک سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے(آمین)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 150 Print Article Print
About the Author: Inayat Kabalgrami

Read More Articles by Inayat Kabalgrami: 25 Articles with 6499 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: